Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس میں قطع تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے بےرخی نہ اختیار کرو، باہم دشمنی و بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ تین دن سے زیادہ اپنے مسلمان بھائی سے سلام کلام بند رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، زبیر بن عوام، ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الجبار بن العلاء العطار، وسعيد بن عبد الرحمن، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقاطعوا ولا تدابروا ولا تباغضوا ولا تحاسدوا وكونوا عباد الله اخوانا ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن ابي بكر الصديق والزبير بن العوام وابن مسعود وابي هريرة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف دو آدمیوں پر رشک کرنا چاہیئے، ایک اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس میں سے رات دن ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہے، دوسرا اس آدمی پر جس کو اللہ تعالیٰ نے علم قرآن دیا اور وہ رات دن اس کا حق ادا کرتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث آئی ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حسد الا في اثنتين رجل اتاه الله مالا فهو ينفق منه اناء الليل واناء النهار ورجل اتاه الله القران فهو يقوم به اناء الليل واناء النهار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن ابن مسعود وابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ مصلی اس کی عبادت کریں گے، لیکن وہ ان کے درمیان جھگڑا کرانے کی کوشش میں رہتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس اور «سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه» سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الشيطان قد ييس ان يعبده المصلون ولكن في التحريش بينهم " . قال وفي الباب عن انس وسليمان بن عمرو بن الاحوص عن ابيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وابو سفيان اسمه طلحة بن نافع
ام کلثوم بنت عقبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور وہ ( خود ایک طرف سے دوسرے کے بارے میں ) اچھی بات کہے، یا اچھی بات بڑھا کر بیان کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن معمر، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن امه ام كلثوم بنت عقبة، قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليس بالكاذب من اصلح بين الناس فقال خيرا او نمى خيرا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
اسماء بنت یزید رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف تین جگہ پر جھوٹ جائز اور حلال ہے، ایک یہ کہ آدمی اپنی بیوی سے بات کرے تاکہ اس کو راضی کر لے، دوسرا جنگ میں جھوٹ بولنا اور تیسرا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا“۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، ح قال وحدثنا محمود بن غيلان، حدثنا بشر بن السري، وابو احمد قالا حدثنا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل الكذب الا في ثلاث يحدث الرجل امراته ليرضيها والكذب في الحرب والكذب ليصلح بين الناس " . وقال محمود في حديثه " لا يصلح الكذب الا في ثلاث " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن لا نعرفه من حديث اسماء الا من حديث ابن خثيم . وروى داود بن ابي هند، هذا الحديث عن شهر بن حوشب، عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه عن اسماء . حدثنا بذلك محمد بن العلاء ابو كريب حدثنا ابن ابي زايدة عن داود بن ابي هند . وفي الباب عن ابي بكر
ابوصرمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دوسرے کو نقصان پہنچائے اللہ اسے نقصان پہنچائے گا اور جو دوسرے کو تکلیف دے اللہ تعالیٰ اسے تکلیف دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن لولوة، عن ابي صرمة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من ضار ضار الله به ومن شاق شاق الله عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وفي الباب عن ابي بكر
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ملعون ( یعنی اللہ کی رحمت سے دور ) ہے جس نے کسی مومن کو نقصان پہنچایا یا اس کو دھوکہ دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا زيد بن الحباب العكلي، حدثني ابو سلمة الكندي، حدثنا فرقد السبخي، عن مرة بن شراحيل الهمداني، وهو الطيب - عن ابي بكر الصديق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ملعون من ضار مومنا او مكر به " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ وصیت ( تاکید ) کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وراثت میں ( بھی ) شریک ٹھہرا دیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر، هو ابن محمد بن عمرو بن حزم - عن عمرة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کے لیے ان کے گھر میں ایک بکری ذبح کی گئی، جب وہ آئے تو پوچھا: کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ( گوشت کا ) ہدیہ بھیجا؟ کیا تم لوگوں نے ہمارے یہودی پڑوسی کے گھر ہدیہ بھیجا ہے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: مجھے جبرائیل علیہ السلام پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ اسے وارث بنا دیں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث مجاہد سے عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۳- اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، انس، مقداد بن اسود، عقبہ بن عامر، ابوشریح اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا سفيان بن عيينة، عن داود بن شابور، وبشير ابي اسماعيل، عن مجاهد، ان عبد الله بن عمرو، ذبحت له شاة في اهله فلما جاء قال اهديتم لجارنا اليهودي اهديتم لجارنا اليهودي سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه " . قال وفي الباب عن عايشة وابن عباس وابي هريرة وانس والمقداد بن الاسود وعقبة بن عامر وابي شريح وابي امامة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث عن مجاهد عن عايشة وابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دوست وہ ہے جو لوگوں میں اپنے دوست کے لیے بہتر ہے، اور اللہ کے نزدیک سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن حيوة بن شريح، عن شرحبيل بن شريك، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الاصحاب عند الله خيرهم لصاحبه وخير الجيران عند الله خيرهم لجاره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو عبد الرحمن الحبلي اسمه عبد الله بن يزيد
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے زیر دست کر دیا ہے، لہٰذا جس کے تحت میں اس کا بھائی ( خادم ) ہو، وہ اسے اپنے کھانے میں سے کھلائے، اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اسے کسی ایسے کام کا مکلف نہ بنائے جو اسے عاجز کر دے، اور اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بناتا ہے، جو اسے عاجز کر دے تو اس کی مدد کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ام سلمہ، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن واصل، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اخوانكم جعلهم الله فتية تحت ايديكم فمن كان اخوه تحت يده فليطعمه من طعامه وليلبسه من لباسه ولا يكلفه ما يغلبه فان كلفه ما يغلبه فليعنه " . قال وفي الباب عن علي وام سلمة وابن عمر وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوبکر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جو خادموں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ایوب سختیانی اور کئی لوگوں نے راوی فرقد سبخی کے بارے میں ان کے حافظے کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، عن همام بن يحيى، عن فرقد السبخي، عن مرة الطيب، عن ابي بكر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل الجنة سيي الملكة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد تكلم ايوب السختياني وغير واحد في فرقد السبخي من قبل حفظه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی التوبہ ۱؎ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائے حالانکہ وہ اس کی تہمت سے بری ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر حد قائم کرے گا، إلا یہ کہ وہ ویسا ہی ثابت ہو جیسا اس نے کہا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سوید بن مقرن اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن فضيل بن غزوان، عن ابن ابي نعم، عن ابي هريرة، قال قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم نبي التوبة " من قذف مملوكه برييا مما قال له اقام عليه الحد يوم القيامة الا ان يكون كما قال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابن ابي نعم هو عبد الرحمن بن ابي نعم البجلي يكنى ابا الحكم . وفي الباب عن سويد بن مقرن وعبد الله بن عمر
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کہ پیچھے سے کسی کہنے والے کی آواز سنی وہ کہہ رہا تھا: ابومسعود جان لو، ابومسعود جان لو ( یعنی خبردار ) ، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم پر اس سے کہیں زیادہ قادر ہے جتنا کہ تم اس غلام پر قادر ہو“۔ ابومسعود کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے اپنے کسی غلام کو نہیں مارا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا مومل، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي مسعود الانصاري، قال كنت اضرب مملوكا لي فسمعت قايلا من خلفي يقول " اعلم ابا مسعود اعلم ابا مسعود " . فالتفت فاذا انا برسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لله اقدر عليك منك عليه " . قال ابو مسعود فما ضربت مملوكا لي بعد ذلك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابراهيم التيمي هو ابراهيم بن يزيد بن شريك
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے اس سوال پر خاموش رہے، اس نے پھر پوچھا: اللہ کے رسول! میں اپنے خادم کی غلطیوں کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہر دن ۷۰ ( ستر ) بار معاف کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے عبداللہ بن وہب نے بھی ابوہانی خولانی سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا رشدين بن سعد، عن ابي هاني الخولاني، عن عباس الحجري، عن عبد الله بن عمر، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كم اعفو عن الخادم فصمت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال يا رسول الله كم اعفو عن الخادم فقال " كل يوم سبعين مرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ورواه عبد الله بن وهب عن ابي هاني الخولاني نحوا من هذا . والعباس هو ابن جليد الحجري المصري . حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن وهب، عن ابي هاني الخولاني، بهذا الاسناد نحوه . وروى بعضهم، هذا الحديث عن عبد الله بن وهب، بهذا الاسناد وقال عن عبد الله بن عمرو،
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے خادم کو مارے اور وہ ( خادم ) اللہ کا نام لے لے تو تم اپنے ہاتھوں کو روک لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: راوی ابوہارون عبدی کا نام عمارہ بن جوین ہے، ابوبکر عطار نے یحییٰ بن سعید کا یہ قول نقل کیا کہ شعبہ نے ابوہارون عبدی کی تضعیف کی ہے، یحییٰ کہتے ہیں: ابن عون ہمیشہ ابوہارون سے روایت کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان، عن ابي هارون العبدي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ضرب احدكم خادمه فذكر الله فارفعوا ايديكم " . قال ابو عيسى وابو هارون العبدي اسمه عمارة بن جوين . قال قال ابو بكر العطار قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد ضعف شعبة ابا هارون العبدي . قال يحيى وما زال ابن عون يروي عن ابي هارون حتى مات
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے لڑکے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ دینے سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- راوی ناصح کی کنیت ابوالعلا ہے، اور یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں، محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، یہ حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے، ۳- ناصح ایک دوسرے شیخ بھی ہیں جو بصرہ کے رہنے والے ہیں، عمار بن ابوعمار وغیرہ سے حدیث روایت کرتے ہیں، اور یہ ان سے زیادہ قوی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يحيى بن يعلى، عن ناصح، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يودب الرجل ولده خير من ان يتصدق بصاع " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وناصح هو ابن العلاء كوفي ليس عند اهل الحديث بالقوي ولا يعرف هذا الحديث الا من هذا الوجه وناصح شيخ اخر بصري يروي عن عمار بن ابي عمار وغيره هو اثبت من هذا
عمرو بن سعید بن عاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن ادب سے بہتر کسی باپ نے اپنے بیٹے کو تحفہ نہیں دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عامر بن ابوعامر خزاز کی روایت سے جانتے ہیں، اور عامر صالح بن رستم خزاز کے بیٹے ہیں، ۲- راوی ایوب بن موسیٰ سے مراد ایوب بن موسیٰ بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں، ۳- یہ حدیث میرے نزدیک مرسل ہے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عامر بن ابي عامر الخزاز، حدثنا ايوب بن موسى، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما نحل والد ولدا من نحل افضل من ادب حسن " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عامر بن ابي عامر الخزاز وهو عامر بن صالح بن رستم الخزاز وايوب بن موسى هو ابن عمرو بن سعيد بن العاصي . وهذا عندي حديث مرسل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف عیسیٰ بن یونس کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام سے روایت کرتے ہیں، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يحيى بن اكثم، وعلي بن خشرم، قالا حدثنا عيسى بن يونس، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقبل الهدية ويثيب عليها . وفي الباب عن ابي هريرة وانس وابن عمر وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح من هذا الوجه لا نعرفه مرفوعا الا من حديث عيسى بن يونس عن هشام
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کرے وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، حدثنا الربيع بن مسلم، حدثنا محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لا يشكر الناس لا يشكر الله " . قال هذا حديث حسن صحيح