Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے لوگوں کا شکر یہ ادا نہ کیا اس نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، اشعث بن قیس اور نعمان بن بشیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن ابن ابي ليلى، ح وحدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي، عن ابن ابي ليلى، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لم يشكر الناس لم يشكر الله " . وفي الباب عن ابي هريرة والاشعث بن قيس والنعمان بن بشير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا تمہارے لیے صدقہ ہے، تمہارا بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا صدقہ ہے، بھٹک جانے والی جگہ میں کسی آدمی کو تمہارا راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے، نابینا اور کم دیکھنے والے آدمی کو راستہ دکھانا تمہارے لیے صدقہ ہے، پتھر، کانٹا اور ہڈی کو راستے سے ہٹانا تمہارے لیے صدقہ ہے، اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں تمہارا پانی ڈالنا تمہارے لیے صدقہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، جابر، حذیفہ، عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا النضر بن محمد الجرشي اليمامي، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا ابو زميل، عن مالك بن مرثد، عن ابيه، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تبسمك في وجه اخيك لك صدقة وامرك بالمعروف ونهيك عن المنكر صدقة وارشادك الرجل في ارض الضلال لك صدقة وبصرك للرجل الرديء البصر لك صدقة واماطتك الحجر والشوكة والعظم عن الطريق لك صدقة وافراغك من دلوك في دلو اخيك لك صدقة " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وجابر وحذيفة وعايشة وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو زميل اسمه سماك بن الوليد الحنفي
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے دودھ کا عطیہ دیا ۱؎، یا چاندی قرض دی، یا کسی کو راستہ بتایا، اسے غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابواسحاق کی روایت سے جسے وہ طلحہ بن مصرف سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- منصور بن معتمر اور شعبہ نے بھی اس حدیث کی روایت طلحہ بن مصرف سے کیا ہے، ۳- اس باب میں نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۴- «من منح منيحة ورق» کا مطلب ہے بطور قرض دینا «هدى زقاقا» کا مطلب ہے راستہ دکھانا۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابراهيم بن يوسف بن ابي اسحاق، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن طلحة بن مصرف، قال سمعت عبد الرحمن بن عوسجة، يقول سمعت البراء بن عازب، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من منح منيحة لبن او ورق او هدى زقاقا كان له مثل عتق رقبة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابي اسحاق عن طلحة بن مصرف لا نعرفه الا من هذا الوجه . وقد روى منصور بن المعتمر وشعبة عن طلحة بن مصرف هذا الحديث . وفي الباب عن النعمان بن بشير . ومعنى قوله " من منح منيحة ورق " . انما يعني به قرض الدراهم قوله " او هدى زقاقا " . يعني به هداية الطريق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی راستے پر چل رہا تھا کہ اسے ایک کانٹے دار ڈالی ملی، اس نے اسے راستے سے ہٹا دیا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس کام سے خوش ہو کر اس کو بدلہ دیا یعنی اس کی مغفرت فرما دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، ابن عباس اور ابوذر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بينما رجل يمشي في طريق اذ وجد غصن شوك فاخره فشكر الله له فغفر له " . وفي الباب عن ابي برزة وابن عباس وابي ذر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر ( اسے راز میں رکھنے کے لیے ) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ہم اسے صرف ابن ابی ذئب کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن ابن ابي ذيب، قال اخبرني عبد الرحمن بن عطاء، عن عبد الملك بن جابر بن عتيك، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي امانة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وانما نعرفه من حديث ابن ابي ذيب
اسماء بنت ابوبکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے گھر میں صرف زبیر کی کمائی ہے، کیا میں اس میں سے صدقہ و خیرات کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، صدقہ کرو اور گرہ مت لگاؤ ورنہ تمہارے اوپر گرہ لگا دی جائے گی“ ۱؎۔ «لا توكي فيوكى عليك» کا مطلب یہ ہے کہ شمار کر کے صدقہ نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی شمار کرے گا اور برکت ختم کر دے گا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض راویوں نے اس حدیث کو «عن ابن أبي مليكة عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنهما» کی سند سے روایت کی ہے ۳؎، کئی لوگوں نے اس حدیث کی روایت ایوب سے کی ہے اور اس میں عباد بن عبیداللہ بن زبیر کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو الخطاب، زياد بن يحيى البصري حدثنا حاتم بن وردان، حدثنا ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن اسماء بنت ابي بكر، قالت قلت يا رسول الله انه ليس لي من شيء الا ما ادخل على الزبير افاعطي قال " نعم ولا توكي فيوكى عليك " . يقول لا تحصي فيحصى عليك . وفي الباب عن عايشة وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى بعضهم هذا الحديث بهذا الاسناد عن ابن ابي مليكة عن عباد بن عبد الله بن الزبير عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما وروى غير واحد هذا عن ايوب ولم يذكروا فيه عن عباد بن عبد الله بن الزبير
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سخی آدمی اللہ سے قریب ہے، جنت سے قریب ہے، لوگوں سے قریب ہے اور جہنم سے دور ہے، بخیل آدمی اللہ سے دور ہے، جنت سے دور ہے، لوگوں سے دور ہے، اور جہنم سے قریب ہے، جاہل سخی اللہ کے نزدیک بخیل عابد سے کہیں زیادہ محبوب ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے «يحيى بن سعيد عن الأعرج عن أبي هريرة» کی سند سے صرف سعد بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سعید سے اس حدیث کی روایت کرنے میں سعید بن محمد کی مخالفت کی گئی ہے، ( سعید بن محمد نے تو اس سند سے روایت کی ہے جو اوپر مذکور ہے ) جب کہ یہ «عن يحيى بن سعيد عن عائشة» کی سند سے بھی مرسلاً مروی ہے۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا سعيد بن محمد الوراق، عن يحيى بن سعيد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " السخي قريب من الله قريب من الجنة قريب من الناس بعيد من النار والبخيل بعيد من الله بعيد من الجنة بعيد من الناس قريب من النار ولجاهل سخي احب الى الله عز وجل من عابد بخيل " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث يحيى بن سعيد عن الاعرج عن ابي هريرة الا من حديث سعيد بن محمد . وقد خولف سعيد بن محمد في رواية هذا الحديث عن يحيى بن سعيد انما يروى عن يحيى بن سعيد عن عايشة شيء مرسل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کے اندر دو خصلتیں بخل اور بداخلاقی جمع نہیں ہو سکتیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صدقہ بن موسیٰ کی روایت سے ہی جانتے ہیں۔ ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي اخبرنا ابو داود، حدثنا صدقة بن موسى، حدثنا مالك بن دينار، عن عبد الله بن غالب الحداني، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خصلتان لا تجتمعان في مومن البخل وسوء الخلق " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث صدقة بن موسى . وفي الباب عن ابي هريرة
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دھوکہ باز، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں نہیں داخل ہوں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا صدقة بن موسى، عن فرقد السبخي، عن مرة الطيب، عن ابي بكر الصديق، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل الجنة خب ولا منان ولا بخيل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے، اور فاجر دھوکہ باز اور کمینہ خصلت ہوتا ہے“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، عن بشر بن رافع، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن غر كريم والفاجر خب لييم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے بال بچوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عمرو بن امیہ ضمری اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن شعبة، عن عدي بن ثابت، عن عبد الله بن يزيد، عن ابي مسعود الانصاري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نفقة الرجل على اهله صدقة " . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعمرو بن امية الضمري وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ثوبان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہتر دینار وہ دینار ہے، جسے آدمی اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے جہاد کی سواری پر خرچ کرتا ہے، اور وہ دینار ہے جسے آدمی اپنے مجاہد ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے“، ابوقلابہ کہتے ہیں: آپ نے بال بچوں کے نفقہ ( اخراجات ) سے شروعات کی پھر فرمایا: ”اس آدمی سے بڑا اجر و ثواب والا کون ہے جو اپنے چھوٹے بچوں پر خرچ کرتا ہے، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ انہیں حرام چیزوں سے بچاتا ہے اور انہیں مالدار بناتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " افضل الدينار دينار ينفقه الرجل على عياله ودينار ينفقه الرجل على دابته في سبيل الله ودينار ينفقه الرجل على اصحابه في سبيل الله " . قال ابو قلابة بدا بالعيال . ثم قال فاى رجل اعظم اجرا من رجل ينفق على عيال له صغار يعفهم الله به ويغنيهم الله به . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوشریح عدوی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث بیان فرما رہے تھے تو میری آنکھوں نے آپ کو دیکھا اور کانوں نے آپ سے سنا، آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرے“، صحابہ نے عرض کیا، مہمان کی عزت و تکریم اور آؤ بھگت کیا ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”ایک دن اور ایک رات، اور مہمان نوازی تین دن تک ہے اور جو اس کے بعد ہو وہ صدقہ ہے، جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي شريح العدوي، انه قال ابصرت عيناى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعته اذناى حين تكلم به قال " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه جايزته " . قالوا وما جايزته قال " يوم وليلة والضيافة ثلاثة ايام وما كان بعد ذلك فهو صدقة ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليسكت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوشریح کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضیافت ( مہمان نوازی ) تین دین تک ہے، اور مہمان کا عطیہ ( یعنی اس