Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے جن کو کافر ۱؎ ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ«لا إله إلا الله» کہیں، لہٰذا جس نے «لا إله إلا الله» کہا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی سوائے حق اسلام کے ۲؎ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے؟ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ کے درمیان تفریق ۳؎ کرے گا، اس لیے کہ زکاۃ مال کا حق ہے، قسم اللہ کی، یہ لوگ جس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے اگر اس میں سے اونٹ کے پاؤں باندھنے کی ایک رسی بھی نہیں دی تو میں ان سے جنگ کروں گا، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ جنگ کے لیے کھول دیا ہے اور اس وقت میں نے جانا کہ یہی حق ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث رباح بن زید نے روایت کی ہے اور عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے زہری سے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے، اس میں بعض نے «عناقا» کی جگہ «عقالا» کہا ہے اور ابن وہب نے اسے یونس سے روایت کیا ہے اس میں «عناقا» کا لفظ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ، معمر اور زبیدی نے اس حدیث میں زہری سے «لو منعوني عناقا» نقل کیا ہے اور عنبسہ نے یونس سے انہوں نے زہری سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ اس میں بھی «عناقا» کا لفظ ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي هريرة، قال لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف ابو بكر بعده وكفر من كفر من العرب قال عمر بن الخطاب لابي بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله فمن قال لا اله الا الله عصم مني ماله ونفسه الا بحقه وحسابه على الله عز وجل " . فقال ابو بكر والله لاقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة فان الزكاة حق المال والله لو منعوني عقالا كانوا يودونه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم لقاتلتهم على منعه . فقال عمر بن الخطاب فوالله ما هو الا ان رايت الله عز وجل قد شرح صدر ابي بكر للقتال - قال - فعرفت انه الحق . قال ابو داود قال ابو عبيدة معمر بن المثنى العقال صدقة سنة والعقالان صدقة سنتين . قال ابو داود ورواه رباح بن زيد وعبد الرزاق عن معمر عن الزهري باسناده وقال بعضهم عقالا . ورواه ابن وهب عن يونس قال عناقا . قال ابو داود وقال شعيب بن ابي حمزة ومعمر والزبيدي عن الزهري في هذا الحديث لو منعوني عناقا . وروى عنبسة عن يونس عن الزهري في هذا الحديث قال عناقا
اس سند سے بھی زہری سے یہی روایت مروی ہے اس میں ہے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ( اسلام ) کا حق یہ ہے کہ زکاۃ ادا کریں اور اس میں «عقالا» کا لفظ آیا ہے۔
حدثنا ابن السرح، وسليمان بن داود، قالا اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن الزهري، قال قال ابو بكر ان حقه اداء الزكاة وقال عقالا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۱؎، پانچ اوقیہ ۲؎سے کم ( چاندی ) میں زکاۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق ۳؎ سے کم ( غلے اور پھلوں ) میں زکاۃ ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال قرات على مالك بن انس عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس فيما دون خمس ذود صدقة وليس فيما دون خمس اواق صدقة وليس فيما دون خمسة اوسق صدقة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم میں زکاۃ نہیں ہے ۔ ایک وسق ساٹھ مہر بند صاع کا ہوتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالبختری کا سماع ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے۔
حدثنا ايوب بن محمد الرقي، حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ادريس بن يزيد الاودي، عن عمرو بن مرة الجملي، عن ابي البختري الطايي، عن ابي سعيد الخدري، يرفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس فيما دون خمسة اوسق زكاة " . والوسق ستون مختوما . قال ابو داود ابو البختري لم يسمع من ابي سعيد
ابراہیم کہتے ہیں ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، جس پر حجاجی مہر لگی ہوتی ہے۔
حدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا جرير، عن المغيرة، عن ابراهيم، قال الوسق ستون صاعا مختوما بالحجاجي
حبیب مالکی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے کہا: ابونجید! آپ ہم لوگوں سے بعض ایسی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی کوئی اصل ہمیں قرآن میں نہیں ملتی، عمران رضی اللہ عنہ غضب ناک ہو گئے، اور اس شخص سے یوں گویا ہوئے: کیا قرآن میں تمہیں یہ ملتا ہے کہ ہر چالیس درہم میں ایک درہم ( زکاۃ ) ہے یا اتنی اتنی بکریوں میں ایک بکری زکاۃ ہے یا اتنے اونٹوں میں ایک اونٹ زکاۃ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: پھر تم نے یہ کہاں سے لیا؟ تم نے ہم سے لیا اور ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس کے بعد ایسی ہی چند اور باتیں ذکر کیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثني محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا صرد بن ابي المنازل، قال سمعت حبيبا المالكي، قال قال رجل لعمران بن حصين يا ابا نجيد انكم لتحدثوننا باحاديث ما نجد لها اصلا في القران . فغضب عمران وقال للرجل اوجدتم في كل اربعين درهما درهم ومن كل كذا وكذا شاة شاة ومن كل كذا وكذا بعيرا كذا وكذا اوجدتم هذا في القران قال لا . قال فعن من اخذتم هذا اخذتموه عنا واخذناه عن نبي الله صلى الله عليه وسلم وذكر اشياء نحو هذا
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے امابعد کہا پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا سليمان بن موسى ابو داود، حدثنا جعفر بن سعد بن سمرة بن جندب، حدثني خبيب بن سليمان، عن ابيه، سليمان عن سمرة بن جندب، قال اما بعد فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يامرنا ان نخرج الصدقة من الذي نعد للبيع
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے ۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دئیے اور بولی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔
حدثنا ابو كامل، وحميد بن مسعدة، - المعنى - ان خالد بن الحارث، حدثهم حدثنا حسين، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان امراة، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان غليظتان من ذهب فقال لها " اتعطين زكاة هذا " . قالت لا . قال " ايسرك ان يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار " . قال فخلعتهما فالقتهما الى النبي صلى الله عليه وسلم وقالت هما لله عز وجل ولرسوله
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں سونے کے اوضاح ۱؎ پہنا کرتی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ کنز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال اتنا ہو جائے کہ اس کی زکاۃ دی جائے پھر اس کی زکاۃ ادا کر دی جائے وہ کنز نہیں ہے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا عتاب، - يعني ابن بشير - عن ثابت بن عجلان، عن عطاء، عن ام سلمة، قالت كنت البس اوضاحا من ذهب فقلت يا رسول الله اكنز هو فقال " ما بلغ ان تودى زكاته فزكي فليس بكنز
عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، وہ کہنے لگیں: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، آپ نے میرے ہاتھ میں چاندی کی کچھ انگوٹھیاں دیکھیں اور فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے انہیں اس لیے بنوایا ہے کہ میں آپ کے لیے بناؤ سنگار کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ان کی زکاۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، یا جو کچھ اللہ کو منظور تھا کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہیں جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہیں ۔
حدثنا محمد بن ادريس الرازي، حدثنا عمرو بن الربيع بن طارق، حدثنا يحيى بن ايوب، عن عبيد الله بن ابي جعفر، ان محمد بن عمرو بن عطاء، اخبره عن عبد الله بن شداد بن الهاد، انه قال دخلنا على عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فراى في يدي فتخات من ورق فقال " ما هذا يا عايشة " . فقلت صنعتهن اتزين لك يا رسول الله . قال " اتودين زكاتهن " . قلت لا او ما شاء الله . قال " هو حسبك من النار
اس سند سے عمر بن یعلیٰ (عمر بن عبداللہ بن یعلیٰ بن مرہ) سے اسی انگوٹھی والی حدیث جیسی حدیث مروی ہے سفیان سے پوچھا گیا: آپ اس کی زکاۃ کیسے دیں گے؟ انہوں نے کہا: تم اسے دوسرے میں ملا لو۔
حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سفيان، عن عمر بن يعلى، فذكر الحديث نحو حديث الخاتم . قيل لسفيان كيف تزكيه قال تضمه الى غيره
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس ( ۲۵ ) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیدے، اور جب چھتیس ( ۳۶ ) اونٹ ہو جائیں تو پینتالیس ( ۴۵ ) تک میں ایک بنت لبون ہے، جب چھیالیس ( ۴۶ ) اونٹ پورے ہو جائیں تو ساٹھ ( ۶۰ ) تک میں ایک حقہ واجب ہے، اور جب اکسٹھ ( ۶۱ ) اونٹ ہو جائیں تو پچہتر ( ۷۵ ) تک میں ایک جذعہ واجب ہو گی، جب چھہتر ( ۷۶ ) اونٹ ہو جائیں تو نو ے ( ۹۰ ) تک میں دو بنت لبون دینا ہوں گی، جب اکیانوے ( ۹۱ ) ہو جائیں تو ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک دو حقہ اور جب ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) سے زائد ہوں تو ہر چالیس ( ۴۰ ) میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس ( ۵۰ ) میں ایک حقہ دینا ہو گا۔ اگر وہ اونٹ جو زکاۃ میں ادا کرنے کے لیے مطلوب ہے، نہ ہو، مثلاً کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اسے جذعہ دینا ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو حقہ ہی لے لی جائے گی، اور ساتھ ساتھ دو بکریاں، یا بیس درہم بھی دیدے۔ یا اسی طرح کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ ہی قبول کر لی جائے گی، البتہ اب اسے عامل ( زکاۃ وصول کرنے والا ) بیس درہم یا دو بکریاں لوٹائے گا، اسی طرح سے کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ کے بجائے بنت لبون ہوں تو بنت لبون ہی اس سے قبول کر لی جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں موسیٰ سے حسب منشاء اس عبارت سے «ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له، أو عشرين درهمًا» سے لے کر «ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليس عنده إلا حقة فإنها تقبل منه» تک اچھی ضبط نہ کر سکا، پھر آگے مجھے اچھی طرح یاد ہے: یعنی اگر اسے میسر ہو تو اس سے دو بکریاں یا بیس درہم واپس لے لیں گے، اگر کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں، جن میں بنت لبون واجب ہوتا ہو اور بنت لبون کے بجائے اس کے پاس حقہ ہو تو حقہ ہی اس سے قبول کر لیا جائے گا اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں جن میں بنت لبون واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس بنت مخاض کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس سے بنت مخاض لے لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم اور لیے جائیں گے، جس کے اوپر بنت مخاض واجب ہوتا ہو اور بنت مخاض کے بجائے اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو تو وہی اس سے قبول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز واپس نہیں کرنی پڑے گی، اگر کسی کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دیدے۔ اگر چالیس ( ۴۰ ) بکریاں چرنے والی ہوں تو ان میں ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک ایک بکری دینی ہو گی، جب ایک سو اکیس ( ۱۲۱ ) ہو جائیں تو دو سو تک دو بکریاں دینی ہوں گی، جب دو سو سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو ( ۳۰۰ ) تک تین بکریاں دینی ہوں گی، جب تین سو سے زیادہ ہوں تو پھر ہر سینکڑے پر ایک بکری دینی ہو گی، زکاۃ میں بوڑھی عیب دار بکری اور نر بکرا نہیں لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مصلحتاً زکاۃ وصول کرنے والے کو نر بکرا لینا منظور ہو۔ اسی طرح زکاۃ کے خوف سے متفرق مال جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ جمع مال متفرق کیا جائے گا اور جو نصاب دو آدمیوں میں مشترک ہو تو وہ ایک دوسرے پر برابر کا حصہ لگا کر لیں گے ۲؎۔ اگر چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ مالک چا ہے تو اپنی مرضی سے کچھ دیدے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ دیا جائے گا البتہ اگر وہ صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کچھ بھی واجب نہیں سوائے اس کے کہ مالک کچھ دینا چاہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی کتاب لکھی، لیکن اسے اپنے عمال کے پاس بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تلوار سے لگائے رکھا پھر اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا، اس کتاب میں یہ تھا: پا نچ ( ۵ ) اونٹ میں ایک ( ۱ ) بکری ہے، دس ( ۱۰ ) اونٹ میں دو ( ۲ ) بکریاں، پندرہ ( ۱۵ ) اونٹ میں تین ( ۳ ) بکریاں، اور بیس ( ۲۰ ) میں چار ( ۴ ) بکریاں ہیں، پھر پچیس ( ۲۵ ) سے پینتیس ( ۳۵ ) تک میں ایک بنت مخاض ہے، پینتیس ( ۳۵ ) سے زیادہ ہو جائے تو پینتالیس ( ۴۵ ) تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس ( ۴۵ ) سے زیادہ ہو جائے تو ساٹھ ( ۶۰ ) تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ ( ۶۰ ) سے زیادہ ہو جائے تو پچہتر ( ۷۵ ) تک ایک جذعہ ہے، جب پچہتر ( ۷۵ ) سے زیادہ ہو جائے تو نوے ( ۹۰ ) تک دو بنت لبون ہیں، جب نوے ( ۹۰ ) سے زیادہ ہو جائیں تو ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک دو حقے ہیں، اور جب اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس ( ۵۰ ) پر ایک حقہ اور ہر چالیس ( ۴۰ ) پر ایک بنت لبون واجب ہے۔ بکریوں میں چالیس ( ۴۰ ) سے لے کر ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) بکریوں تک ایک ( ۱ ) بکری واجب ہو گی، اگر اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو ( ۲۰۰ ) تک دو ( ۲ ) بکریاں ہیں، اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو ( ۳۰۰ ) تک تین ( ۳ ) بکریاں ہیں، اگر اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر سو ( ۱۰۰ ) بکری پر ایک ( ۱ ) بکری ہو گی، اور جو سو ( ۱۰۰ ) سے کم ہو اس میں کچھ بھی نہیں، زکاۃ کے ڈر سے نہ جدا مال کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال کو جدا کیا جائے اور جو مال دو آدمیوں کی شرکت میں ہو وہ ایک دوسرے سے لے کر اپنا اپنا حصہ برابر کر لیں، زکاۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے گا ۔ زہری کہتے ہیں: جب مصدق ( زکاۃ وصول کرنے والا ) آئے تو بکریوں کے تین غول کریں گے، ایک غول میں گھٹیا درجہ کی بکریاں ہوں گی دوسرے میں عمدہ اور تیسرے میں درمیانی درجہ کی تو مصدق درمیانی درجہ کی بکریاں زکاۃ میں لے گا، زہری نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا عباد بن العوام، عن سفيان بن حسين، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، قال كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم كتاب الصدقة فلم يخرجه الى عماله حتى قبض فقرنه بسيفه فعمل به ابو بكر حتى قبض ثم عمل به عمر حتى قبض فكان فيه " في خمس من الابل شاة وفي عشر شاتان وفي خمس عشرة ثلاث شياه وفي عشرين اربع شياه وفي خمس وعشرين ابنة مخاض الى خمس وثلاثين فان زادت واحدة ففيها ابنة لبون الى خمس واربعين فاذا زادت واحدة ففيها حقة الى ستين فاذا زادت واحدة ففيها جذعة الى خمس وسبعين فاذا زادت واحدة ففيها ابنتا لبون الى تسعين فاذا زادت واحدة ففيها حقتان الى عشرين وماية فان كانت الابل اكثر من ذلك ففي كل خمسين حقة وفي كل اربعين ابنة لبون وفي الغنم في كل اربعين شاة شاة الى عشرين وماية فان زادت واحدة فشاتان الى مايتين فان زادت واحدة على المايتين ففيها ثلاث شياه الى ثلاثماية فان كانت الغنم اكثر من ذلك ففي كل ماية شاة شاة وليس فيها شىء حتى تبلغ الماية ولا يفرق بين مجتمع ولا يجمع بين متفرق مخافة الصدقة وما كان من خليطين فانهما يتراجعان بينهما بالسوية ولا يوخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عيب " . قال وقال الزهري اذا جاء المصدق قسمت الشاء اثلاثا ثلثا شرارا وثلثا خيارا وثلثا وسطا فاخذ المصدق من الوسط ولم يذكر الزهري البقر
محمد بن یزید واسطی کہتے ہیں ہمیں سفیان بن حسین نے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے اس میں ہے: اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون واجب ہو گا ، اور انہوں نے زہری کے کلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن يزيد الواسطي، اخبرنا سفيان بن حسين، باسناده ومعناه قال " فان لم تكن ابنة مخاض فابن لبون " . ولم يذكر كلام الزهري
ابن شہاب زہری کہتے ہیں یہ نقل ہے اس کتاب کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے تعلق سے لکھی تھی اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: اسے مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے پڑھایا تو میں نے اسے اسی طرح یاد کر لیا جیسے وہ تھی، اور یہی وہ نسخہ ہے جسے عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ بن عمر سے نقل کروایا تھا، پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا: جب ایک سو اکیس ( ۱۲۱ ) اونٹ ہو جائیں تو ان میں ایک سو انتیس ( ۱۲۹ ) تک تین ( ۳ ) بنت لبون واجب ہیں، جب ایک سو تیس ( ۱۳۰ ) ہو جائیں تو ایک سو انتالیس ( ۱۳۹ ) تک میں دو ( ۲ ) بنت لبون اور ایک ( ۱ ) حقہ ہیں، جب ایک سو چالیس ( ۱۴۰ ) ہو جائیں تو ایک سو انچاس ( ۱۴۹ ) تک دو ( ۲ ) حقہ اور ایک ( ۱ ) بنت لبون ہیں، جب ایک سو پچاس ( ۱۵۰ ) ہو جائیں تو ایک سو انسٹھ ( ۱۵۹ ) تک تین ( ۳ ) حقہ ہیں، جب ایک سو ساٹھ ( ۱۶۰ ) ہو جائیں تو ایک سو انہتر ( ۱۶۹ ) تک چار ( ۴ ) بنت لبون ہیں، جب ایک سو ستر ( ۱۷۰ ) ہو جائیں تو ایک سو اناسی ( ۱۷۹ ) تک تین ( ۳ ) بنت لبون اور ایک ( ۱ ) حقہ ہیں، جب ایک سو اسی ( ۱۸۰ ) ہو جائیں تو ایک سو نو اسی ( ۱۸۹ ) تک دو ( ۲ ) حقہ اور دو ( ۲ ) بنت لبون ہیں، جب ایک سو نوے ( ۱۹۰ ) ہو جائیں تو ایک سو ننانوے ( ۱۹۹ ) تک تین ( ۳ ) حقہ اور ایک ( ۱ ) بنت لبون ہیں، جب دو سو ( ۲۰۰ ) ہو جائیں تو چار ( ۴ ) حقے یا پانچ ( ۵ ) بنت لبون، ان میں سے جو بھی پائے جائیں، لے لیے جائیں گے ۔ اور ان بکریوں کے بارے میں جو چرائی جاتی ہوں، اسی طرح بیان کیا جیسے سفیان بن حصین کی روایت میں گزرا ہے، مگر اس میں یہ بھی ہے کہ زکاۃ میں بوڑھی یا عیب دار بکری نہیں لی جائے گی، اور نہ ہی غیر خصی ( نر ) لیا جائے گا سوائے اس کے کہ زکاۃ وصول کرنے والا خود چاہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابن المبارك، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، قال هذه نسخة كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي كتبه في الصدقة وهي عند ال عمر بن الخطاب قال ابن شهاب اقرانيها سالم بن عبد الله بن عمر فوعيتها على وجهها وهي التي انتسخ عمر بن عبد العزيز من عبد الله بن عبد الله بن عمر وسالم بن عبد الله بن عمر فذكر الحديث قال " فاذا كانت احدى وعشرين وماية ففيها ثلاث بنات لبون حتى تبلغ تسعا وعشرين وماية فاذا كانت ثلاثين وماية ففيها بنتا لبون وحقة حتى تبلغ تسعا وثلاثين وماية فاذا كانت اربعين وماية ففيها حقتان وبنت لبون حتى تبلغ تسعا واربعين وماية فاذا كانت خمسين وماية ففيها ثلاث حقاق حتى تبلغ تسعا وخمسين وماية فاذا كانت ستين وماية ففيها اربع بنات لبون حتى تبلغ تسعا وستين وماية فاذا كانت سبعين وماية ففيها ثلاث بنات لبون وحقة حتى تبلغ تسعا وسبعين وماية فاذا كانت ثمانين وماية ففيها حقتان وابنتا لبون حتى تبلغ تسعا وثمانين وماية فاذا كانت تسعين وماية ففيها ثلاث حقاق وبنت لبون حتى تبلغ تسعا وتسعين وماية فاذا كانت مايتين ففيها اربع حقاق او خمس بنات لبون اى السنين وجدت اخذت وفي سايمة الغنم " . فذكر نحو حديث سفيان بن حسين وفيه " ولا يوخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار من الغنم ولا تيس الغنم الا ان يشاء المصدق
عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ مالک نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول جدا جدا مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ اکٹھے مال کو جدا کیا جائے گا کا مطلب یہ ہے: مثلاً ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، جب مصدق ان کے پاس زکاۃ وصول کرنے آئے تو وہ سب اپنی بکریوں کو ایک جگہ کر دیں تاکہ ایک ہی شخص کی تمام بکریاں سمجھ کر ایک بکری زکاۃ میں لے، اکٹھا مال جدا نہ کئے جانے کا مطلب یہ ہے: دو ساجھے دار ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہوں ( دونوں کی ملا کر دو سو دو ) تو دونوں کو ملا کر تین بکریاں زکاۃ کی ہوتی ہیں، لیکن جب زکاۃ وصول کرنے والا آتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کر لیتے ہیں، اس طرح ہر ایک پر ایک ہی بکری لازم ہوتی ہے، یہ ہے وہ چیز جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال قال مالك وقول عمر بن الخطاب - رضى الله عنه لا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع . هو ان يكون لكل رجل اربعون شاة فاذا اظلهم المصدق جمعوها ليلا يكون فيها الا شاة ولا يفرق بين مجتمع . ان الخليطين اذا كان لكل واحد منهما ماية شاة وشاة فيكون عليهما فيها ثلاث شياه فاذا اظلهما المصدق فرقا غنمهما فلم يكن على كل واحد منهما الا شاة فهذا الذي سمعت في ذلك
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ( زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چالیسواں حصہ نکالو، ہر چالیس ( ۴۰ ) درہم میں ایک ( ۱ ) درہم، اور جب تک دو سو ( ۲۰۰ ) درہم پورے نہ ہوں تم پر کچھ لازم نہیں آتا، جب دو سو ( ۲۰۰ ) درہم پورے ہوں تو ان میں پانچ ( ۵ ) درہم زکاۃ کے نکالو، پھر جتنے زیادہ ہوں اسی حساب سے ان کی زکاۃ نکالو، بکریوں میں جب چالیس ( ۴۰ ) ہوں تو ایک ( ۱ ) بکری ہے، اگر انتالیس ( ۳۹ ) ہوں تو ان میں کچھ لازم نہیں ، پھر بکریوں کی زکاۃ اسی طرح تفصیل سے بیان کی جو زہری کی روایت میں ہے۔ گائے بیلوں میں یہ ہے کہ ہر تیس ( ۳۰ ) گائے یا بیل پر ایک سالہ گائے دینی ہو گی اور ہر چا لیس ( ۴۰ ) میں دو سالہ گائے دینی ہو گی، باربرداری والے گائے بیلوں میں کچھ لازم نہیں ہے، اونٹوں کے بارے میں زکاۃ کی وہی تفصیل اسی طرح بیان کی جو زہری کی روایت میں گزری ہے، البتہ اتنے فرق کے ساتھ کہ پچیس ( ۲۵ ) اونٹوں میں پانچ ( ۵ ) بکریاں ہوں گی، ایک بھی زیادہ ہونے یعنی چھبیس ( ۲۶ ) ہو جانے پر پینتیس ( ۳۵ ) تک ایک ( ۱ ) بنت مخاض ہو گی، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون نر ہو گا، اور جب چھتیس ( ۳۶ ) ہو جائیں تو پینتالیس ( ۴۵ ) تک ایک ( ۱ ) بنت لبون ہے، جب چھیالیس ( ۴۶ ) ہو جائیں تو ساٹھ ( ۶۰ ) تک ایک ( ۱ ) حقہ ہے جو نر اونٹ کے لائق ہو جاتی ہے ، اس کے بعد اسی طرح بیان کیا ہے جیسے زہری نے بیان کیا یہاں تک کہ جب اکیانوے ( ۹۱ ) ہو جائیں تو ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک دو ( ۲ ) حقہ ہوں گی جو جفتی کے لائق ہوں، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس ( ۵۰ ) پر ایک ( ۱ ) حقہ دینا ہو گا، زکاۃ کے خوف سے نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے اور نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے، اسی طرح نہ کوئی بوڑھا جانور قابل قبول ہو گا اور نہ عیب دار اور نہ ہی نر، سوائے اس کے کہ مصدق کی چاہت ہو۔ ( زمین سے ہونے والی ) ، پیداوار کے سلسلے میں کہا کہ نہر یا بارش کے پانی کی سینچائی سے جو پیداوار ہوئی ہو، اس میں دسواں حصہ لازم ہے اور جو پیداوار رہٹ سے پانی کھینچ کر کی گئی ہو، اس میں بیسواں حصہ لیا جائے گا ۔ عاصم اور حارث کی ایک روایت میں ہے کہ زکاۃ ہر سال لی جائے گی۔ زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر سال ایک بار کہا۔ عاصم کی روایت میں ہے: جب بنت مخاض اور ابن لبون بھی نہ ہو تو دس درہم یا دو بکریاں دینی ہوں گی ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، وعن الحارث الاعور، عن علي، - رضى الله عنه - قال زهير احسبه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " هاتوا ربع العشور من كل اربعين درهما درهم وليس عليكم شىء حتى تتم مايتى درهم فاذا كانت مايتى درهم ففيها خمسة دراهم فما زاد فعلى حساب ذلك وفي الغنم في كل اربعين شاة شاة فان لم يكن الا تسعا وثلاثين فليس عليك فيها شىء " . وساق صدقة الغنم مثل الزهري قال " وفي البقر في كل ثلاثين تبيع وفي الاربعين مسنة وليس على العوامل شىء وفي الابل " . فذكر صدقتها كما ذكر الزهري قال " وفي خمس وعشرين خمسة من الغنم فاذا زادت واحدة ففيها ابنة مخاض فان لم تكن بنت مخاض فابن لبون ذكر الى خمس وثلاثين فاذا زادت واحدة ففيها بنت لبون الى خمس واربعين فاذا زادت واحدة ففيها حقة طروقة الجمل الى ستين " . ثم ساق مثل حديث الزهري قال " فاذا زادت واحدة - يعني واحدة وتسعين - ففيها حقتان طروقتا الجمل الى عشرين وماية فان كانت الابل اكثر من ذلك ففي كل خمسين حقة ولا يفرق بين مجتمع ولا يجمع بين مفترق خشية الصدقة ولا توخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس الا ان يشاء المصدق وفي النبات ما سقته الانهار او سقت السماء العشر وما سقى الغرب ففيه نصف العشر " . وفي حديث عاصم والحارث " الصدقة في كل عام " . قال زهير احسبه قال " مرة " . وفي حديث عاصم " اذا لم يكن في الابل ابنة مخاض ولا ابن لبون فعشرة دراهم او شاتان
علی رضی اللہ عنہ اس حدیث کے ابتدائی کچھ حصہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: جب تمہارے پاس دو سو ( ۲۰۰ ) درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں پانچ ( ۵ ) درہم زکاۃ ہو گی، اور سونا جب تک بیس ( ۲۰ ) دینار نہ ہو اس میں تم پر زکاۃ نہیں، جب بیس ( ۲۰ ) دینار ہو جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار زکاۃ ہے، پھر جتنا زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکاۃ ہو گی ( یعنی چالیسواں حصہ ) ۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ «فبحساب ذلك» علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا اسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کیا ہے؟ اور کسی بھی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مگر جریر نے کہا ہے کہ ابن وہب اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا اضافہ کرتے ہیں: کسی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک اس پر سال نہ گزر جائے ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني جرير بن حازم، وسمى، اخر عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، والحارث الاعور، عن علي، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم ببعض اول هذا الحديث قال " فاذا كانت لك مايتا درهم وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم وليس عليك شىء - يعني في الذهب - حتى يكون لك عشرون دينارا فاذا كان لك عشرون دينارا وحال عليها الحول ففيها نصف دينار فما زاد فبحساب ذلك " . قال فلا ادري اعلي يقول فبحساب ذلك . او رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم " وليس في مال زكاة حتى يحول عليه الحول " . الا ان جريرا قال ابن وهب يزيد في الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم " ليس في مال زكاة حتى يحول عليه الحول
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے گھوڑا، غلام اور لونڈی کی زکاۃ معاف کر دی ہے لہٰذا تم چاندی کی زکاۃ دو، ہر چالیس ( ۴۰ ) درہم پہ ایک ( ۱ ) درہم، ایک سو نوے ( ۱۹۰ ) درہم میں کوئی زکاۃ نہیں، جب دو سو ( ۲۰۰ ) درہم پورے ہو جائیں تو ان میں پانچ ( ۵ ) درہم ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش نے ابواسحاق سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے ابوعوانہ نے کی ہے اور اسے شیبان ابومعاویہ اور ابراہیم بن طہمان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق، حارث سے حارث نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نفیلی کی حدیث شعبہ و سفیان اور ان کے علاوہ لوگوں نے ابواسحاق سے ابواسحاق نے عاصم سے عاصم نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوعاً کے بجائے علی رضی اللہ عنہ پر موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابو عوانة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، عليه السلام قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد عفوت عن الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة من كل اربعين درهما درهم وليس في تسعين وماية شىء فاذا بلغت مايتين ففيها خمسة دراهم " . قال ابو داود روى هذا الحديث الاعمش عن ابي اسحاق كما قال ابو عوانة ورواه شيبان ابو معاوية وابراهيم بن طهمان عن ابي اسحاق عن الحارث عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو داود وروى حديث النفيلي شعبة وسفيان وغيرهما عن ابي اسحاق عن عاصم عن علي لم يرفعوه اوقفوه على علي
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چرنے والے اونٹوں میں چالیس ( ۴۰ ) میں ایک ( ۱ ) بنت لبون ہے، ( زکاۃ بچانے کے خیال سے ) اونٹ اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہ کئے جائیں، جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو اسے روکے گا ہم اس سے اسے وصول کر لیں گے، اور ( زکاۃ روکنے کی سزا میں ) اس کا آدھا مال لے لیں گے، یہ ہمارے رب عزوجل کے تاکیدی حکموں میں سے ایک تاکیدی حکم ہے، آل محمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا بهز بن حكيم، ح وحدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابو اسامة، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " في كل سايمة ابل في اربعين بنت لبون ولا يفرق ابل عن حسابها من اعطاها موتجرا " . قال ابن العلاء " موتجرا بها " . " فله اجرها ومن منعها فانا اخذوها وشطر ماله عزمة من عزمات ربنا عز وجل ليس لال محمد منها شىء
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، قال اخذت من ثمامة بن عبد الله بن انس كتابا زعم ان ابا بكر، كتبه لانس وعليه خاتم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بعثه مصدقا وكتبه له فاذا فيه " هذه فريضة الصدقة التي فرضها رسول الله صلى الله عليه وسلم على المسلمين التي امر الله عز وجل بها نبيه صلى الله عليه وسلم فمن سيلها من المسلمين على وجهها فليعطها ومن سيل فوقها فلا يعطه فيما دون خمس وعشرين من الابل الغنم في كل خمس ذود شاة . فاذا بلغت خمسا وعشرين ففيها بنت مخاض الى ان تبلغ خمسا وثلاثين فان لم يكن فيها بنت مخاض فابن لبون ذكر فاذا بلغت ستا وثلاثين ففيها بنت لبون الى خمس واربعين فاذا بلغت ستا واربعين ففيها حقة طروقة الفحل الى ستين فاذا بلغت احدى وستين ففيها جذعة الى خمس وسبعين فاذا بلغت ستا وسبعين ففيها ابنتا لبون الى تسعين فاذا بلغت احدى وتسعين ففيها حقتان طروقتا الفحل الى عشرين وماية فاذا زادت على عشرين وماية ففي كل اربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة فاذا تباين اسنان الابل في فرايض الصدقات فمن بلغت عنده صدقة الجذعة وليست عنده جذعة وعنده حقة فانها تقبل منه وان يجعل معها شاتين - ان استيسرتا له - او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده حقة وعنده جذعة فانها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليس عنده حقة وعنده ابنة لبون فانها تقبل منه " . قال ابو داود من ها هنا لم اضبطه عن موسى كما احب " ويجعل معها شاتين - ان استيسرتا له - او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليس عنده الا حقة فانها تقبل منه " . قال ابو داود الى ها هنا ثم اتقنته " ويعطيه المصدق عشرين درهما او شاتين ومن بلغت عنده صدقة ابنة لبون وليس عنده الا بنت مخاض فانها تقبل منه وشاتين او عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة ابنة مخاض وليس عنده الا ابن لبون ذكر فانه يقبل منه وليس معه شىء ومن لم يكن عنده الا اربع فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها وفي سايمة الغنم اذا كانت اربعين ففيها شاة الى عشرين وماية فاذا زادت على عشرين وماية ففيها شاتان الى ان تبلغ مايتين فاذا زادت على مايتين ففيها ثلاث شياه الى ان تبلغ ثلاثماية فاذا زادت على ثلاثماية ففي كل ماية شاة شاة ولا يوخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عوار من الغنم ولا تيس الغنم الا ان يشاء المصدق ولا يجمع بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خليطين فانهما يتراجعان بينهما بالسوية فان لم تبلغ سايمة الرجل اربعين فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها وفي الرقة ربع العشر فان لم يكن المال الا تسعين وماية فليس فيها شىء الا ان يشاء ربها