Loading...

Loading...
کتب
۵۱ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی: ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے تر ہوئی ہو اور ایک وہ آنکھ جس نے راہ جہاد میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شعیب بن رزیق ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عثمان اور ابوریحانہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا شعيب بن رزيق ابو شيبة، حدثنا عطاء الخراساني، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " عينان لا تمسهما النار عين بكت من خشية الله وعين باتت تحرس في سبيل الله " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عثمان وابي ريحانة . وحديث ابن عباس حديث حسن لا نعرفه الا من حديث شعيب بن رزيق
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں شہادت ( شہید کے لیے ) ہر گناہ کا کفارہ بن جاتی ہے، جبرائیل علیہ السلام نے کہا: ”سوائے قرض کے“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا: ”سوائے قرض کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو ابی بکر کی روایت سے صرف اسی شیخ ( یعنی یحییٰ بن طلحہ ) کے واسطے سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا: میرا خیال ہے یحییٰ بن طلحہ نے حمید کی حدیث بیان کرنا چاہی جس کو انہوں نے انس سے، انس رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”شہید کے علاوہ کوئی ایسا جنتی نہیں ہے جو دنیا کی طرف لوٹنا چاہے“، ۳- اس باب میں کعب بن عجرہ، جابر، ابوہریرہ اور ابوقتادہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يحيى بن طلحة اليربوعي الكوفي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن حميد، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " القتل في سبيل الله يكفر كل خطيية " . فقال جبريل الا الدين . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا الدين " . قال ابو عيسى وفي الباب عن كعب بن عجرة وجابر وابي هريرة وابي قتادة . وهذا حديث غريب لا نعرفه من حديث ابي بكر الا من حديث هذا الشيخ . قال وسالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث فلم يعرفه وقال ارى انه اراد حديث حميد عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ليس احد من اهل الجنة يسره ان يرجع الى الدنيا الا الشهيد
کعب بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء کی روحیں ( جنت میں ) سبز پرندوں کی شکل میں ہیں، جو جنت کے پھلوں یا درختوں سے کھاتی چرتی ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن الزهري، عن ابن كعب بن مالك، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان ارواح الشهداء في طير خضر تعلق من ثمرة الجنة او شجر الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے اوپر ان تین اشخاص کو پیش کیا گیا جو جنت میں سب سے پہلے جائیں گے: ایک شہید، دوسرا حرام سے دور رہنے والا اور نامناسب امور سے بچنے والا، تیسرا وہ غلام جو اچھی طرح اللہ کی عبادت بجا لائے اور اپنے مالکان کے لیے خیر چاہے یا ان کے حقوق بجا لائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن عامر العقيلي، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " عرض على اول ثلاثة يدخلون الجنة شهيد وعفيف متعفف وعبد احسن عبادة الله ونصح لمواليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرنے والا کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جس کے لیے اللہ کے پاس ثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس کی خاطر لوٹنا چاہتا ہو۔ سوائے شہید کے، اس لیے کہ وہ شہادت کا مقام و مرتبہ دیکھ چکا ہے، چنانچہ وہ چاہتا ہے کہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور دوبارہ شہید ہو ( کر آئے ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ما من عبد يموت له عند الله خير يحب ان يرجع الى الدنيا وان له الدنيا وما فيها الا الشهيد لما يرى من فضل الشهادة فانه يحب ان يرجع الى الدنيا فيقتل مرة اخرى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . قال ابن ابي عمر قال سفيان بن عيينة كان عمرو بن دينار اسن من الزهري
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”شہید چار طرح کے ہیں: پہلا وہ اچھے ایمان والا مومن جو دشمن سے مقابلہ اور اللہ سے کئے گئے وعدہ کو سچ کر دکھائے یہاں تک کہ شہید ہو جائے، یہی وہ شخص ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ اس طرح آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے اور ( راوی فضالہ بن عبید نے اس کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے کہا ) اپنا سر اٹھایا یہاں تک کہ ٹوپی ( سر سے ) گر گئی“، راوی ابویزید خولانی کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم فضالہ نے عمر رضی الله عنہ کی ٹوپی مراد لی یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی، آپ نے فرمایا: ”دوسرا وہ اچھے ایمان والا مومن جو دشمن کا مقابلہ اس طرح کرے تو ان بزدلی کی وجہ سے اس کی جلد ( کھال ) «طلح» ( ایک بڑا خاردار درخت ) کے کاٹے سے زخمی ہو گئی ہو، پیچھے سے ( ایک انجان ) تیر آ کر اسے لگے اور مار ڈالے، یہ دوسرے درجہ میں ہے، تیسرا وہ مومن جو نیک عمل کے ساتھ برا عمل بھی کرے، جب دشمن سے مقابلہ کرے تو اللہ سے کئے گئے وعدہ کو سچ کر دکھائے ( یعنی بہادری سے لڑتا رہے ) یہاں تک کہ شہید ہو جائے، یہ تیسرے درجہ میں ہے، چوتھا وہ مومن شخص جو اپنے نفس پر ظلم کرے ( یعنی کثرت گناہ کی وجہ سے، اور بہادری سے لڑتا رہے ) یہاں تک کہ شہید ہو جائے، یہ چوتھے درجہ میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عطاء بن دینار ہی کی روایت سے جانتے ہیں، میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: یہ حدیث سعید بن ابی ایوب نے عطاء بن دینار سے روایت کی ہے اور انہوں نے خولان کے مشائخ سے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابویزید کا ذکر نہیں کیا، اور عطاء بن دینار نے کہا: ( کہ اس حدیث میں ) کچھ حرج نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عطاء بن دينار، عن ابي يزيد الخولاني، انه سمع فضالة بن عبيد، يقول سمعت عمر بن الخطاب، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الشهداء اربعة رجل مومن جيد الايمان لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك الذي يرفع الناس اليه اعينهم يوم القيامة هكذا " . ورفع راسه حتى وقعت قلنسوته . قال فما ادري اقلنسوة عمر اراد ام قلنسوة النبي صلى الله عليه وسلم قال " ورجل مومن جيد الايمان لقي العدو فكانما ضرب جلده بشوك طلح من الجبن اتاه سهم غرب فقتله فهو في الدرجة الثانية ورجل مومن خلط عملا صالحا واخر سييا لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الثالثة ورجل مومن اسرف على نفسه لقي العدو فصدق الله حتى قتل فذلك في الدرجة الرابعة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عطاء بن دينار . قال سمعت محمدا يقول قد روى سعيد بن ابي ايوب هذا الحديث عن عطاء بن دينار وقال عن اشياخ من خولان ولم يذكر فيه عن ابي يزيد . وقال عطاء بن دينار ليس به باس
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان کے گھر جب بھی جاتے، وہ آپ کو کھانا کھلاتیں، ام حرام رضی الله عنہا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کے عقد میں تھیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اور آپ کے سر میں جوئیں دیکھنے بیٹھ گئیں، آپ سو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے، ام حرام رضی الله عنہا کہتی ہیں: میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آپ کو کیا چیز ہنسا رہی ہے؟ آپ نے ( جواب میں ) فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ مجاہدین پیش کئے گئے، وہ اس سمندر کے سینہ پر سوار تھے، تختوں پر بیٹھے ہوئے بادشاہ لگتے تھے“۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے «ملوك على الأسرة» کہا، یا «مثل الملوك على الأسرة» میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ اللہ مجھے بھی ان لوگوں میں کر دے، چنانچہ آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی، آپ پھر اپنا سر رکھ کر سو گئے، پھر ہنستے ہوئے بیدار ہوئے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو کیا چیز ہنسا رہی ہے؟ فرمایا: ”میرے سامنے میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے پیش کئے گئے“، آپ نے اسی طرح فرمایا جیسے اس سے پہلے فرمایا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کر دیجئیے کہ مجھے ان لوگوں میں کر دے، آپ نے فرمایا: ”تم ( سمندر میں ) پہلے ( جہاد کرنے ) والے لوگوں میں سے ہو“۔ انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے زمانہ میں ام حرام رضی الله عنہا سمندری سفر پر ( ایک جہاد میں ) نکلیں تو وہ سمندر سے نکلتے وقت اپنی سواری سے گر گئیں اور ہلاک ہو گئیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ام حرام بنت ملحان، ام سلیم کی بہن اور انس بن مالک کی خالہ ہیں، ( اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ننہال میں سے قریبی رشتہ دار تھیں ) ۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل على ام حرام بنت ملحان فتطعمه وكانت ام حرام تحت عبادة بن الصامت فدخل عليها رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فاطعمته وجلست تفلي راسه فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك قالت فقلت ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على غزاة في سبيل الله يركبون ثبج هذا البحر ملوك على الاسرة او مثل الملوك على الاسرة " . قلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم . فدعا لها ثم وضع راسه فنام ثم استيقظ وهو يضحك قالت فقلت له ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على غزاة في سبيل الله " . نحو ما قال في الاول قالت فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم . قال " انت من الاولين " . قال فركبت ام حرام البحر في زمان معاوية بن ابي سفيان فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر فهلكت . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وام حرام بنت ملحان هي اخت ام سليم وهي خالة انس بن مالك
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ایک آدمی اظہار شجاعت ( بہادری ) کے لیے لڑتا ہے، دوسرا حمیت کی وجہ سے لڑتا ہے، تیسرا ریاکاری کے لیے لڑتا ہے، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لیے جہاد کرے، وہ اللہ کے راستے میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن ابي موسى، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يقاتل شجاعة ويقاتل حمية ويقاتل رياء فاى ذلك في سبيل الله قال " من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر . وهذا حديث حسن صحيح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی، چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے مانی جائے گی اور جس نے حصول دنیا یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہو گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مالک بن انس، سفیان ثوری اور کئی ائمہ حدیث نے اسے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف یحییٰ بن سعید انصاری ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: ہمیں اس حدیث کو ہر باب میں رکھنا چاہیئے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم، عن علقمة بن وقاص الليثي، عن عمر بن الخطاب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الاعمال بالنية وانما لامري ما نوى فمن كانت هجرته الى الله والى رسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته الى دنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته الى ما هاجر اليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى مالك بن انس وسفيان الثوري وغير واحد من الايمة هذا عن يحيى بن سعيد ولا نعرفه الا من حديث يحيى بن سعيد الانصاري . قال عبد الرحمن بن مهدي ينبغي ان نضع هذا الحديث في كل باب
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح دنیا اور دنیا کی ساری چیزوں سے بہتر ہے اور جنت کی ایک کوڑے ۱؎ کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس، ابوایوب اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا العطاف بن خالد المخزومي، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غدوة في سبيل الله خير من الدنيا وما فيها وموضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس وابي ايوب وانس . وهذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاد کی ایک صبح یا ایک شام دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جس ابوحازم نے سہل بن سعد سے روایت کی ہے وہ ابوحازم زاہد ہیں، مدینہ کے رہنے والے ہیں اور ان کا نام سلمہ بن دینار ہے، اور یہ ابوحازم جنہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہ ابوحازم اشجعی ہیں، کوفہ کے رہنے والے ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزۃ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم والحجاج عن الحكم، عن مقسم، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " غدوة في سبيل الله او روحة خير من الدنيا وما فيها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وابو حازم الذي روى عن سهل بن سعد هو ابو حازم الزاهد وهو مدني واسمه سلمة بن دينار . وابو حازم هذا الذي روى عن ابي هريرة هو ابو حازم الاشجعي الكوفي واسمه سلمان وهو مولى عزة الاشجعية
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے ایک آدمی کسی پہاڑی کی گھاٹی سے گزرا جس میں میٹھے پانی کا ایک چھوٹا سا چشمہ تھا، وہ جگہ اور چشمہ اپنی لطافت کی وجہ سے اسے بہت پسند آیا، اس نے کہا ( سوچا ) : کاش میں لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر اس گھاٹی میں قیام پذیر ہو جاتا، لیکن میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کر لوں اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، اس لیے کہ تم میں سے کسی کا اللہ کے راستے میں کھڑا رہنا اپنے گھر میں ستر سال نماز پڑھتے رہنے سے بہتر ہے، کیا تم لوگ نہیں چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تم کو جنت میں داخل کر دے؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، جس نے اللہ کی راہ میں دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیان کے وقفہ کے برابر جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا عبيد بن اسباط بن محمد القرشي الكوفي، حدثنا ابي، عن هشام بن سعد، عن سعيد بن ابي هلال، عن ابن ابي ذباب، عن ابي هريرة، قال مر رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بشعب فيه عيينة من ماء عذبة فاعجبته لطيبها فقال لو اعتزلت الناس فاقمت في هذا الشعب ولن افعل حتى استاذن رسول الله صلى الله عليه وسلم . فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا تفعل فان مقام احدكم في سبيل الله افضل من صلاته في بيته سبعين عاما الا تحبون ان يغفر الله لكم ويدخلكم الجنة اغزوا في سبيل الله من قاتل في سبيل الله فواق ناقة وجبت له الجنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راہ جہاد کی ایک صبح یا ایک شام ساری دنیا سے بہتر ہے، اور تم میں سے کسی کی کمان یا ہاتھ کے برابر جنت کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے ۱؎، اگر جنت کی عورتوں میں سے کوئی عورت زمین کی طرف نکل آئے تو زمین و آسمان کے درمیان کی ساری چیزیں روشن ہو جائیں اور خوشبو سے بھر جائیں اور اس کے سر کا دوپٹہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لغدوة في سبيل الله او روحة خير من الدنيا وما فيها ولقاب قوس احدكم او موضع يده في الجنة خير من الدنيا وما فيها ولو ان امراة من نساء اهل الجنة اطلعت الى الارض لاضاءت ما بينهما ولملات ما بينهما ريحا ولنصيفها على راسها خير من الدنيا وما فيها " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم لوگوں کو سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں؟ یہ وہ آدمی ہے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے رہے، کیا میں تم لوگوں کو اس آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں جو مرتبہ میں اس کے بعد ہے؟ یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں سے الگ ہو کر اپنی بکریوں کے درمیان رہ کر اللہ کا حق ادا کرتا رہے، کیا میں تم کو بدترین آدمی کے بارے میں نہ بتا دوں؟ یہ وہ آدمی ہے جس سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگا جائے اور وہ نہ دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی سندوں سے ابن عباس رضی الله عنہما کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الا اخبركم بخير الناس رجل ممسك بعنان فرسه في سبيل الله الا اخبركم بالذي يتلوه رجل معتزل في غنيمة له يودي حق الله فيها الا اخبركم بشر الناس رجل يسال بالله ولا يعطي به " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه ويروى هذا الحديث من غير وجه عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
سہل بن حنیف رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبے تک پہنچا دے گا اگرچہ وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ مرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سہل بن حنیف کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن شریح کی ہی روایت سے جانتے ہیں، اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن شریح سے عبداللہ بن صالح نے بھی روایت کیا ہے، عبدالرحمٰن بن شریح کی کنیت ابوشریح ہے اور وہ اسکندرانی ( اسکندریہ کے رہنے والے ) ہیں، ۲- اس باب میں معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، حدثنا القاسم بن كثير المصري، حدثنا عبد الرحمن بن شريح، انه سمع سهل بن ابي امامة بن سهل بن حنيف، يحدث عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من سال الله الشهادة من قلبه صادقا بلغه الله منازل الشهداء وان مات على فراشه " . قال ابو عيسى حديث سهل بن حنيف حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الرحمن بن شريح . وقد رواه عبد الله بن صالح عن عبد الرحمن بن شريح . وعبد الرحمن بن شريح يكنى ابا شريح وهو اسكندراني . وفي الباب عن معاذ بن جبل
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے اللہ کی راہ میں قتل ہونے کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہادت کا ثواب دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن مالك بن يخامر السكسكي، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من سال الله القتل في سبيله صادقا من قلبه اعطاه الله اجر الشهيد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی مدد اللہ کے نزدیک ثابت ہے ۱؎ ایک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، دوسرا وہ مکاتب غلام جو زر کتابت ادا کرنا چاہتا ہو، اور تیسرا وہ شادی کرنے والا جو پاکدامنی حاصل کرنا چاہتا ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة حق على الله عونهم المجاهد في سبيل الله والمكاتب الذي يريد الاداء والناكح الذي يريد العفاف " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جو بھی زخمی ہو گا – اور اللہ خوب جانتا ہے جو اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے ۱؎ – قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ خون کے رنگ میں رنگا ہوا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يكلم احد في سبيل الله والله اعلم بمن يكلم في سبيله الا جاء يوم القيامة اللون لون الدم والريح ريح المسك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مسلمان اللہ کی راہ میں اونٹنی کے دو مرتبہ دودھ دوہنے کے درمیانی وقفہ کے برابر جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص کو اللہ کی راہ میں کوئی زخم لگے یا چوٹ آئے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا زخم دنیا کے زخم سے کہیں بڑا ہو گا، رنگ اس کا زعفران کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا ابن جريج، عن سليمان بن موسى، عن مالك بن يخامر، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قاتل في سبيل الله من رجل مسلم فواق ناقة وجبت له الجنة ومن جرح جرحا في سبيل الله او نكب نكبة فانها تجي يوم القيامة كاغزر ما كانت لونها الزعفران وريحها كالمسك " . هذا حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے، یا کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا“، پوچھا گیا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”جہاد، وہ نیکی کا کوہان ہے“۔ پوچھا گیا: اللہ کے رسول! پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”حج مبرور ( مقبول ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کے واسطے سے مرفوع طریقہ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الاعمال افضل او اى الاعمال خير قال " ايمان بالله ورسوله " . قيل ثم اى شيء قال " الجهاد سنام العمل " . قيل ثم اى شيء يا رسول الله قال " ثم حج مبرور " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم