Loading...

Loading...
کتب
۳۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مر گیا کہ وہ اس کا عادی تھا، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیئے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے نافع سے آئی ہے، جسے نافع، ابن عمر سے، ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- مالک بن انس نے اس حدیث کو نافع کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفا روایت کی ہے، اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ۴- اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابن عباس، عبادہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو زكريا، يحيى بن درست البصري حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مسكر خمر وكل مسكر حرام ومن شرب الخمر في الدنيا فمات وهو يدمنها لم يشربها في الاخرة " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي سعيد وعبد الله بن عمرو وابن عباس وعبادة وابي مالك الاشعري . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه مالك بن انس عن نافع عن ابن عمر موقوفا فلم يرفعه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے شراب پی اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے دوبارہ شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے پھر شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرے گا، اگر اس نے چوتھی بار بھی شراب پی تو اللہ تعالیٰ اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں کرے گا اور اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ بھی قبول نہیں کرے گا، اور اس کو نہر خبال سے پلائے گا، پوچھا گیا، ابوعبدالرحمٰن! نہر خبال کیا ہے؟ انہوں نے کہا: جہنمیوں کے پیپ کی ایک نہر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابن عباس کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن عطاء بن السايب، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابيه، قال قال عبد الله بن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شرب الخمر لم يقبل الله له صلاة اربعين صباحا فان تاب تاب الله عليه فان عاد لم يقبل الله له صلاة اربعين صباحا فان تاب تاب الله عليه فان عاد لم يقبل الله له صلاة اربعين صباحا فان تاب تاب الله عليه فان عاد الرابعة لم يقبل الله له صلاة اربعين صباحا فان تاب لم يتب الله عليه وسقاه من نهر الخبال " . قيل يا ابا عبد الرحمن وما نهر الخبال قال نهر من صديد اهل النار . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي نحو هذا عن عبد الله بن عمرو وابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر شراب جو نشہ پیدا کر دے وہ حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن البتع فقال " كل شراب اسكر فهو حرام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوسلمہ سے ابوہریرہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور «عن أبي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، انس، ابو سعید خدری، ابوموسیٰ اشج عصری، دیلم، میمونہ، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ، وائل بن حجر، قرہ مزنی، عبداللہ بن مغفل، ام سلمہ، بریدہ، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي الكوفي، وابو سعيد الاشج قالا حدثنا عبد الله بن ادريس، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابن عمر، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " كل مسكر حرام " . قال وفي الباب عن عمر وعلي وابن مسعود وانس وابي سعيد وابي موسى والاشج العصري وديلم وميمونة وابن عباس وقيس بن سعد والنعمان بن بشير ومعاوية ووايل بن حجر وقرة المزني وعبد الله بن مغفل وام سلمة وبريدة وابي هريرة وعايشة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وكلاهما صحيح رواه غير واحد عن محمد بن عمرو عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وعن ابي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کر دے تو اس کی تھوڑی سی مقدار بھی حرام ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث جابر کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سعد، عائشہ، عبداللہ بن عمرو، ابن عمر اور خوات بن جبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، وحدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن داود بن بكر بن ابي الفرات، عن ابن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اسكر كثيره فقليله حرام " . قال وفي الباب عن سعد وعايشة وعبد الله بن عمرو وابن عمر وخوات بن جبير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث جابر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق ( سولہ رطل ) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ۱؎، ان میں ( یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی ) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا: یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن هشام بن حسان، عن مهدي بن ميمون، ح وحدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا مهدي بن ميمون المعنى، واحد، عن ابي عثمان الانصاري، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مسكر حرام ما اسكر الفرق منه فملء الكف منه حرام " . قال ابو عيسى قال احدهما في حديثه " الحسوة منه حرام " . قال هذا حديث حسن . وقد رواه ليث بن ابي سليم والربيع بن صبيح عن ابي عثمان الانصاري نحو رواية مهدي بن ميمون . وابو عثمان الانصاري اسمه عمرو بن سالم ويقال عمر بن سالم ايضا
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس آیا اور پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۱؎، طاؤس کہتے ہیں: اللہ کی قسم میں نے ان سے یہ بات سنی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، سوید، عائشہ، ابن زبیر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابن علية، ويزيد بن هارون، قالا اخبرنا سليمان التيمي، عن طاوس، ان رجلا، اتى ابن عمر فقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نبيذ الجر فقال نعم . فقال طاوس والله اني سمعته منه . قال وفي الباب عن ابن ابي اوفى وابي سعيد وسويد وعايشة وابن الزبير وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
زاذان کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے ان برتنوں کے متعلق پوچھا جن سے آپ نے منع فرمایا ہے اور کہا: اس کو اپنی زبان میں بیان کیجئے اور ہماری زبان میں اس کی تشریح کیجئے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حنتمة» سے منع فرمایا ہے اور وہ مٹکا ہے، آپ نے «دباء» سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کی تونبی ہے۔ آپ نے «نقير» سے منع فرمایا اور وہ کھجور کی جڑ ہے جس کو اندر سے گہرا کر کے یا خراد کر برتن بنا لیتے ہیں، آپ نے «مزفت» سے منع فرمایا اور وہ روغن قیر ملا ہوا ( لاکھی ) برتن ہے، اور آپ نے حکم دیا کہ نبیذ مشکوں میں بنائی جائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، ابن عباس، ابو سعید خدری، ابوہریرہ، عبدالرحمٰن بن یعمر، سمرہ، انس، عائشہ، عمران بن حصین، عائذ بن عمرو، حکم غفاری اور میمونہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت زاذان، يقول سالت ابن عمر عما نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم من الاوعية اخبرناه بلغتكم وفسره لنا بلغتنا . فقال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحنتمة وهي الجرة ونهى عن الدباء وهي القرعة ونهى عن النقير وهو اصل النخل ينقر نقرا او ينسح نسحا ونهى عن المزفت وهي المقير وامر ان ينبذ في الاسقية . قال وفي الباب عن عمر وعلي وابن عباس وابي سعيد وابي هريرة وعبد الرحمن بن يعمر وسمرة وانس وعايشة وعمران بن حصين وعايذ بن عمرو والحكم الغفاري وميمونة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں ( اس سے پہلے باب کی حدیث میں مذکور ) برتنوں سے منع کیا تھا، درحقیقت برتن کسی چیز کو نہ تو حلال کرتے ہیں نہ حرام ( بلکہ ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، والحسن بن علي، ومحمود بن غيلان، قالوا حدثنا ابو عاصم، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني كنت نهيتكم عن الظروف وان ظرفا لا يحل شييا ولا يحرمه وكل مسكر حرام " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان ) برتنوں ( کے استعمال ) سے منع فرمایا تو انصار نے آپ سے شکایت کی، اور کہا: ہمارے پاس دوسرے برتن نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب میں منع نہیں کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الظروف فشكت اليه الانصار فقالوا ليس لنا وعاء . قال " فلا اذا " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابي سعيد وابي هريرة وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بناتے تھے، اس کے اوپر کا منہ بند کر دیا جاتا تھا، اس کے نیچے ایک سوراخ ہوتا تھا، ہم صبح میں نبیذ کو بھگوتے تھے تو آپ شام کو پیتے تھے اور شام کو بھگوتے تھے تو آپ صبح کو پیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے یونس بن عبید کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- عائشہ رضی الله عنہا سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں جابر، ابوسعید اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن يونس بن عبيد، عن الحسن البصري، عن امه، عن عايشة، قالت كنا ننبذ لرسول الله صلى الله عليه وسلم في سقاء يوكا في اعلاه له عزلاء ننبذه غدوة ويشربه عشاء وننبذه عشاء ويشربه غدوة . قال وفي الباب عن جابر وابي سعيد وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث يونس بن عبيد الا من هذا الوجه وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن عايشة ايضا
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیہوں، جو، کھجور، کشمش، اور شہد سے شراب بنائی جاتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ سے بھی حدیث مروی ہے۔ فائدہ ۱؎: یعنی اگر ان چیزوں میں نشہ پیدا ہو جائے تو وہ شراب ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا اسراييل، حدثنا ابراهيم بن مهاجر، عن عامر الشعبي، عن النعمان بن بشير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من الحنطة خمرا ومن الشعير خمرا ومن التمر خمرا ومن الزبيب خمرا ومن العسل خمرا " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
اس سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، نحوه . وروى ابو حيان التيمي، هذا الحديث عن الشعبي، عن ابن عمر، عن عمر، قال ان من الحنطة خمرا فذكر هذا الحديث
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ شراب گیہوں سے بنائی جاتی ہے، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ گیہوں سے شراب بنائی جاتی ہے، یہ ابراہیم بن مہاجر کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۲- علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: ابراہیم بن مہاجر حدیث بیان کرنے میں قوی نہیں ہیں، ۳- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی نعمان بن بشیر سے آئی ہے۔
حدثنا بذلك، احمد بن منيع حدثنا عبد الله بن ادريس، عن ابي حيان التيمي، عن الشعبي، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، ان من الحنطة خمرا بهذا . وهذا اصح من حديث ابراهيم بن مهاجر . وقال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد لم يكن ابراهيم بن مهاجر بالقوي في الحديث . وقد روي من غير وجه ايضا عن الشعبي عن النعمان بن بشير
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب ان دو درختوں: کھجور اور انگور سے بنتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے عکرمہ بن عمار سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، حدثنا الاوزاعي، وعكرمة بن عمار، قالا حدثنا ابو كثير السحيمي، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخمر من هاتين الشجرتين النخلة والعنبة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو كثير السحيمي هو الغبري واسمه يزيد بن عبد الرحمن بن غفيلة . وروى شعبة عن عكرمة بن عمار هذا الحديث
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «گدر» ( ادھ پکی ) کھجور اور تازہ کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان ينبذ البسر والرطب جميعا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «گدر» ( ادھ پکی ) کھجور اور پختہ کھجور ایک ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا: ”اور آپ نے مٹکوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، انس، ابوقتادہ، ابن عباس، ام سلمہ اور «معبد بن کعب عن أمہ» رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا جرير، عن سليمان التيمي، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن البسر والتمر ان يخلط بينهما ونهى عن الزبيب والتمر ان يخلط بينهما ونهى عن الجرار ان ينبذ فيها . قال وفي الباب عن جابر وانس وابي قتادة وابن عباس وام سلمة ومعبد بن كعب عن امه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ رضی الله عنہ نے ایک آدمی سے پانی طلب کیا تو اس نے انہیں چاندی کے برتن میں پانی دیا، انہوں نے پانی کو اس کے منہ پر پھینک دیا، اور کہا: میں اس سے منع کر چکا تھا، پھر بھی اس نے باز رہنے سے انکار کیا ۱؎، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے، اور ریشم پہننے سے اور دیباج سے اور فرمایا: ”یہ ان ( کافروں ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ، براء، اور عائشہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت ابن ابي ليلى، يحدث ان حذيفة، استسقى فاتاه انسان باناء من فضة فرماه به وقال اني كنت قد نهيته فابى ان ينتهي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الشرب في انية الفضة والذهب ولبس الحرير والديباج وقال " هي لهم في الدنيا ولكم في الاخرة " . قال وفي الباب عن ام سلمة والبراء وعايشة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا، پوچھا گیا: کھڑے ہو کر کھانا کیسا ہے؟ کہا: ”یہ اور برا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يشرب الرجل قايما . فقيل الاكل قال ذاك اشد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چلتے ہوئے کھاتے تھے اور کھڑے ہو کر پیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث «عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر» کی سند سے صحیح غریب ہے، ۲- عمران بن حدیر نے اس حدیث کو ابوالبزری کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی ہے، ۳- ابوالبزری کا نام یزید بن عطارد ہے۔
حدثنا ابو السايب، سلم بن جنادة الكوفي حدثنا حفص بن غياث، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال كنا ناكل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نمشي ونشرب ونحن قيام . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من حديث عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر . وروى عمران بن حدير هذا الحديث عن ابي البزري عن ابن عمر . وابو البزري اسمه يزيد بن عطارد