Loading...

Loading...
کتب
۷۳ احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی خوان ( میز وغیرہ ) پر نہیں کھایا، نہ چھوٹی طشتریوں اور پیالیوں میں کھایا، اور نہ آپ کے لیے کبھی پتلی روٹی پکائی گئی۔ یونس کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: پھر کس چیز پر کھاتے تھے؟ کہا: انہی دسترخوانوں پر۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن بشار کہتے ہیں: یہ یونس، یونس اسکاف ہیں، ۳- عبدالوارث بن سعید نے بسند «سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن يونس، عن قتادة، عن انس، قال ما اكل رسول الله صلى الله عليه وسلم في خوان ولا في سكرجة ولا خبز له مرقق . قال فقلت لقتادة فعلى ما كانوا ياكلون قال على هذه السفر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . قال محمد بن بشار ويونس هذا هو يونس الاسكاف . وقد روى عبد الوارث بن سعيد عن سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے مقام مرالظہران میں ایک خرگوش کا پیچھا کیا، صحابہ کرام اس کے پیچھے دوڑے، میں نے اسے پا لیا اور پکڑ لیا، پھر اسے ابوطلحہ کے پاس لایا، انہوں نے اس کو پتھر سے ذبح کیا اور مجھے اس کی ران دے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، چنانچہ آپ نے اسے کھایا۔ راوی ہشام بن زید کہتے ہیں: میں نے ( راوی حدیث اپنے دادا انس بن مالک رضی الله عنہ سے ) پوچھا: کیا آپ نے اسے کھایا؟ کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، عمار، محمد بن صفوان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ خرگوش کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ہیں، ۴- جب کہ بعض اہل علم خرگوش کھانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: اسے ( یعنی مادہ خرگوش کو ) حیض کا خون آتا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن هشام بن زيد بن انس، قال سمعت انسا، يقول انفجنا ارنبا بمر الظهران فسعى اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خلفها فادركتها فاخذتها فاتيت بها ابا طلحة فذبحها بمروة فبعث معي بفخذها او بوركها الى النبي صلى الله عليه وسلم فاكله . قال قلت اكله قال قبله . قال ابو عيسى وفي الباب عن جابر وعمار ومحمد بن صفوان ويقال محمد بن صيفي . وهذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم لا يرون باكل الارنب باسا . وقد كره بعض اهل العلم اكل الارنب وقالوا انها تدمي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضب ( گوہ ) کھانے کے بارے میں پوچھا گیا؟ تو آپ نے فرمایا: ”میں نہ تو اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام کہتا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابو سعید خدری، ابن عباس، ثابت بن ودیعہ، جابر اور عبدالرحمٰن بن حسنہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- ضب کھانے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم صحابہ نے رخصت دی ہے، ۴- اور بعض نے اسے مکروہ سمجھا ہے، ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر ضب کھایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طبعی کراہیت کی بنا پر اسے چھوڑ دیا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن اكل الضب فقال " لا اكله ولا احرمه " . قال وفي الباب عن عمر وابي سعيد وابن عباس وثابت بن وديعة وجابر وعبد الرحمن ابن حسنة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد اختلف اهل العلم في اكل الضب فرخص فيه بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وكرهه بعضهم . ويروى عن ابن عباس انه قال اكل الضب على مايدة رسول الله صلى الله عليه وسلم وانما تركه رسول الله صلى الله عليه وسلم تقذرا
ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی الله عنہ سے پوچھا: کیا لکڑبگھا بھی شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا: اسے کھا سکتا ہوں؟ کہا: ہاں، میں نے پوچھا: کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ کہا: ہاں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یحییٰ قطان کہتے ہیں: جریر بن حازم نے یہ حدیث اس سند سے روایت کی ہے: عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ابن ابی عمار سے، ابن ابی عمار نے جابر سے، جابر نے عمر رضی الله عنہ کے قول سے روایت کی ہے، ابن جریج کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے، وہ لوگ لکڑبگھا کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کی کراہت کے سلسلے میں ایک حدیث آئی ہے، لیکن اس کی سند قوی نہیں ہے، ۵- بعض اہل علم نے بجو کھانے کو مکروہ سمجھا ہے، ابن مبارک کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، اخبرنا ابن جريج، عن عبد الله بن عبيد بن عمير، عن ابن ابي عمار، قال قلت لجابر الضبع صيد هي قال نعم . قال قلت اكلها قال نعم . قال قلت له اقاله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا ولم يروا باكل الضبع باسا وهو قول احمد واسحاق . وروي عن النبي صلى الله عليه وسلم حديث في كراهية اكل الضبع وليس اسناده بالقوي وقد كره بعض اهل العلم اكل الضبع وهو قول ابن المبارك . قال يحيى القطان وروى جرير بن حازم هذا الحديث عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن ابن ابي عمار عن جابر عن عمر قوله . وحديث ابن جريج اصح . وابن ابي عمار هو عبد الرحمن بن عبد الله بن ابي عمار المكي
خزیمہ بن جزء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لکڑبگھا کھانے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”بھلا کوئی لکڑبگھا کھاتا ہے؟ میں نے آپ سے بھیڑیئے کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”بھلا کوئی نیک آدمی بھیڑیا کھاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے ہم اسے عبدالکریم ابی امیہ کے واسطہ سے صرف اسماعیل بن مسلم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- بعض محدثین نے اسماعیل اور عبدالکریم ابی امیہ کے بارے میں کلام کیا ہے، ( حدیث کی سند میں مذکور ) یہ عبدالکریم، عبدالکریم بن قیس بن ابی المخارق ہیں، ۳- اور عبدالکریم بن مالک جزری ثقہ ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن اسماعيل بن مسلم، عن عبد الكريم بن ابي المخارق ابي امية، عن حبان بن جزء، عن اخيه، خزيمة بن جزء قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اكل الضبع فقال " اوياكل الضبع احد " . وسالته عن اكل الذيب فقال " اوياكل الذيب احد فيه خير " . قال ابو عيسى هذا حديث ليس اسناده بالقوي لا نعرفه الا من حديث اسماعيل بن مسلم عن عبد الكريم ابي امية . وقد تكلم بعض اهل الحديث في اسماعيل وعبد الكريم ابي امية وهو عبد الكريم بن قيس بن ابي المخارق وعبد الكريم بن مالك الجزري ثقة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گھوڑے کا گوشت کھلایا، اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح کئی لوگوں نے عمرو بن دینار کے واسطہ سے جابر سے روایت کی ہے، ۳- حماد بن زید نے اسے بسند «عمرو بن تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المغازي ۳۸ ( ۳۲۱۹ ) ، والصید ۲۷ ( ۵۵۲۰ ) ، و۲۸ ( ۵۵۲۴ ) ، صحیح مسلم/الصید ۶ ( ۱۹۴۱ ) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۶ ( ۳۷۸۸ ) ، سنن النسائی/الصید ۲۹ ( ۴۳۳۲ ) ، وانظر: سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۴ ( ۱۹۶۱ ) ، والذبائح ۱۲ ( ۳۱۹۱ ) ، ( تحفة الأشراف : ۲۵۳۹ ) ، و مسند احمد ( ۳/۳۲۲، ۳۲۵۶، ۳۶۱، ۳۶۲، ۳۸۵ ) ، سنن الدارمی/الأضاحي
حدثنا قتيبة، ونصر بن علي، قالا حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر، قال اطعمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم لحوم الخيل ونهانا عن لحوم الحمر . قال وفي الباب عن اسماء بنت ابي بكر . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح وهكذا روى غير واحد عن عمرو بن دينار عن جابر . ورواه حماد بن زيد عن عمرو بن دينار عن محمد بن علي عن جابر ورواية ابن عيينة اصح . قال وسمعت محمدا يقول سفيان بن عيينة احفظ من حماد بن زيد
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے نکاح متعہ کرنے سے ۱؎ اور پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن مخزومی نے بسند «سفيان عن الزهري عن عبد الله والحسن» نے اسی جیسی حدیث بیان کی، عبداللہ و حسن دونوں محمد بن حنیفہ کے بیٹے ہیں، اور عبداللہ بن محمد الحنفیہ کی کنیت ابوہاشم ہے، زہری کہتے ہیں: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ حسن بن محمد بن حنفیہ ہیں، پھر انہوں۔ ابن عیینہ سے روایت کرنے والے سعید بن عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسرے لوگوں نے کہا ہے: ان دونوں میں زیادہ پسندیدہ عبداللہ بن محمد بن حنفیہ ہیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن ہر کچلی دانت والے درندہ جانور، «مجثمة» ۱؎ اور پالتو گدھے کو حرام قرار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- عبدالعزیز بن محمد اور دوسرے لوگوں نے بھی اسے محمد بن عمرو سے روایت کیا ہے اور ان لوگوں نے صرف ایک جملہ بیان کیا ہے «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع» ”یعنی صرف کچلی والے درندوں کا ذکر کیا، مجثمہ اور پالتو گدھے کا ذکر نہیں کیا“، ۳ – اس باب میں علی، جابر، براء، ابن ابی اوفی، انس، عرباض بن ساریہ، ابوثعلبہ، ابن عمر اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا حسين بن علي الجعفي، عن زايدة، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرم يوم خيبر كل ذي ناب من السباع والمجثمة والحمار الانسي . قال وفي الباب عن علي وجابر والبراء وابن ابي اوفى وانس والعرباض بن سارية وابي ثعلبة وابن عمر وابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى عبد العزيز بن محمد وغيره عن محمد بن عمرو هذا الحديث وانما ذكروا حرفا واحدا نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع
ابوثعلبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوس کی ہانڈیوں ( برتنوں ) کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”انہیں دھو کر صاف کرو اور ان میں کھانا پکاؤ، اور آپ نے ہر کچلی دانت والے درندے جانور سے منع فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوثعلبہ کی روایت سے مشہور ہے، ان سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۲- ابوثعلبہ کا نام جرثوم ہے، انہیں جرہم اور ناشب بھی کہا گیا ہے، ۳- یہ حدیث «عن أبي قلابة عن أبي أسماء الرحبي عن أبي ثعلبة» کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔
حدثنا زيد بن اخزم الطايي، حدثنا سلم بن قتيبة، حدثنا شعبة، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي ثعلبة، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن قدور المجوس فقال " انقوها غسلا واطبخوا فيها " . ونهى عن كل سبع ذي ناب . قال ابو عيسى هذا حديث مشهور من حديث ابي ثعلبة وروي عنه من غير هذا الوجه . وابو ثعلبة اسمه جرثوم ويقال جرهم ويقال ناشب . وقد ذكر هذا الحديث عن ابي قلابة عن ابي اسماء الرحبي عن ابي ثعلبة
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ اہل کتاب کی سر زمین میں رہتے ہیں، کیا ہم ان کی ہانڈیوں میں کھانا پکائیں اور ان کے برتنوں میں پانی پئیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی برتن نہ مل سکے تو اسے پانی سے دھو لو“، پھر انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم شکار والی سر زمین میں رہتے ہیں کیسے کریں؟ آپ نے فرمایا: ”جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا روانہ کرو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر وہ شکار مار ڈالے تو اسے کھاؤ، اور اگر کتا سدھایا ہوا نہ ہو اور شکار ذبح کر دیا جائے تو اسے کھاؤ اور جب تم تیر مارو اور اس پر «بسم اللہ» پڑھ لو پھر اس سے شکار ہو جائے تو اسے کھاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن عيسى بن يزيد البغدادي، حدثنا عبيد الله بن محمد العيشي، حدثنا حماد بن سلمة، عن ايوب، وقتادة، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء الرحبي، عن ابي ثعلبة الخشني، انه قال يا رسول الله انا بارض اهل الكتاب فنطبخ في قدورهم ونشرب في انيتهم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لم تجدوا غيرها فارحضوها بالماء " . ثم قال يا رسول الله انا بارض صيد فكيف نصنع قال " اذا ارسلت كلبك المكلب وذكرت اسم الله فقتل فكل وان كان غير مكلب فذكي فكل واذا رميت بسهمك وذكرت اسم الله فقتل فكل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اسے اور جو کچھ چکنائی اس کے اردگرد ہے اسے پھینک دو ۱؎ اور ( بچا ہوا ) گھی کھا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے بھی آئی ہے «الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم»، راویوں نے اس میں «عن میمونة» کا واسطہ نہیں بیان کیا ہے، ۳- میمونہ کے واسطہ سے ابن عباس کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۴- معمر نے بطریق: «الزهري، عن ابن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ حدیث ( سند ) غیر محفوظ ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ معمر کی حدیث جسے وہ «عن الزهري عن سعيد ابن المسيب عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جب گھی جما ہوا ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا گھی پھینک دو اور اگر پگھلا ہوا ہو تو اس کے قریب نہ جاؤ“ یہ خطا ہے، اس میں معمر سے خطا ہوئی ہے، صحیح زہری ہی کی حدیث ہے جو «عن عبيد الله عن ابن عباس عن ميمونة» کی سند سے آئی ہے ۲؎، ۵ – اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وابو عمار قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس، عن ميمونة، ان فارة، وقعت، في سمن فماتت فسيل عنها النبي صلى الله عليه وسلم فقال " القوها وما حولها وكلوه " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث عن الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل ولم يذكروا فيه عن ميمونة وحديث ابن عباس عن ميمونة اصح . وروى معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وهو حديث غير محفوظ . قال وسمعت محمد بن اسماعيل يقول وحديث معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم وذكر فيه انه سيل عنه فقال " اذا كان جامدا فالقوها وما حولها وان كان مايعا فلا تقربوه " . فقال هذا خطا اخطا فيه معمر . قال والصحيح حديث الزهري عن عبيد الله عن ابن عباس عن ميمونة
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک اور ا تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأشربة ۱۳ ( ۲۰۲۰ ) سنن ابی داود/ الأطعمة ۲۰ ( ۳۷۷۶ ) ، ( تحفة الأشراف : ۸۵۷۹ ) ، وط/صفة النبی ﷺ ۴ ( ۶ ) ، و مسند احمد ( ۲/۱۰۶ ) ، سنن الدارمی/الأطعمة
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن نمير، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن ابن شهاب، عن ابي بكر بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ياكل احدكم بشماله ولا يشرب بشماله فان الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله " . قال وفي الباب عن جابر وعمر بن ابي سلمة وسلمة بن الاكوع وانس بن مالك وحفصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهكذا روى مالك وابن عيينة عن الزهري عن ابي بكر بن عبيد الله عن ابن عمر . وروى معمر وعقيل عن الزهري عن سالم عن ابن عمر ورواية مالك وابن عيينة اصح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے، اس لیے کہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے“۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، قال حدثنا جعفر بن عون، عن سعيد بن ابي عروبة، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم فلياكل بيمينه وليشرب بيمينه فان الشيطان ياكل بشماله ويشرب بشماله
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اپنی انگلیاں چاٹ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس انگلی میں برکت ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: عبدالعزیز کی یہ حدیث، مختلف کے قبیل سے ہے، اور صرف ان کی روایت سے ہی جانی جاتی ہے، ۳- اس باب میں جابر، کعب بن مالک اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ہم اسے اس سند سے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد العزيز بن المختار، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اكل احدكم فليلعق اصابعه فانه لا يدري في ايتهن البركة " . قال وفي الباب عن جابر . وكعب بن مالك وانس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث سهيل . وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال هذا حديث عبد العزيز من المختلف لا يعرف الا من حديثه
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے اور نوالہ گر جائے تو اس میں سے جو ناپسند سمجھے اسے ہٹا دے ۱؎، اسے پھر کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم طعاما فسقطت لقمة فليمط ما رابه منها ثم ليطعمها ولا يدعها للشيطان " . قال وفي الباب عن انس
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے تھے ۱؎، آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا نوالہ گر جائے تو اس سے گرد و غبار دور کرے اور اسے کھا لے، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے“، آپ نے ہمیں پلیٹ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تم لوگ نہیں جانتے کہ تمہارے کھانے کے کس حصے میں برکت رکھی ہوئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا ما اكل طعاما لعق اصابعه الثلاث وقال " اذا ما وقعت لقمة احدكم فليمط عنها الاذى ولياكلها ولا يدعها للشيطان " . وامرنا ان نسلت الصحفة وقال " انكم لا تدرون في اى طعامكم البركة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ام عاصم کہتی ہیں کہ ہمارے پاس نبیشہ الخیر آئے، ہم لوگ ایک پیالے میں کھانا کھا رہے تھے، تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص پیالے میں کھائے پھر اسے چاٹے تو پیالہ اس کے لیے استغفار کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف معلی بن راشد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- یزید بن ہارون اور کئی ائمہ حدیث نے بھی یہ حدیث معلی بن راشد سے روایت کی ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، اخبرنا ابو اليمان المعلى بن راشد، قال حدثتني جدتي ام عاصم، وكانت ام ولد، لسنان بن سلمة قالت دخل علينا نبيشة الخير ونحن ناكل في قصعة فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اكل في قصعة ثم لحسها استغفرت له القصعة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث المعلى بن راشد . وقد روى يزيد بن هارون وغير واحد من الايمة عن المعلى بن راشد هذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کناروں سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور صرف عطاء بن سائب کی روایت سے معروف ہے، اسے شعبہ اور ثوری نے بھی عطاء بن سائب سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة ابو رجاء، حدثنا جرير، عن عطاء بن السايب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان البركة تنزل وسط الطعام فكلوا من حافتيه ولا تاكلوا من وسطه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح انما يعرف من حديث عطاء بن السايب . وقد رواه شعبة والثوري عن عطاء بن السايب . وفي الباب عن ابن عمر
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ان میں سے لہسن کھائے، یا لہسن، پیاز اور گندنا ۱؎ – کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابوایوب، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، جابر بن سمرہ، قرہ بن ایاس مزنی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابن جريج، حدثنا عطاء، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اكل من هذه - قال اول مرة الثوم ثم قال الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا في مساجدنا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال وفي الباب عن عمر وابي ايوب وابي هريرة وابي سعيد وجابر بن سمرة وقرة بن اياس المزني وابن عمر
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ہجرت کے بعد ) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے گھر ٹھہرے، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے پاس بھیجتے، آپ نے ایک دن ( پورا ) کھانا ( واپس ) بھیجا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کھایا، جب ابوایوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ”اس میں لہسن ہے؟“، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن سماك بن حرب، سمع جابر بن سمرة، يقول نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابي ايوب وكان اذا اكل طعاما بعث اليه بفضله فبعث اليه يوما بطعام ولم ياكل منه النبي صلى الله عليه وسلم فلما اتى ابو ايوب النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال " فيه ثوم " . فقال يا رسول الله احرام هو قال " لا ولكني اكرهه من اجل ريحه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح