Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
اس سند سے بھی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے ابن عیینہ نے زید سے اسی طرح روایت کیا جیسے مالک نے کہا ہے اور ثوری نے اسے زید سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے ایک ثقہ راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود ورواه ابن عيينة عن زيد كما قال مالك ورواه الثوري عن زيد قال حدثني الثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی راہ میں ہو یا مسافر ہو یا اس کا کوئی فقیر پڑوسی ہو جسے صدقہ کیا گیا ہو پھر وہ تمہیں ہدیہ دیدے یا تمہاری دعوت کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے فراس اور ابن ابی لیلیٰ نے عطیہ سے، عطیہ نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے اور ابوسعید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عوف الطايي، حدثنا الفريابي، حدثنا سفيان، عن عمران البارقي، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحل الصدقة لغني الا في سبيل الله او ابن السبيل او جار فقير يتصدق عليه فيهدي لك او يدعوك " . قال ابو داود ورواه فراس وابن ابي ليلى عن عطية عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
بشیر بن یسار کہتے ہیں کہ انصار کے ایک آدمی نے انہیں خبر دی جس کا نام سہل بن ابی حثمہ تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ ان کو دیت کے دیئے یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کیا گیا تھا ۱؎۔
حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح، حدثنا ابو نعيم، حدثني سعيد بن عبيد الطايي، عن بشير بن يسار، زعم ان رجلا، من الانصار يقال له سهل بن ابي حثمة اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم وداه بماية من ابل الصدقة - يعني دية الانصاري الذي قتل بخيبر
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو ۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن عمير، عن زيد بن عقبة الفزاري، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المسايل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء ابقى على وجهه ومن شاء ترك الا ان يسال الرجل ذا سلطان او في امر لا يجد منه بدا
قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک قرضے کا ضامن ہو گیا، چنانچہ ( مانگنے کے لے ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: قبیصہ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آ جائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں ، پھر فرمایا: قبیصہ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں: ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑ گیا ہو، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے، اس کے بعد اس سے باز رہے، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو، جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کر سکے، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کر سکے، اس کے بعد اس سے باز آ جائے، اے قبیصہ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن هارون بن رياب، قال حدثني كنانة بن نعيم العدوي، عن قبيصة بن مخارق الهلالي، قال تحملت حمالة فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اقم يا قبيصة حتى تاتينا الصدقة فنامر لك بها " . ثم قال " يا قبيصة ان المسالة لا تحل الا لاحد ثلاثة رجل تحمل حمالة فحلت له المسالة فسال حتى يصيبها ثم يمسك ورجل اصابته جايحة فاجتاحت ماله فحلت له المسالة فسال حتى يصيب قواما من عيش " . او قال " سدادا من عيش " . " ورجل اصابته فاقة حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجا من قومه قد اصابت فلانا الفاقة فحلت له المسالة فسال حتى يصيب قواما من عيش - او سدادا من عيش - ثم يمسك وما سواهن من المسالة يا قبيصة سحت ياكلها صاحبها سحتا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے؟ ، بولا: کیوں نہیں، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دونوں میرے پاس لے آؤ ، چنانچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا: یہ دونوں کون خریدے گا؟ ، ایک آدمی بولا: انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے؟ ، دو بار یا تین بار، تو ایک شخص بولا: میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا: ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا: جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں ، چنانچہ وہ شخص گیا، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے: ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو، خاک میں لوٹتا ہو، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، اخبرنا عيسى بن يونس، عن الاخضر بن عجلان، عن ابي بكر الحنفي، عن انس بن مالك، ان رجلا، من الانصار اتى النبي صلى الله عليه وسلم يساله فقال " اما في بيتك شىء " . قال بلى حلس نلبس بعضه ونبسط بعضه وقعب نشرب فيه من الماء . قال " ايتني بهما " . فاتاه بهما فاخذهما رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده وقال " من يشتري هذين " . قال رجل انا اخذهما بدرهم . قال " من يزيد على درهم " . مرتين او ثلاثا قال رجل انا اخذهما بدرهمين . فاعطاهما اياه واخذ الدرهمين واعطاهما الانصاري وقال " اشتر باحدهما طعاما فانبذه الى اهلك واشتر بالاخر قدوما فاتني به " . فاتاه به فشد فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم عودا بيده ثم قال له " اذهب فاحتطب وبع ولا ارينك خمسة عشر يوما " . فذهب الرجل يحتطب ويبيع فجاء وقد اصاب عشرة دراهم فاشترى ببعضها ثوبا وببعضها طعاما . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا خير لك من ان تجيء المسالة نكتة في وجهك يوم القيامة ان المسالة لا تصلح الا لثلاثة لذي فقر مدقع او لذي غرم مفظع او لذي دم موجع
ابومسلم خولانی کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے پیارے اور امانت دار دوست عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہم سات، آٹھ یا نو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت نہیں کرو گے؟ ، جب کہ ہم ابھی بیعت کر چکے تھے، ہم نے کہا: ہم تو آپ سے بیعت کر چکے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ تین بار دہرایا چنانچہ ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دئیے اور آپ سے بیعت کی، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! ہم ابھی بیعت کر چکے ہیں؟ اب کس بات کی آپ سے بیعت کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرو گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے اور ( حکم ) سنو گے اور اطاعت کرو گے ، ایک بات آپ نے آہستہ سے فرمائی، فرمایا: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے ، چنانچہ ان لوگوں میں سے بعض کا حال یہ تھا کہ اگر ان کا کوڑا زمین پر گر جاتا تو وہ کسی سے اتنا بھی سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں ان کا کوڑا اٹھا کر دیدے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام کی حدیث سعید کے علاوہ کسی اور نے بیان نہیں کی۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن ربيعة، - يعني ابن يزيد - عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي مسلم الخولاني، قال حدثني الحبيب الامين، اما هو الى فحبيب واما هو عندي فامين عوف بن مالك قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعة او ثمانية او تسعة فقال " الا تبايعون رسول الله صلى الله عليه وسلم " . وكنا حديث عهد ببيعة قلنا قد بايعناك حتى قالها ثلاثا فبسطنا ايدينا فبايعناه فقال قايل يا رسول الله انا قد بايعناك فعلام نبايعك قال " ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شييا وتصلوا الصلوات الخمس وتسمعوا وتطيعوا " . واسر كلمة خفية قال " ولا تسالوا الناس شييا " . قال فلقد كان بعض اوليك النفر يسقط سوطه فما يسال احدا ان يناوله اياه . قال ابو داود حديث هشام لم يروه الا سعيد
ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ ، ثوبان نے کہا: میں ( ضمانت دیتا ہوں ) ، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عاصم، عن ابي العالية، عن ثوبان، قال وكان ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تكفل لي ان لا يسال الناس شييا واتكفل له بالجنة " . فقال ثوبان انا . فكان لا يسال احدا شييا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا تو آپ نے انہیں دیا، انہوں نے پھر مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دیا، یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا، ختم ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جو بھی مال ہو گا میں اسے تم سے بچا کے رکھ نہ چھوڑوں گا، لیکن جو سوال سے بچنا چاہتا ہے اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بے نیازی چاہتا ہے اللہ اسے بے نیاز کر دیتا ہے، جو صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے، اور اللہ نے صبر سے زیادہ وسعت والی کوئی نعمت کسی کو نہیں دی ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي سعيد الخدري، ان ناسا، من الانصار سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاهم ثم سالوه فاعطاهم حتى اذا نفد ما عنده قال " ما يكون عندي من خير فلن ادخره عنكم ومن يستعفف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يتصبر يصبره الله وما اعطى الله احدا من عطاء اوسع من الصبر
ابن مسعود رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے ظاہر کر دے تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو اس کو اللہ سے ظاہر کرے ( یعنی اللہ سے اس کے دور ہونے کی دعا مانگے ) تو قریب ہے کہ اسے اللہ بے پروا کر دے یا تو جلد موت دے کر یا جلد مالدار کر کے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، ح حدثنا عبد الملك بن حبيب ابو مروان، حدثنا ابن المبارك، - وهذا حديثه - عن بشير بن سلمان، عن سيار ابي حمزة، عن طارق، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اصابته فاقة فانزلها بالناس لم تسد فاقته ومن انزلها بالله اوشك الله له بالغنى اما بموت عاجل او غنى عاجل
ابن الفراسی سے روایت ہے کہ فراسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا! اللہ کے رسول! کیا میں سوال کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں اور اگر سوال کرنا ضروری ہی ہو تو نیک لوگوں سے سوال کرو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن جعفر بن ربيعة، عن بكر بن سوادة، عن مسلم بن مخشي، عن ابن الفراسي، ان الفراسي، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم اسال يا رسول الله فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا وان كنت سايلا لا بد فاسال الصالحين
ابن ساعدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقے پر عامل مقرر کیا تو جب میں اس کام سے فارغ ہوا اور اسے ان کے حوالے کر دیا تو انہوں نے میرے لیے محنتانے ( اجرت ) کا حکم دیا، میں نے عرض کیا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا اور میرا بدلہ اللہ کے ذمہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تمہیں دیا جا رہا ہے اسے لے لو، میں نے بھی یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دینا چاہا تو میں نے بھی وہی بات کہی جو تم نے کہی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تمہیں کوئی چیز بغیر مانگے ملے تو اس میں سے کھاؤ اور صدقہ کرو ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا الليث، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن بسر بن سعيد، عن ابن الساعدي، قال استعملني عمر - رضى الله عنه - على الصدقة فلما فرغت منها واديتها اليه امر لي بعمالة فقلت انما عملت لله واجري على الله . قال خذ ما اعطيت فاني قد عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فعملني فقلت مثل قولك فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اعطيت شييا من غير ان تساله فكل وتصدق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپ منبر پر تھے صدقہ کرنے کا، سوال سے بچنے اور مانگنے کا ذکر کر رہے تھے کہ: اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اوپر والا ہاتھ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ سوال کرنے والا ہاتھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ایوب کی نافع سے روایت پر اختلاف کیا گیا ہے ۱؎، عبدالوارث نے کہا: «اليد العليا المتعففة» ( اوپر والا ہاتھ وہ ہے جو مانگنے سے بچے ) ، اور اکثر رواۃ نے حماد بن زیدی سے روایت میں:«اليد العليا المنفقة» نقل کیا ہے ( یعنی اوپر والا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے ) اور ایک راوی نے حماد سے «المتعففة» روایت کی ۲؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو على المنبر وهو يذكر الصدقة والتعفف منها والمسالة " اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا المنفقة والسفلى السايلة " . قال ابو داود اختلف على ايوب عن نافع في هذا الحديث قال عبد الوارث " اليد العليا المتعففة " . وقال اكثرهم عن حماد بن زيد عن ايوب " اليد العليا المنفقة " . وقال واحد عن حماد " المتعففة
مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاتھ تین طرح کے ہیں: اللہ کا ہاتھ جو سب سے اوپر ہے، دینے والے کا ہاتھ جو اس کے بعد ہے اور لینے والے کا ہاتھ جو سب سے نیچے ہے، لہٰذا جو ضرورت سے زائد ہو اسے دے دو اور اپنے نفس کی بات مت مانو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبيدة بن حميد التيمي، حدثني ابو الزعراء، عن ابي الاحوص، عن ابيه، مالك بن نضلة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الايدي ثلاثة فيد الله العليا ويد المعطي التي تليها ويد السايل السفلى فاعط الفضل ولا تعجز عن نفسك
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي رافع، عن ابي رافع، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على الصدقة من بني مخزوم فقال لابي رافع اصحبني فانك تصيب منها . قال حتى اتي النبي صلى الله عليه وسلم فاساله فاتاه فساله فقال " مولى القوم من انفسهم وانا لا تحل لنا الصدقة
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي رافع، عن ابي رافع، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على الصدقة من بني مخزوم فقال لابي رافع اصحبني فانك تصيب منها . قال حتى اتي النبي صلى الله عليه وسلم فاساله فاتاه فساله فقال " مولى القوم من انفسهم وانا لا تحل لنا الصدقة
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمر بالتمرة العايرة فما يمنعه من اخذها الا مخافة ان تكون صدقة
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومسلم بن ابراهيم، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يمر بالتمرة العايرة فما يمنعه من اخذها الا مخافة ان تكون صدقة
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور ( پڑی ) پائی تو فرمایا: اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہو تاکہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام نے بھی اسے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابي، عن خالد بن قيس، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم وجد تمرة فقال " لولا اني اخاف ان تكون صدقة لاكلتها " . قال ابو داود رواه هشام عن قتادة هكذا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس اونٹ کے سلسلہ میں بھیجا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صدقے میں سے دیا تھا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي، حدثنا محمد بن فضيل، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، قال بعثني ابي الى النبي صلى الله عليه وسلم في ابل اعطاها اياه من الصدقة
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت مروی ہے البتہ اس میں ( ابوعبیدہ نے ) یہ اضافہ کیا ہے کہ میرے والد اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بدل رہے تھے ۱؎۔
حدثنا محمد بن العلاء، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا محمد، - هو ابن ابي عبيدة - عن ابيه، عن الاعمش، عن سالم، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس، نحوه زاد ابي يبدلها له
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے پوچھا: یہ گوشت کیسا ہے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: یہ وہ چیز ہے جسے بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس ( بریرہ ) کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ( بریرہ کی طرف سے ) ہدیہ ہے ۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، قال اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بلحم قال " ما هذا " . قالوا شىء تصدق به على بريرة فقال " هو لها صدقة ولنا هدية