Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بچیاں تھیں، اس نے ( کھانے کے لیے ) کوئی چیز مانگی مگر میرے پاس سے ایک کھجور کے سوا اسے کچھ نہیں ملا، چنانچہ اسے میں نے وہی دے دیا، اس عورت نے کھجور کو خود نہ کھا کر اسے اپنی دونوں لڑکیوں کے درمیان بانٹ دیا اور اٹھ کر چلی گئی، پھر میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میں نے آپ سے یہ ( واقعہ ) بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ”جو ان لڑکیوں کی پرورش سے دو چار ہو اس کے لیے یہ سب جہنم سے پردہ ہوں گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا معمر، عن ابن شهاب، حدثنا عبد الله بن ابي بكر بن حزم، عن عروة، عن عايشة، قالت دخلت امراة معها ابنتان لها فسالت فلم تجد عندي شييا غير تمرة فاعطيتها اياها فقسمتها بين ابنتيها ولم تاكل منها ثم قامت فخرجت فدخل النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من ابتلي بشيء من هذه البنات كن له سترا من النار " . هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس تین لڑکیاں، یا تین بہنیں، یا دو لڑکیاں، یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے حقوق کے سلسلے میں اللہ سے ڈرے تو اس کے لیے جنت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا ابن عيينة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ايوب بن بشير، عن سعيد الاعشى، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان له ثلاث بنات او ثلاث اخوات او ابنتان او اختان فاحسن صحبتهن واتقى الله فيهن فله الجنة " . قال هذا حديث غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان یتیم کو اپنے ساتھ رکھ کر انہیں کھلائے پلائے، تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، سوائے اس کے کہ وہ ایسا گناہ ( شرک ) کرے جو مغفرت کے قابل نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- راوی حنش کا نام حسین بن قیس ہے، کنیت ابوعلی رحبی ہے، سلیمان تیمی کہتے ہیں: یہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ۲- اس باب میں مرہ فہری، ابوہریرہ، ابوامامہ اور سہل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت ابي يحدث، عن حنش، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قبض يتيما بين المسلمين الى طعامه وشرابه ادخله الله الجنة البتة الا ان يعمل ذنبا لا يغفر له " . قال وفي الباب عن مرة الفهري وابي هريرة وابي امامة وسهل بن سعد . قال ابو عيسى وحنش هو حسين بن قيس وهو ابو علي الرحبي وسليمان التيمي يقول حنش وهو ضعيف عند اهل الحديث
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے ۱؎ اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عمران ابو القاسم المكي القرشي، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا وكافل اليتيم في الجنة كهاتين " . واشار باصبعيه يعني السبابة والوسطى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک بوڑھا آیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا چاہتا تھا، لوگوں نے اسے راستہ دینے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے، جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- راوی زربی نے انس بن مالک اور دوسرے لوگوں سے کئی منکر حدیثیں روایت کی ہیں، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن مرزوق البصري، حدثنا عبيد بن واقد، عن زربي، قال سمعت انس بن مالك، يقول جاء شيخ يريد النبي صلى الله عليه وسلم فابطا القوم عنه ان يوسعوا له فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويوقر كبيرنا " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وابي هريرة وابن عباس وابي امامة . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وزربي له احاديث مناكير عن انس بن مالك وغيره
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا مقام نہ پہچانے“۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن ابان حدثنا محمد بن فضيل، عن محمد بن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويعرف شرف كبيرنا " . حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، نحوه الا انه قال " ويعرف حق كبيرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹوں پر مہربانی نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے، معروف ( بھلی باتوں ) کا حکم نہ دے اور منکر ( بری باتوں ) سے منع نہ کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن اسحاق کی عمرو بن شعیب کے واسطہ سے مروی حدیث صحیح ہے، ۳- عبداللہ بن عمرو سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول «ليس منا» کا مفہوم یہ ہے «ليس من سنتنا ليس من أدبنا» یعنی وہ ہمارے طور طریقہ پر نہیں ہے، ۵- علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری اس تفسیر کی تردید کرتے تھے اور اس کا مفہوم یہ بیان کرتے تھے کہ «ليس منا» سے مراد «ليس من ملتنا» ہے، یعنی وہ ہماری ملت کا نہیں ہے۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن ابان حدثنا يزيد بن هارون، عن شريك، عن ليث، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويوقر كبيرنا ويامر بالمعروف وينه عن المنكر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وحديث محمد بن اسحاق عن عمرو بن شعيب حديث حسن صحيح وقد روي عن عبد الله بن عمرو من غير هذا الوجه ايضا . - قال بعض اهل العلم معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " ليس منا " . يقول ليس من سنتنا يقول ليس من ادبنا . وقال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد كان سفيان الثوري ينكر هذا التفسير ليس منا يقول ليس مثلنا
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں پر مہربانی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر مہربانی نہیں کرے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابو سعید خدری، ابن عمر، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا قيس بن ابي حازم، حدثنا جرير بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لا يرحم الناس لا يرحمه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وابي سعيد وابن عمر وابي هريرة وعبد الله بن عمرو
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صرف بدبخت ہی ( کے دل ) سے رحم ختم کیا جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوعثمان جنہوں نے ابوہریرہ سے یہ حدیث روایت کی ہے ان کا نام نہیں معلوم ہے، کہا جاتا ہے، وہ اس موسیٰ بن ابوعثمان کے والد ہیں جن سے ابوالزناد نے روایت کی ہے، ابوالزناد نے «عن موسى بن أبي عثمان عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، قال كتب به الى منصور وقراته عليه سمع ابا عثمان مولى المغيرة بن شعبة عن ابي هريرة قال سمعت ابا القاسم صلى الله عليه وسلم يقول " لا تنزع الرحمة الا من شقي " . قال وابو عثمان الذي روى عن ابي هريرة لا يعرف اسمه ويقال هو والد موسى بن ابي عثمان الذي روى عنه ابو الزناد وقد روى ابو الزناد عن موسى بن ابي عثمان عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم غير حديث . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم لوگ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا، رحم رحمن سے مشتق ( نکلا ) ہے، جس نے اس کو جوڑا اللہ اس کو ( اپنی رحمت سے ) جوڑے گا اور جس نے اس کو توڑا اللہ اس کو اپنی رحمت سے کاٹ دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن ابي قابوس، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الراحمون يرحمهم الرحمن ارحموا من في الارض يرحمكم من في السماء الرحم شجنة من الرحمن فمن وصلها وصله الله ومن قطعها قطعه الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکاۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على اقام الصلاة وايتاء الزكاة والنصح لكل مسلم . قال هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”دین سراپا خیر خواہی ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ فرمایا: ”اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے ائمہ ( حکمرانوں ) اور عام مسلمانوں کے لیے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، تمیم داری، جریر، «حكيم بن أبي يزيد عن أبيه» اور ثوبان رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا صفوان بن عيسى، عن محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدين النصيحة " . ثلاث مرار . قالوا يا رسول الله لمن قال " لله ولكتابه ولايمة المسلمين وعامتهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابن عمر وتميم الداري وجرير وحكيم بن ابي يزيد عن ابيه وثوبان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، اس کے ساتھ خیانت نہ کرے، اس سے جھوٹ نہ بولے، اور اس کو بےیار و مددگار نہ چھوڑے، ہر مسلمان کی عزت، دولت اور خون دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے، تقویٰ یہاں ( دل میں ) ہے، ایک شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو حقیر و کمتر سمجھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوایوب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي، حدثني ابي، عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المسلم اخو المسلم لا يخونه ولا يكذبه ولا يخذله كل المسلم على المسلم حرام عرضه وماله ودمه التقوى ها هنا بحسب امري من الشر ان يحتقر اخاه المسلم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وفي الباب عن علي وابي ايوب
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن للمومن كالبنيان يشد بعضه بعضا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر آدمی اپنے بھائی کے لیے آئینہ ہے، اگر وہ اپنے بھائی کے اندر کوئی عیب دیکھے تو اسے ( اطلاع کے ذریعہ ) دور کر دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ نے یحییٰ بن عبیداللہ کو ضعیف کہا ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثني احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا يحيى بن عبيد الله، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احدكم مراة اخيه فان راى به اذى فليمطه عنه " . قال ابو عيسى ويحيى بن عبيد الله ضعفه شعبة . قال وفي الباب عن انس
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور فرما دے گا، جس نے دنیا میں کسی تنگ دست کے ساتھ آسانی کی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا اور آخرت دونوں میں آسانی کرے گا، اور جس نے دنیا میں کسی مسلمان کے عیب کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں ہوتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو ابو عوانہ اور کئی لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، لیکن اس میں «حدثت عن أبي صالح» کے الفاظ نہیں بیان کیے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عمر اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي، حدثني ابي، عن الاعمش، قال حدثت عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نفس عن مسلم كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن يسر على معسر في الدنيا يسر الله عليه في الدنيا والاخرة ومن ستر على مسلم في الدنيا ستر الله عليه في الدنيا والاخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه " . قال وفي الباب عن ابن عمر وعقبة بن عامر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى ابو عوانة وغير واحد هذا الحديث عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكروا فيه حدثت عن ابي صالح
ابو الدرداء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے بھائی کی عزت ( اس کی غیر موجودگی میں ) بچائے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے کو جہنم سے بچائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں اسماء بنت یزید رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن ابي بكر النهشلي، عن مرزوق ابي بكر التيمي، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من رد عن عرض اخيه رد الله عن وجهه النار يوم القيامة " . قال وفي الباب عن اسماء بنت يزيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے ( کسی دوسرے مسلمان ) بھائی سے تین دن سے زیادہ سلام کلام بند رکھے، جب دونوں کا آمنا سامنا ہو تو وہ اس سے منہ پھیر لے اور یہ اس سے منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، ابوہریرہ، ہشام بن عامر اور ابوہند داری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، ح قال وحدثنا سعيد بن عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث يلتقيان فيصد هذا ويصد هذا وخيرهما الذي يبدا بالسلام " . قال وفي الباب عن عبد الله بن مسعود وانس وابي هريرة وهشام بن عامر وابي هند الداري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ ( ہجرت کر کے ) مدینہ آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اور سعد بن ربیع کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا، سعد بن ربیع نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ سے کہا: آؤ تمہارے لیے اپنا آدھا مال بانٹ دوں، اور میرے پاس دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گزر جائے تو اس سے شادی کر لو، عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہارے مال اور تمہاری اولاد میں برکت دے، مجھے بازار کا راستہ بتاؤ، انہوں نے ان کو بازار کا راستہ بتا دیا، اس دن وہ ( بازار سے ) کچھ پنیر اور گھی لے کر ہی لوٹے جو نفع میں انہیں حاصل ہوا تھا، اس کے ( کچھ دنوں ) بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اوپر زردی کا اثر دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟“ ( یہ زردی کیسی ) کہا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے، آپ نے پوچھا: ”اس کو مہر میں تم نے کیا دیا؟“ کہا: ایک ( سونے کی ) گٹھلی، ( یا گٹھلی کے برابر سونا ) آپ نے فرمایا: ”ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- احمد کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا سوا تین درہم کے برابر ہوتا ہے، ۳- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں: گٹھلی کے برابر سونا، پانچ درہم کے برابر ہوتا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا حميد، عن انس، قال لما قدم عبد الرحمن بن عوف المدينة اخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع فقال له هلم اقاسمك مالي نصفين ولي امراتان فاطلق احداهما فاذا انقضت عدتها فتزوجها . فقال بارك الله لك في اهلك ومالك دلوني على السوق . فدلوه على السوق فما رجع يوميذ الا ومعه شيء من اقط وسمن قد استفضله فراه رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك وعليه وضر من صفرة فقال " مهيم " . قال تزوجت امراة من الانصار . قال " فما اصدقتها " . قال نواة . قال حميد او قال وزن نواة من ذهب . فقال " اولم ولو بشاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال احمد بن حنبل وزن نواة من ذهب وزن ثلاثة دراهم وثلث . وقال اسحاق بن ابراهيم وزن نواة من ذهب وزن خمسة دراهم . سمعت اسحاق بن منصور يذكر عنهما هذا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کسی نے کہا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس انداز سے اپنے بھائی کا تمہارا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے“، اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے اگر وہ چیز اس میں موجود ہو جسے میں بیان کر رہا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہے تو تم نے اس کی غیبت ( چغلی ) کی، اور جو تم بیان کر رہے ہو اگر وہ اس میں موجود نہیں ہے تو تم نے اس پر تہمت باندھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قيل يا رسول الله ما الغيبة قال " ذكرك اخاك بما يكره " . قال ارايت ان كان فيه ما اقول قال " ان كان فيه ما تقول فقد اغتبته وان لم يكن فيه ما تقول فقد بهته " . قال وفي الباب عن ابي برزة وابن عمر وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح