Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین صدقہ وہ ہے جو آدمی کو مالدار باقی رکھے یا ( یوں فرمایا ) وہ صدقہ ہے جسے دینے کے بعد مالک مالدار رہے اور صدقہ پہلے اسے دو جس کی تم کفالت کرتے ہو ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان خير الصدقة ما ترك غنى او تصدق به عن ظهر غنى وابدا بمن تعول
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب الرملي، قالا حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن يحيى بن جعدة، عن ابي هريرة، انه قال يا رسول الله اى الصدقة افضل قال " جهد المقل وابدا بمن تعول
اسلم کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی، میں نے کہا: اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، میں نے کہا: اسی قدر یعنی آدھا مال، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے؟ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں۱؎، تب میں نے ( دل میں ) کہا: میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا۔
حدثنا احمد بن صالح، وعثمان بن ابي شيبة، - وهذا حديثه - قالا حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال سمعت عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - يقول امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما ان نتصدق فوافق ذلك مالا عندي فقلت اليوم اسبق ابا بكر ان سبقته يوما فجيت بنصف مالي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ابقيت لاهلك " . قلت مثله . قال واتى ابو بكر - رضى الله عنه - بكل ما عنده فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ابقيت لاهلك " . قال ابقيت لهم الله ورسوله . قلت لا اسابقك الى شىء ابدا
سعد بن عبادہ انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: کون سا صدقہ آپ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ( کا صدقہ ) ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن سعيد، ان سعدا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اى الصدقة اعجب اليك قال " الماء
اس سند سے بھی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا محمد بن عرعرة، عن شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، والحسن، عن سعد بن عبادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ام سعد ( میری ماں ) انتقال کر گئیں ہیں تو کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ سعد نے ایک کنواں کھدوایا اور کہا: یہ ام سعد ۱؎ کا ہے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن رجل، عن سعد بن عبادة، انه قال يا رسول الله ان ام سعد ماتت فاى الصدقة افضل قال " الماء " . قال فحفر بيرا وقال هذه لام سعد
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کپڑا پہنایا جب کہ وہ ننگا تھا تو اللہ اسے جنت کے سبز کپڑے پہنائے گا، اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو کھلایا جب کہ وہ بھوکا تھا تو اللہ اسے جنت کے پھل کھلائے گا اور جس مسلمان نے کسی مسلمان کو پانی پلایا جب کہ وہ پیاسا تھا تو اللہ اسے ( جنت کی ) مہربند شراب پلائے گا ۔
حدثنا علي بن الحسين بن ابراهيم بن اشكاب، حدثنا ابو بدر، حدثنا ابو خالد، - الذي كان ينزل في بني دالان - عن نبيح، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما مسلم كسا مسلما ثوبا على عرى كساه الله من خضر الجنة وايما مسلم اطعم مسلما على جوع اطعمه الله من ثمار الجنة وايما مسلم سقى مسلما على ظما سقاه الله من الرحيق المختوم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس خصلتیں ہیں ان میں سب سے بہتر خصلت بکری کا عطیہ دینا ہے، جو کوئی بھی ان میں سے کسی ( خصلت نیک کام ) کو ثواب کی امید سے اور ( اللہ کی طرف سے ) اپنے سے کئے ہوئے وعدے کو سچ سمجھ کر کرے گا اللہ اسے اس کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حسان کہتے ہیں: ہم نے بکری عطیہ دینے کے علاوہ بقیہ خصلتوں اعمال صالحہ کو گنا جیسے سلام کا جواب دینا، چھینک کا جواب دینا اور راستے سے کوئی بھی تکلیف دہ چیز ہٹا دینا وغیرہ تو ہم پندرہ خصلتوں تک بھی نہیں پہنچ سکے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا اسراييل، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عيسى، - وهذا حديث مسدد وهو اتم - عن الاوزاعي، عن حسان بن عطية، عن ابي كبشة السلولي، قال سمعت عبد الله بن عمرو، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اربعون خصلة اعلاهن منيحة العنز ما يعمل رجل بخصلة منها رجاء ثوابها وتصديق موعودها الا ادخله الله بها الجنة " . قال ابو داود في حديث مسدد قال حسان فعددنا ما دون منيحة العنز من رد السلام وتشميت العاطس واماطة الاذى عن الطريق ونحوه فما استطعنا ان نبلغ خمس عشرة خصلة
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امانت دار خازن جو حکم کے مطابق پورا پورا خوشی خوشی اس شخص کو دیتا ہے جس کے لیے حکم دیا گیا ہے تو وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، - المعنى - قالا حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الخازن الامين - الذي يعطي ما امر به كاملا موفرا طيبة به نفسه حتى يدفعه الى الذي امر له به - احد المتصدقين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی فساد کی نیت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس کا ثواب ملے گا اور مال کمانے کا ثواب اس کے شوہر کو اور خازن کو بھی اسی کے مثل ثواب ملے گا اور ان میں سے کوئی کسی کے ثواب کو کم نہیں کرے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن شقيق، عن مسروق، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " اذا انفقت المراة من بيت زوجها غير مفسدة كان لها اجر ما انفقت ولزوجها اجر ما اكتسب ولخازنه مثل ذلك لا ينقص بعضهم اجر بعض
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت کی تو ایک موٹی عورت جو قبیلہ مضر کی لگتی تھی کھڑی ہوئی اور بولی: اللہ کے نبی! ہم ( عورتیں ) تو اپنے باپ اور بیٹوں پر بوجھ ہوتی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرے خیال میں «أزواجنا» کا لفظ کہا ( یعنی اپنے شوہروں پر بوجھ ہوتی ہیں ) ، ہمارے لیے ان کے مالوں میں سے کیا کچھ حلال ہے ( کہ ہم خرچ کریں ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «رطب» ہے تم اسے کھاؤ اور ہدیہ بھی کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «رطب» روٹی، ترکاری اور تر کھجوریں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ثوری نے بھی یونس سے اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن سوار المصري، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن يونس بن عبيد، عن زياد بن جبير، عن سعد، قال لما بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم النساء قامت امراة جليلة كانها من نساء مضر فقالت يا نبي الله انا كل على اباينا وابناينا - قال ابو داود وارى فيه وازواجنا - فما يحل لنا من اموالهم فقال " الرطب تاكلنه وتهدينه " . قال ابو داود الرطب الخبز والبقل والرطب . قال ابو داود وكذا رواه الثوري عن يونس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے شوہر کی کمائی میں سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے تو اسے اس ( شوہر ) کا آدھا ثواب ملے گا ۱؎ ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انفقت المراة من كسب زوجها من غير امره فلها نصف اجره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے کسی نے پوچھا، عورت بھی اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، البتہ اپنے خرچ میں سے دے سکتی ہے اور ثواب دونوں ( میاں بیوی ) کو ملے گا اور اس کے لیے یہ درست نہیں کہ شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمام کی ( پچھلی ) حدیث کی تضعیف کرتی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن سوار المصري، حدثنا عبدة، عن عبد الملك، عن عطاء، عن ابي هريرة، في المراة تصدق من بيت زوجها قال لا الا من قوتها والاجر بينهما ولا يحل لها ان تصدق من مال زوجها الا باذنه . قال ابو داود هذا يضعف حديث همام
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» کی آیت نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے کہ ہمارا رب ہم سے ہمارے مال مانگ رہا ہے، میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اریحاء نامی اپنی زمین اسے دے دی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے اپنے قرابت داروں میں تقسیم کر دو ، تو انہوں نے اسے حسان بن ثابت اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کے درمیان تقسیم کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے محمد بن عبداللہ انصاری سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوطلحہ کا نام: زید بن سہل بن اسود بن حرام بن عمرو ابن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن النجار ہے، اور حسان: ثابت بن منذر بن حرام کے بیٹے ہیں، اس طرح ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اور حسان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب حرام پر مل جاتا ہے وہی دونوں کے تیسرے باپ ( پردادا ) ہیں، اور ابی رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عتیک بن زید بن معاویہ بن عمرو بن مالک بن نجار، اس طرح عمرو: حسان، ابوطلحہ اور ابی تینوں کو سمیٹ لیتے ہیں یعنی تینوں کے جد اعلیٰ ہیں، انصاری ( محمد بن عبداللہ ) کہتے ہیں: ابی رضی اللہ عنہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے نسب میں چھ آباء کا فاصلہ ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، قال لما نزلت { لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون } قال ابو طلحة يا رسول الله ارى ربنا يسالنا من اموالنا فاني اشهدك اني قد جعلت ارضي باريحاء له فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلها في قرابتك " . فقسمها بين حسان بن ثابت وابى بن كعب . قال ابو داود بلغني عن الانصاري محمد بن عبد الله قال ابو طلحة زيد بن سهل بن الاسود بن حرام بن عمرو بن زيد مناة بن عدي بن عمرو بن مالك بن النجار وحسان بن ثابت بن المنذر بن حرام يجتمعان الى حرام وهو الاب الثالث وابى بن كعب بن قيس بن عتيك بن زيد بن معاوية بن عمرو بن مالك بن النجار فعمرو يجمع حسان وابا طلحة وابيا . قال الانصاري بين ابى وابي طلحة ستة اباء
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی تھی، میں نے اسے آزاد کر دیا، میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس کی خبر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اجر عطا کرے، لیکن اگر تو اس لونڈی کو اپنے ننھیال کے لوگوں کو دے دیتی تو یہ تیرے لیے بڑے اجر کی چیز ہوتی ۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن سليمان بن يسار، عن ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كانت لي جارية فاعتقتها فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " اجرك الله اما انك لو كنت اعطيتها اخوالك كان اعظم لاجرك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے کام میں لے آؤ ، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بیٹے کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنی بیوی کو دے دو ، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے خادم کو دے دو ، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو ( کہ کسے دیا جائے ) ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن محمد بن عجلان، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال امر النبي صلى الله عليه وسلم بالصدقة فقال رجل يا رسول الله عندي دينار . فقال " تصدق به على نفسك " . قال عندي اخر . قال " تصدق به على ولدك " . قال عندي اخر . قال " تصدق به على زوجتك " . او قال " زوجك " . قال عندي اخر . قال " تصدق به على خادمك " . قال عندي اخر . قال " انت ابصر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ان لوگوں کو جن کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے اوپر ہے ضائع کر دے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا ابو اسحاق، عن وهب بن جابر الخيواني، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كفى بالمرء اثما ان يضيع من يقوت
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے لیے یہ بات باعث مسرت ہو کہ اس کے رزق میں اور عمر میں درازی ہو جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ صلہ رحمی کرے ( یعنی قرابت داروں کا خیال رکھے ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، ويعقوب بن كعب، - وهذا حديثه - قالا حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن الزهري، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سره ان يبسط له في رزقه وينسا له في اثره فليصل رحمه
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میں رحمن ہوں اور «رَحِم» ( ناتا ) ہی ہے جس کا نام میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے، لہٰذا جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے کاٹے گا، میں اسے کاٹ دوں گا ۔
حدثنا مسدد، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن عبد الرحمن بن عوف، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله انا الرحمن وهي الرحم شققت لها اسما من اسمي من وصلها وصلته ومن قطعها بتته
اس سند سے بھی عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث سنی ہے۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، حدثني ابو سلمة، ان الرداد الليثي، اخبره عن عبد الرحمن بن عوف، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه