Loading...

Loading...
کتب
۷۳ احادیث
سفینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۳- ابراہیم بن عمر بن سفینہ سے ابن ابی فدیک نے بھی روایت کی ہے، انہیں برید بن عمر بن سفینہ بھی کہا گیا ہے۔
حدثنا الفضل بن سهل الاعرج البغدادي، حدثنا ابراهيم بن عبد الرحمن بن مهدي، عن ابراهيم بن عمر بن سفينة، عن ابيه، عن جده، قال اكلت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لحم حبارى . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وابراهيم بن عمر بن سفينة روى عنه ابن ابي فديك ويقال بريه بن عمر بن سفينة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھنی دست پیش کی، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن حارث، مغیرہ اور ابورافع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا حجاج بن محمد، قال قال ابن جريج اخبرني محمد بن يوسف، ان عطاء بن يسار، اخبره ان ام سلمة اخبرته انها، قربت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم جنبا مشويا فاكل منه ثم قام الى الصلاة وما توضا . قال وفي الباب عن عبد الله بن الحارث والمغيرة وابي رافع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف علی بن اقمر کی روایت سے جانتے ہیں، علی بن اقمر سے اس حدیث کو زکریا بن ابی زائدہ، سفیان بن سعید ثوری اور کئی لوگوں نے روایت کیا ہے، شعبہ نے یہ حدیث سفیان ثوری سے علی بن اقمر کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا شريك، عن علي بن الاقمر، عن ابي جحيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انا فلا اكل متكيا " . قال وفي الباب عن علي وعبد الله بن عمرو وعبد الله بن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث علي بن الاقمر . وروى زكريا بن ابي زايدة وسفيان الثوري وغير واحد عن علي بن الاقمر هذا الحديث وروى شعبة عن سفيان الثوري هذا الحديث عن علي بن الاقمر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے علی بن مسہر نے بھی ہشام بن عروہ کے واسطہ سے روایت کی ہے، ۳- حدیث میں اس سے زیادہ باتیں ہیں۔
حدثنا سلمة بن شبيب، ومحمود بن غيلان، واحمد بن ابراهيم الدورقي، قالوا حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب الحلواء والعسل . هذا حديث حسن صحيح غريب . وقد رواه علي بن مسهر عن هشام بن عروة وفي الحديث كلام اكثر من هذا
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں ( پکاتے وقت ) شوربا ( سالن ) زیادہ کر لے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے، ۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» ( یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے ) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے، ۳- یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا محمد بن فضاء، حدثني ابي، عن علقمة بن عبد الله المزني، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا اشترى احدكم لحما فليكثر مرقته فان لم يجد لحما اصاب مرقة وهو احد اللحمين " . وفي الباب عن ابي ذر . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث محمد بن فضاء . ومحمد بن فضاء هو المعبر وقد تكلم فيه سليمان بن حرب وعلقمة بن عبد الله هو اخو بكر بن عبد الله المزني
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا ( سالن ) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسين بن علي بن الاسود البغدادي، حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، حدثنا اسراييل، عن صالح بن رستم ابي عامر الخزاز، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحقرن احدكم شييا من المعروف وان لم يجد فليلق اخاه بوجه طليق وان اشتريت لحما او طبخت قدرا فاكثر مرقته واغرف لجارك منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد رواه شعبة عن ابي عمران الجوني
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں میں سے بہت سارے مرد درجہ کمال کو پہنچے ۱؎ اور عورتوں میں سے صرف مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ درجہ کمال کو پہنچیں اور تمام عورتوں پر عائشہ کو اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح تمام کھانوں پر ثرید کو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن مرة الهمداني، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كمل من الرجال كثير ولم يكمل من النساء الا مريم ابنة عمران واسية امراة فرعون وفضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام " . قال وفي الباب عن عايشة وانس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میرے باپ نے میری شادی کی اور لوگوں کو مدعو کیا، ان میں صفوان بن امیہ رضی الله عنہ بھی تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت کو دانت سے نوچ کر کھاؤ اس لیے کہ وہ زیادہ جلد ہضم ہوتا ہے، اور لذیذ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف عبدالکریم کی روایت سے جانتے ہیں اور عبدالکریم المعلم کے حافظہ کے بارے میں اہل علم نے کلام کیا ہے، کلام کرنے والوں میں ایوب سختیانی بھی ہیں، ۲- اس باب میں عائشہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبد الكريم ابي امية، عن عبد الله بن الحارث، قال زوجني ابي فدعا اناسا فيهم صفوان بن امية فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انهسوا اللحم نهسا فانه اهنا وامرا " . قال وفي الباب عن عايشة وابي هريرة . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن لا نعرفه الا من حديث عبد الكريم . وقد تكلم بعض اهل العلم في عبد الكريم المعلم منهم ايوب السختياني من قبل حفظه
عمرو بن امیہ ضمری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے بکری کی دست کا گوشت چھری سے کاٹا، اور اس میں سے کھایا، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور وضو نہیں کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مغیرہ بن شعبہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن جعفر بن عمرو بن امية الضمري، عن ابيه، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم احتز من كتف شاة فاكل منها ثم مضى الى الصلاة ولم يتوضا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن المغيرة بن شعبة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور آپ کو دست پیش کی گئی، آپ کو دست بہت پسند تھی، چنانچہ آپ نے اسے دانت سے نوچ کر کھایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، عائشہ، عبداللہ بن جعفر اور ابوعبیدہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ابوحیان کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان ہے اور ابوزرعہ بن عمرو بن جریر کا نام ہرم ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابي حيان التيمي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم فرفع اليه الذراع وكانت تعجبه فنهس منها . قال وفي الباب عن ابن مسعود وعايشة وعبد الله بن جعفر وابي عبيدة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو حيان اسمه يحيى بن سعيد بن حيان وابو زرعة بن عمرو بن جرير اسمه هرم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت زیادہ پسند نہیں تھا، لیکن آپ کو یہ کبھی کبھی ملتا تھا، اس لیے آپ اسے کھانے میں جلدی کرتے تھے کیونکہ وہ دوسرے گوشت کے مقابلہ میں جلدی گلتا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا يحيى بن عباد ابو عباد، حدثنا فليح بن سليمان، عن عبد الوهاب بن يحيى، من ولد عباد بن عبد الله بن الزبير عن عبد الله بن الزبير، عن عايشة، قالت ما كان الذراع احب اللحم الى رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكن كان لا يجد اللحم الا غبا فكان يعجل اليه لانه اعجلها نضجا . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عائشہ اور ام ہانی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا مبارك بن سعيد، هو اخو سفيان بن سعيد الثوري عن سفيان، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نعم الادام الخل " . قال وفي الباب عن عايشة وام هاني
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔
حدثنا محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " نعم الادام الخل " . حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يحيى بن حسان، عن سليمان بن بلال، بهذا الاسناد نحوه الا انه قال " نعم الادام او الادم الخل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه لا نعرفه من حديث هشام بن عروة الا من حديث سليمان بن بلال
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ( کھانے کے لیے ) کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، ۴- میں نے پھر پوچھا: آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حمزة الثمالي، عن الشعبي، عن ام هاني بنت ابي طالب، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هل عندكم شيء " . فقلت لا الا كسر يابسة وخل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قربيه فما اقفر بيت من ادم فيه خل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه لا نعرفه من حديث ام هاني الا من هذا الوجه . وابو حمزة الثمالي اسمه ثابت بن ابي صفية وام هاني ماتت بعد علي بن ابي طالب بزمان . وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال لا اعرف للشعبي سماعا من ام هاني . فقلت ابو حمزة كيف هو عندك فقال احمد بن حنبل تكلم فيه وهو عندي مقارب الحديث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث مبارک بن سعید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي البصري، قال حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن محارب بن دثار، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نعم الادام الخل " . هذا اصح من حديث مبارك بن سعيد
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور کے ساتھ تربوز کھاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے «عن هشام بن عروة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، اس میں عائشہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، یزید بن رومان نے اس حدیث کو عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي، حدثنا معاوية بن هشام، عن سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ياكل البطيخ بالرطب . قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . ورواه بعضهم عن هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل ولم يذكر فيه عن عايشة وقد روى يزيد بن رومان عن عروة عن عايشة هذا الحديث
عبداللہ بن جعفر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف ابراہیم بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا اسماعيل بن موسى الفزاري، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ياكل القثاء بالرطب . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب لا نعرفه الا من حديث ابراهيم بن سعد
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہیں آئی، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقہ کے اونٹوں میں بھیجا اور فرمایا: ”اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی انس سے آئی ہے، ابوقلابہ نے اسے انس سے روایت کی ہے اور سعید بن ابی عروبہ نے بھی اسے قتادہ کے واسطہ سے انس سے روایت کی ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد الزعفراني، حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا حميد، وثابت، وقتادة، عن انس، ان ناسا، من عرينة قدموا المدينة فاجتووها فبعثهم النبي صلى الله عليه وسلم في ابل الصدقة وقال " اشربوا من ابوالها والبانها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن انس رواه ابو قلابة عن انس ورواه سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن انس
سلمان فارسی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا ہے کہ ”کھانے کی برکت کھانے کے بعد وضو کرنے میں ہے“، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا اور جو کچھ تورات میں پڑھا تھا اسے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کی برکت کھانے سے پہلے اور اس کے بعد وضو کرنے میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف قیس بن ربیع کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور قیس بن ربیع حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۳- اس باب میں انس اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا قيس بن الربيع، ح قال وحدثنا قتيبة، حدثنا عبد الكريم الجرجاني، عن قيس بن الربيع المعنى، واحد، عن ابي هاشم يعني الرماني، عن زاذان، عن سلمان، قال قرات في التوراة ان بركة الطعام الوضوء بعده فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته بما قرات في التوراة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بركة الطعام الوضوء قبله والوضوء بعده " . قال وفي الباب عن انس وابي هريرة . قال ابو عيسى لا نعرف هذا الحديث الا من حديث قيس بن الربيع . وقيس بن الربيع يضعف في الحديث وابو هاشم الرماني اسمه يحيى بن دينار
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے تشریف لائے، تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، صحابہ نے عرض کیا: کیا آپ کے لیے وضو کا پانی لائیں؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے نماز کے لیے جاتے وقت وضو کا حکم دیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے عمرو بن دینار نے سعید بن حویرث کے واسطہ سے ابن عباس سے روایت کی ہے، ۳- علی بن مدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا: سفیان ثوری کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا مکروہ سمجھتے تھے، وہ پیالہ کے نیچے چپاتی رکھنا بھی مکروہ سمجھتے تھے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج من الخلاء فقرب اليه طعام فقالوا الا ناتيك بوضوء قال " انما امرت بالوضوء اذا قمت الى الصلاة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه عمرو بن دينار عن سعيد بن الحويرث عن ابن عباس . وقال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد كان سفيان الثوري يكره غسل اليد قبل الطعام وكان يكره ان يوضع الرغيف تحت القصعة