Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، میں سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے، تو کچھ عورتیں آئیں، بشر کی روایت میں ہے: پھر میرے پاس ( میری والدہ ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پر تھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں، تو آپ نے میرے ساتھ رات گزاری، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں، میں نے کہا: «هيه هيه» ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں: «هيه هيه» کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی ) ، عائشہ کہتی ہیں: پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ( پہلے سے بیٹھی ہوئی ) ہیں، انہوں نے «على الخير والبركة» کہہ کر مجھے دعا دی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا بشر بن خالد، حدثنا ابو اسامة، قالا حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوجني وانا بنت سبع سنين فلما قدمنا المدينة اتين نسوة - وقال بشر فاتتني ام رومان - وانا على ارجوحة فذهبن بي وهيانني وصنعنني فاتي بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فبنى بي وانا ابنة تسع فوقفت بي على الباب فقلت هيه هيه - قال ابو داود اى تنفست - فادخلت بيتا فاذا فيه نسوة من الانصار فقلن على الخير والبركة . دخل حديث احدهما في الاخر
ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے ( ان عورتوں نے کہا ) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا ( میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے ) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد، حدثنا ابو اسامة، مثله قال على خير طاير فسلمتني اليهن فغسلن راسي واصلحنني فلم يرعني الا رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى فاسلمنني اليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے، وہ مجھے لے گئیں، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی، اس وقت میں نو سال کی تھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها، قالت فلما قدمنا المدينة جاءني نسوة وانا العب على ارجوحة وانا مجممة فذهبن بي فهيانني وصنعنني ثم اتين بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فبنى بي وانا ابنة تسع سنين
ہشام بن عروہ سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، وہ مجھے ایک کوٹھری میں لے گئیں تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ہیں انہوں نے مجھے خیر و برکت کی دعائیں دیں۔
حدثنا بشر بن خالد، اخبرنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، باسناده في هذا الحديث قالت وانا على الارجوحة، ومعي، صواحباتي فادخلنني بيتا فاذا نسوة من الانصار فقلن على الخير والبركة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے، قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا محمد، - يعني ابن عمرو - عن يحيى، - يعني ابن عبد الرحمن بن حاطب - قال قالت عايشة رضى الله عنها فقدمنا المدينة فنزلنا في بني الحارث بن الخزرج - قالت - فوالله اني لعلى ارجوحة بين عذقين فجاءتني امي فانزلتني ولي جميمة . وساق الحديث
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے چوسر کھیلا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن موسى بن ميسرة، عن سعيد بن ابي هند، عن ابي موسى الاشعري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من لعب بالنرد فقد عصى الله ورسوله
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نردشیر ( چوسر ) کھیلا گویا اس نے اپنا ہاتھ سور کے گوشت اور خون میں ڈبو دیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن علقمة بن مرثد، عن سليمان بن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لعب بالنردشير فكانما غمس يده في لحم خنزير ودمه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا ( اپنی نظروں سے ) پیچھا کر رہا ہے ( یعنی اڑا رہا ہے ) تو آپ نے فرمایا: ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا يتبع حمامة فقال " شيطان يتبع شيطانة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي قابوس، مولى لعبد الله بن عمرو عن عبد الله بن عمرو، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " الراحمون يرحمهم الرحمن ارحموا اهل الارض يرحمكم من في السماء " . لم يقل مسدد مولى عبد الله بن عمرو وقال قال النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے صادق و مصدوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اس کمرے میں رہتے تھے ۱؎ فرماتے سنا ہے: رحمت ( مہربانی و شفقت ) صرف بدبخت ہی سے چھینی جاتی ہے ۲؎ ۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا ح، وحدثنا ابن كثير، قال اخبرنا شعبة، قال كتب الى منصور - قال ابن كثير في حديثه وقراته عليه وقلت اقول حدثني منصور فقال اذا قراته على فقد حدثتك به ثم اتفقا - عن ابي عثمان مولى المغيرة بن شعبة عن ابي هريرة قال سمعت ابا القاسم الصادق المصدوق صلى الله عليه وسلم صاحب هذه الحجرة يقول " لا تنزع الرحمة الا من شقي
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہنچانے ( اس کا ادب و احترام نہ کرے ) تو وہ ہم میں سے نہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، وابن السرح، قالا حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن ابن عامر، عن عبد الله بن عمرو، يرويه - قال ابن السرح - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يرحم صغيرنا ويعرف حق كبيرنا فليس منا
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن عطاء بن يزيد، عن تميم الداري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الدين النصيحة ان الدين النصيحة ان الدين النصيحة " . قالوا لمن يا رسول الله قال " لله وكتابه ورسوله وايمة المومنين وعامتهم وايمة المسلمين وعامتهم
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل بن ابي صالح، عن عطاء بن يزيد، عن تميم الداري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الدين النصيحة ان الدين النصيحة ان الدين النصيحة " . قالوا لمن يا رسول الله قال " لله وكتابه ورسوله وايمة المومنين وعامتهم وايمة المسلمين وعامتهم
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن يونس، عن عمرو بن سعيد، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير، قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة وان انصح لكل مسلم - قال - وكان اذا باع الشىء او اشتراه قال " اما ان الذي اخذنا منك احب الينا مما اعطيناك فاختر
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن يونس، عن عمرو بن سعيد، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن جرير، قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة وان انصح لكل مسلم - قال - وكان اذا باع الشىء او اشتراه قال " اما ان الذي اخذنا منك احب الينا مما اعطيناك فاختر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کر دے، تو اللہ اس کی قیامت کی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور فرمائے گا، اور جس نے کسی نادار و تنگ دست کے ساتھ آسانی و نرمی کا رویہ اپنایا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دنیا و آخرت میں آسانی کا رویہ اپنائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کا عیب چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے، جب تک کہ بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر، وعثمان، ابنا ابي شيبة - المعنى قالا حدثنا ابو معاوية، قال عثمان وجرير الرازي ح وحدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا اسباط، عن الاعمش، عن ابي صالح، - وقال واصل قال حدثت عن ابي صالح، ثم اتفقوا - عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من نفس عن مسلم كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب يوم القيامة - ومن يسر على معسر يسر الله عليه في الدنيا والاخرة ومن ستر على مسلم ستر الله عليه في الدنيا والاخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه " . قال ابو داود لم يذكر عثمان عن ابي معاوية " ومن يسر على معسر
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بھلی بات صدقہ ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي مالك الاشجعي، عن ربعي بن حراش، عن حذيفة، قال قال نبيكم صلى الله عليه وسلم " كل معروف صدقة
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے باپ دادا کے ناموں کے ساتھ پکارے جاؤ گے، تو اپنے نام اچھے رکھا کرو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن ابی زکریا نے ابودرداء کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، قال اخبرنا ح، وحدثنا مسدد، قال حدثنا هشيم، عن داود بن عمرو، عن عبد الله بن ابي زكرياء، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم تدعون يوم القيامة باسمايكم واسماء ابايكم فاحسنوا اسماءكم " . قال ابو داود ابن ابي زكرياء لم يدرك ابا الدرداء
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔
حدثنا ابراهيم بن زياد، سبلان حدثنا عباد بن عباد، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الاسماء الى الله تعالى عبد الله وعبد الرحمن
ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، انہیں شرف صحبت حاصل ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انبیاء کے نام رکھا کرو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب و پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں، اور سب سے سچے نام حارث و ہمام ہیں ۱؎، اور سب سے نا پسندیدہ و قبیح نام حرب و مرہ ہیں ۲؎۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا هشام بن سعيد الطالقاني، اخبرنا محمد بن المهاجر الانصاري، قال حدثني عقيل بن شبيب، عن ابي وهب الجشمي، وكانت، له صحبة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسموا باسماء الانبياء واحب الاسماء الى الله عبد الله وعبد الرحمن واصدقها حارث وهمام واقبحها حرب ومرة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن ابی طلحہ کی پیدائش پر میں ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ اس وقت عبا پہنے ہوئے تھے، اور اپنے ایک اونٹ کو دوا لگا رہے تھے، آپ نے پوچھا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: ہاں، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی کھجوریں پکڑائیں، آپ نے ان کو اپنے منہ میں ڈالا اور چبا کر بچے کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں ڈال دیا تو بچہ منہ چلا کر چوسنے لگا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کی پسندیدہ چیز کھجور ہے اور آپ نے اس لڑکے کا نام عبداللہ رکھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، قال ذهبت بعبد الله بن ابي طلحة الى النبي صلى الله عليه وسلم حين ولد والنبي صلى الله عليه وسلم في عباءة يهنا بعيرا له قال " هل معك تمر " . قلت نعم - قال - فناولته تمرات فالقاهن في فيه فلاكهن ثم فغر فاه فاوجرهن اياه فجعل الصبي يتلمظ فقال النبي صلى الله عليه وسلم " حب الانصار التمر " . وسماه عبد الله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير اسم عاصية وقال " انت جميلة