Loading...

Loading...
کتب
۷۳ احادیث
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لہسن کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو ۱؎۔
حدثنا محمد بن مدويه، حدثنا مسدد، حدثنا الجراح بن مليح، والد، وكيع، عن ابي اسحاق، عن شريك بن حنبل، عن علي، انه قال نهي عن اكل الثوم، الا مطبوخا
شریک بن حنبل سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ لہسن کھانا مکروہ سمجھتے تھے، سوائے اس کے کہ وہ پکا ہوا ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، یہ علی رضی الله عنہ کا قول ہے، ۲- شریک بن حنبل کے واسطہ سے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: راوی جراح بن ملیح صدوق ہیں اور جراح بن ضحاک مقارب الحدیث ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن شريك بن حنبل، عن علي، قال لا يصلح اكل الثوم الا مطبوخا . قال ابو عيسى هذا الحديث ليس اسناده بذلك القوي وقد روي هذا عن علي قوله وروي عن شريك بن حنبل عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . قال محمد الجراح بن مليح صدوق والجراح بن الضحاك مقارب الحديث
ام ایوب انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ان کے گھر ٹھہرے، ان لوگوں نے آپ کے لیے پرتکلف کھانا تیار کیا جس میں کچھ ان سبزیوں ( گندنا وغیرہ ) میں سے تھی، چنانچہ آپ نے اسے کھانا ناپسند کیا اور صحابہ سے فرمایا: ”تم لوگ اسے کھاؤ، اس لیے کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میں ڈرتا ہوں کہ میں اپنے رفیق ( جبرائیل ) کو تکلیف پہچاؤں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ام ایوب ابوایوب انصاری کی بیوی ہیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح البزار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن ابيه، ان ام ايوب، اخبرته ان النبي صلى الله عليه وسلم نزل عليهم فتكلفوا له طعاما فيه من بعض هذه البقول فكره اكله فقال لاصحابه " كلوه فاني لست كاحدكم اني اخاف ان اوذي صاحبي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وام ايوب هي امراة ابي ايوب الانصاري
ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ لہسن حلال رزق ہے۔ ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے، وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں، انہوں نے انس بن مالک سے ملاقات کی ہے اور ان سے حدیث سنی ہے، ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے اور یہ رفیع ریاحی ہیں، عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ابوخلدہ ایک نیک مسلمان تھے۔
حدثنا محمد بن حميد، حدثنا زيد بن الحباب، عن ابي خلدة، عن ابي العالية، قال الثوم من طيبات الرزق . وابو خلدة اسمه خالد بن دينار وهو ثقة عند اهل الحديث وقد ادرك انس بن مالك وسمع منه وابو العالية اسمه رفيع هو الرياحي قال عبد الرحمن بن مهدي كان ابو خلدة خيارا مسلما
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( سوتے وقت ) دروازہ بند کر لو، مشکیزہ کا منہ باندھ دو، برتنوں کو اوندھا کر دو یا انہیں ڈھانپ دو اور چراغ بجھا دو، اس لیے کہ شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھولتا ہے اور نہ کسی بندھن اور برتن کو کھولتا ہے، ( اور چراغ اس لیے بجھا دو کہ ) چوہا لوگوں کا گھر جلا دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جابر سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اغلقوا الباب واوكيوا السقاء واكفيوا الاناء او خمروا الاناء واطفيوا المصباح فان الشيطان لا يفتح غلقا ولا يحل وكاء ولا يكشف انية وان الفويسقة تضرم على الناس بيتهم " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي هريرة وابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوتے وقت اپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، وغير، واحد، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد مولی ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد الزبيري، وعبيد الله، عن الثوري، عن جبلة بن سحيم، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقرن بين التمرتين حتى يستاذن صاحبه . قال وفي الباب عن سعد مولى ابي بكر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ہشام بن عروہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یحییٰ بن حسان کے علاوہ میں نہیں جانتا ہوں کسی نے اسے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابورافع کی بیوی سلمی رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، وعبد الله بن عبد الرحمن، قالا حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان بن بلال، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " بيت لا تمر فيه جياع اهله " . قال وفي الباب عن سلمى امراة ابي رافع . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث هشام بن عروة الا من هذا الوجه . قال وسالت البخاري عن هذا الحديث فقال لا اعلم احدا رواه غير يحيى بن حسان
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے سے راضی ہوتا ہے جو ایک لقمہ کھاتا ہے یا ایک گھونٹ پیتا ہے، تو اس پر اللہ کی تعریف کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- زکریا بن ابی زائدہ سے اسے کئی لوگوں نے اسی طرح روایت کیا ہے، ہم اسے صرف زکریا بن ابی زائدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں عقبہ بن عامر، ابوسعید، عائشہ، ابوایوب اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا ابو اسامة، عن زكريا بن ابي زايدة، عن سعيد بن ابي بردة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليرضى عن العبد ان ياكل الاكلة او يشرب الشربة فيحمده عليها " . قال وفي الباب عن عقبة بن عامر وابي سعيد وعايشة وابي ايوب وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد رواه غير واحد عن زكريا بن ابي زايدة نحوه ولا نعرفه الا من حديث زكريا بن ابي زايدة
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ پیالے میں داخل کیا، پھر فرمایا: ”اللہ کا نام لے کر اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن محمد کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ مفضل بن فضالہ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ مفضل بن فضالہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، مفضل بن فضالہ ایک دوسرے شیخ بصریٰ ہیں وہ ان سے زیادہ ثقہ اور شہرت کے مالک راوی ہیں، ۳- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة أن ابن عمر» روایت کیا ہے کہ انہوں ( ابن عمر ) نے ایک کوڑھی کا ہاتھ پکڑا، میرے نزدیک شعبہ کی حدیث زیادہ صحیح اور ثابت ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الاشقر، وابراهيم بن يعقوب، قالا حدثنا يونس بن محمد، حدثنا المفضل بن فضالة، عن حبيب بن الشهيد، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ بيد مجذوم فادخله معه في القصعة ثم قال " كل بسم الله ثقة بالله وتوكلا عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث يونس بن محمد عن المفضل بن فضالة . والمفضل بن فضالة هذا شيخ بصري والمفضل بن فضالة شيخ اخر مصري اوثق من هذا واشهر . وقد روى شعبة هذا الحديث عن حبيب بن الشهيد عن ابن بريدة ان ابن عمر اخذ بيد مجذوم وحديث شعبة اثبت عندي واصح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر سات آنت میں کھاتا ہے اور مومن ایک آنت میں کھاتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابوسعید، ابو بصرہ غفاری، ابوموسیٰ، جہجاہ غفاری، میمونہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكافر ياكل في سبعة امعاء والمومن ياكل في معى واحد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي سعيد وابي بصرة الغفاري وابي موسى وجهجاه الغفاري وميمونة وعبد الله بن عمرو
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کافر مہمان آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، بکری دو ہی گئی، وہ دودھ پی گیا، پھر دوسری دو ہی گئی، اس کو بھی پی گیا، اس طرح وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، پھر کل صبح ہو کر وہ اسلام لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری ( دوہنے کا ) حکم دیا، وہ دو ہی گئی، وہ اس کا دودھ پی گیا، پھر آپ نے دوسری کا حکم دیا تو وہ اس کا پورا دودھ نہ پی سکا، ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث سہیل کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضافه ضيف كافر فامر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب ثم اخرى فشربه ثم اخرى فشربه حتى شرب حلاب سبع شياه ثم اصبح من الغد فاسلم فامر له رسول الله صلى الله عليه وسلم بشاة فحلبت فشرب حلابها ثم امر له باخرى فلم يستتمها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن يشرب في معى واحد والكافر يشرب في سبعة امعاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث سهيل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو آدمیوں کا کھانا تین آدمیوں کے لیے اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لیے کافی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو کفایت کر جائے گا، دو آدمی کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جائے گا اور چار آدمی کا کھانا آٹھ آدمیوں کو کفایت کر جائے گا“، ۳- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ٹڈی کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ غزوے کیے اور ٹڈی کھاتے رہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو سفیان بن عیینہ نے ابویعفور سے اسی طرح روایت کیا ہے اور کہا ہے: ”چھ غزوے کیے“، ۲- اور سفیان ثوری اور کئی لوگوں نے ابویعفور سے یہ حدیث روایت کی ہے اور کہا ہے: ”سات غزوے کیے“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان، عن ابي يعفور العبدي، عن عبد الله بن ابي اوفى، انه سيل عن الجراد، فقال غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم ست غزوات ناكل الجراد . قال ابو عيسى هكذا روى سفيان بن عيينة عن ابي يعفور هذا الحديث وقال ست غزوات وروى سفيان الثوري وغير واحد هذا الحديث عن ابي يعفور فقال سبع غزوات . قال وفي الباب عن ابن عمر وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو يعفور اسمه واقد ويقال وقدان ايضا وابو يعفور الاخر اسمه عبد الرحمن بن عبيد بن نسطاس
ابن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- شعبہ نے بھی اسے ابویعفور کے واسطہ سے ابن ابی اوفی سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی غزوات کئے اور ٹڈی کھاتے رہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، والمومل، قالا حدثنا سفيان، عن ابي يعفور، عن ابن ابي اوفى، قال غزونا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سبع غزوات ناكل الجراد . قال ابو عيسى وروى شعبة، هذا الحديث عن ابي يعفور، عن ابن ابي اوفى، قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوات ناكل الجراد . حدثنا بذلك محمد بن بشار حدثنا محمد بن جعفر حدثنا شعبة بهذا
جابر بن عبداللہ اور انس بن مالک رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈیوں پر بد دعا کرتے تو کہتے «اللهم أهلك الجراد اقتل كباره وأهلك صغاره وأفسد بيضه واقطع دابره وخذ بأفواههم عن معاشنا وأرزاقنا إنك سميع الدعاء» ”اللہ! ٹڈیوں کو ہلاک کر دے، بڑوں کو مار دے، چھوٹوں کو تباہ کر دے، ان کے انڈوں کو خراب کر دے، ان کا جڑ سے خاتمہ کر دے، اور ہمارے معاش اور رزق تباہ کرنے سے ان کے منہ روک لے، بیشک تو دعا کو سننے والا ہے“، ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول! اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر کو جڑ سے ختم کرنے کی بد دعا کیسے کر رہے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سمندر میں مچھلی کی چھینک ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- موسیٰ بن محمد بن ابراہیم تیمی کے بارے میں محدثین نے کلام کیا ہے، ان سے غریب اور منکر روایتیں کثرت سے ہیں، ان کے باپ محمد بن ابراہیم ثقہ ہیں اور مدینہ کے رہنے والے ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو النضر، هاشم بن القاسم قال حدثنا زياد بن عبد الله بن علاثة، عن موسى بن محمد بن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، وانس بن مالك، قالا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا دعا على الجراد قال " اللهم اهلك الجراد اقتل كباره واهلك صغاره وافسد بيضه واقطع دابره وخذ بافواههم عن معاشنا وارزاقنا انك سميع الدعاء " . قال فقال رجل يا رسول الله كيف تدعو على جند من اجناد الله بقطع دابره قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انها نثرة حوت في البحر " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وموسى بن محمد بن ابراهيم التيمي قد تكلم فيه وهو كثير الغرايب والمناكير وابوه محمد بن ابراهيم ثقة وهو مدني
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گندگی کھانے والے جانور کے گوشت کھانے اور ان کے دودھ پینے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ثوری نے اسے «عن ابن أبي نجيح عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عباس سے بھی حدیث مروی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الجلالة والبانها . قال وفي الباب عن عبد الله بن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وروى الثوري عن ابن ابي نجيح عن مجاهد عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «مجثمة» اور گندگی کھانے والے جانور کے دودھ اور مشک کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- محمد بن بشار کہتے ہیں: ہم سے ابن عدی نے «عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، ۳- اس باب میں عبداللہ بن عمرو سے بھی حدیث مروی ہے۔
زہدم جرمی کہتے ہیں کہ میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ مرغی کھا رہے تھے، کہا: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے کھاتے دیکھا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، زہدم سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ہم اسے صرف زہدم ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي، حدثنا ابو قتيبة، عن ابي العوام، عن قتادة، عن زهدم الجرمي، قال دخلت على ابي موسى وهو ياكل دجاجا فقال ادن فكل فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن زهدم ولا نعرفه الا من حديث زهدم . وابو العوام هو عمران القطان
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغ کا گوشت کھاتے دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس حدیث میں کچھ اور باتیں بھی ہیں، ۳- ایوب سختیانی نے بھی اس حدیث کو «عن القاسم التميمي عن أبي قلابة عن زهدم» کی سند سے روایت کی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن زهدم، عن ابي موسى، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل لحم دجاج . قال وفي الحديث كلام اكثر من هذا . وهذا حديث حسن صحيح . وقد روى ايوب السختياني هذا الحديث ايضا عن القاسم التميمي وعن ابي قلابة عن زهدم (الجرمي)