Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس ( ۳۰ ) پر ایک سالہ بیل یا گائے لیں، اور چالیس ( ۴۰ ) پر دو سالہ گائے، اور ہر بالغ مرد سے ( جو کافر ہو ) ایک دینار یا ایک دینار کے بدلے اسی قیمت کے کپڑے جو یمن کے معافر نامی مقام میں تیار کئے جاتے ہیں ( بطور جزیہ ) لیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن معاذ، ان النبي صلى الله عليه وسلم لما وجهه الى اليمن امره ان ياخذ من البقر من كل ثلاثين تبيعا او تبيعة ومن كل اربعين مسنة ومن كل حالم - يعني محتلما - دينارا او عدله من المعافر ثياب تكون باليمن
اس سند سے بھی معاذ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، والنفيلي، وابن المثنى، قالوا حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم، عن مسروق، عن معاذ، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن بھیجا، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا، لیکن اس میں یہ کپڑے یمن میں بنتے تھے کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ راوی کی تشریح یعنی «محتلمًا» کا ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسے جریر، یعلیٰ، معمر، شعبہ، ابو عوانہ اور یحییٰ بن سعید نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ہے، یعلیٰ اور معمر نے اسی کے مثل اسے معاذ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، عن سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن مسروق، عن معاذ بن جبل، قال بعثه النبي صلى الله عليه وسلم الى اليمن فذكر مثله لم يذكر ثيابا تكون باليمن . ولا ذكر يعني محتلما . قال ابو داود ورواه جرير ويعلى ومعمر وشعبة وابو عوانة ويحيى بن سعيد عن الاعمش عن ابي وايل عن مسروق - قال يعلى ومعمر - عن معاذ مثله
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود گیا، یا یوں کہتے ہیں: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محصل کے ساتھ گیا تھا اس نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ کی کتاب میں لکھا تھا: ہم زکاۃ میں دودھ والی بکری یا دودھ پیتا بچہ نہ لیں، نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصدق اس وقت آتا جب بکریاں پانی پر جاتیں اور وہ کہتا: اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو، ایک شخص نے اپنا کوبڑے کوہان والا اونٹ کو دینا چاہا تو مصدق نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اس شخص نے کہا: نہیں، میری خوشی یہی ہے کہ تو میرا بہتر سے بہتر اونٹ لے، مصدق نے پھر لینے سے انکار کر دیا، اب اس نے تھوڑے کم درجے کا اونٹ کھینچا، مصدق نے اس کے لینے سے بھی انکار کر دیا، اس نے اور کم درجے کا اونٹ کھینچا تو مصدق نے اسے لے لیا اور کہا: میں لے لیتا ہوں لیکن مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر غصہ نہ ہوں اور آپ مجھ سے کہیں: تو نے ایک شخص کا بہترین اونٹ لے لیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہشیم نے ہلال بن خباب سے اسی طرح روایت کیا ہے، مگر اس میں «لا تفرق» کی بجائے «لا يفرق» ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن هلال بن خباب، عن ميسرة ابي صالح، عن سويد بن غفلة، قال سرت او قال اخبرني من، سار مع مصدق النبي صلى الله عليه وسلم فاذا في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لا تاخذ من راضع لبن ولا تجمع بين مفترق ولا تفرق بين مجتمع " . وكان انما ياتي المياه حين ترد الغنم فيقول ادوا صدقات اموالكم . قال فعمد رجل منهم الى ناقة كوماء - قال - قلت يا ابا صالح ما الكوماء قال عظيمة السنام - قال - فابى ان يقبلها قال اني احب ان تاخذ خير ابلي . قال فابى ان يقبلها قال فخطم له اخرى دونها فابى ان يقبلها ثم خطم له اخرى دونها فقبلها وقال اني اخذها واخاف ان يجد على رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لي عمدت الى رجل فتخيرت عليه ابله . قال ابو داود ورواه هشيم عن هلال بن خباب نحوه الا انه قال " لا يفرق
سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا محصل آیا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کی کتاب میں پڑھا: زکاۃ کے خوف سے جدا مال اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ ہی اکٹھا مال جدا کیا جائے ، اس روایت میں دودھ والے جانور کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا شريك، عن عثمان بن ابي زرعة، عن ابي ليلى الكندي، عن سويد بن غفلة، قال اتانا مصدق النبي صلى الله عليه وسلم فاخذت بيده وقرات في عهده " لا يجمع بين مفترق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة " . ولم يذكر " راضع لبن
مسلم بن ثفنہ یشکری ۱؎ کہتے ہیں نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا، میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، چنانچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا، جس کا نام سعر بن دیسم تھا، میں نے کہا: مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہ بولے: بھتیجے! تم کس قسم کے جانور لو گے؟ میں نے کہا: ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں: میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رہا کرتا تھا، ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں، تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو، میں نے کہا: مجھے کیا دینا ہو گا؟ انہوں نے کہا: ایک بکری، میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا، جس کی جگہ مجھے معلوم تھی، وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا، انہوں نے کہا: یہ بکری پیٹ والی ( حاملہ ) ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے، پھر میں نے کہا: تم کیا لو گے؟ انہوں نے کہا: ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہو گئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہو گئی ہو، میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا، اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: اسے ہم نے لے لیا، پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کر لیے چلے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے، انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا وكيع، عن زكريا بن اسحاق المكي، عن عمرو بن ابي سفيان الجمحي، عن مسلم بن ثفنة اليشكري، - قال الحسن روح يقول مسلم بن شعبة - قال استعمل نافع بن علقمة ابي على عرافة قومه فامره ان يصدقهم قال فبعثني ابي في طايفة منهم فاتيت شيخا كبيرا يقال له سعر بن ديسم فقلت ان ابي بعثني اليك - يعني لاصدقك - قال ابن اخي واى نحو تاخذون قلت نختار حتى انا نتبين ضروع الغنم . قال ابن اخي فاني احدثك اني كنت في شعب من هذه الشعاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في غنم لي فجاءني رجلان على بعير فقالا لي انا رسولا رسول الله صلى الله عليه وسلم اليك لتودي صدقة غنمك . فقلت ما على فيها فقالا شاة . فاعمد الى شاة قد عرفت مكانها ممتلية محضا وشحما فاخرجتها اليهما . فقالا هذه شاة الشافع وقد نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ناخذ شافعا . قلت فاى شىء تاخذان قالا عناقا جذعة او ثنية . قال فاعمد الى عناق معتاط . والمعتاط التي لم تلد ولدا وقد حان ولادها فاخرجتها اليهما فقالا ناولناها . فجعلاها معهما على بعيرهما ثم انطلقا . قال ابو داود رواه ابو عاصم عن زكرياء قال ايضا مسلم بن شعبة . كما قال روح
اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے ۔
حدثنا محمد بن يونس النسايي، حدثنا روح، حدثنا زكرياء بن اسحاق، باسناده بهذا الحديث قال مسلم بن شعبة . قال فيه والشافع التي في بطنها الولد . قال ابو داود وقرات في كتاب عبد الله بن سالم بحمص عند ال عمرو بن الحارث الحمصي عن الزبيدي قال واخبرني يحيى بن جابر عن جبير بن نفير عن عبد الله بن معاوية الغاضري - من غاضرة قيس - قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ثلاث من فعلهن فقد طعم طعم الايمان من عبد الله وحده وانه لا اله الا الله واعطى زكاة ماله طيبة بها نفسه رافدة عليه كل عام ولا يعطي الهرمة ولا الدرنة ولا المريضة ولا الشرط اللييمة ولكن من وسط اموالكم فان الله لم يسالكم خيره ولم يامركم بشره
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی، میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دو، یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولا: بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ ( اس پر ) سواری کی جا سکے، یہ لو ایک اونٹنی جوان، بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا: میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے، اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کر دیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا: ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی، لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے نبی! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا، قسم اللہ کی! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا: تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کر دیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے ، وہ شخص بولا: اے اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔
حدثنا محمد بن منصور، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، عن عمارة بن عمرو بن حزم، عن ابى بن كعب، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم مصدقا فمررت برجل فلما جمع لي ماله لم اجد عليه فيه الا ابنة مخاض فقلت له اد ابنة مخاض فانها صدقتك . فقال ذاك ما لا لبن فيه ولا ظهر ولكن هذه ناقة فتية عظيمة سمينة فخذها . فقلت له ما انا باخذ ما لم اومر به وهذا رسول الله صلى الله عليه وسلم منك قريب فان احببت ان تاتيه فتعرض عليه ما عرضت على فافعل فان قبله منك قبلته وان رده عليك رددته . قال فاني فاعل فخرج معي وخرج بالناقة التي عرض على حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له يا نبي الله اتاني رسولك لياخذ مني صدقة مالي وايم الله ما قام في مالي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا رسوله قط قبله فجمعت له مالي فزعم ان ما على فيه ابنة مخاض وذلك ما لا لبن فيه ولا ظهر وقد عرضت عليه ناقة فتية عظيمة لياخذها فابى على وها هي ذه قد جيتك بها يا رسول الله . خذها فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذاك الذي عليك فان تطوعت بخير اجرك الله فيه وقبلناه منك " . قال فها هي ذه يا رسول الله قد جيتك بها فخذها . قال فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبضها ودعا له في ماله بالبركة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور فرمایا: تم اہل کتاب کی ایک جماعت کے پاس جا رہے ہو، ان کو اس بات کی طرف بلانا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اگر وہ یہ مان لیں تو ان کو بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ یہ بھی مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے گی، پھر اگر وہ یہ بھی مان لیں تو تم ان کے عمدہ مالوں کو نہ لینا اور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہنا کہ اس کی دعا اور اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، حدثنا زكريا بن اسحاق المكي، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن فقال " انك تاتي قوما اهل كتاب فادعهم الى شهادة ان لا اله الا الله واني رسول الله فان هم اطاعوك لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة فان هم اطاعوك لذلك فاعلمهم ان الله افترض عليهم صدقة في اموالهم توخذ من اغنيايهم وترد في فقرايهم فان هم اطاعوك لذلك فاياك وكرايم اموالهم واتق دعوة المظلوم فانها ليس بينها وبين الله حجاب
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المعتدي في الصدقة كمانعها
بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں: ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا ) وہ کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپا لیا کریں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔
حدثنا مهدي بن حفص، ومحمد بن عبيد، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن ايوب، عن رجل، يقال له ديسم - وقال ابن عبيد من بني سدوس - عن بشير بن الخصاصية، - قال ابن عبيد في حديثه وما كان اسمه بشيرا - ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم سماه بشيرا قال قلنا ان اهل الصدقة يعتدون علينا افنكتم من اموالنا بقدر ما يعتدون علينا فقال " لا
اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے مگر اس میں ہے ہم نے کہا: اللہ کے رسول! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، ويحيى بن موسى، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن ايوب، باسناده ومعناه الا انه قال قلنا يا رسول الله ان اصحاب الصدقة يعتدون . قال ابو داود رفعه عبد الرزاق عن معمر
جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں، اسے لینے دو، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہو گا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہو گا، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہو گی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں ۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا بشر بن عمر، عن ابي الغصن، عن صخر بن اسحاق، عن عبد الرحمن بن جابر بن عتيك، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " سياتيكم ركب مبغضون فاذا جاءوكم فرحبوا بهم وخلوا بينهم وبين ما يبتغون فان عدلوا فلانفسهم وان ظلموا فعليها وارضوهم فان تمام زكاتكم رضاهم وليدعوا لكم " . قال ابو داود ابو الغصن هو ثابت بن قيس بن غصن
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، انہوں نے پوچھا: اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے فرمایا: تم اپنے مصدقین کو راضی کرو ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں: جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا عبد الواحد يعني ابن زياد، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، - وهذا حديث ابي كامل - عن محمد بن ابي اسماعيل، حدثنا عبد الرحمن بن هلال العبسي، عن جرير بن عبد الله، قال جاء ناس - يعني من الاعراب - الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا ان ناسا من المصدقين ياتونا فيظلمونا . قال فقال " ارضوا مصدقيكم " . قالوا يا رسول الله وان ظلمونا قال " ارضوا مصدقيكم " . زاد عثمان " وان ظلمتم " . قال ابو كامل في حديثه قال جرير ما صدر عني مصدق بعد ما سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم الا وهو عني راض
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے والد ( ابواوفی ) اصحاب شجرہ ۱؎ میں سے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قوم اپنے مال کی زکاۃ لے کر آتی تو آپ فرماتے: اے اللہ! آل فلاں پر رحمت نازل فرما، میرے والد اپنی زکاۃ لے کر آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابواوفی کی اولاد پر رحمت نازل فرما ۲؎ ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، وابو الوليد الطيالسي، - المعنى - قالا اخبرنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال كان ابي من اصحاب الشجرة وكان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اتاه قوم بصدقتهم قال " اللهم صل على ال فلان " . قال فاتاه ابي بصدقته فقال " اللهم صل على ال ابي اوفى
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «جلب» صحیح ہے نہ «جنب» لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی ۱؎۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن اسحاق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا جلب ولا جنب ولا توخذ صدقاتهم الا في دورهم
محمد بن اسحاق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں، اور «جنب» فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے: وہ کہتے ہیں: «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال سمعت ابي يقول، عن محمد بن اسحاق، في قوله " لا جلب ولا جنب " . قال ان تصدق الماشية في مواضعها ولا تجلب الى المصدق والجنب عن غير هذه الفريضة ايضا لا يجنب اصحابها يقول ولا يكون الرجل باقصى مواضع اصحاب الصدقة فتجنب اليه ولكن توخذ في موضعه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان عمر بن الخطاب، - رضى الله عنه - حمل على فرس في سبيل الله فوجده يباع فاراد ان يبتاعه فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال " لا تبتعه ولا تعد في صدقتك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھوڑے اور غلام یا لونڈی میں زکاۃ نہیں، البتہ غلام یا لونڈی میں صدقہ فطر ہے ۔
حدثنا محمد بن المثنى، ومحمد بن يحيى بن فياض، قالا حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن رجل، عن مكحول، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس في الخيل والرقيق زكاة الا زكاة الفطر في الرقيق
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن سليمان بن يسار، عن عراك بن مالك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة