احادیث
#1582
سنن ترمذی - Military Expeditions
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کو تیر لگا، کفار نے ان کی رگ اکحل یا رگ ابجل ( بازو کی ایک رگ ) کاٹ دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آگ سے داغا تو ان کا ہاتھ سوج گیا، لہٰذا آپ نے اسے چھوڑ دیا، پھر خون بہنے لگا، چنانچہ آپ نے دوبارہ داغا پھر ان کا ہاتھ سوج گیا، جب سعد بن معاذ رضی الله عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے دعا کی: اے اللہ! میری جان اس وقت تک نہ نکالنا جب تک بنو قریظہ ( کی ہلاکت اور ذلت سے ) میری آنکھ ٹھنڈی نہ ہو جائے، پس ان کی رگ رک گئی اور خون کا ایک قطرہ بھی اس سے نہ ٹپکا، یہاں تک کہ بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے حکم پر ( قلعہ سے ) نیچے اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد کو بلایا انہوں نے آ کر فیصلہ کیا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیا جائے اور عورتوں کو زندہ رکھا جائے جن سے مسلمان خدمت لیں ۱؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ان کے بارے میں اللہ کے فیصلہ کے موافق فیصلہ کیا ہے، ان کی تعداد چار سو تھی، جب آپ ان کے قتل سے فارغ ہوئے تو سعد کی رگ کھل گئی اور وہ انتقال کر گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور عطیہ قرظی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، انه قال رمي يوم الاحزاب سعد بن معاذ فقطعوا اكحله او ابجله فحسمه رسول الله صلى الله عليه وسلم بالنار فانتفخت يده فتركه فنزفه الدم فحسمه اخرى فانتفخت يده فلما راى ذلك قال اللهم لا تخرج نفسي حتى تقر عيني من بني قريظة . فاستمسك عرقه فما قطر قطرة حتى نزلوا على حكم سعد بن معاذ فارسل اليه فحكم ان يقتل رجالهم ويستحيى نساوهم يستعين بهن المسلمون . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اصبت حكم الله فيهم " . وكانوا اربعماية فلما فرغ من قتلهم انفتق عرقه فمات . قال وفي الباب عن ابي سعيد وعطية القرظي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Military Expeditions
- Hadith Index
- #1582
- Book Index
- 44
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Sahih
