Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، آپ نے کبھی مجھے اف تک نہ کہا، اور نہ ہی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو تم نے ایسا کیوں نہیں کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق کے آدمی تھے، میں نے کبھی کوئی ریشم، حریر یا کوئی چیز آپ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم اور ملائم نہیں دیکھی اور نہ کبھی میں نے کوئی مشک یا عطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے سے زیادہ خوشبودار دیکھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور براء رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن ثابت، عن انس، قال خدمت النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين فما قال لي اف قط وما قال لشيء صنعته لم صنعته ولا لشيء تركته لم تركته وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم من احسن الناس خلقا ولا مسست خزا قط ولا حريرا ولا شييا كان الين من كف رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا شممت مسكا قط ولا عطرا كان اطيب من عرق النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى وفي الباب عن عايشة والبراء . وهذا حديث حسن صحيح
ابوعبداللہ جدلی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو، بدکلامی کرنے والے اور بازار میں چیخنے والے نہیں تھے، آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ عفو و درگزر فرما دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوعبداللہ جدلی کا نام عبد بن عبد ہے، اور عبدالرحمٰن بن عبد بھی بیان کیا گیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت ابا عبد الله الجدلي، يقول سالت عايشة عن خلق، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت لم يكن فاحشا ولا متفحشا ولا صخابا في الاسواق ولا يجزي بالسيية السيية ولكن يعفو ويصفح . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو عبد الله الجدلي اسمه عبد بن عبد ويقال عبد الرحمن بن عبد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر میں اس طرح غیرت نہیں کھاتی تھی جس طرح خدیجہ پر غیرت کھاتی تھی جب کہ میں نے ان کا زمانہ بھی نہیں پایا تھا، اس غیرت کی کوئی وجہ نہیں تھی سوائے اس کے کہ آپ ان کو بہت یاد کرتے تھے، اور اگر آپ بکری ذبح کرتے تو ان کی سہیلیوں کو ڈھونڈتے اور گوشت ہدیہ بھیجتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا حفص بن غياث، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ما غرت على احد من ازواج النبي صلى الله عليه وسلم ما غرت على خديجة وما بي ان اكون ادركتها وما ذاك الا لكثرة ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم لها وان كان ليذبح الشاة فيتتبع بها صدايق خديجة فيهديها لهن . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے نزدیک تم میں سے ( دنیا میں ) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں، اور میرے نزدیک تم میں ( دنیا میں ) سب سے زیادہ قابل نفرت اور قیامت کے دن مجھ سے دور بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو باتونی، بلااحتیاط بولنے والے، زبان دراز اور تکبر کرنے والے «متفيهقون» ہیں“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نے «ثرثارون» ( باتونی ) اور «متشدقون» ( بلااحتیاط بولنے والے ) کو تو جان لیا لیکن کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تکبر کرنے والے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۳- بعض لوگوں نے یہ حدیث «عن المبارك بن فضالة عن محمد بن المنكدر عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم» کی سند سے روایت کی ہے اور اس میں «عن عبد ربه بن سعيد» کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا، اور یہ زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- «ثرثار» باتونی کو کہتے ہیں: اور «متشدق» اس آدمی کو کہتے ہیں: جو لوگوں کے ساتھ گفتگو میں بڑائی جتاتے اور فحش کلامی کرتے ہیں۔
حدثنا احمد بن الحسن بن خراش البغدادي، حدثنا حبان بن هلال، حدثنا مبارك بن فضالة، حدثني عبد ربه بن سعيد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من احبكم الى واقربكم مني مجلسا يوم القيامة احاسنكم اخلاقا وان ابغضكم الى وابعدكم مني مجلسا يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون " . قالوا يا رسول الله قد علمنا الثرثارون والمتشدقون فما المتفيهقون قال " المتكبرون " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة . وهذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وروى بعضهم هذا الحديث عن المبارك بن فضالة عن محمد بن المنكدر عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكر فيه عن عبد ربه بن سعيد وهذا اصح . والثرثار هو الكثير الكلام والمتشدق الذي يتطاول على الناس في الكلام ويبذو عليهم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن لعن و طعن کرنے والا نہیں ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- بعض لوگوں نے اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعن وطعن کرنے والا ہو“، یہ حدیث پہلی حدیث کی وضاحت کر رہی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، عن كثير بن زيد، عن سالم، عن ابن عمر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يكون المومن لعانا " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن مسعود . وهذا حديث حسن غريب . وروى بعضهم بهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ينبغي للمومن ان يكون لعانا " . وهذا الحديث مفسر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: مجھے کچھ سکھائیے لیکن زیادہ نہ بتائیے تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں، آپ نے فرمایا: ”غصہ مت کرو“، وہ کئی بار یہی سوال دہراتا رہا اور آپ ہر بار کہتے رہے ”غصہ مت کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید اور سلیمان بن صرد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم قال علمني شييا ولا تكثر على لعلي اعيه . قال " لا تغضب " . فردد ذلك مرارا كل ذلك يقول " لا تغضب " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي سعيد وسليمان بن صرد . وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وابو حصين اسمه عثمان بن عاصم الاسدي
معاذ بن انس جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غصہ ضبط کر لے حالانکہ وہ اسے کر گزرنے کی استطاعت رکھتا ہو، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے منتخب کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عباس الدوري، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، حدثني ابو مرحوم عبد الرحيم بن ميمون، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من كظم غيظا وهو يستطيع ان ينفذه دعاه الله يوم القيامة على رءوس الخلايق حتى يخيره في اى الحور شاء " . قال هذا حديث حسن غريب
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو جوان کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے احترام کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے لوگوں کو مقرر فرما دے گا جو اس عمر میں ( یعنی بڑھاپے میں ) اس کا احترام کریں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی شیخ یعنی یزید بن بیان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ابوالرجال انصاری ایک دوسرے راوی ہیں ( اور جو راوی اس حدیث میں ہیں وہ ابوالرحال ہیں ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يزيد بن بيان العقيلي، حدثنا ابو الرحال الانصاري، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اكرم شاب شيخا لسنه الا قيض الله له من يكرمه عند سنه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث هذا الشيخ يزيد بن بيان وابو الرجال الانصاري اخر
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والوں کی اس دن مغفرت کی جاتی ہے، سوائے ان کے جنہوں نے باہم قطع تعلق کیا ہے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے، ان دونوں کو لوٹا دو یہاں تک کہ آپس میں صلح کر لیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض روایتوں میں «ردوا هذين حتى يصطلحا» ”ان دونوں کو اپنے حال پر چھوڑ دو جب تک صلح نہ کر لیں“ کے الفاظ مروی ہیں، ۳- «مهتجرين» کے معنی «متصارمين» ”قطع تعلق کرنے والے“ ہیں، ۴- یہ حدیث اسی روایت کے مثل ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، آپ نے فرمایا: ”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تفتح ابواب الجنة يوم الاثنين والخميس فيغفر فيهما لمن لا يشرك بالله شييا الا المهتجرين يقال ردوا هذين حتى يصطلحا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويروى في بعض الحديث " ذروا هذين حتى يصطلحا " . قال ومعنى قوله " المهتجرين " . يعني المتصارمين . - وهذا مثل ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاثة ايام
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ چند انصاریوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ نے پھر دیا، پھر فرمایا: ”جو مال بھی میرے پاس ہو گا میں اس کو تم سے چھپا کر ہرگز جمع نہیں رکھوں گا، لیکن جو استغناء ظاہر کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو غنی کر دے گا ۱؎، جو سوال سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کو سوال سے محفوظ رکھے گا، اور جو صبر کی توفیق مانگے گا اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق عطا کرے گا، کسی شخص کو بھی صبر سے بہتر اور کشادہ کوئی چیز نہیں ملی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث امام مالک سے ( دوسری سند سے ) «فلن أذخره عنكم» کے الفاظ کے ساتھ بھی آئی ہے، ان دونوں عبارتوں کا ایک ہی معنی ہے، یعنی تم لوگوں سے میں اسے ہرگز نہیں روک رکھوں گا، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي سعيد، ان ناسا، من الانصار سالوا النبي صلى الله عليه وسلم فاعطاهم ثم سالوه فاعطاهم ثم قال " ما يكون عندي من خير فلن ادخره عنكم ومن يستغن يغنه الله ومن يستعفف يعفه الله ومن يتصبر يصبره الله وما اعطي احد شييا هو خير واوسع من الصبر " . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس . وهذا حديث حسن صحيح . وقد روي عن مالك هذا الحديث " فلن اذخره عنكم " . والمعنى فيه واحد يقول لن احبسه عنكم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کی نظر میں دو رخے شخص سے بدتر کوئی نہیں ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور عمار رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من شر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين " . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس وعمار . وهذا حديث حسن صحيح
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے پاس سے ایک آدمی گزرا، ان سے کہا گیا کہ یہ شخص حکام کے پاس لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے، تو حذیفہ رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”چغل خور جنت میں نہیں داخل ہو گا“ ۱؎۔ سفیان کہتے ہیں: «قتات»، «نمام» ”چغل خور“ کو کہتے ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام بن الحارث، قال مر رجل على حذيفة بن اليمان فقيل له ان هذا يبلغ الامراء الحديث عن الناس . فقال حذيفة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يدخل الجنة قتات " . قال سفيان والقتات النمام . وهذا حديث حسن صحيح
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیاء اور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں، جب کہ فحش کلامی اور کثرت کلام نفاق کی دو شاخیں ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب، ہم اسے صرف ابوغسان محمد بن مطرف ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- «عي» کا معنی ”کم گوئی“ اور «بذاء» کا معنی ”فحش گوئی“ ہے، «بيان» کا معنی ”کثرت کلام“ ہے، مثلا وہ مقررین جو لمبی تقریریں کرتے ہیں اور لوگوں کی تعریف میں ایسی فصاحت بگھاڑتے ہیں جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، عن ابي غسان، محمد بن مطرف عن حسان بن عطية، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحياء والعي شعبتان من الايمان والبذاء والبيان شعبتان من النفاق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من حديث ابي غسان محمد بن مطرف . قال والعي قلة الكلام والبذاء هو الفحش في الكلام والبيان هو كثرة الكلام مثل هولاء الخطباء الذين يخطبون فيوسعون في الكلام ويتفصحون فيه من مدح الناس فيما لا يرضي الله
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمی آئے ۱؎ اور انہوں نے تقریر کی، لوگ ان کی تقریر سن کر تعجب کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کچھ باتیں جادو ہوتی ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمار، ابن مسعود اور عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن زيد بن اسلم، عن ابن عمر، ان رجلين، قدما في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطبا فعجب الناس من كلامهما فالتفت الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان من البيان سحرا " او " ان بعض البيان سحر " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمار وابن مسعود وعبد الله بن الشخير . وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ مال کو کم نہیں کرتا، اور عفو و درگزر کرنے سے آدمی کی عزت بڑھتی ہے، اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع و انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند فرما دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ابن عباس اور ابوکبشہ انماری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوکبشہ انماری کا نام عمر بن سعد ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما نقصت صدقة من مال وما زاد الله رجلا بعفو الا عزا وما تواضع احد لله الا رفعه الله " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وابن عباس وابي كبشة الانماري واسمه عمر بن سعد . وهذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم کرنا قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابوموسیٰ، ابوہریرہ، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا ابو داود الطيالسي، عن عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الظلم ظلمات يوم القيامة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعايشة وابي موسى وابي هريرة وجابر . وهذا حديث حسن غريب من حديث ابن عمر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے میں عیب نہیں لگایا، جب آپ کو پسند آتا تو کھا لیتے نہیں تو چھوڑ دیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال ما عاب رسول الله صلى الله عليه وسلم طعاما قط كان اذا اشتهاه اكله والا تركه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حازم هو الاشجعي الكوفي واسمه سلمان مولى عزة الاشجعية
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، بلند آواز سے پکارا اور فرمایا: ”اے اسلام لانے والے زبانی لوگوں کی جماعت ان کے دلوں تک ایمان نہیں پہنچا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، ان کو عار مت دلاؤ اور ان کے عیب نہ تلاش کرو، اس لیے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے عیب ڈھونڈتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا عیب ڈھونڈتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب ڈھونڈتا ہے، اسے رسوا و ذلیل کر دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندر ہو“۔ راوی ( نافع ) کہتے ہیں: ایک دن ابن عمر رضی الله عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کتنی عظمت والے ہو! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظر میں مومن ( کامل ) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲-اسحاق بن ابراہیم سمر قندی نے بھی حسین بن واقد سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- ابوبرزہ اسلمی رضی الله عنہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا يحيى بن اكثم، والجارود بن معاذ، قالا حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا الحسين بن واقد، عن اوفى بن دلهم، عن نافع، عن ابن عمر، قال صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم المنبر فنادى بصوت رفيع فقال " يا معشر من قد اسلم بلسانه ولم يفض الايمان الى قلبه لا توذوا المسلمين ولا تعيروهم ولا تتبعوا عوراتهم فانه من تتبع عورة اخيه المسلم تتبع الله عورته ومن تتبع الله عورته يفضحه ولو في جوف رحله " قال ونظر ابن عمر يوما الى البيت او الى الكعبة فقال ما اعظمك واعظم حرمتك والمومن اعظم حرمة عند الله منك . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث الحسين بن واقد . وروى اسحاق بن ابراهيم السمرقندي عن حسين بن واقد نحوه وروي عن ابي برزة الاسلمي عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غلطی کرنے والے ہی بردبار ہوتے ہیں اور تجربہ والے ہی دانا ہوتے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن دراج، عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حليم الا ذو عثرة ولا حكيم الا ذو تجربة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی تحفہ دیا جائے پھر اگر اسے میسر ہو تو اس کا بدلہ دے اور جسے میسر نہ ہو تو وہ ( تحفہ دینے والے کی ) تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے تعریف کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے نعمت کو چھپا لیا اس نے کفران نعمت کیا، اور جس نے اپنے آپ کو اس چیز سے سنوارا جو وہ نہیں دیا گیا ہے، تو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں اسماء بنت ابوبکر اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- «ومن كتم فقد كفر» کا معنی یہ ہے: اس نے اس نعمت کی ناشکری کی۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن عياش، عن عمارة بن غزية، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعطي عطاء فوجد فليجز به ومن لم يجد فليثن فان من اثنى فقد شكر ومن كتم فقد كفر ومن تحلى بما لم يعطه كان كلابس ثوبى زور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وفي الباب عن اسماء بنت ابي بكر وعايشة . ومعنى قوله " ومن كتم فقد كفر " . يقول قد كفر تلك النعمة