احادیث
#1583
سنن ابی داؤد - Zakat
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی، میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دو، یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولا: بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ ( اس پر ) سواری کی جا سکے، یہ لو ایک اونٹنی جوان، بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا: میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے، اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کر دیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا: ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی، لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے نبی! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا، قسم اللہ کی! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا: تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کر دیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے ، وہ شخص بولا: اے اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔
حدثنا محمد بن منصور، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، قال حدثني عبد الله بن ابي بكر، عن يحيى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، عن عمارة بن عمرو بن حزم، عن ابى بن كعب، قال بعثني النبي صلى الله عليه وسلم مصدقا فمررت برجل فلما جمع لي ماله لم اجد عليه فيه الا ابنة مخاض فقلت له اد ابنة مخاض فانها صدقتك . فقال ذاك ما لا لبن فيه ولا ظهر ولكن هذه ناقة فتية عظيمة سمينة فخذها . فقلت له ما انا باخذ ما لم اومر به وهذا رسول الله صلى الله عليه وسلم منك قريب فان احببت ان تاتيه فتعرض عليه ما عرضت على فافعل فان قبله منك قبلته وان رده عليك رددته . قال فاني فاعل فخرج معي وخرج بالناقة التي عرض على حتى قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له يا نبي الله اتاني رسولك لياخذ مني صدقة مالي وايم الله ما قام في مالي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا رسوله قط قبله فجمعت له مالي فزعم ان ما على فيه ابنة مخاض وذلك ما لا لبن فيه ولا ظهر وقد عرضت عليه ناقة فتية عظيمة لياخذها فابى على وها هي ذه قد جيتك بها يا رسول الله . خذها فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذاك الذي عليك فان تطوعت بخير اجرك الله فيه وقبلناه منك " . قال فها هي ذه يا رسول الله قد جيتك بها فخذها . قال فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقبضها ودعا له في ماله بالبركة
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Zakat
- Hadith Index
- #1583
- Book Index
- 28
Grades
- Al-AlbaniHasan
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan
- Shuaib Al ArnautHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
