Loading...

Loading...
کتب
۷۱ احادیث
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل نے میرے پاس آ کر کہا: اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے سلسلے میں اختیار دیں، وہ چاہیں تو انہیں قتل کریں، چاہیں تو فدیہ لیں، فدیہ کی صورت میں ان میں سے آئندہ سال اتنے ہی آدمی قتل کئے جائیں گے، ان لوگوں نے کہا: فدیہ لیں گے اور ہم میں سے قتل کئے جائیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف ابن ابی زائدہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- ابواسامہ نے بسند «هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- ابن عون نے بسند «ابن سيرين عن عبيدة عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے، ۴- اس باب میں ابن مسعود، انس، ابوبرزہ، اور جبیر بن مطعم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو عبيدة بن ابي السفر، - واسمه احمد بن عبد الله الهمداني ومحمود بن غيلان قالا حدثنا ابو داود الحفري، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، عن سفيان بن سعيد، عن هشام، عن ابن سيرين، عن عبيدة، عن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان جبراييل هبط عليه فقال له خيرهم يعني اصحابك في اسارى بدر القتل او الفداء على ان يقتل منهم قابلا مثلهم . قالوا الفداء ويقتل منا " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وانس وابي برزة وجبير بن مطعم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث الثوري لا نعرفه الا من حديث ابن ابي زايدة . وروى ابو اسامة عن هشام عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وروى ابن عون عن ابن سيرين عن عبيدة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وابو داود الحفري اسمه عمر بن سعد
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے ایک قیدی مرد کے بدلہ میں دو مسلمان مردوں کو چھڑوایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوقلابہ کا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے، ۳- اکثر اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ امام کو اختیار ہے کہ قیدیوں میں سے جس پر چاہے احسان کرے اور جسے چاہے قتل کرے، اور جن سے چاہے فدیہ لے، ۴- بعض اہل علم نے فدیہ کے بجائے قتل کو اختیار کیا ہے، ۵- امام اوزاعی کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ یہ آیت «فإما منا بعد وإما فداء» منسوخ ہے اور آیت: «واقتلوهم حيث ثقفتموهم» اس کے لیے ناسخ ہے، ۶- اسحاق بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل سے سوال کیا: آپ کے نزدیک کیا بہتر ہے جب قیدی گرفتار ہو تو اسے قتل کیا جائے یا اس سے فدیہ لیا جائے، انہوں نے جواب دیا، اگر وہ فدیہ لے سکیں تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر انہیں قتل کر دیا جائے تو بھی میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا، ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک خون بہانا زیادہ بہتر ہے جب یہ مشہور ہو اور اکثر لوگ اس کی خواہش رکھتے ہوں۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن عمه، عن عمران بن حصين، ان النبي صلى الله عليه وسلم فدى رجلين من المسلمين برجل من المشركين . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وعم ابي قلابة هو ابو المهلب واسمه عبد الرحمن بن عمرو ويقال معاوية بن عمرو وابو قلابة اسمه عبد الله بن زيد الجرمي . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان للامام ان يمن على من شاء من الاسارى ويقتل من شاء منهم ويفدي من شاء . واختار بعض اهل العلم القتل على الفداء . وقال الاوزاعي بلغني ان هذه الاية منسوخة قوله تعالى: (فاما منا بعد واما فداء) نسختها: (واقتلوهم حيث ثقفتموهم ) حدثنا بذلك هناد حدثنا ابن المبارك عن الاوزاعي . قال اسحاق بن منصور قلت لاحمد اذا اسر الاسير يقتل او يفادى احب اليك قال ان قدروا ان يفادوا فليس به باس وان قتل فما اعلم به باسا . قال اسحاق بن ابراهيم الاثخان احب الى الا ان يكون معروفا فاطمع به الكثير
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی غزوے میں ایک عورت مقتول پائی گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی مذمت کی اور عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، رباح، ان کو رباح بن ربیع بھی کہتے ہیں، اسود بن سریع ابن عباس اور صعب بن جثامہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ عورتوں اور بچوں کے قتل کو حرام سمجھتے ہیں، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۴- کچھ اہل علم نے رات میں ان پر چھاپہ مارنے کی اور اس میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی رخصت دی ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ان دونوں نے رات میں چھاپہ مارنے کی رخصت دی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، اخبره ان امراة وجدت في بعض مغازي رسول الله صلى الله عليه وسلم مقتولة فانكر رسول الله صلى الله عليه وسلم ذلك ونهى عن قتل النساء والصبيان . وفي الباب عن بريدة ورباح ويقال رياح بن الربيع والاسود بن سريع وابن عباس والصعب بن جثامة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا قتل النساء والولدان وهو قول سفيان الثوري والشافعي . ورخص بعض اهل العلم في البيات وقتل النساء فيهم والولدان وهو قول احمد واسحاق ورخصا في البيات
صعب بن جثامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے گھوڑوں نے مشرکین کی عورتوں اور بچوں کو روند ڈالا ہے، آپ نے فرمایا: ”وہ بھی اپنے آبا و اجداد کی قسم سے ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال اخبرني الصعب بن جثامة، قال قلت يا رسول الله ان خيلنا اوطات من نساء المشركين واولادهم . قال " هم من ابايهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا اور فرمایا: ”اگر تم قریش کے فلاں فلاں دو آدمیوں کو پاؤ تو انہیں جلا دو“، پھر جب ہم نے روانگی کا ارادہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تم کو حکم دیا تھا کہ فلاں فلاں کو جلا دو حالانکہ آگ سے صرف اللہ ہی عذاب دے گا اس لیے اب اگر تم ان کو پاؤ تو قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- محمد بن اسحاق نے اس حدیث میں سلیمان بن یسار اور ابوہریرہ رضی الله عنہ کے درمیان ایک اور آدمی کا ذکر کیا ہے، کئی اور لوگوں نے لیث کی روایت کی طرح روایت کی ہے، لیث بن سعد کی حدیث زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس اور حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے۔ ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن بكير بن عبد الله، عن سليمان بن يسار، عن ابي هريرة، قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعث فقال " ان وجدتم فلانا وفلانا لرجلين من قريش فاحرقوهما بالنار " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اردنا الخروج " اني كنت امرتكم ان تحرقوا فلانا وفلانا بالنار وان النار لا يعذب بها الا الله فان وجدتموهما فاقتلوهما " . قال وفي الباب عن ابن عباس وحمزة بن عمرو الاسلمي . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقد ذكر محمد بن اسحاق بين سليمان بن يسار وبين ابي هريرة رجلا في هذا الحديث وروى غير واحد مثل رواية الليث وحديث الليث بن سعد اشبه واصح . قال البخاري وسليمان بن يسار قد سمع من ابي هريرة . قال محمد وحديث حمزة بن عمرو في هذا الباب صحيح
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مر گیا اور تین چیزوں یعنی تکبر ( گھمنڈ ) ، مال غنیمت میں خیانت اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثني ابو رجاء، قتيبة بن سعيد حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن ثوبان، قال قال رسول الله " من مات وهو بريء من ثلاث الكبر والغلول والدين دخل الجنة " . وفي الباب عن ابي هريرة وزيد بن خالد الجهني
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے جسم سے روح نکلی اور وہ تین چیزوں یعنی کنز، غلول اور قرض سے بری رہا، وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۱؎۔ سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اپنی روایت میں «الكنز» بیان کیا ہے اور ابو عوانہ نے اپنی روایت میں «الكبر» بیان کیا ہے، اور اس میں «عن معدان» کا ذکر نہیں کیا ہے، سعید کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن سالم بن ابي الجعد، عن معدان بن ابي طلحة، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من فارق الروح الجسد وهو بريء من ثلاث الكنز والغلول والدين دخل الجنة " . هكذا قال سعيد الكنز وقال ابو عوانة في حديثه الكبر ولم يذكر فيه عن معدان ورواية سعيد اصح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! فلاں آدمی شہید ہو گیا، آپ نے فرمایا: ”ہرگز نہیں، میں نے اس عباء ( کپڑے ) کی وجہ سے اسے جہنم میں دیکھا ہے جو اس نے مال غنیمت سے چرایا تھا“، آپ نے فرمایا: ”عمر! کھڑے ہو جاؤ اور تین مرتبہ اعلان کر دو، جنت میں مومن ہی داخل ہوں گے“ ( اور مومن آدمی خیانت نہیں کیا کرتے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا سماك ابو زميل الحنفي، قال سمعت ابن عباس، يقول حدثني عمر بن الخطاب، قال قيل يا رسول الله ان فلانا قد استشهد . قال " كلا قد رايته في النار بعباءة قد غلها قال قم يا علي فناد انه لا يدخل الجنة الا المومنون ثلاثا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم اور ان کے ہمراہ رہنے والی انصار کی چند عورتوں کے ساتھ جہاد میں نکلتے تھے، وہ پانی پلاتی اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ربیع بنت معوذ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا جعفر بن سليمان الضبعي، عن ثابت، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بام سليم ونسوة معها من الانصار يسقين الماء ويداوين الجرحى . قال ابو عيسى وفي الباب عن الربيع بنت معوذ . وهذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فارس کے بادشاہ کسریٰ نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے اسے قبول کر لیا، ( کچھ ) اور بادشاہوں نے آپ کے لیے تحفہ بھیجا تو آپ نے ان کے تحفے قبول کئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- راوی ثویر ابوفاختہ کے بیٹے ہیں، ابوفاختہ کا نام سعید بن علاقہ ہے اور ثویر کی کنیت ابوجہم ہے، ۳- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن سعيد الكندي، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن اسراييل، عن ثوير، عن ابيه، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم ان كسرى اهدى اليه فقبل منه وان الملوك اهدوا اليه فقبل منهم . قال وفي الباب عن جابر . وهذا حديث حسن غريب . وثوير هو ابن ابي فاختة وابو فاختة اسمه سعيد بن علاقة وثوير يكنى ابا جهم
