Loading...

Loading...
کتب
۵۱ احادیث
ابوبکر بن ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ میں نے دشمنوں کی موجودگی میں اپنے باپ کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جنت کے دروازے تلواروں کی چھاؤں میں ہیں“ ۱؎، قوم میں سے ایک پراگندہ ہیئت والے شخص نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، چنانچہ وہ آدمی لوٹ کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور بولا: میں تم سب کو سلام کرتا ہوں، پھر اس نے اپنی تلوار کی نیام توڑ دیا اور اس سے لڑائی کرتا رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان ضبعی کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن ابي عمران الجوني، عن ابي بكر بن ابي موسى الاشعري، قال سمعت ابي بحضرة العدو، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ابواب الجنة تحت ظلال السيوف " . فقال رجل من القوم رث الهيية اانت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكره قال نعم . فرجع الى اصحابه فقال اقرا عليكم السلام . وكسر جفن سيفه فضرب به حتى قتل . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث جعفر بن سليمان الضبعي . وابو عمران الجوني اسمه عبد الملك بن حبيب وابو بكر بن ابي موسى قال احمد بن حنبل هو اسمه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون آدمی افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”وہ شخص جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے“، صحابہ نے پوچھا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اکیلا ہو اور اپنے رب سے ڈرے اور لوگوں کو اپنے شر سے بچائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، حدثنا الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الناس افضل قال " رجل يجاهد في سبيل الله " . قالوا ثم من قال " ثم مومن في شعب من الشعاب يتقي ربه ويدع الناس من شره " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کے علاوہ کوئی جنتی ایسا نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہو وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہتا ہے، کہتا ہے: ( دل چاہتا ہے کہ ) اللہ کی راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جاؤں، یہ اس وجہ سے کہ وہ اس مقام کو دیکھ چکا ہے جس سے اللہ نے اس کو نوازا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من احد من اهل الجنة يسره ان يرجع الى الدنيا غير الشهيد فانه يحب ان يرجع الى الدنيا يقول حتى اقتل عشر مرات في سبيل الله مما يرى مما اعطاه الله من الكرامة " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
اس سند سے بھی انس رضی الله عنہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں، ( ۱ ) خون کا پہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہو جاتی ہے، ( ۲ ) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے، ( ۳ ) عذاب قبر سے محفوظ رہتا ہے، ( ۴ ) «فزع الأكبر» ( عظیم گھبراہٹ والے دن ) سے مامون رہے گا، ( ۵ ) اس کے سر پر عزت کا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، ( ۶ ) بہتر ( ۷۲ ) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، حدثنا نعيم بن حماد، حدثنا بقية بن الوليد، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن المقدام بن معديكرب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للشهيد عند الله ست خصال يغفر له في اول دفعة ويرى مقعده من الجنة ويجار من عذاب القبر ويامن من الفزع الاكبر ويوضع على راسه تاج الوقار الياقوتة منها خير من الدنيا وما فيها ويزوج اثنتين وسبعين زوجة من الحور العين ويشفع في سبعين من اقاربه " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں سرحد کی ایک دن کی پاسبانی کرنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے، تم میں سے کسی کے کوڑے کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور بندے کا اللہ کی راہ میں صبح یا شام کے وقت چلنا دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔
حدثنا ابو بكر بن ابي النضر، حدثنا ابو النضر البغدادي، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها وموضع سوط احدكم في الجنة خير من الدنيا وما فيها ولروحة يروحها العبد في سبيل الله او لغدوة خير من الدنيا وما فيها " . هذا حديث حسن صحيح
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی الله عنہ شرحبیل بن سمط کے پاس سے گزرے، وہ اپنے «مرابط» ( سرحد پر پاسبانی کی جگہ ) میں تھے، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر وہاں رہنا گراں گزر رہا تھا، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے کہا: ابن سمط؟ کیا میں تم سے وہ حدیث بیان نہ کروں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، سلمان رضی الله عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ کی راہ میں ایک دن کی پاسبانی ایک ماہ روزہ رکھنے اور تہجد پڑھنے سے افضل ہے، آپ نے «أفضل» کی بجائے کبھی «خير» ( بہتر ہے ) کا لفظ کہا: اور جو شخص اس حالت میں وفات پا گیا، وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اور قیامت تک اس کا عمل بڑھایا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، حدثنا محمد بن المنكدر، قال مر سلمان الفارسي بشرحبيل بن السمط وهو في مرابط له وقد شق عليه وعلى اصحابه قال الا احدثك يا ابن السمط بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال بلى . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " رباط يوم في سبيل الله افضل وربما قال خير من صيام شهر وقيامه ومن مات فيه وقي فتنة القبر ونمي له عمله الى يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جہاد کے کسی اثر کے بغیر اللہ تعالیٰ سے ملے ۱؎ تو وہ اس حال میں اللہ سے ملے گا کہ اس کے اندر خلل ( نقص و عیب ) ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ولید بن مسلم کے واسطے سے اسماعیل بن رافع کی روایت سے ضعیف ہے، بعض محدثین نے اسماعیل بن رافع کی تضعیف کی ہے، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: اسماعیل ثقہ ہیں، مقارب الحدیث ہیں، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی ابوہریرہ کے واسطہ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۳- سلمان کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ محمد بن منکدر نے سلمان کو نہیں پایا ہے، یہ حدیث «عن أيوب بن موسى عن مكحول عن شرحبيل بن السمط عن سلمان عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے بھی مروی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا الوليد بن مسلم، عن اسماعيل بن رافع، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لقي الله بغير اثر من جهاد لقي الله وفيه ثلمة " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث الوليد بن مسلم عن اسماعيل بن رافع . واسماعيل بن رافع قد ضعفه بعض اصحاب الحديث . قال وسمعت محمدا يقول هو ثقة مقارب الحديث . وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث سلمان اسناده ليس بمتصل محمد بن المنكدر لم يدرك سلمان الفارسي . وقد روي هذا الحديث عن ايوب بن موسى عن مكحول عن شرحبيل بن السمط عن سلمان عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ابوصالح مولیٰ عثمان کہتے ہیں کہ میں نے منبر پر عثمان رضی الله عنہ کو کہتے سنا: میں نے تم لوگوں سے ایک حدیث چھپا لی تھی جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اس ڈر کی وجہ سے کہ تم مجھ سے جدا ہو جاؤ گے ۱؎ پھر میری سمجھ میں آیا کہ میں تم لوگوں سے اسے بیان کر دوں تاکہ ہر آدمی اپنے لیے وہی چیز اختیار کرے جو اس کی سمجھ میں آئے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی پاسبانی کرنا دوسری جگہوں کے ایک ہزار دن کی پاسبانی سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا هشام بن عبد الملك، حدثنا الليث بن سعد، حدثني ابو عقيل، زهرة بن معبد عن ابي صالح، مولى عثمان بن عفان قال سمعت عثمان، وهو على المنبر يقول اني كتمتكم حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم كراهية تفرقكم عني ثم بدا لي ان احدثكموه ليختار امرو لنفسه ما بدا له سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " رباط يوم في سبيل الله خير من الف يوم فيما سواه من المنازل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وقال محمد بن اسماعيل ابو صالح مولى عثمان اسمه تركان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہید کو قتل سے صرف اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تکلیف تم میں سے کسی کو چٹکی لینے سے ہوتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، واحمد بن نصر النيسابوري، وغير، واحد، قالوا حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا محمد بن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما يجد الشهيد من مس القتل الا كما يجد احدكم من مس القرصة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دو نشانیوں سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ہے: آنسو کا ایک قطرہ جو اللہ کے خوف کی وجہ سے نکلے اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کے راستہ میں بہے، دو نشانیوں میں سے ایک نشانی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں لگے اور دوسری نشانی وہ ہے جو اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادائیگی کی حالت میں لگے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا يزيد بن هارون، انبانا الوليد بن جميل الفلسطيني، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس شيء احب الى الله من قطرتين واثرين قطرة من دموع في خشية الله وقطرة دم تهراق في سبيل الله . واما الاثران فاثر في سبيل الله واثر في فريضة من فرايض الله " . قال هذا حديث حسن غريب