کے لیے پرتکلف کھانے کا انتظام کرنا ) ایک دن اور ایک رات تک ہے، اس کے بعد جو کچھ اس پر خرچ کیا جائے گا وہ صدقہ ہے، مہمان کے لیے جائز نہیں کہ میزبان کے پاس ( تین دن کے بعد بھی ) ٹھہرا رہے جس سے اپنے میزبان کو پریشانی و مشقت میں ڈال دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس اور لیث بن سعد نے اس حدیث کی روایت سعید مقبری سے کی ہے، ۳- ابوشریح خزاعی کی نسبت الکعبی اور العدوی ہے، اور ان کا نام خویلد بن عمرو ہے، ۴- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۵- «لا يثوي عنده» کا مطلب یہ ہے کہ مہمان گھر والے کے پاس ٹھہرا نہ رہے تاکہ اس پر گراں گزرے، ۶- «الحرج» کا معنی «الضيق» ( تنگی ہے ) اور «حتى يحرجه» کا مطلب ہے «يضيق عليه» یہاں تک کہ وہ اسے پریشانی و مشقت میں ڈال دے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي شريح الكعبي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الضيافة ثلاثة ايام وجايزته يوم وليلة وما انفق عليه بعد ذلك فهو صدقة ولا يحل له ان يثوي عنده حتى يحرجه " . وفي الباب عن عايشة وابي هريرة . وقد رواه مالك بن انس والليث بن سعد عن سعيد المقبري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو شريح الخزاعي هو الكعبي وهو العدوي اسمه خويلد بن عمرو . ومعنى قوله " لا يثوي عنده " . يعني الضيف لا يقيم عنده حتى يشتد على صاحب المنزل والحرج هو الضيق انما قوله " حتى يحرجه " . يقول حتى يضيق عليه
صفوان بن سلیم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”بیوہ اور مسکین پر خرچ کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے، یا اس آدمی کی طرح ہے جو دن میں روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتا ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن صفوان بن سليم، يرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " الساعي على الارملة والمسكين كالمجاهد في سبيل الله او كالذي يصوم النهار ويقوم الليل " . حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ثور بن زيد الديلي، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل ذلك . وهذا الحديث حديث حسن غريب صحيح . وابو الغيث اسمه سالم مولى عبد الله بن مطيع وثور بن زيد مدني وثور بن يزيد شامي
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بھلائی صدقہ ہے، اور بھلائی یہ بھی ہے کہ تم اپنے بھائی سے خوش مزاجی کے ساتھ ملو اور اپنے ڈول سے اس کے ڈول میں پانی ڈال دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوذر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا المنكدر بن محمد بن المنكدر، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل معروف صدقة وان من المعروف ان تلقى اخاك بوجه طلق وان تفرغ من دلوك في اناء اخيك " . وفي الباب عن ابي ذر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچ بولو، اس لیے کہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ گناہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور گناہ جہنم میں لے جاتا ہے، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کی تلاش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، عمر، عبداللہ بن شخیر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم بالصدق فان الصدق يهدي الى البر وان البر يهدي الى الجنة وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا واياكم والكذب فان الكذب يهدي الى الفجور وان الفجور يهدي الى النار وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا " . وفي الباب عن ابي بكر الصديق وعمر وعبد الله بن الشخير وابن عمر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور بھاگتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن جید غریب ہے ۲- یحییٰ بن موسیٰ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحیم بن ہارون سے پوچھا: کیا آپ سے عبدالعزیز بن ابی داود نے یہ حدیث بیان کی؟ کہا: ہاں، ۳- ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اس کی روایت کرنے میں عبدالرحیم بن ہارون منفرد ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، قال قلت لعبد الرحيم بن هارون الغساني حدثكم عبد العزيز بن ابي رواد، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما جاء به " . قال يحيى فاقر به عبد الرحيم بن هارون فقال نعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه تفرد به عبد الرحيم بن هارون
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے بڑھ کر کوئی اور عادت نفرت کے قابل ناپسندیدہ نہیں تھی، اور جب کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھوٹ بولتا تو وہ ہمیشہ آپ کی نظر میں قابل نفرت رہتا یہاں تک کہ آپ جان لیتے کہ اس نے جھوٹ سے توبہ کر لی ہے، امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، قالت ما كان خلق ابغض الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكذب ولقد كان الرجل يحدث عند النبي صلى الله عليه وسلم بالكذبة فما يزال في نفسه حتى يعلم انه قد احدث منها توبة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز میں بھی بےحیائی آتی ہے اسے عیب دار کر دیتی ہے اور جس چیز میں حیاء آتی ہے اسے زینت بخشتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرزاق کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما كان الفحش في شيء الا شانه وما كان الحياء في شيء الا زانه " . وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرزاق