Loading...

Loading...
کتب
۳۶ احادیث
جارود بن معلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب حسن ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے اس حدیث کو «عن سعيد عن قتادة عن أبي مسلم عن الجارود عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کیا ہے، اور یہ حدیث بطریق: «عن قتادة عن يزيد بن عبد الله ابن الشخير عن أبي مسلم عن الجارود أن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مسلمان کی گری ہوئی چیز ( یعنی اس پر قبضہ کرنے کی نیت سے ) اٹھانا آگ میں جلنے کا سبب ہے“، ۳- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا خالد بن الحارث، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي مسلم الجذمي، عن الجارود بن المعلى، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الشرب قايما . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابي هريرة وانس . قال ابو عيسى هذا حديث غريب حسن . وهكذا روى غير واحد هذا الحديث عن سعيد عن قتادة عن ابي مسلم عن الجارود عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن قتادة عن يزيد بن عبد الله بن الشخير عن ابي مسلم عن الجارود ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ضالة المسلم حرق النار " . والجارود هو ابن المعلى العبدي صاحب النبي صلى الله عليه وسلم ويقال الجارود بن العلاء ايضا والصحيح ابن المعلى
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر زمزم کا پانی پیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، سعد، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، حدثنا عاصم الاحول، ومغيرة، عن الشعبي، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم شرب من زمزم وهو قايم . قال وفي الباب عن علي وسعد وعبد الله بن عمرو وعايشة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر پانی پیتے دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا محمد بن جعفر، عن حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يشرب قايما وقاعدا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے: ( پانی پینے کا یہ طریقہ ) ”زیادہ خوشگوار اور سیراب کن ہوتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اسے ہشام دستوائی نے بھی ابوعصام کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے، اور عزرہ بن ثابت نے ثمامہ سے، ثمامہ نے انس سے روایت کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم برتن سے تین سانس میں پانی پیتے تھے۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیو، بلکہ دو یا تین سانس میں پیو، جب پیو تو «بسم اللہ» کہو اور جب منہ سے برتن ہٹاؤ تو «الحمدللہ» کہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن يزيد بن سنان الجزري، عن ابن لعطاء بن ابي رباح، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تشربوا واحدا كشرب البعير ولكن اشربوا مثنى وثلاث وسموا اذا انتم شربتم واحمدوا اذا انتم رفعتم " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . ويزيد بن سنان الجزري هو ابو فروة الرهاوي
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پیتے تھے تو دو سانس میں پیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف رشدین بن کریب کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- میں نے ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی سے رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھتے ہوئے کہا: وہ زیادہ قوی ہیں یا محمد بن کریب؟ انہوں نے کہا: دونوں ( رتبہ میں ) بہت ہی قریب ہیں، اور میرے نزدیک رشدین بن کریب زیادہ راجح ہیں، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: محمد بن کریب، رشدین بن کریب سے زیادہ راجح ہیں، ۵- میرے نزدیک ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کی بات زیادہ صحیح ہے کہ رشدین بن کریب زیادہ راجح اور بڑے ہیں، انہوں نے ابن عباس کو پایا ہے اور انہیں دیکھا ہے، یہ دونوں بھائی ہیں ان دونوں سے منکر احادیث بھی مروی ہیں۔
حدثنا علي بن خشرم، حدثنا عيسى بن يونس، عن رشدين بن كريب، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا شرب تنفس مرتين . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث رشدين بن كريب . قال وسالت ابا محمد عبد الله بن عبد الرحمن عن رشدين بن كريب قلت هو اقوى او محمد بن كريب فقال ما اقربهما ورشدين بن كريب ارجحهما عندي . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن هذا فقال محمد بن كريب ارجح من رشدين بن كريب . والقول عندي ما قال ابو محمد عبد الله بن عبد الرحمن رشدين بن كريب ارجح واكبر وقد ادرك ابن عباس وراه وهما اخوان وعندهما مناكير
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پینے کی چیز میں پھونکنے سے منع فرمایا، ایک آدمی نے عرض کیا: برتن میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اسے بہا دو، اس نے عرض کیا: میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہو پاتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”تب ( سانس لیتے وقت ) پیالہ اپنے منہ سے ہٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن مالك بن انس، عن ايوب، وهو ابن حبيب انه سمع ابا المثنى الجهني، يذكر عن ابي سعيد الخدري، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن النفخ في الشرب . فقال رجل القذاة اراها في الاناء قال " اهرقها " . قال فاني لا اروى من نفس واحد قال " فابن القدح اذا عن فيك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن میں سانس لینے اور پھونکنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الكريم الجزري، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتنفس في الاناء او ينفخ فيه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پانی پیئے تو برتن میں سانس نہ چھوڑے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى بن ابي كثير، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا شرب احدكم فلا يتنفس في الاناء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) مشکیزوں سے منہ لگا کر پینے سے منع کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، رواية انه نهى عن اختناث الاسقية، . قال وفي الباب عن جابر، وابن، عباس وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن انیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے پاس گئے، اسے جھکایا، پھر اس کے منہ سے پانی پیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ام سلیم سے بھی روایت ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ، ۲- اس حدیث کی سند صحیح نہیں ہے، عبداللہ بن عمر حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، میں نہیں جانتا ہوں کہ انہوں نے عیسیٰ سے حدیث سنی ہے یا نہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا عبد الله بن عمر، عن عيسى بن عبد الله بن انيس، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم قام الى قربة معلقة فخنثها ثم شرب من فيها . قال وفي الباب عن ام سليم . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بصحيح . وعبد الله بن عمر العمري يضعف في الحديث ولا ادري سمع من عيسى ام لا
کبشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، آپ نے ایک لٹکی ہوئی مشکیزہ کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا، پھر میں مشکیزہ کے منہ کے پاس گئی اور اس کو کاٹ لیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، عن يزيد بن يزيد بن جابر، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن جدته، كبشة قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فشرب من في قربة معلقة قايما فقمت الى فيها فقطعته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . ويزيد بن يزيد بن جابر هو اخو عبد الرحمن بن يزيد بن جابر وهو اقدم منه موتا
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں پانی ملا ہوا تھا، آپ کے دائیں طرف ایک اعرابی تھا اور بائیں ابوبکر رضی الله عنہ، آپ نے دودھ پیا، پھر ( بچا ہوا دودھ ) اعرابی کو دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ مستحق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، سہل بن سعد، ابن عمر اور عبداللہ بن بسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، قال وحدثنا قتيبة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بلبن قد شيب بماء وعن يمينه اعرابي وعن يساره ابو بكر فشرب ثم اعطى الاعرابي وقال " الايمن فالايمن " . قال وفي الباب عن ابن عباس وسهل بن سعد وابن عمر وعبد الله بن بسر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پلانے والے کو سب سے آخر میں پینا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ساقي القوم اخرهم شربا " . قال وفي الباب عن ابن ابي اوفى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور ٹھنڈا مشروب سب سے زیادہ پسند تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عیینہ سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن معمر عن الزهري عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، لیکن صحیح وہی ہے جو زہری کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً مروی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت كان احب الشراب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الحلو البارد . قال ابو عيسى هكذا روى غير واحد عن ابن عيينة مثل هذا عن معمر عن الزهري عن عروة عن عايشة والصحيح ما روي عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مشروب بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میٹھا اور ٹھنڈا مشروب“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح عبدالرزاق نے بھی معمر سے، معمر نے زہری سے اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرسلاً روایت کی ہے، ۲- یہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا معمر، ويونس، عن الزهري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل اى الشراب اطيب قال " الحلو البارد " . قال ابو عيسى وهكذا روى عبد الرزاق عن معمر عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وهذا اصح من حديث ابن عيينة رحمه الله