Loading...

Loading...
کتب
۷۱ احادیث
ابوالبختری سعید بن فیروز سے روایت ہے کہ مسلمانوں کے ایک لشکر نے جس کے امیر سلمان فارسی تھے، فارس کے ایک قلعہ کا محاصرہ کیا، لوگوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟، انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں ان کافروں کو اسلام کی دعوت اسی طرح دوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں دعوت دیتے ہوئے سنا ہے ۱؎، چنانچہ سلمان فارسی رضی الله عنہ ان کے پاس گئے، اور کافروں سے کہا: میں تمہاری ہی قوم فارس کا رہنے والا ایک آدمی ہوں، تم دیکھ رہے ہو عرب میری اطاعت کرتے ہیں، اگر تم اسلام قبول کرو گے تو تمہارے لیے وہی حقوق ہوں گے جو ہمارے لیے ہیں، اور تمہارے اوپر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو ہمارے اوپر ہیں، اور اگر تم اپنے دین ہی پر قائم رہنا چاہتے ہو تو ہم اسی پر تم کو چھوڑ دیں گے، اور تم ذلیل و خوار ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرو ۲؎، سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس بات کو فارسی زبان میں بھی بیان کیا، اور یہ بھی کہا: تم قابل تعریف لوگ نہیں ہو، اور اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے ( حق پر ) جنگ کریں گے، ان لوگوں نے جواب دیا: ہم وہ نہیں ہیں کہ جزیہ دیں، بلکہ تم سے جنگ کریں گے، مسلمانوں نے کہا: ابوعبداللہ! کیا ہم ان پر حملہ نہ کر دیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، پھر انہوں نے تین دن تک اسی طرح ان کو اسلام کی دعوت دی، پھر مسلمانوں سے کہا: ان پر حملہ کرو، ہم لوگوں نے ان پر حملہ کیا اور اس قلعہ کو فتح کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سلمان فارسی رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ہم اس کو صرف عطاء بن سائب ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل ( امام بخاری ) کو کہتے ہوئے سنا: ابوالبختری نے سلمان کو نہیں پایا ہے، اس لیے کہ انہوں نے علی کو نہیں پایا ہے، اور سلمان کی وفات علی سے پہلے ہوئی ہے، ۲- اس باب میں بریدہ، نعمان بن مقرن، ابن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کی یہی رائے ہے کہ قتال سے پہلے کافروں کو دعوت دی جائے گی، اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے کہ اگر ان کو پہلے اسلام کی دعوت دے دی جائے تو بہتر ہے، یہ ان کے لیے خوف کا باعث ہو گا، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس دور میں دعوت کی ضرورت نہیں ہے، امام احمد کہتے ہیں: میں اس زمانے میں کسی کو دعوت دئیے جانے کے لائق نہیں سمجھتا، ۵- امام شافعی کہتے ہیں: دعوت سے پہلے دشمنوں سے جنگ نہ شروع کی جائے، ہاں اگر کفار خود جنگ میں پہل کر بیٹھیں تو اس صورت میں اگر دعوت نہ دی گئی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اسلام کی دعوت ان تک پہنچ چکی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عطاء بن السايب، عن ابي البختري، ان جيشا، من جيوش المسلمين كان اميرهم سلمان الفارسي حاصروا قصرا من قصور فارس فقالوا يا ابا عبد الله الا ننهد اليهم قال دعوني ادعهم كما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعوهم . فاتاهم سلمان فقال لهم انما انا رجل منكم فارسي ترون العرب يطيعونني فان اسلمتم فلكم مثل الذي لنا وعليكم مثل الذي علينا وان ابيتم الا دينكم تركناكم عليه واعطونا الجزية عن يد وانتم صاغرون . قال ورطن اليهم بالفارسية وانتم غير محمودين . وان ابيتم نابذناكم على سواء . قالوا ما نحن بالذي نعطي الجزية ولكنا نقاتلكم . فقالوا يا ابا عبد الله الا ننهد اليهم قال لا . فدعاهم ثلاثة ايام الى مثل هذا ثم قال انهدوا اليهم . قال فنهدنا اليهم ففتحنا ذلك القصر . قال وفي الباب عن بريدة والنعمان بن مقرن وابن عمر وابن عباس . وحديث سلمان حديث حسن لا نعرفه الا من حديث عطاء بن السايب . وسمعت محمدا يقول ابو البختري لم يدرك سلمان لانه لم يدرك عليا وسلمان مات قبل علي . وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم الى هذا وراوا ان يدعوا قبل القتال وهو قول اسحاق بن ابراهيم قال ان تقدم اليهم في الدعوة فحسن يكون ذلك اهيب . وقال بعض اهل العلم لا دعوة اليوم . وقال احمد لا اعرف اليوم احدا يدعى . وقال الشافعي لا يقاتل العدو حتى يدعوا الا ان يعجلوا عن ذلك فان لم يفعل فقد بلغتهم الدعوة
عصام مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے: ”جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ ابن عیینہ سے آئی ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى العدني المكي، - ويكنى بابي عبد الله الرجل الصالح هو ابن ابي عمر حدثنا سفيان بن عيينة عن عبد الملك بن نوفل بن مساحق عن ابن عصام المزني عن ابيه وكانت له صحبة قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا بعث جيشا او سرية يقول لهم " اذا رايتم مسجدا او سمعتم موذنا فلا تقتلوا احدا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وهو حديث ابن عيينة
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر روانہ ہوئے تو وہاں رات کو پہنچے، اور آپ جب بھی کسی قوم کے پاس رات کو پہنچتے تو جب تک صبح نہ ہو جاتی اس پر حملہ نہیں کرتے ۱؎، پھر جب صبح ہو گئی تو یہود اپنے پھاوڑے اور ٹوکریوں کے ساتھ نکلے، جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا: محمد ہیں، اللہ کی قسم، محمد لشکر کے ہمراہ آ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اکبر! خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں اس وقت ڈرائے گئے لوگوں کی صبح، بڑی بری ہوتی ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثني مالك بن انس، عن حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين خرج الى خيبر اتاها ليلا وكان اذا جاء قوما بليل لم يغر عليهم حتى يصبح فلما اصبح خرجت يهود بمساحيهم ومكاتلهم فلما راوه قالوا محمد وافق والله محمد الخميس . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الله اكبر خربت خيبر انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
ابوطلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی قوم پر غالب آتے تو ان کے میدان میں تین دن تک قیام کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حمید کی حدیث جو انس رضی الله عنہ سے آئی ہے حسن صحیح ہے، ۳- اہل علم کی ایک جماعت نے رات میں حملہ کرنے اور چھاپہ مارنے کی اجازت دی ہے، ۴- بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں، ۵- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ رات میں دشمن پر چھاپہ مارنے میں کوئی حرج نہیں ہے، ۶- «وافق محمد الخميس» میں «الخميس» سے مراد لشکر ہے۔
حدثنا قتيبة، ومحمد بن بشار، قالا حدثنا معاذ بن معاذ، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، عن ابي طلحة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا ظهر على قوم اقام بعرصتهم ثلاثا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وحديث حميد عن انس حديث حسن صحيح . وقد رخص قوم من اهل العلم في الغارة بالليل وان يبيتوا وكرهه بعضهم . وقال احمد واسحاق لا باس ان يبيت العدو ليلا . ومعنى قوله وافق محمد الخميس يعني به الجيش
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلوا اور کٹوا دیئے ۱؎، یہ مقام بویرہ کا واقعہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ” ( مسلمانو! ) ، ( یہود بنی نضیر کے ) کھجوروں کے درخت جو کاٹ ڈالے ہیں یا ان کو ہاتھ بھی نہ لگایا اور اپنے تنوں پر ہی ان کو کھڑا چھوڑ دیا تو یہ سب اللہ کے حکم سے تھا اور اللہ عزوجل کو منظور تھا کہ وہ نافرمانوں کو ذلیل کرے“ ( الحشر: ۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، وہ درخت کاٹنے اور قلعے ویران کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں، ۴- بعض اہل علم اس کو مکروہ سمجھتے ہیں، اوزاعی کا یہی قول ہے، ۵- اوزاعی کہتے ہیں: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ نے یزید کو پھل دار درخت کاٹنے اور مکان ویران کرنے سے منع کیا، ان کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا، ۶- شافعی کہتے ہیں: دشمن کے ملک میں آگ لگانے، درخت اور پھل کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۲؎۔ ۷- احمد کہتے ہیں: اسلامی لشکر کبھی کبھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا، لیکن بلا ضرورت آگ نہ لگائی جائے، ۸- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: آگ لگانا سنت ہے، جب یہ کافروں کی ہار و رسوائی کا باعث ہو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرق نخل بني النضير وقطع وهي البويرة فانزل الله : ( ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها فباذن الله وليخزي الفاسقين ) . قال وفي الباب عن ابن عباس . وهذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب قوم من اهل العلم الى هذا ولم يروا باسا بقطع الاشجار وتخريب الحصون . وكره بعضهم ذلك وهو قول الاوزاعي . قال الاوزاعي ونهى ابو بكر الصديق يزيد ان يقطع شجرا مثمرا او يخرب عامرا وعمل بذلك المسلمون بعده . وقال الشافعي لا باس بالتحريق في ارض العدو وقطع الاشجار والثمار . وقال احمد وقد تكون في مواضع لا يجدون منه بدا فاما بالعبث فلا تحرق . وقال اسحاق التحريق سنة اذا كان انكى فيهم
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مجھے انبیاء و رسل پر فضیلت بخشی ہے“ ( یا آپ نے یہ فرمایا: ”میری امت کو دوسری امتوں پر فضیلت بخشی ہے، اور ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابوذر، عبداللہ بن عمرو، ابوموسیٰ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت کی تقسیم میں گھوڑے کو دو حصے اور آدمی ( سوار ) کو ایک حصہ دیا ۱؎۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بہترین ساتھی وہ ہیں جن کی تعداد چار ہو، اور سب سے بہتر سریہ وہ ہے جس کی تعداد چار سو ہو، اور سب سے بہتر فوج وہ ہے جس کی تعداد چار ہزار ہو اور بارہ ہزار اسلامی فوج قلت تعداد کے باعث مغلوب نہیں ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- جریر بن حازم کے سوا کسی بڑے محدث سے یہ حدیث مسنداً مروی نہیں، زہری نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو حبان بن علی عنزی بسند «عقيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، نیز اسے لیث بن سعد نے بسند «عقيل عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى الازدي البصري، وابو عمار وغير واحد قالوا حدثنا وهب بن جرير، عن ابيه، عن يونس بن يزيد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير الصحابة اربعة وخير السرايا اربعماية وخير الجيوش اربعة الاف ولا يغلب اثنا عشر الفا من قلة " . هذا حديث حسن غريب لا يسنده كبير احد غير جرير بن حازم وانما روي هذا الحديث عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وقد رواه حبان بن علي العنزي عن عقيل عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه الليث بن سعد عن عقيل عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے ابن عباس رضی الله عنہما کے پاس یہ سوال لکھ کر بھیجا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ اور کیا آپ ان کے لیے مال غنیمت سے حصہ بھی مقرر فرماتے تھے؟ ابن عباس رضی الله عنہما نے ان کو جواب میں لکھا: تم نے میرے پاس یہ سوال لکھا ہے: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو ساتھ لے کر جہاد کرتے تھے؟ ۱؎ ہاں، آپ ان کے ہمراہ جہاد کرتے تھے، وہ بیماروں کا علاج کرتی تھیں اور مال غنیمت سے ان کو ( بطور انعام ) کچھ دیا جاتا تھا، رہ گئی حصہ کی بات تو آپ نے ان کے لیے حصہ نہیں مقرر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس اور ام عطیہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، بعض لوگ کہتے ہیں: عورت اور بچہ کو بھی حصہ دیا جائے گا، اوزاعی کا یہی قول ہے، ۴- اوزاعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں بچوں کو حصہ دیا اور مسلمانوں کے امراء نے ہر اس مولود کے لیے حصہ مقرر کیا جو دشمنوں کی سر زمین میں پیدا ہوا ہو، اوزاعی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر میں عورتوں کو حصہ دیا اور آپ کے بعد مسلمانوں نے اسی پر عمل کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن يزيد بن هرمز، ان نجدة الحروري، كتب الى ابن عباس يساله هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بالنساء وهل كان يضرب لهن بسهم فكتب اليه ابن عباس كتبت الى تسالني هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغزو بالنساء وكان يغزو بهن فيداوين المرضى ويحذين من الغنيمة واما يسهم فلم يضرب لهن بسهم . وفي الباب عن انس وام عطية . وهذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم وهو قول سفيان الثوري والشافعي . وقال بعضهم يسهم للمراة والصبي . وهو قول الاوزاعي قال الاوزاعي واسهم النبي صلى الله عليه وسلم للصبيان بخيبر واسهمت ايمة المسلمين لكل مولود ولد في ارض الحرب . قال الاوزاعي واسهم النبي صلى الله عليه وسلم للنساء بخيبر واخذ بذلك المسلمون بعده . حدثنا بذلك علي بن خشرم حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي بهذا . ومعنى قوله ويحذين من الغنيمة يقول يرضخ لهن بشيء من الغنيمة يعطين شييا
عمیر مولیٰ ابی اللحم رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں اپنے مالکان کے ساتھ غزوہ خیبر میں شریک ہوا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے سلسلے میں گفتگو کی اور آپ کو بتایا کہ میں غلام ہوں، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور میرے جسم پر تلوار لٹکا دی گئی، میں ( کوتاہ قامت ہونے اور تلوار کے بڑی ہونے کے سبب ) اسے گھسیٹتا تھا، آپ نے میرے لیے مال غنیمت سے کچھ سامان دینے کا حکم دیا، میں نے آپ کے سامنے وہ دم، جھاڑ پھونک پیش کیا جس سے میں دیوانوں کو جھاڑ پھونک کرتا تھا، آپ نے مجھے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دینے اور کچھ یاد رکھنے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ غلام کو حصہ نہیں ملے گا البتہ عطیہ کے طور پر اسے کچھ دیا جائے گا، ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بشر بن المفضل، عن محمد بن زيد، عن عمير، مولى ابي اللحم قال شهدت خيبر مع سادتي فكلموا في رسول الله صلى الله عليه وسلم واعلموه اني مملوك . قال فامر بي فقلدت السيف فاذا انا اجره فامر لي بشيء من خرثي المتاع وعرضت عليه رقية كنت ارقي بها المجانين فامرني بطرح بعضها وحبس بعضها . وفي الباب عن ابن عباس . وهذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم ان لا يسهم للمملوك ولكن يرضخ له بشيء . وهو قول الثوري والشافعي واحمد واسحاق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ۱؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حدیث میں اس سے بھی زیادہ کچھ تفصیل ہے، ۲- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ ذمی کو مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہمراہ دشمن سے جنگ کریں، ۴- کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ جب ذمی مسلمانوں کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کو حصہ دیا جائے گا، ۵- زہری سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی ایک جماعت کو حصہ دیا جو آپ کے ہمراہ جنگ میں شریک تھی۔
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خیبر آیا، جن لوگوں نے خیبر فتح کیا تھا آپ نے ان کے ساتھ ہمارے لیے بھی حصہ مقرر کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی کہتے ہیں: گھوڑے کے لیے حصہ مقرر کرنے سے پہلے جو مسلمانوں کے ساتھ مل جائے، اس کو حصہ دیا جائے گا۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا حفص بن غياث، حدثنا بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم في نفر من الاشعريين خيبر فاسهم لنا مع الذين افتتحوها . هذا حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قال الاوزاعي من لحق بالمسلمين قبل ان يسهم للخيل اسهم له . وبريد يكنى ابا بريدة وهو ثقة وروى عنه سفيان الثوري وابن عيينة وغيرهما
ابوثعلبہ خشنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوس کی ہانڈیوں کے بارے میں سوال کیا گیا ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”ان کو دھو کر صاف کر لو اور ان میں پکاؤ، اور آپ نے ہر درندے اور کچلی والے جانور کو کھانے سے منع فرمایا ”۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ابوثعلبہ رضی الله عنہ سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ۲- ابوادریس خولانی نے بھی اس کو ابوثعلبہ سے روایت کیا ہے، لیکن ابوقلابہ کا سماع ابوثعلبہ سے ثابت نہیں ہے، انہوں نے ابواسماء کے واسطے سے ابوثعلبہ سے اس کی روایت کی ہے۔
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سریہ کے شروع میں جانے پر چوتھائی حصہ اور لڑائی سے لوٹتے وقت دوبارہ جانے پر تہائی حصہ زائد بطور انعام ( نفل ) دیتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- یہ حدیث ابوسلام سے مروی ہے، انہوں نے ایک صحابی سے اس کی روایت کی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، حبیب بن مسلمہ، معن بن یزید، ابن عمر اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے پاس گواہ موجود ہو تو مقتول کا سامان اسی کا ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حدیث میں ایک قصہ مذکور ہے ۱؎۔
ابوسعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن جهضم بن عبد الله، عن محمد بن ابراهيم، عن محمد بن زيد، عن شهر بن حوشب، عن ابي سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شراء المغانم حتى تقسم . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب
عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حاملہ ) قیدی عورتوں سے جماع کرنے سے منع فرمایا جب تک کہ وہ اپنے پیٹ میں موجود بچوں کو جن نہ دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عرباض رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- اس باب میں رویفع بن ثابت رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص قیدی عورتوں میں سے لونڈی خریدے اور وہ حاملہ ہو تو اس سلسلے میں عمر بن خطاب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حاملہ جب تک بچہ نہ جنے اس سے وطی نہیں کی جائے گی، ۴- اوزاعی کہتے ہیں: آزاد عورتوں کے سلسلے میں تو یہ سنت چلی آ رہی ہے کہ ان کو عدت گزارنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا ابو عاصم النبيل، عن وهب ابي خالد، قال حدثتني ام حبيبة بنت عرباض بن سارية، ان اباها، اخبرها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان توطا السبايا حتى يضعن ما في بطونهن . قال ابو عيسى وفي الباب عن رويفع بن ثابت . وحديث عرباض حديث غريب . والعمل على هذا عند اهل العلم وقال الاوزاعي اذا اشترى الرجل الجارية من السبى وهي حامل فقد روي عن عمر بن الخطاب انه قال لا توطا حامل حتى تضع . قال الاوزاعي واما الحراير فقد مضت السنة فيهن بان امرن بالعدة . قال حدثني بذلك علي بن خشرم قال حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي
ہلب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نصاریٰ کے کھانا کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”کوئی کھانا تمہارے دل میں شک نہ پیدا کرے کہ اس کے سلسلہ میں نصرانیت سے تمہاری مشابہت ہو جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے ماں اور اس کے بچہ کے درمیان جدائی پیدا کی، اللہ قیامت کے دن اسے اس کے دوستوں سے جدا کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ قیدیوں میں ماں اور بچے کے درمیان، باپ اور بچے کے درمیان اور بھائیوں کے درمیان جدائی کو ناپسند سمجھتے ہیں۔
حدثنا عمر بن حفص الشيباني، اخبرنا عبد الله بن وهب، اخبرني حيى، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن ابي ايوب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من فرق بين والدة وولدها فرق الله بينه وبين احبته يوم القيامة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي . وهذا حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا التفريق بين السبى بين الوالدة وولدها وبين الولد والوالد وبين الاخوة . قال ابو عيسى وسمعت البخاري يقول سمع ابو عبد الرحمن الحبلي من ابي ايوب