Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے تو جب وہ ( تین دن کے بعد ) اس سے ملے اسے تین مرتبہ سلام کرے، اور وہ ایک بار بھی سلام کا جواب نہ دے تو وہ اپنا گناہ لے کر لوٹے گا ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا محمد بن خالد بن عثمة، حدثنا عبد الله بن المنيب، - يعني المدني - قال اخبرنا هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يكون لمسلم ان يهجر مسلما فوق ثلاثة فاذا لقيه سلم عليه ثلاث مرار كل ذلك لا يرد عليه فقد باء باثمه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، لہٰذا جو تین سے زیادہ چھوڑے رکھے پھر وہ ( بغیر توبہ کے اسی حال میں ) مر جائے تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا سفيان الثوري، عن منصور، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار
ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن حيوة، عن ابي عثمان الوليد بن ابي الوليد، عن عمران بن ابي انس، عن ابي خراش السلمي، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من هجر اخاه سنة فهو كسفك دمه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دوشنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر ان دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کی جاتی ہے، جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتا البتہ اس بندے کی نہیں جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان دشمنی اور رقابت ہو، پھر کہا جاتا ہے: ان دونوں ( کی مغفرت ) کو ابھی رہنے دو جب تک کہ یہ صلح نہ کر لیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض ازواج مطہرات کو چالیس دن تک چھوڑے رکھا، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ایک بیٹے سے بات چیت بند رکھی یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ قطع کلامی اگر اللہ کے لیے ہو ۱؎ تو اس میں کوئی حرج نہیں اور عمر بن عبدالعزیز نے ایک شخص سے اپنا چہرہ ڈھانک لیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تفتح ابواب الجنة كل يوم اثنين وخميس فيغفر في ذلك اليومين لكل عبد لا يشرك بالله شييا الا من بينه وبين اخيه شحناء فيقال انظروا هذين حتى يصطلحا " . قال ابو داود النبي صلى الله عليه وسلم هجر بعض نسايه اربعين يوما وابن عمر هجر ابنا له الى ان مات . قال ابو داود اذا كانت الهجرة لله فليس من هذا بشىء وان عمر بن عبد العزيز غطى وجهه عن رجل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظن و گمان کے پیچھے پڑنے سے بچو یا بدگمانی سے بچو، اس لیے کہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے، نہ ٹوہ میں پڑو اور نہ جاسوسی کرو ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والظن فان الظن اكذب الحديث ولا تحسسوا ولا تجسسوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن مومن کا آئینہ ہے، اور مومن مومن کا بھائی ہے، وہ اس کی جائیداد کی نگرانی کرتا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرتا ہے ۔
حدثنا الربيع بن سليمان الموذن، حدثنا ابن وهب، عن سليمان، - يعني ابن بلال - عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رباح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المومن مراة المومن والمومن اخو المومن يكف عليه ضيعته ويحوطه من ورايه
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جو درجے میں روزے، نماز اور زکاۃ سے بڑھ کر ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ نے فرمایا: آپس میں میل جول کرا دینا، اور آپس کی لڑائی اور پھوٹ تو سر مونڈنے والی ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سالم، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم بافضل من درجة الصيام والصلاة والصدقة " . قالوا بلى . قال " اصلاح ذات البين وفساد ذات البين الحالقة
ام حمید بن عبدالرحمٰن (ام کلثوم) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے جھوٹ نہیں بولا جس نے دو آدمیوں میں صلح کرانے کے لیے کوئی بات خود سے بنا کر کہی۔ احمد بن محمد اور مسدد کی روایت میں ہے، وہ جھوٹا نہیں ہے: جس نے لوگوں میں صلح کرائی اور کوئی اچھی بات کہی یا کوئی اچھی بات پہنچائی ۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا سفيان، عن الزهري، ح وحدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، ح وحدثنا احمد بن محمد بن شبوية المروزي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن امه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لم يكذب من نمى بين اثنين ليصلح " . وقال احمد بن محمد ومسدد " ليس بالكاذب من اصلح بين الناس فقال خيرا او نمى خيرا
ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دیتے نہیں سنا، سوائے تین باتوں کے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، ایک یہ کہ کوئی لوگوں کے درمیان صلح کرائے اور کوئی بات بنا کر کہے، اور اس کا مقصد اس سے صرف صلح کرانی ہو، دوسرے یہ کہ ایک شخص جنگ میں کوئی بات بنا کر کہے، تیسرے یہ کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کوئی بات بنا کر کہے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات بنا کر کہے۔
حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي، حدثنا ابو الاسود، عن نافع، - يعني ابن يزيد - عن ابن الهاد، ان عبد الوهاب بن ابي بكر، حدثه عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن امه ام كلثوم بنت عقبة، قالت ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرخص في شىء من الكذب الا في ثلاث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا اعده كاذبا الرجل يصلح بين الناس يقول القول ولا يريد به الا الاصلاح والرجل يقول في الحرب والرجل يحدث امراته والمراة تحدث زوجها
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس اس صبح آئے، جس رات میرا شب زفاف ہوا تھا تو آپ میرے بستر پر ایسے بیٹھ گئے جیسے تم ( خالد بن ذکوان ) بیٹھے ہو، پھر ( انصار کی ) کچھ بچیاں اپنے دف بجانے لگیں اور اپنے غزوہ بدر کی شہید ہونے والے آباء و اجداد کا اوصاف ذکر کرنے لگیں یہاں تک کہ ان میں سے ایک نے کہا: اور ہمارے بیچ ایک ایسا نبی ہے جو کل ہونے والی باتوں کو بھی جانتا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی کہو جو تم پہلے کہہ رہی تھیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، عن خالد بن ذكوان، عن الربيع بنت معوذ بن عفراء، قالت جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل على صبيحة بني بي فجلس على فراشي كمجلسك مني فجعلت جويريات يضربن بدف لهن ويندبن من قتل من ابايي يوم بدر الى ان قالت احداهن وفينا نبي يعلم ما في غد . فقال " دعي هذه وقولي الذي كنت تقولين
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو حبشی آپ کی آمد پر خوش ہو کر خوب کھیلے اور اپنی برچھیاں لے کر کھیلے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ثابت، عن انس، قال لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة لعبت الحبشة لقدومه فرحا بذلك لعبوا بحرابهم
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہو گئے اور مجھ سے کہا: اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا: نہیں، تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکالیں، اور فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس جیسی آواز سنی تو آپ نے بھی اسی طرح کیا۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: یہ حدیث منکر ہے۔
حدثنا احمد بن عبيد الله الغداني، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن سليمان بن موسى، عن نافع، قال سمع ابن عمر، مزمارا - قال - فوضع اصبعيه على اذنيه وناى عن الطريق وقال لي يا نافع هل تسمع شييا قال فقلت لا . قال فرفع اصبعيه من اذنيه وقال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم فسمع مثل هذا فصنع مثل هذا . قال ابو علي اللولوي سمعت ابا داود يقول هذا حديث منكر
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے سوار تھا، کہ ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا جو بانسری بجا رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا ابي، حدثنا مطعم بن المقدام، قال حدثنا نافع، قال كنت ردف ابن عمر اذ مر براع يزمر فذكر نحوه . قال ابو داود ادخل بين مطعم ونافع سليمان بن موسى
نافع کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا تو آپ نے ایک بانسری بجانے والے کی آواز سنی پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ ان احادیث میں سب سے زیادہ منکر ہے ۱؎۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، قال حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، قال حدثنا ابو المليح، عن ميمون، عن نافع، قال كنا مع ابن عمر فسمع صوت، زامر فذكر نحوه . قال ابو داود وهذا انكرها
سلام بن مسکین ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں جو ابووائل کے ساتھ ایک ولیمہ میں موجود تھے تو لوگ کھیل کود اور گانے بجانے میں لگے گئے، تو ابووائل نے اپنا حبوہ ۱؎ کھولا اور بولے: میں نے عبداللہ بن مسعود کو کہتے سنا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: گانا بجانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا سلام بن مسكين، عن شيخ، شهد ابا وايل في وليمة فجعلوا يلعبون يتلعبون يغنون فحل ابو وايل حبوته وقال سمعت عبد الله يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الغناء ينبت النفاق في القلب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہجڑا لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگا رکھی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کیا حال ہے؟ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! یہ عورتوں جیسا بنتا ہے، آپ نے حکم دیا تو اسے نقیع کی طرف نکال دیا گیا، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اسے قتل نہ کر دیں؟، آپ نے فرمایا: مجھے نماز پڑھنے والوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے نقیع مدینے کے نواح میں ایک جگہ ہے اس سے مراد بقیع ( مدینہ کا قبرستان ) نہیں ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، ومحمد بن العلاء، ان ابا اسامة، اخبرهم عن مفضل بن يونس، عن الاوزاعي، عن ابي يسار القرشي، عن ابي هاشم، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتي بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما بال هذا " . فقيل يا رسول الله يتشبه بالنساء . فامر به فنفي الى النقيع فقالوا يا رسول الله الا نقتله فقال " اني نهيت عن قتل المصلين " . قال ابو اسامة والنقيع ناحية عن المدينة وليس بالبقيع
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ان کے پاس ایک ہجڑا بیٹھا ہوا تھا اور وہ ان کے بھائی عبداللہ سے کہہ رہا تھا: اگر کل اللہ طائف کو فتح کرا دے تو میں تمہیں ایک عورت بتاؤں گا، کہ جب وہ سامنے سے آتی ہے تو چار سلوٹیں لے کر آتی ہے، اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں لے کر جاتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تقبل بأربع» کا مطلب ہے عورت کے پیٹ میں چار سلوٹیں ہوتی ہیں یعنی پیٹ میں چربی چھا جانے کی وجہ سے خوب موٹی اور تیار ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن هشام، - يعني ابن عروة - عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وعندها مخنث وهو يقول لعبد الله اخيها ان يفتح الله الطايف غدا دللتك على امراة تقبل باربع وتدبر بثمان . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اخرجوهم من بيوتكم " . قال ابو داود المراة كان لها اربع عكن في بطنها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زنانے مردوں اور مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا: انہیں اپنے گھروں سے نکال دو اور فلاں فلاں کو نکال دو یعنی ہجڑوں کو۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم لعن المخنثين من الرجال والمترجلات من النساء وقال " اخرجوهم من بيوتكم واخرجوا فلانا وفلانا " . يعني المخنثين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، کبھی کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آتے، میرے پاس لڑکیاں ہوتیں، تو جب آپ اندر آتے تو وہ باہر نکل جاتیں اور جب آپ باہر نکل جاتے تو وہ اندر آ جاتیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت العب بالبنات فربما دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي الجواري فاذا دخل خرجن واذا خرج دخلن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک یا خیبر سے آئے، اور ان کے گھر کے طاق پر پردہ پڑا تھا، اچانک ہوا چلی، تو پردے کا ایک کونا ہٹ گیا، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی گڑیاں نظر آنے لگیں، آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میری گڑیاں ہیں، آپ نے ان گڑیوں میں ایک گھوڑا دیکھا جس میں کپڑے کے دو پر لگے ہوئے تھے، پوچھا: یہ کیا ہے جسے میں ان کے بیچ میں دیکھ رہا ہوں؟ وہ بولیں: گھوڑا، آپ نے فرمایا: اور یہ کیا ہے جو اس پر ہے؟ وہ بولیں: دو بازو، آپ نے فرمایا: گھوڑے کے بھی بازو ہوتے ہیں؟ وہ بولیں: کیا آپ نے نہیں سنا کہ سلیمان علیہ السلام کا ایک گھوڑا تھا جس کے بازو تھے، یہ سن کر آپ ہنس پڑے یہاں تک کہ میں نے آپ کی داڑھیں دیکھ لیں۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا يحيى بن ايوب، قال حدثني عمارة بن غزية، ان محمد بن ابراهيم، حدثه عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من غزوة تبوك او خيبر وفي سهوتها ستر فهبت ريح فكشفت ناحية الستر عن بنات لعايشة لعب فقال " ما هذا يا عايشة " . قالت بناتي . وراى بينهن فرسا له جناحان من رقاع فقال " ما هذا الذي ارى وسطهن " . قالت فرس . قال " وما هذا الذي عليه " . قالت جناحان . قال " فرس له جناحان " . قالت اما سمعت ان لسليمان خيلا لها اجنحة قالت فضحك حتى رايت نواجذه