Loading...

Loading...
کتب
۱۴۵ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی: میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا، اور ابوسعید نے کہا: لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے، ایک شخص نے ابن علیہ سے «أو صاعًا من حنطة» بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا داود، - يعني ابن قيس - عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري، قال كنا نخرج اذ كان فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم زكاة الفطر عن كل صغير وكبير حر او مملوك صاعا من طعام او صاعا من اقط او صاعا من شعير او صاعا من تمر او صاعا من زبيب فلم نزل نخرجه حتى قدم معاوية حاجا او معتمرا فكلم الناس على المنبر فكان فيما كلم به الناس ان قال اني ارى ان مدين من سمراء الشام تعدل صاعا من تمر فاخذ الناس بذلك . فقال ابو سعيد فاما انا فلا ازال اخرجه ابدا ما عشت . قال ابو داود رواه ابن علية وعبدة وغيرهما عن ابن اسحاق عن عبد الله بن عبد الله بن عثمان بن حكيم بن حزام عن عياض عن ابي سعيد بمعناه وذكر رجل واحد فيه عن ابن علية او صاع حنطة . وليس بمحفوظ
اس سند سے اسماعیل (اسماعیل ابن علیہ) سے یہی حدیث (نمبر: ۱۶۱۶ کے اخیر میں مذکور سند سے) مروی ہے اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے، ثوری نے زید بن اسلم سے، زیدی اسلم نے عیاض سے، عیاض نے ابوسعید سے «نصف صاع من بُرٍّ» نقل کیا ہے، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے۔
حدثنا مسدد، اخبرنا اسماعيل، ليس فيه ذكر الحنطة . قال ابو داود وقد ذكر معاوية بن هشام في هذا الحديث عن الثوري، عن زيد بن اسلم، عن عياض، عن ابي سعيد، " نصف صاع من بر " . وهو وهم من معاوية بن هشام او ممن رواه عنه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھجور، یا جو، یا پنیر، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: یا ایک صاع آٹے کا، حامد کہتے ہیں: لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے۔
حدثنا حامد بن يحيى، اخبرنا سفيان، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، سمع عياضا، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول لا اخرج ابدا الا صاعا انا كنا نخرج على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صاع تمر او شعير او اقط او زبيب هذا حديث يحيى زاد سفيان او صاعا من دقيق قال حامد فانكروا عليه فتركه سفيان . قال ابو داود فهذه الزيادة وهم من ابن عيينة
عبداللہ بن ابوصعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے ( ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع ) چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، رہا تم میں جو غنی ہے، اللہ اسے پاک کر دے گا، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا، جتنا اس نے دیا ہے ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں «غنيٍ أو فقيرٍ» کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن داود العتكي، قالا حدثنا حماد بن زيد، عن النعمان بن راشد، عن الزهري، - قال مسدد عن ثعلبة بن عبد الله بن ابي صعير، - عن ابيه، - وقال سليمان بن داود عبد الله بن ثعلبة او ثعلبة بن عبد الله بن ابي صعير عن ابيه، - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صاع من بر او قمح على كل اثنين صغير او كبير حر او عبد ذكر او انثى اما غنيكم فيزكيه الله واما فقيركم فيرد الله عليه اكثر مما اعطاه " . زاد سليمان في حديثه غني او فقير
ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں «أو صاع بر أو قمح بين اثنين» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا ) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں: چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے ۔
حدثنا علي بن الحسن الدرابجردي، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا همام، حدثنا بكر، - هو ابن وايل - عن الزهري، عن ثعلبة بن عبد الله، او قال عبد الله بن ثعلبة عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن بكر الكوفي، قال محمد بن يحيى هو بكر بن وايل بن داود ان الزهري، حدثهم عن عبد الله بن ثعلبة بن صعير، عن ابيه، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فامر بصدقة الفطر صاع تمر او صاع شعير عن كل راس زاد علي في حديثه او صاع بر او قمح بين اثنين - ثم اتفقا - عن الصغير والكبير والحر والعبد
عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ ( جزم کے ساتھ بغیر شک کے ) کہا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا، یہ خطبہ مقری ( عبداللہ بن یزید ) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، قال وقال ابن شهاب قال عبد الله بن ثعلبة قال ابن صالح قال العدوي وانما هو العذري خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس قبل الفطر بيومين بمعنى حديث المقري
حسن کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا: اپنے روزے کا صدقہ نکالو ، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا: اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر ، پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کر دی ہے، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کر لو ۱؎ تو بہتر ہے ۔ حمید کہتے ہیں: حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا سهل بن يوسف، قال حميد اخبرنا عن الحسن، قال خطب ابن عباس رحمه الله في اخر رمضان على منبر البصرة فقال اخرجوا صدقة صومكم فكان الناس لم يعلموا فقال من ها هنا من اهل المدينة قوموا الى اخوانكم فعلموهم فانهم لا يعلمون فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الصدقة صاعا من تمر او شعير او نصف صاع من قمح على كل حر او مملوك ذكر او انثى صغير او كبير فلما قدم علي - رضى الله عنه - راى رخص السعر قال قد اوسع الله عليكم فلو جعلتموه صاعا من كل شىء . قال حميد وكان الحسن يرى صدقة رمضان على من صام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل، خالد بن ولید اور عباس رضی اللہ عنہم نے ( زکاۃ دینے سے ) انکار کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن جمیل اس لیے نہیں دیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ نے اس کو غنی کر دیا، رہے خالد بن ولید تو خالد پر تم لوگ ظلم کر رہے ہو، انہوں نے اپنی زرہیں اور سامان جنگ اللہ کی راہ میں دے رکھے ہیں ۱؎، اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس تو ان کی زکاۃ میرے ذمہ ہے اور اسی قدر اور ہے ۲؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ چچا والد کے برابر ہے ۔ راوی کو شک ہے «صنو الأب» کہا، یا «صنو أبيه» کہا۔
حدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا شبابة، عن ورقاء، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم عمر بن الخطاب على الصدقة فمنع ابن جميل وخالد بن الوليد والعباس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ينقم ابن جميل الا ان كان فقيرا فاغناه الله واما خالد بن الوليد فانكم تظلمون خالدا فقد احتبس ادراعه واعتده في سبيل الله واما العباس عم رسول الله صلى الله عليه وسلم فهي على ومثلها " . ثم قال " اما شعرت ان عم الرجل صنو الاب " . او " صنو ابيه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عباس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے زکاۃ جلدی ( یعنی سال گزرنے سے پہلے ) دینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ان کو اس کی اجازت دی۔ راوی نے ایک بار «فرخص له في ذلك» کے بجائے «فأذن له في ذلك» روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہشیم نے منصور بن زاذان سے، منصور نے حکم سے حکم نے حسن بن مسلم سے اور حسن بن مسلم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے اور ہشیم کی حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے، ( یعنی: اس روایت کا مرسل بلکہ معضل ہونا ہی زیادہ صحیح ہے ) ۔
حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن الحجاج بن دينار، عن الحكم، عن حجية، عن علي، ان العباس، سال النبي صلى الله عليه وسلم في تعجيل صدقته قبل ان تحل فرخص له في ذلك . قال مرة فاذن له في ذلك . قال ابو داود وروى هذا الحديث هشيم عن منصور بن زاذان عن الحكم عن الحسن بن مسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم وحديث هشيم اصح
عطا کہتے ہیں زیاد یا کسی اور امیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو زکاۃ کی وصولی کے لیے بھیجا، جب وہ لوٹ کر آئے تو اس نے عمران سے پوچھا: مال کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے مجھے مال لانے بھیجا تھا؟ ہم نے اسے لیا جس طرح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لیتے تھے، اور اس کو صرف کر دیا جہاں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں صرف کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابي، اخبرنا ابراهيم بن عطاء، مولى عمران بن حصين عن ابيه، ان زيادا، او بعض الامراء بعث عمران بن حصين على الصدقة فلما رجع قال لعمران اين المال قال وللمال ارسلتني اخذناها من حيث كنا ناخذها على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ووضعناها حيث كنا نضعها على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے اور اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے اس سوال سے مستغنی اور بے نیاز کرتی ہو تو قیامت کے روز اس کے چہرے پر خموش یا خدوش یا کدوح یعنی زخم ہوں گے ، لوگوں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کتنے مال سے آدمی غنی ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچاس درہم یا اس کی قیمت کے بقدر سونے ہوں ۔ یحییٰ کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ۱؎ تو سفیان نے کہا: ہم سے اسے زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا سفيان، عن حكيم بن جبير، عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد، عن ابيه، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال وله ما يغنيه جاءت يوم القيامة خموش - او خدوش - او كدوح - في وجهه " . فقيل يا رسول الله وما الغنى قال " خمسون درهما او قيمتها من الذهب " . قال يحيى فقال عبد الله بن عثمان لسفيان حفظي ان شعبة لا يروي عن حكيم بن جبير فقال سفيان فقد حدثناه زبيد عن محمد بن عبد الرحمن بن يزيد
بنی اسد کے ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی بقیع غرقد میں جا کر اترے، میری بیوی نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ کر لاؤ جو ہم کھائیں، پھر وہ لوگ اپنی محتاجی کا ذکر کرنے لگے، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے آپ کے پاس ایک شخص ملا، وہ آپ سے مانگ رہا تھا اور آپ اس سے کہہ رہے تھے: میرے پاس کچھ نہیں ہے جو میں تجھے دوں، آخر وہ ناراض ہو کر یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ میری عمر کی قسم، تم جسے چاہتے ہو دیتے ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے اوپر اس لیے غصہ ہو رہا ہے کیونکہ اسے دینے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے، تم میں سے جو سوال کرے اور اس کے پاس ایک اوقیہ ( چالیس درہم ) یا اس کے برابر مالیت ہو تو وہ الحاح کے ساتھ سوال کرنے کا مرتکب ہوتا ہے ۱؎ ، اسدی کہتے ہیں: میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: ہماری اونٹنی تو اوقیہ سے بہتر ہے، اوقیہ تو چالیس ہی درہم کا ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں: چنانچہ میں لوٹ آیا اور آپ سے کچھ بھی نہیں مانگا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقی آیا، آپ نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، «أو كما قال» یہاں تک کہ اللہ نے ہمیں غنی کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثوری نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے جیسے مالک نے کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن رجل، من بني اسد انه قال نزلت انا واهلي، ببقيع الغرقد فقال لي اهلي اذهب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسله لنا شييا ناكله فجعلوا يذكرون من حاجتهم فذهبت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدت عنده رجلا يساله ورسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا اجد ما اعطيك " . فتولى الرجل عنه وهو مغضب وهو يقول لعمري انك لتعطي من شيت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يغضب على ان لا اجد ما اعطيه من سال منكم وله اوقية او عدلها فقد سال الحافا " . قال الاسدي فقلت للقحة لنا خير من اوقية والاوقية اربعون درهما . قال فرجعت ولم اساله فقدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ذلك شعير او زبيب فقسم لنا منه - او كما قال - حتى اغنانا الله . قال ابو داود هكذا رواه الثوري كما قال مالك
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہو تو اس نے الحاف کیا ، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: میری اونٹنی یاقوتہ ایک اوقیہ سے بہتر ہے۔ ( ہشام کی روایت میں ہے: چالیس درہم سے بہتر ہے ) ، چنانچہ میں لوٹ آیا اور میں نے آپ سے کچھ نہیں مانگا ۱؎۔ ہشام کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ اوقیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس درہم کا ہوتا تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وهشام بن عمار، قالا حدثنا عبد الرحمن بن ابي الرجال، عن عمارة بن غزية، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد الخدري، عن ابيه ابي سعيد، قال قال رسول الله " من سال وله قيمة اوقية فقد الحف " . فقلت ناقتي الياقوتة هي خير من اوقية . قال هشام خير من اربعين درهما فرجعت فلم اساله شييا زاد هشام في حديثه وكانت الاوقية على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اربعين درهما
ابوکبشہ سلولی کہتے ہیں ہم سے سہل بن حنظلیہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس آئے، انہوں نے آپ سے مانگا، آپ نے انہیں ان کی مانگی ہوئی چیز دینے کا حکم دیا اور معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لیے خط لکھ دیں جو انہوں نے مانگا ہے، اقرع نے یہ خط لے کر اسے اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلے گئے لیکن عیینہ خط لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: محمد! کیا آپ چاہتے ہیں کہ اپنی قوم کے پاس ایسا خط لے کر جاؤں جو متلمس ۱؎ کے صحیفہ کی طرح ہو، جس کا مضمون مجھے معلوم نہ ہو؟ معاویہ نے ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سوال کرے اس حال میں کہ اس کے پاس ایسی چیز ہو جو اسے سوال سے بے نیاز کر دیتی ہو تو وہ جہنم کی آگ زیادہ کرنا چاہ رہا ہے ۔ ( ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے جہنم کی آگ کے بجائے جہنم کا انگارہ کہا ہے ) ۔ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کس قدر مال آدمی کو غنی کر دیتا ہے؟ ( نفیلی نے ایک دوسرے مقام پر کہا: غنی کیا ہے، جس کے ہوتے ہوئے سوال نہیں کرنا چاہیئے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی مقدار جسے وہ صبح و شام کھا سکے ۔ ایک دوسری جگہ میں نفیلی نے کہا: اس کے پاس ایک دن اور ایک رات یا ایک رات اور ایک دن کا کھانا ہو، نفیلی نے اسے مختصراً ہم سے انہیں الفاظ کے ساتھ بیان کیا جنہیں میں نے ذکر کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا مسكين، حدثنا محمد بن المهاجر، عن ربيعة بن يزيد، عن ابي كبشة السلولي، حدثنا سهل ابن الحنظلية، قال قدم على رسول الله عيينة بن حصن والاقرع بن حابس فسالاه فامر لهما بما سالا وامر معاوية فكتب لهما بما سالا فاما الاقرع فاخذ كتابه فلفه في عمامته وانطلق واما عيينة فاخذ كتابه واتى النبي صلى الله عليه وسلم مكانه فقال يا محمد اتراني حاملا الى قومي كتابا لا ادري ما فيه كصحيفة المتلمس . فاخبر معاوية بقوله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال وعنده ما يغنيه فانما يستكثر من النار " . وقال النفيلي في موضع اخر " من جمر جهنم " . فقالوا يا رسول الله وما يغنيه وقال النفيلي في موضع اخر وما الغنى الذي لا تنبغي معه المسالة قال " قدر ما يغديه ويعشيه " . وقال النفيلي في موضع اخر " ان يكون له شبع يوم وليلة او ليلة ويوم " . وكان حدثنا به مختصرا على هذه الالفاظ التي ذكرت
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد الله، - يعني ابن عمر بن غانم - عن عبد الرحمن بن زياد، انه سمع زياد بن نعيم الحضرمي، انه سمع زياد بن الحارث الصدايي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعته فذكر حديثا طويلا قال فاتاه رجل فقال اعطني من الصدقة . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله تعالى لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها هو فجزاها ثمانية اجزاء فان كنت من تلك الاجزاء اعطيتك حقك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور یا ایک دو لقمہ در بدر پھرائے، بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے سوال نہ کرتا ہو، اور نہ ہی لوگ اسے سمجھ پاتے ہوں کہ وہ مدد کا مستحق ہے کہ اسے دیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وزهير بن حرب، قالا حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان والاكلة والاكلتان ولكن المسكين الذي لا يسال الناس شييا ولا يفطنون به فيعطونه
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے اس میں ہے: لیکن مسکین سوال کرنے سے بچنے والا ہے، مسدد نے اپنی روایت میں اتنا بڑھایا ہے کہ ( مسکین وہ ہے ) جس کے پاس اتنا نہ ہو جتنا اس کے پاس ہوتا ہے جو سوال نہیں کرتا ہے، اور نہ ہی اس کی محتاجی کا حال لوگوں کو معلوم ہوتا ہو کہ اس پر صدقہ کیا جائے، اسی کو محروم کہتے ہیں، اور مسدد نے «المتعفف الذي لا يسأل»کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ثور اور عبدالرزاق نے معمر سے روایت کی ہے اور ان دونوں نے «فذاك المحروم» کو زہری کا کلام بتایا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا مسدد، وعبيد الله بن عمر، وابو كامل - المعنى - قالوا حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله قال " ولكن المسكين المتعفف " . زاد مسدد في حديثه " ليس له ما يستغني به الذي لا يسال ولا يعلم بحاجته فيتصدق عليه فذاك المحروم " . ولم يذكر مسدد " المتعفف الذي لا يسال " . قال ابو داود روى هذا محمد بن ثور وعبد الرزاق عن معمر جعلا المحروم من كلام الزهري وهذا اصح
عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ حجۃ الوداع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے بھی آپ سے مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پھر نظر جھکا لی، آپ نے ہمیں موٹا تازہ دیکھ کر فرمایا: اگر تم دونوں چاہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن اس میں مالدار کا کوئی حصہ نہیں اور نہ طاقتور کا جو مزدوری کر کے کما سکتا ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبيد الله بن عدي بن الخيار، قال اخبرني رجلان، انهما اتيا النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع وهو يقسم الصدقة فسالاه منها فرفع فينا البصر وخفضه فرانا جلدين فقال " ان شيتما اعطيتكما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صدقہ مالدار کے لیے حلال نہیں اور نہ طاقتور اور مضبوط آدمی کے لیے ( حلال ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سفیان نے سعد بن ابراہیم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے ابراہیم نے کہا ہے نیز اسے شعبہ نے سعد سے روایت کیا ہے، اس میں «لذي مرة سوي» کے بجائے «لذي مرة قوي» کے الفاظ ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بعض روایات میں «لذي مرة قوي» اور بعض میں «لذي مرة سوي» کے الفاظ ہیں۔ عطا بن زہیر کہتے ہیں: عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا: «إن الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي» ۔
حدثنا عباد بن موسى الانباري الختلي، حدثنا ابراهيم، - يعني ابن سعد - قال اخبرني ابي، عن ريحان بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي " . قال ابو داود رواه سفيان عن سعد بن ابراهيم كما قال ابراهيم ورواه شعبة عن سعد قال " لذي مرة قوي " . والاحاديث الاخر عن النبي صلى الله عليه وسلم بعضها " لذي مرة قوي " . وبعضها " لذي مرة سوي " . وقال عطاء بن زهير انه لقي عبد الله بن عمرو فقال ان الصدقة لا تحل لقوي ولا لذي مرة سوي
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مالدار کے لیے صدقہ لینا حلال نہیں سوائے پانچ لوگوں کے: اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے، یا زکاۃ کی وصولی کا کام کرنے والے کے لیے، یا مقروض کے لیے، یا ایسے شخص کے لیے جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا ہو، یا ایسے شخص کے لیے جس کا کوئی مسکین پڑوسی ہو اور اس مسکین پر صدقہ کیا گیا ہو پھر مسکین نے مالدار کو ہدیہ کر دیا ہو ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تحل الصدقة لغني الا لخمسة لغاز في سبيل الله او لعامل عليها او لغارم او لرجل اشتراها بماله او لرجل كان له جار مسكين فتصدق على المسكين فاهداها المسكين للغني