احادیث
#1841
سنن ترمذی - Food
ام ہانی بنت ابوطالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور فرمایا: ”کیا تمہارے پاس ( کھانے کے لیے ) کچھ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، صرف روٹی کے چند خشک ٹکڑے اور سرکہ ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لاؤ، وہ گھر سالن کا محتاج نہیں ہے جس میں سرکہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ام ہانی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ام ہانی کی وفات علی بن ابی طالب کے کچھ دنوں بعد ہوئی، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: شعبی کا سماع ام ہانی سے میں نہیں جانتا ہوں، ۴- میں نے پھر پوچھا: آپ کی نظر میں ابوحمزہ ثابت بن ابی صفیہ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا: احمد بن حنبل کا ان کے بارے میں کلام ہے اور میرے نزدیک وہ مقارب الحدیث ہیں۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حمزة الثمالي، عن الشعبي، عن ام هاني بنت ابي طالب، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " هل عندكم شيء " . فقلت لا الا كسر يابسة وخل . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قربيه فما اقفر بيت من ادم فيه خل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه لا نعرفه من حديث ام هاني الا من هذا الوجه . وابو حمزة الثمالي اسمه ثابت بن ابي صفية وام هاني ماتت بعد علي بن ابي طالب بزمان . وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال لا اعرف للشعبي سماعا من ام هاني . فقلت ابو حمزة كيف هو عندك فقال احمد بن حنبل تكلم فيه وهو عندي مقارب الحديث
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Food
- Hadith Index
- #1841
- Book Index
- 57
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiDaif
