Loading...

Loading...
کتب
۵۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کہا گیا: اللہ کے رسول! کون سا عمل ( اجر و ثواب میں ) جہاد کے برابر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے“، صحابہ نے دو یا تین مرتبہ آپ کے سامنے یہی سوال دہرایا، آپ ہر مرتبہ کہتے: ”تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے“، تیسری مرتبہ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس نمازی اور روزہ دار کی ہے جو نماز اور روزے سے نہیں رکتا ( یہ دونوں عمل مسلسل کرتا ہی چلا جاتا ) ہے یہاں تک کہ اللہ کی راہ کا مجاہد واپس آ جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابوہریرہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں شفاء، عبداللہ بن حبشی، ابوموسیٰ، ابوسعید، ام مالک بہز یہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قيل يا رسول الله ما يعدل الجهاد قال " لا تستطيعونه " . فردوا عليه مرتين او ثلاثا كل ذلك يقول " لا تستطيعونه " . فقال في الثالثة " مثل المجاهد في سبيل الله مثل القايم الصايم الذي لا يفتر من صلاة ولا صيام حتى يرجع المجاهد في سبيل الله " . قال ابو عيسى وفي الباب عن الشفاء وعبد الله بن حبشي وابي موسى وابي سعيد وام مالك البهزية وانس بن مالك . وهذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کا ضامن میں ہوں، اگر میں اس کی روح قبض کروں تو اس کو جنت کا وارث بناؤں گا، اور اگر میں اسے ( اس کے گھر ) واپس بھیجوں تو اجر یا غنیمت کے ساتھ واپس بھیجوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن بزيع، حدثنا المعتمر بن سليمان، حدثني مرزوق ابو بكر، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يعني " يقول الله عز وجل المجاهد في سبيل الله هو على ضامن ان قبضته اورثته الجنة وان رجعته رجعته باجر او غنيمة " . قال هو صحيح غريب من هذا الوجه
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر میت کے عمل کا سلسلہ بند کر دیا جاتا ہے سوائے اس شخص کے جو اللہ کے راستے میں سرحد کی پاسبانی کرتے ہوئے مرے، تو اس کا عمل قیامت کے دن تک بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنہ سے مامون رہے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا: مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- فضالہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عقبہ بن عامر اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا حيوة بن شريح، قال اخبرني ابو هاني الخولاني، ان عمرو بن مالك الجنبي، اخبره انه، سمع فضالة بن عبيد، يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " كل ميت يختم على عمله الا الذي مات مرابطا في سبيل الله فانه ينمى له عمله الى يوم القيامة ويامن من فتنة القبر " . وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " المجاهد من جاهد نفسه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عقبة بن عامر وجابر . وحديث فضالة بن عبيد حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جہاد کرتے وقت ایک دن کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اسے ستر سال کی مسافت تک جہنم سے دور کرے گا“ ۱؎۔ عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار میں سے ایک نے ”ستر برس“ کہا ہے اور دوسرے نے ”چالیس برس“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- راوی ابوالاسود کا نام محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل اسدی مدنی ہے، ۳- اس باب میں ابوسعید، انس، عقبہ بن عامر اور ابوامامہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن ابي الاسود، عن عروة بن الزبير، وسليمان بن يسار، انهما حدثاه عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام يوما في سبيل الله زحزحه الله عن النار سبعين خريفا " . احدهما يقول سبعين والاخر يقول اربعين . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وابو الاسود اسمه محمد بن عبد الرحمن بن نوفل الاسدي المدني . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي سعيد وانس وعقبة بن عامر وابي امامة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد میں کوئی بندہ ایک دن بھی روزہ رکھتا ہے تو وہ دن اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک جہنم کی آگ کو دور کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا عبد الله بن الوليد العدني، حدثنا سفيان الثوري، قال وحدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن سفيان، عن سهيل بن ابي صالح، عن النعمان بن ابي عياش الزرقي، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يصوم عبد يوما في سبيل الله الا باعد ذلك اليوم النار عن وجهه سبعين خريفا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوامامہ باہلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے“۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الوليد بن جميل، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة الباهلي، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صام يوما في سبيل الله جعل الله بينه وبين النار خندقا كما بين السماء والارض " . هذا حديث غريب من حديث ابي امامة
خریم بن فاتک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کے راستے ( جہاد ) میں کچھ خرچ کیا اس کے لیے سات سو گنا ( ثواب ) لکھ لیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، اس حدیث کو ہم رکین بن ربیع ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا الحسين بن علي الجعفي، عن زايدة، عن الركين بن الربيع، عن ابيه، عن يسير بن عميلة، عن خريم بن فاتك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انفق نفقة في سبيل الله كتبت له بسبعماية ضعف " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة . وهذا حديث حسن انما نعرفه من حديث الركين بن الربيع
عدی بن حاتم طائی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ( کسی مجاہد کو ) غلام کا عطیہ دینا یا ( مجاہدین کے لیے ) خیمہ کا سایہ کرنا، یا اللہ کے راستے میں جوان اونٹنی دینا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ بن صالح سے یہ حدیث مرسل طریقہ سے بھی آئی ہے، ۲- بعض اسناد ( طرق ) میں زید ( بن حباب ) کی مخالفت کی گئی ہے، اس حدیث کو ولید بن جمیل نے قاسم ابوعبدالرحمٰن سے، قاسم نے ابوامامہ سے، اور ابوامامہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ہم سے اس حدیث کو زیاد بن ایوب نے بیان کیا ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا معاوية بن صالح، عن كثير بن الحارث، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن عدي بن حاتم الطايي، انه سال رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الصدقة افضل قال " خدمة عبد في سبيل الله او ظل فسطاط او طروقة فحل في سبيل الله " . قال ابو عيسى وقد روي عن معاوية بن صالح هذا الحديث مرسلا وخولف زيد في بعض اسناده . قال وروى الوليد بن جميل هذا الحديث عن القاسم ابي عبد الرحمن عن ابي امامة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد میں ( مجاہدین کے لیے ) خیمہ کا سایہ کرنا، خادم کا عطیہ دینا اور جوان اونٹنی دینا سب سے افضل و بہتر صدقہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- میرے نزدیک یہ معاویہ بن صالح کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا بذلك، زياد بن ايوب حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا الوليد بن جميل، عن القاسم ابي عبد الرحمن، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " افضل الصدقات ظل فسطاط في سبيل الله ومنيحة خادم في سبيل الله او طروقة فحل في سبيل الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب وهو اصح عندي من حديث معاوية بن صالح
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے اہل و عیال میں اس کی جانشینی کی ( اس کے اہل و عیال کی خبرگیری کی ) حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ دوسری سند سے بھی آئی ہے۔
حدثنا ابو زكريا، يحيى بن درست البصري حدثنا ابو اسماعيل، حدثنا يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد الجهني، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في اهله فقد غزا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير هذا الوجه
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا، یا اس کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي ليلى، عن عطاء، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جهز غازيا في سبيل الله او خلفه في اهله فقد غزا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
اس سند سے بھی زید بن خالد جہنی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن زيد بن خالد الجهني، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کیا حقیقت میں اس نے جہاد کیا اور جس نے غازی کے گھر والے کی خبرگیری کی حقیقت میں اس نے جہاد کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا حرب بن شداد، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا ومن خلف غازيا في اهله فقد غزا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے جا رہا تھا کہ مجھے عبایہ بن رفاعہ بن رافع ملے، انہوں نے کہا: خوش ہو جاؤ، تمہارے یہ قدم اللہ کے راستے میں ہیں، میں نے ابوعبس رضی الله عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دونوں پیر اللہ کے راستے میں غبار آلود ہوں، انہیں جہنم کی آگ نہیں چھو سکتی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- ابوعبس کا نام عبدالرحمٰن بن جبر ہے، ۳- اس باب میں ابوبکر اور ایک دوسرے صحابی سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا الوليد بن مسلم، عن يزيد بن ابي مريم، قال لحقني عباية بن رفاعة بن رافع وانا ماش، الى الجمعة فقال ابشر فان خطاك هذه في سبيل الله سمعت ابا عبس يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اغبرت قدماه في سبيل الله فهما حرام على النار " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وابو عبس اسمه عبد الرحمن بن جبر . وفي الباب عن ابي بكر ورجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى يزيد بن ابي مريم هو رجل شامي روى عنه الوليد بن مسلم ويحيى بن حمزة وغير واحد من اهل الشام وبريد بن ابي مريم كوفي ابوه من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم واسمه مالك بن ربيعة وبريد بن ابي مريم سمع من انس بن مالك وروى عن بريد بن ابي مريم ابو اسحاق الهمداني وعطاء بن السايب ويونس بن ابي اسحاق وشعبة احاديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے ڈر سے رونے والا جہنم میں داخل نہیں ہو گا یہاں تک کہ دودھ تھن میں واپس لوٹ جائے، ( اور یہ محال ہے ) اور جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابن المبارك، عن عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومحمد بن عبد الرحمن هو مولى ابي طلحة مدني
سالم بن ابی جعد سے روایت ہے، شرحبیل بن سمط نے کہا: کعب بن مرہ رضی الله عنہ! ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیجئے اور کمی زیادتی سے محتاط رہئیے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو اسلام میں بوڑھا ہو جائے، تو قیامت کے دن یہ اس کے لیے نور بن کر آئے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں فضالہ بن عبید اور عبداللہ بن عمرو سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- کعب بن مرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اعمش نے اسی طرح عمرو بن مرہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث منصور سے بھی آئی ہے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے روایت کی ہے، انہوں نے سالم اور کعب بن مرہ کے درمیان سند میں ایک آدمی کو داخل کیا ہے، ۳- کعب بن مرہ کو کبھی کعب بن بن مرہ اور مرہ بن کعب بہزی بھی کہا گیا ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، ان شرحبيل بن السمط، قال يا كعب بن مرة حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واحذر . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من شاب شيبة في الاسلام كانت له نورا يوم القيامة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن فضالة بن عبيد وعبد الله بن عمرو . وحديث كعب بن مرة حديث حسن . هكذا رواه الاعمش عن عمرو بن مرة وقد روي هذا الحديث عن منصور عن سالم بن ابي الجعد وادخل بينه وبين كعب بن مرة في الاسناد رجلا . ويقال كعب بن مرة ويقال مرة بن كعب البهزي والمعروف من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مرة بن كعب البهزي وقد روى عن النبي صلى الله عليه وسلم احاديث
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں بوڑھا ہو جائے قیامت کے دن اس کے لیے ایک نور ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور المروزي، اخبرنا حيوة بن شريح الحمصي، عن بقية، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن كثير بن مرة، عن عمرو بن عبسة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شاب شيبة في سبيل الله كانت له نورا يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وحيوة بن شريح ابن يزيد الحمصي
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک کے لیے خیر بندھی ہوئی ہے، گھوڑے تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے باعث اجر ہے، ایک وہ گھوڑا ہے جو آدمی کی ( عزت و وقار ) کے لیے پردہ پوشی کا باعث ہے، اور ایک گھوڑا وہ ہے جو آدمی کے لیے باعث گناہ ہے، وہ آدمی جس کے لیے گھوڑا باعث اجر ہے وہ ایسا شخص ہے جو اس کو جہاد کے لیے رکھتا ہے، اور اسی کے لیے تیار کرتا ہے، یہ گھوڑا اس شخص کے لیے باعث اجر ہے، اس کے پیٹ میں جو چیز ( خوراک ) بھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اجر و ثواب لکھ دیتا ہے“، اس حدیث میں ایک قصہ کا ذکر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس نے بطریق: «زيد بن أسلم عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الخيل لثلاثة هي لرجل اجر وهي لرجل ستر وهي على رجل وزر فاما الذي له اجر فالذي يتخذها في سبيل الله فيعدها له هي له اجر لا يغيب في بطونها شيء الا كتب الله له اجرا " . وفي الحديث قصة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى مالك بن انس عن زيد بن اسلم عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
عبداللہ بن عبدالرحمٰن ابن ابی الحسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو“، آپ نے فرمایا: ”تیر اندازی کرو اور سواری سیکھو، تمہارا تیر اندازی کرنا میرے نزدیک تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے، ہر وہ چیز جس سے مسلمان کھیلتا ہے باطل ہے سوائے کمان سے اس کا تیر اندازی کرنا، گھوڑے کو تربیت دینا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ تینوں چیزیں اس کے لیے درست ہیں“۔
ابونجیح عمرو بن عبسہ سلمی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر مارا، وہ ( ثواب میں ) ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- ابونجیح کا نام عمرو بن عبسہ سلمی ہے، ۳- عبداللہ بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا معاذ بن هشام، عن ابيه، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن ابي نجيح السلمي، رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من رمى بسهم في سبيل الله فهو له عدل محرر " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وابو نجيح هو عمرو بن عبسة السلمي وعبد الله بن الازرق هو عبد الله بن زيد