عیاض بن حمار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ( اسلام لانے سے قبل ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تحفہ دیا یا اونٹنی ہدیہ کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اسلام لا چکے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”مجھے تو مشرکوں کے تحفہ سے منع کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إني نهيت عن زبد المشركين» کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان کے تحفوں سے منع کیا گیا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ مشرکوں کے تحفے قبول فرماتے تھے، جب کہ اس حدیث میں کراہت کا بیان ہے، احتمال ہے کہ یہ بعد کا عمل ہے، آپ پہلے ان کے تحفے قبول فرماتے تھے، پھر آپ نے اس سے منع فرما دیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، عن عمران القطان، عن قتادة، عن يزيد بن عبد الله، هو ابن الشخير عن عياض بن حمار، انه اهدى للنبي صلى الله عليه وسلم هدية له او ناقة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اسلمت " . قال لا . قال " فاني نهيت عن زبد المشركين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى قوله " اني نهيت عن زبد المشركين " . يعني هداياهم وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقبل من المشركين هداياهم وذكر في هذا الحديث الكراهية واحتمل ان يكون هذا بعد ما كان يقبل منهم ثم نهى عن هداياهم
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خبر آئی، آپ اس سے خوش ہوئے اور اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف اسی سند سے بکار بن عبدالعزیز کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بکار بن عبدالعزیز بن ابی بکرہ مقارب الحدیث ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ سجدہ شکر کو درست سمجھتے ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو عاصم، حدثنا بكار بن عبد العزيز بن ابي بكرة، عن ابيه، عن ابي بكرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتاه امر فسر به فخر لله ساجدا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث بكار بن عبد العزيز . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم راوا سجدة الشكر . وبكار بن عبد العزيز بن ابي بكرة مقارب الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان عورت کسی کو پناہ دے سکتی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے، ۳- کثیر بن زید نے ولید بن رباح سے سنا ہے اور ولید بن رباح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے سنا ہے اور وہ مقارب الحدیث ہیں، ۴- اس باب میں ام ہانی رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے۔
سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ اور اہل روم کے درمیان ( کچھ مدت تک کے لیے ) عہد و پیمان تھا، معاویہ رضی الله عنہ ان کے شہروں میں جاتے تھے تاکہ جب عہد کی مدت تمام ہو تو ان پر حملہ کر دیں، اچانک ایک آدمی کو اپنی سواری یا گھوڑے پر: اللہ اکبر! ”تمہاری طرف سے ایفائے عہد ہونا چاہیئے نہ کہ بدعہدی“، کہتے ہوئے دیکھا وہ عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ تھے، تو معاویہ رضی الله عنہ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جس آدمی کے اور کسی قوم کے درمیان عہد و پیمان ہو تو جب تک اس کی مدت ختم نہ ہو جائے یا اس عہد کو ان تک برابری کے ساتھ واپس نہ کر دے، ہرگز عہد نہ توڑے اور نہ نیا عہد کرے“، معاویہ رضی الله عنہ لوگوں کو لے کر واپس لوٹ آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال اخبرني ابو الفيض، قال سمعت سليم بن عامر، يقول كان بين معاوية وبين اهل الروم عهد وكان يسير في بلادهم حتى اذا انقضى العهد اغار عليهم فاذا رجل على دابة او على فرس وهو يقول الله اكبر وفاء لا غدر . واذا هو عمرو بن عبسة فساله معاوية عن ذلك فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من كان بينه وبين قوم عهد فلا يحلن عهدا ولا يشدنه حتى يمضي امده او ينبذ اليهم على سواء " . قال فرجع معاوية بالناس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”بیشک بدعہدی کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- میں نے محمد سے سوید کی اس حدیث کے بارے میں پوچھا جسے وہ ابواسحاق سبیعی سے، ابواسحاق نے عمارہ بن عمیر سے، عمارہ نے علی رضی الله عنہ سے اور علی رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ہر عہد توڑنے والے کے لیے ایک جھنڈا ہو گا“، محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا: میرے علم میں یہ حدیث مرفوع نہیں ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، قال حدثني صخر بن جويرية، عن نافع، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الغادر ينصب له لواء يوم القيامة " . قال وفي الباب عن علي وعبد الله بن مسعود وابي سعيد الخدري وانس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وسالت محمدا عن حديث سويد عن ابي اسحاق عن عمارة بن عمير عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لكل غادر لواء " . فقال لا اعرف هذا الحديث مرفوعا
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو تیر لگا، کفار نے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل ( بازو کی ایک رگ ) کاٹ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگ سے داغا تو ان کا ہاتھ سوج گیا، لہٰذا آپ نے اسے چھوڑ دیا، پھر خون بہنے لگا، چنانچہ آپ نے دوبارہ داغا پھر ان کا ہاتھ سوج گیا، جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ ( کی ہلاکت اور ذلت سے ) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہو جائے، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا، یہاں تک کہ بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے حکم پر ( قلعہ سے ) نیچے اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلایا انہوں نے آ کر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں کو زندہ رکھا جائے جن سے مسلمان خدمت لیں ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے، ان کی تعداد چار سو تھی، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عطیہ قرظی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، انه قال رمي يوم الاحزاب سعد بن معاذ فقطعوا اكحله او ابجله فحسمه رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنار فانتفخت يده فتركه فنزفه الدم فحسمه اخرى فانتفخت يده فلما راى ذلك قال اللهم لا تخرج نفسي حتى تقر عيني من بني قريظة . فاستمسك عرقه فما قطر قطرة حتى نزلوا على حكم سعد بن معاذ فارسل اليه فحكم ان يقتل رجالهم ويستحيى نساوهم يستعين بهن المسلمون . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصبت حكم الله فيهم " . وكانوا اربعماية فلما فرغ من قتلهم انفتق عرقه فمات . قال وفي الباب عن ابي سعيد وعطية القرظي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشرکین کے مردوں کو قتل کر دو اور ان کے لڑکوں میں سے جو بلوغت کی عمر کو نہ پہنچے ہوں انہیں کو چھوڑ دو“، «شرخ» وہ لڑکے ہیں جن کے زیر ناف کے بال نہ نکلے ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- حجاج بن ارطاۃ نے قتادہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا احمد بن عبد الرحمن ابو الوليد الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن سعيد بن بشير، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقتلوا شيوخ المشركين واستحيوا شرخهم " . والشرخ الغلمان الذين لم ينبتوا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . ورواه الحجاج بن ارطاة عن قتادة نحوه
عطیہ قرظی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں قریظہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، تو جس کے ( زیر ناف کے ) بال نکلے ہوئے تھے اسے قتل کر دیا جاتا اور جس کے نہیں نکلے ہوتے اسے چھوڑ دیا جاتا، چنانچہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں نکلے تھے، لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اگر بلوغت اور عمر معلوم نہ ہو تو وہ لوگ ( زیر ناف کے ) بال نکلنے ہی کو بلوغت سمجھتے تھے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن عطية القرظي، قال عرضنا على النبي صلى الله عليه وسلم يوم قريظة فكان من انبت قتل ومن لم ينبت خلي سبيله فكنت ممن لم ينبت فخلي سبيلي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم انهم يرون الانبات بلوغا ان لم يعرف احتلامه ولا سنه وهو قول احمد واسحاق
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”جاہلیت کے حلف ( معاہدہ تعاون ) کو پورا کرو ۱؎، اس لیے کہ اس سے اسلام کی مضبوطی میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اب اسلام میں کوئی نیا معاہدہ تعاون نہ کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، ام سلمہ، جبیر بن مطعم، ابوہریرہ، ابن عباس اور قیس بن عاصم رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في خطبته " اوفوا بحلف الجاهلية فانه لا يزيده يعني الاسلام الا شدة ولا تحدثوا حلفا في الاسلام " . قال وفي الباب عن عبد الرحمن بن عوف وام سلمة وجبير بن مطعم وابي هريرة وابن عباس وقيس بن عاصم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
بجالہ بن عبدہ کہتے ہیں کہ میں مقام مناذر میں جزء بن معاویہ کا منشی تھا، ہمارے پاس عمر رضی الله عنہ کا خط آیا کہ تمہاری طرف جو مجوس ہوں ان کو دیکھو اور ان سے جزیہ لو کیونکہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الحجاج بن ارطاة، عن عمرو بن دينار، عن بجالة بن عبدة، قال كنت كاتبا لجزء بن معاوية على مناذر فجاءنا كتاب عمر انظر مجوس من قبلك فخذ منهم الجزية فان عبد الرحمن بن عوف اخبرني ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ الجزية من مجوس هجر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن