Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اجر پورا ہو گیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی ۔
حدثنا احمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عطاء، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، بريدة ان امراة، اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت كنت تصدقت على امي بوليدة وانها ماتت وتركت تلك الوليدة . قال " قد وجب اجرك ورجعت اليك في الميراث
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم ڈول اور دیگچی عاریۃً دینے کو «ماعون» ۱؎میں شمار کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن عاصم بن ابي النجود، عن شقيق، عن عبد الله، قال كنا نعد الماعون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم عارية الدلو والقدر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس مال ہو وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز اللہ اسے اس طرح کر دے گا کہ اس کا مال جہنم کی آگ میں گرم کیا جائے گا پھر اس سے اس کی پیشانی، پسلی اور پیٹھ کو داغا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا ایک ایسے دن میں فیصلہ فرما دے گا جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھے گا وہ راہ یا تو جنت کی طرف جا رہی ہو گی یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح ) جو بکریوں والا ہو اور ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے روز وہ بکریاں اس سے زیادہ موٹی ہو کر آئیں گی، جتنی وہ تھیں، پھر اسے ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گی اور کھروں سے کچلیں گی، ان میں کوئی بکری ٹیڑھے سینگ کی نہ ہو گی اور نہ ایسی ہو گی جسے سینگ ہی نہ ہو، جب ان کی آخری بکری مار کر گزر چکے گی تو پھر پہلی بکری ( مارنے کے لیے ) لوٹائی جائے گی ( یعنی باربار یہ عمل ہوتا رہے گا ) ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے اس دن میں جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی، اس کے بعد وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف۔ ( اسی طرح ) جو بھی اونٹ والا ہے اگر وہ ان کا حق ( زکاۃ ) ادا نہیں کرتا تو یہ اونٹ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ طاقتور اور موٹے ہو کر آئیں گے اور اس شخص کو ایک مسطح چٹیل میدان میں ڈال دیا جائے گا، پھر وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، جب آخری اونٹ بھی روند چکے گا تو پہلے اونٹ کو ( روندنے کے لیے ) پھر لوٹایا جائے گا، ( یہ عمل چلتا رہے گا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے گا اس دن میں جس کی مقدار تمہارے ( دنیاوی ) حساب سے پچاس ہزار برس کی ہو گی، پھر وہ اپنی راہ دیکھ لے گا یا تو جنت کی طرف یا جہنم کی طرف ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من صاحب كنز لا يودي حقه الا جعله الله يوم القيامة يحمى عليها في نار جهنم فتكوى بها جبهته وجنبه وظهره حتى يقضي الله تعالى بين عباده في يوم كان مقداره خمسين الف سنة مما تعدون ثم يرى سبيله اما الى الجنة واما الى النار وما من صاحب غنم لا يودي حقها الا جاءت يوم القيامة اوفر ما كانت فيبطح لها بقاع قرقر فتنطحه بقرونها وتطوه باظلافها ليس فيها عقصاء ولا جلحاء كلما مضت اخراها ردت عليه اولاها حتى يحكم الله بين عباده في يوم كان مقداره خمسين الف سنة مما تعدون ثم يرى سبيله اما الى الجنة واما الى النار وما من صاحب ابل لا يودي حقها الا جاءت يوم القيامة اوفر ما كانت فيبطح لها بقاع قرقر فتطوه باخفافها كلما مضت عليه اخراها ردت عليه اولاها حتى يحكم الله تعالى بين عباده في يوم كان مقداره خمسين الف سنة مما تعدون ثم يرى سبيله اما الى الجنة واما الى النار
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں اونٹ کے قصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: «لا يؤدي حقها . قال ومن حقها حلبها يوم وردها» کا جملہ بھی ہے ( یعنی ان کے حق میں سے یہ ہے کہ جب وہ پانی پینے ( گھاٹ پر ) آئیں تو ان کو دوہے ) ، ( اور دوہ کر مسافروں نیز دیگر محتاجوں کو پلائے ) ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا ابن ابي فديك، عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال في قصة الابل بعد قوله " لا يودي حقها " . قال " ومن حقها حلبها يوم وردها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کا قصہ سنا تو راوی نے ان سے یعنی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اونٹوں کا حق کیا ہے؟ انہوں نے کہا: تم اچھا اونٹ اللہ کی راہ میں دو، زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی عطیہ دو، سواری کے لیے جانور دو، جفتی کے لیے نر کو مفت دو اور لوگوں کو دودھ پلاؤ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن ابي عمر الغداني، عن ابي هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو هذه القصة فقال له - يعني لابي هريرة - فما حق الابل قال تعطي الكريمة وتمنح الغزيرة وتفقر الظهر وتطرق الفحل وتسقي اللبن
عبید بن عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ پھر اس نے اوپر جیسی روایت ذکر کی، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا ہے «وإعارة دلوها» ( اس کے تھن دودھ دوہنے کے لیے عاریۃً دینا ) ۔
حدثنا يحيى بن خلف، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال قال ابو الزبير سمعت عبيد بن عمير، قال قال رجل يا رسول الله ما حق الابل فذكر نحوه زاد " واعارة دلوها
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ جو دس وسق کھجور توڑے تو ایک خوشہ مسکینوں کے واسطے مسجد میں لٹکا دے۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثني محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، عن جابر بن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر من كل جاد عشرة اوسق من التمر بقنو يعلق في المسجد للمساكين
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، اتنے میں ایک شخص اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور دائیں بائیں اسے پھیرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی فاضل ( ضرورت سے زائد ) سواری ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہ ہو، جس کے پاس فاضل توشہ ہو تو چاہیئے کہ اسے وہ ایسے شخص کو دیدے جس کے پاس توشہ نہ ہو، یہاں تک کہ ہمیں گمان ہوا کہ ہم میں سے فاضل چیز کا کسی کو کوئی حق نہیں ۔
حدثنا محمد بن عبد الله الخزاعي، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا ابو الاشهب، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر اذ جاء رجل على ناقة له فجعل يصرفها يمينا وشمالا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان عنده فضل ظهر فليعد به على من لا ظهر له ومن كان عنده فضل زاد فليعد به على من لا زاد له " . حتى ظننا انه لا حق لاحد منا في الفضل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «والذين يكنزون الذهب والفضة» نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہاری اس مشکل کو میں رفع کرتا ہوں، چنانچہ وہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت بہت گراں گزری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے زکاۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے باقی مال پاک ہو جائیں ( جس مال کی زکاۃ نکل جائے وہ کنز نہیں ہے ) اور اللہ نے میراث کو اسی لیے مقرر کیا تاکہ بعد والوں کو ملے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا میں تم کو اس کی خبر نہ دوں جو مسلمان کا سب سے بہتر خزانہ ہے؟ وہ نیک عورت ہے کہ جب مرد اس کی طرف دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے اور جب وہ حکم دے تو اسے مانے اور جب وہ اس سے غائب ہو تو اس کی حفاظت کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن يعلى المحاربي، حدثنا ابي، حدثنا غيلان، عن جعفر بن اياس، عن مجاهد، عن ابن عباس، قال لما نزلت هذه الاية { والذين يكنزون الذهب والفضة } قال كبر ذلك على المسلمين فقال عمر - رضى الله عنه انا افرج عنكم . فانطلق فقال يا نبي الله انه كبر على اصحابك هذه الاية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله لم يفرض الزكاة الا ليطيب ما بقي من اموالكم وانما فرض المواريث لتكون لمن بعدكم " . فكبر عمر ثم قال له " الا اخبرك بخير ما يكنز المرء المراة الصالحة اذا نظر اليها سرته واذا امرها اطاعته واذا غاب عنها حفظته
حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا مصعب بن محمد بن شرحبيل، حدثني يعلى بن ابي يحيى، عن فاطمة بنت حسين، عن حسين بن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " للسايل حق وان جاء على فرس
اس سند سے علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا زهير، عن شيخ، قال رايت سفيان عنده عن فاطمة بنت حسين، عن ابيها، عن علي، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ام بجید رضی اللہ عنہا یہ ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، وہ کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دروازے پر مسکین کھڑا ہوتا ہے لیکن میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو میں اسے دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تمہیں کوئی ایسی چیز نہ ملے جو تم اسے دے سکو سوائے ایک جلے ہوئے کھر کے تو وہی اس کے ہاتھ میں دے دو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن عبد الرحمن بن بجيد، عن جدته ام بجيد، وكانت، ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم انها قالت له يا رسول الله صلى الله عليك ان المسكين ليقوم على بابي فما اجد له شييا اعطيه اياه . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لم تجدي له شييا تعطينه اياه الا ظلفا محرقا فادفعيه اليه في يده
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو ۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن اسماء، قالت قدمت على امي راغبة في عهد قريش وهي راغمة مشركة فقلت يا رسول الله ان امي قدمت على وهي راغمة مشركة افاصلها قال " نعم فصلي امك
بہیسہ اپنے والد (عمیر) کہتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( آپ کے پاس آنے کی ) اجازت طلب کی، ( اجازت دے دی تو وہ آئے ) اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی قمیص کے درمیان داخل ہو گئے ( یعنی آپ کی قمیص اٹھا لی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک کو چومنے اور آپ سے لپٹنے لگے، پھر انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نمک ، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! وہ کون سی چیز ہے جس کا نہ دینا جائز نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جتنی نیکی کرو اتنی ہی وہ تمہارے لیے بہتر ہے ( یعنی پانی نمک تو مت روکو اس کے علاوہ اگر ممکن ہو تو دوسری چیزیں بھی نہ روکو ) ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا كهمس، عن سيار بن منظور، - رجل من بني فزارة - عن ابيه، عن امراة، يقال لها بهيسة عن ابيها، قالت استاذن ابي النبي صلى الله عليه وسلم فدخل بينه وبين قميصه فجعل يقبل ويلتزم ثم قال يا رسول الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال " الماء " . قال يا نبي الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال " الملح " . قال يا رسول الله ما الشىء الذي لا يحل منعه قال " ان تفعل الخير خير لك
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ایسا کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو؟ ، ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بھکاری مانگ رہا ہے، میں نے عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا تو ان سے اسے لے کر میں نے بھکاری کو دے دیا۔
حدثنا بشر بن ادم، حدثنا عبد الله بن بكر السهمي، حدثنا مبارك بن فضالة، عن ثابت البناني، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عبد الرحمن بن ابي بكر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل منكم احد اطعم اليوم مسكينا " . فقال ابو بكر رضى الله عنه - دخلت المسجد فاذا انا بسايل يسال فوجدت كسرة خبز في يد عبد الرحمن فاخذتها منه فدفعتها اليه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نام پر سوائے جنت کے کوئی چیز نہ مانگی جائے ۔
حدثنا ابو العباس القلوري، حدثنا يعقوب بن اسحاق الحضرمي، عن سليمان بن معاذ التيمي، حدثنا ابن المنكدر، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يسال بوجه الله الا الجنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استعاذ بالله فاعيذوه ومن سال بالله فاعطوه ومن دعاكم فاجيبوه ومن صنع اليكم معروفا فكافيوه فان لم تجدوا ما تكافيونه فادعوا له حتى تروا انكم قد كافاتموه
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص انڈہ کے برابر سونا لے کر آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے یہ ایک کان میں سے ملا ہے، آپ اسے لے لیجئے، یہ صدقہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی اور چیز کا مالک نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی دائیں جانب سے آیا اور ایسا ہی کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ کی بائیں جانب سے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا آپ نے اسے لے کر پھینک دیا، اگر وہ اسے لگ جاتا تو اس کو چوٹ پہنچاتا یا زخمی کر دیتا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں ایک اپنا سارا مال لے کر چلا آتا ہے اور کہتا ہے: یہ صدقہ ہے، پھر بیٹھ کر لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے، بہترین صدقہ وہ ہے جس کا مالک صدقہ دے کر مالدار رہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن اسحاق، عن عاصم بن عمر بن قتادة، عن محمود بن لبيد، عن جابر بن عبد الله الانصاري، قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ جاء رجل بمثل بيضة من ذهب فقال يا رسول الله اصبت هذه من معدن فخذها فهي صدقة ما املك غيرها . فاعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم اتاه من قبل ركنه الايمن فقال مثل ذلك فاعرض عنه ثم اتاه من قبل ركنه الايسر فاعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم اتاه من خلفه فاخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم فحذفه بها فلو اصابته لاوجعته او لعقرته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ياتي احدكم بما يملك فيقول هذه صدقة ثم يقعد يستكف الناس خير الصدقة ما كان عن ظهر غنى
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طریق سے مروی ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: «خذ عنا مالك لا حاجة لنا به» اپنا مال ہم سے لے لو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن ادريس، عن ابن اسحاق، باسناده ومعناه زاد " خذ عنا مالك لا حاجة لنا به
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کپڑے ( بطور صدقہ ) ڈال دیں، انہوں نے ڈال دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے ان میں سے دو کپڑوں ( کے دیئے جانے ) کا حکم دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ پر ابھارا تو وہ شخص دو میں سے ایک کپڑا ڈالنے لگا، آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنے کپڑے لے لو ۱؎ ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن عياض بن عبد الله بن سعد، سمع ابا سعيد الخدري، يقول دخل رجل المسجد فامر النبي صلى الله عليه وسلم الناس ان يطرحوا ثيابا فطرحوا فامر له منها بثوبين ثم حث على الصدقة فجاء فطرح احد الثوبين فصاح به وقال " خذ ثوبك