Loading...

Loading...
کتب
۷۱ احادیث
بجالہ بن عبدہ سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ مجوس سے جزیہ نہیں لیتے تھے یہاں تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ نے ان کو خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا، اس حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن بجالة، ان عمر، كان لا ياخذ الجزية من المجوس حتى اخبره عبد الرحمن بن عوف ان النبي صلى الله عليه وسلم اخذ الجزية من مجوس هجر . وفي الحديث كلام اكثر من هذا . هذا حديث حسن صحيح
سائب بن یزید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین کے مجوسیوں سے، اور عمر اور عثمان رضی الله عنہما نے فارس کے مجوسیوں سے جزیہ لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ مالک روایت کرتے ہیں زہری سے اور زہری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا الحسين بن ابي كبشة البصري، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك، عن الزهري، عن السايب بن يزيد، قال اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الجزية من مجوس البحرين واخذها عمر من فارس واخذها عثمان من الفرس . وسالت محمدا عن هذا فقال هو مالك عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرتے ہیں جو نہ ہماری مہمانی کرتے ہیں، نہ ان پر جو ہمارا حق ہے اسے ادا کرتے ہیں، اور ہم ان سے کچھ نہیں لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ نہ دیں سوائے اس کے کہ تم زبردستی ان سے لو، تو زبردستی لے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے لیث بن سعد نے بھی یزید بن ابی حبیب سے روایت کیا ہے ( جیسا کہ بخاری کی سند میں ہے ) ، ۳- اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صحابہ جہاد کے لیے نکلتے تھے تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے، جہاں کھانا نہیں پاتے تھے، کہ قیمت سے خریدیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ( کھانا ) فروخت کرنے سے انکار کریں سوائے اس کے کہ تم زبردستی لو تو زبردستی لے لو، ۴- ایک حدیث میں اسی طرح کی وضاحت آئی ہے، عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ بھی اسی طرح کا حکم دیا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، قال قلت يا رسول الله انا نمر بقوم فلا هم يضيفونا ولا هم يودون ما لنا عليهم من الحق ولا نحن ناخذ منهم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ابوا الا ان تاخذوا كرها فخذوا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد رواه الليث بن سعد عن يزيد بن ابي حبيب ايضا . وانما معنى هذا الحديث انهم كانوا يخرجون في الغزو فيمرون بقوم ولا يجدون من الطعام ما يشترون بالثمن فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان ابوا ان يبيعوا الا ان تاخذوا كرها فخذوا " . هكذا روي في بعض الحديث مفسرا وقد روي عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه انه كان يامر بنحو هذا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے لیکن جہاد اور نیت باقی ہے، اور جب تم کو جہاد کے لیے طلب کیا جائے تو نکل پڑو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی منصور بن معتمر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابوسعید، عبداللہ بن عمرو اور عبداللہ بن حبشی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا زياد بن عبد الله، حدثنا منصور بن المعتمر، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة " لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية واذا استنفرتم فانفروا " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وعبد الله بن عمرو وعبد الله بن حبشي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه سفيان الثوري عن منصور بن المعتمر نحو هذا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے آیت کریمہ: «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» ”اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کر رہے تھے“۔ ( الفتح: ۱۸ ) کے بارے میں روایت ہے، جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرار نہ ہونے کی بیعت کی تھی، ہم نے آپ سے موت کے اوپر بیعت نہیں کی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بسند «عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن جابر بن عبد الله» مروی ہے، اس میں یحییٰ بن ابی کثیر اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے درمیان ابوسلمہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن الاکوع، ابن عمر، عبادہ اور جریر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الاموي، حدثنا عيسى بن يونس، عن الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، في قوله تعالى: (لقد رضي الله عن المومنين اذ يبايعونك تحت الشجرة ) قال جابر بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على ان لا نفر ولم نبايعه على الموت . قال وفي الباب عن سلمة بن الاكوع وابن عمر وعبادة وجرير بن عبد الله . قال ابو عيسى وقد روي هذا الحديث عن عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن يحيى بن ابي كثير قال قال جابر بن عبد الله ولم يذكر فيه ابو سلمة
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ سے پوچھا: حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا: موت پر ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن يزيد بن ابي عبيد، قال قلت لسلمة بن الاكوع على اى شيء بايعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية قال على الموت . هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( یعنی آپ کے حکم سننے اور آپ کی اطاعت کرنے ) پر بیعت کرتے تھے، پھر آپ ہم سے فرماتے: ”جتنا تم سے ہو سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث جابر اور حدیث سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہما دونوں حدیثوں کا معنی صحیح ہے، ( ان میں تعارض نہیں ہے ) بعض صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت کی تھی، ان لوگوں نے کہا تھا: ہم آپ کے سامنے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ قتل کر دیئے جائیں، اور دوسرے لوگوں نے آپ سے بیعت کرتے ہوئے کہا تھا: ہم نہیں بھاگیں گے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كنا نبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة فيقول لنا " فيما استطعتم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح كلاهما
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے موت پر بیعت نہیں کی تھی، ہم نے تو آپ سے بیعت کی تھی کہ نہیں بھاگیں گے ( چاہے اس کا انجام کبھی موت ہی کیوں نہ ہو جائے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن جابر بن عبد الله، قال لم نبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الموت انما بايعناه على ان لا نفر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى كلا الحديثين صحيح قد بايعه قوم من اصحابه على الموت وانما قالوا لا نزال بين يديك حتى نقتل وبايعه اخرون فقالوا لا نفر
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس نے کسی امام سے بیعت کی پھر اگر امام نے اسے ( اس کی مرضی کے مطابق ) دیا تو اس نے بیعت پوری کی اور اگر نہیں دیا تو بیعت پوری نہیں کی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور بلا اختلاف اسی کے موافق حکم ہے۔
حدثنا ابو عمار، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم رجل بايع اماما فان اعطاه وفى له وان لم يعطه لم يف له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وعلى ذلك الامر بلا اختلاف
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جانتے تھے کہ وہ غلام ہے، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اسے بیچ دو“، پھر آپ نے اس کو دو کالے غلام دے کر خرید لیا، اس کے بعد آپ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک اس سے یہ نہ پوچھ لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ہم اس کو صرف ابوالزبیر کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث بن سعد، عن ابي الزبير، عن جابر، انه قال جاء عبد فبايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الهجرة ولا يشعر النبي صلى الله عليه وسلم انه عبد فجاء سيده فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بعنيه " . فاشتراه بعبدين اسودين ولم يبايع احدا بعد حتى يساله اعبد هو . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن غريب صحيح لا نعرفه الا من حديث ابي الزبير
امیمہ بنت رقیقہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کئی عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، آپ نے ہم سے فرمایا: ”اطاعت اس میں لازم ہے جو تم سے ہو سکے اور جس کی تمہیں طاقت ہو“، میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے بیعت لیجئے ( سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: ان کا مطلب تھا مصافحہ کیجئے ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو عورتوں کے لیے میرا قول میرے اس قول جیسا ہے جو ایک عورت کے لیے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف محمد بن منکدر ہی کی روایت سے جانتے ہیں، سفیان ثوری، مالک بن انس اور کئی لوگوں نے محمد بن منکدر سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں امیمہ بنت رقیقہ کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں جانتا ہوں، ۳- امیمہ نام کی ایک دوسری عورت بھی ہیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث آئی ہے۔ ۴- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن عمر اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن المنكدر، سمع اميمة بنت رقيقة، تقول بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم في نسوة فقال لنا " فيما استطعتن واطقتن " . قلت الله ورسوله ارحم بنا منا بانفسنا . قلت يا رسول الله بايعنا . قال سفيان تعني صافحنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما قولي لماية امراة كقولي لامراة واحدة " . قال وفي الباب عن عايشة وعبد الله بن عمر واسماء بنت يزيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث محمد بن المنكدر . وروى سفيان الثوري ومالك بن انس وغير واحد هذا الحديث عن محمد بن المنكدر نحوه . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال لا اعرف لاميمة بنت رقيقة غير هذا الحديث . واميمة امراة اخرى لها حديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ غزوہ بدر کے دن بدری لوگ تعداد میں طالوت کے ساتھیوں کے برابر تین سو تیرہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری اور دوسرے لوگوں نے بھی ابواسحاق سبیعی سے اس کی روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كنا نتحدث ان اصحاب، بدر يوم بدر كعدة اصحاب طالوت ثلاثماية وثلاثة عشر رجلا . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه الثوري وغيره عن ابي اسحاق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفد عبدالقیس سے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو حکم دیتا ہوں کہ مال غنیمت سے خمس ( یعنی پانچواں حصہ ) ادا کرو، امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث میں ایک قصہ ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جلد باز لوگ آگے بڑھے اور غنیمت سے ( کھانے پکانے کی چیزیں ) جلدی لیا اور ( تقسیم سے پہلے اسے ) پکانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پیچھے آنے والے لوگوں کے ساتھ تھے، آپ ہانڈیوں کے قریب سے گزرے تو آپ نے حکم دیا اور وہ الٹ دی گئیں، پھر آپ نے ان کے درمیان مال غنیمت تقسیم کیا، آپ نے ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سفیان ثوری نے یہ حدیث بطریق: «عن أبيه سعيد، عن عباية، عن جده رافع بن خديج» روایت کی ہے، اس سند میں عبایہ نے اپنے باپ کے واسطے کا نہیں ذکر کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم سے اس حدیث کو محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور وکیع سفیان سے روایت کرتے ہیں۔ یہ روایت زیادہ صحیح ہے، عبایہ بن رفاعہ کا سماع ان کے دادا رافع بن خدیج سے ثابت ہے، ۲- اس باب میں ثعلبہ بن حکم، انس، ابوریحانہ، ابوالدرداء، عبدالرحمٰن بن سمرہ، زید بن خالد، جابر، ابوہریرہ اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن ابيه، عن جده، رافع بن خديج قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فتقدم سرعان الناس فتعجلوا من الغنايم فاطبخوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم في اخرى الناس فمر بالقدور فامر بها فاكفيت ثم قسم بينهم فعدل بعيرا بعشر شياه . قال ابو عيسى وروى سفيان الثوري، عن ابيه، عن عباية، عن جده، رافع بن خديج ولم يذكر فيه ابيه . حدثنا بذلك، محمود بن غيلان حدثنا وكيع، عن سفيان، . وهذا اصح وعباية بن رفاعة سمع من، جده رافع بن خديج . قال وفي الباب عن ثعلبة بن الحكم، وانس، وابي، ريحانة وابي الدرداء وعبد الرحمن بن سمرة وزيد بن خالد وجابر وابي هريرة وابي ايوب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوٹ پاٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ثابت، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انتهب فليس منا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث انس
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود و نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور ان میں سے جب کسی سے تمہارا آمنا سامنا ہو جائے تو اسے تنگ راستے کی جانب جانے پر مجبور کر دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، انس رضی الله عنہم اور ابو بصرہ غفاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم خود ان سے سلام نہ کرو ( بلکہ ان کے سلام کرنے پر صرف جواب دو ) ، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: یہ اس لیے ناپسند ہے کہ پہلے سلام کرنے سے ان کی تعظیم ہو گی جب کہ مسلمانوں کو انہیں تذلیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اسی طرح راستے میں آمنا سامنا ہو جانے پر ان کے لیے راستہ نہ چھوڑے کیونکہ اس سے بھی ان کی تعظیم ہو گی ( جو صحیح نہیں ہے ) ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبدءوا اليهود والنصارى بالسلام واذا لقيتم احدهم في الطريق فاضطروهم الى اضيقه " . قال وفي الباب عن ابن عمر وانس وابي بصرة الغفاري صاحب النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى هذا الحديث " لا تبدءوا اليهود والنصارى " . قال بعض اهل العلم انما معنى الكراهية لانه يكون تعظيما له وانما امر المسلمون بتذليلهم وكذلك اذا لقي احدهم في الطريق فلا يترك الطريق عليه لان فيه تعظيما لهم
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود میں سے کوئی جب تم لوگوں کو سلام کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: «السام عليک» ( یعنی تم پر موت ہو ) ، اس لیے تم جواب میں صرف «عليک» کہو ( یعنی تم پر موت ہو ) “۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اليهود اذا سلم عليكم احدهم فانما يقول السام عليكم فقل عليك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ خثعم کی طرف ایک سریہ روانہ کیا، ( کافروں کے درمیان رہنے والے مسلمانوں میں سے ) کچھ لوگوں نے سجدہ کے ذریعہ پناہ چاہی، پھر بھی انہیں قتل کرنے میں جلدی کی گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کو آدھی دیت دینے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں ہر اس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہتا ہے“، لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! آخر کیوں؟ آپ نے فرمایا: ” ( مسلمان کو کافروں سے اتنی دوری پر سکونت پذیر ہونا چاہیئے کہ ) وہ دونوں ایک دوسرے ( کے کھانا پکانے ) کی آگ نہ دیکھ سکیں“ ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث سرية الى خثعم فاعتصم ناس بالسجود فاسرع فيهم القتل فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فامر لهم بنصف العقل وقال " انا بريء من كل مسلم يقيم بين اظهر المشركين " . قالوا يا رسول الله ولم قال " لا ترايا ناراهما
عبدہ نے یہ حدیث بطریق: «إسمعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( مرسلاً ) ابومعاویہ کے مثل حدیث روایت کی ہے، اس میں انہوں ( عبدہ ) نے جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ روایت زیادہ صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن ابی خالد کے اکثر شاگرد اسماعیل کے واسطہ سے قیس بن ابی حازم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ روانہ کیا، ان لوگوں نے اس میں جریر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا، اور حماد بن سلمہ نے بطریق: «الحجاج بن أرطاة عن إسمعيل بن أبي خالد عن قيس عن جرير» ( مرفوعاً ) ابومعاویہ کے مثل اس کی روایت کی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: صحیح یہ ہے کہ قیس کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل ہے، نیز سمرہ بن جندب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”مشرکوں کے ساتھ نہ رہو اور نہ ان کی ہم نشینی اختیار کرو، جو ان کے ساتھ رہے گا یا ان کی ہم نشینی اختیار کرے گا وہ بھی انہیں میں سے مانا جائے گا، ۳- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، مثل حديث ابي معاوية ولم يذكر فيه عن جرير، . وهذا اصح . وفي الباب عن سمرة، . قال ابو عيسى واكثر اصحاب اسماعيل قالوا عن قيس بن ابي حازم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث سرية ولم يذكروا فيه عن جرير. ورواه حماد بن سلمة عن الحجاج بن ارطاة عن اسمعيل بن ابي خالد عن قيس عن جرير مثل حديث ابي معاوية قال وسمعت محمدا يقول الصحيح حديث قيس عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل وروى سمرة بن جندب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تساكنوا المشركين ولا تجامعوهم فمن ساكنهم او جامعهم فهو مثلهم
عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاللہ جزیرہ عرب سے یہود و نصاریٰ کو نکال باہر کر دوں گا“ ۱؎۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي، حدثنا زيد بن الحباب، اخبرنا سفيان الثوري، عن ابي الزبير، عن جابر، عن عمر بن الخطاب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لين عشت ان شاء الله لاخرجن اليهود والنصارى من جزيرة العرب