Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ ( خود ) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے ( کسی ظالم ) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه من كان في حاجة اخيه فان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہو گا جس نے ابتداء کی ہو گی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے ( اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہو گا ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المستبان ما قالا فعلى البادي منهما ما لم يعتد المظلوم
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے ۔
حدثنا احمد بن حفص، قال حدثني ابي، حدثني ابراهيم بن طهمان، عن الحجاج، عن قتادة، عن يزيد بن عبد الله، عن عياض بن حمار، انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله اوحى الى ان تواضعوا حتى لا يبغي احد على احد ولا يفخر احد على احد
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر رضی اللہ عنہ اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھ سے ناراض ہو گئے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آ پڑا پھر جب شیطان آ پڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث، عن سعيد المقبري، عن بشير بن المحرر، عن سعيد بن المسيب، انه قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم جالس ومعه اصحابه وقع رجل بابي بكر فاذاه فصمت عنه ابو بكر ثم اذاه الثانية فصمت عنه ابو بكر ثم اذاه الثالثة فانتصر منه ابو بكر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انتصر ابو بكر فقال ابو بكر اوجدت على يا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نزل ملك من السماء يكذبه بما قال لك فلما انتصرت وقع الشيطان فلم اكن لاجلس اذ وقع الشيطان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، ان رجلا، كان يسب ابا بكر وساق نحوه . قال ابو داود وكذلك رواه صفوان بن عيسى عن ابن عجلان، كما قال سفيان
ابن عون کہتے ہیں آیت کریمہ «ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل» اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد ( برابر کا ) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں ( سورۃ الشوریٰ: ۴۱ ) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، ( ابن عون کہتے ہیں: لوگ کہتے ہیں کہ وہ ( ام محمد ) ام المؤمنین ۱؎ کے پاس جایا کرتی تھیں ) ام محمد کہتی ہیں: ام المؤمنین نے کہا: میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے ( جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے ) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتا دیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا: تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آ گئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں ( کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں ) پھر فاطمہ رضی اللہ عنہا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کرنے ) آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ ( یعنی عائشہ ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا: میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي ح، وحدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا معاذ بن معاذ، - المعنى واحد - قال حدثنا ابن عون، قال كنت اسال عن الانتصار، { ولمن انتصر بعد ظلمه فاوليك ما عليهم من سبيل } فحدثني علي بن زيد بن جدعان عن ام محمد امراة ابيه قال ابن عون وزعموا انها كانت تدخل على ام المومنين قالت قالت ام المومنين دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندنا زينب بنت جحش فجعل يصنع شييا بيده فقلت بيده حتى فطنته لها فامسك واقبلت زينب تقحم لعايشة رضى الله عنها فنهاها فابت ان تنتهي فقال لعايشة " سبيها " فسبتها فغلبتها فانطلقت زينب الى علي رضى الله عنه فقالت ان عايشة رضى الله عنها وقعت بكم وفعلت . فجاءت فاطمة فقال لها " انها حبة ابيك ورب الكعبة " . فانصرفت فقالت لهم اني قلت له كذا وكذا فقال لي كذا وكذا . قال وجاء علي رضى الله عنه الى النبي صلى الله عليه وسلم فكلمه في ذلك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارا ساتھی ( یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو ) مر جائے تو اسے چھوڑ دو ۱؎ اس کے عیوب نہ بیان کرو۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وكيع، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مات صاحبكم فدعوه لا تقعوا فيه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا معاوية بن هشام، عن عمران بن انس المكي، عن عطاء، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذكروا محاسن موتاكم وكفوا عن مساويهم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا: باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا: باز رہ اس نے کہا: قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے ( اپنا کام کرو ) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کر لی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا: تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا، جو میرے دست قدرت میں ہے؟ اور گنہگار سے کہا: جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہو جا، اور دوسرے کے متعلق کہا: اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کر دی۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، اخبرنا علي بن ثابت، عن عكرمة بن عمار، قال حدثني ضمضم بن جوس، قال قال ابو هريرة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كان رجلان في بني اسراييل متاخيين فكان احدهما يذنب والاخر مجتهد في العبادة فكان لا يزال المجتهد يرى الاخر على الذنب فيقول اقصر . فوجده يوما على ذنب فقال له اقصر فقال خلني وربي ابعثت على رقيبا فقال والله لا يغفر الله لك او لا يدخلك الله الجنة . فقبض ارواحهما فاجتمعا عند رب العالمين فقال لهذا المجتهد اكنت بي عالما او كنت على ما في يدي قادرا وقال للمذنب اذهب فادخل الجنة برحمتي وقال للاخر اذهبوا به الى النار " . قال ابو هريرة والذي نفسي بيده لتكلم بكلمة اوبقت دنياه واخرته
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم و بغاوت اور قطع رحمی ( رشتہ ناتا توڑنے ) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن علية، عن عيينة بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي بكرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من ذنب اجدر ان يعجل الله تعالى لصاحبه العقوبة في الدنيا - مع ما يدخر له في الاخرة - مثل البغى وقطيعة الرحم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو ( کھا لیتی ہے ) ۔
حدثنا عثمان بن صالح البغدادي، حدثنا ابو عامر، - يعني عبد الملك بن عمرو - حدثنا سليمان بن بلال، عن ابراهيم بن ابي اسيد، عن جده، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والحسد فان الحسد ياكل الحسنات كما تاكل النار الحطب " . او قال " العشب
سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کر لیتا ہوں، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ۲؎ کہ تم پر سختی کی جائے۳؎ اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کر دی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبانیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا: کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا: ہاں ( کرتے ہیں ) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہو چکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو؟ میں نے کہا: مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا؟ ( یعنی میں نہیں جانتا ) تو انس نے کہا: یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کر دیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کر دیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم جسم اور زبان بھی اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني سعيد بن عبد الرحمن بن ابي العمياء، ان سهل بن ابي امامة، حدثه انه، دخل هو وابوه على انس بن مالك بالمدينة في زمان عمر بن عبد العزيز وهو امير المدينة فاذا هو يصلي صلاة خفيفة دقيقة كانها صلاة مسافر او قريبا منها فلما سلم قال ابي يرحمك الله ارايت هذه الصلاة المكتوبة او شىء تنفلته قال انها المكتوبة وانها لصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اخطات الا شييا سهوت عنه - فقال - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " لا تشددوا على انفسكم فيشدد عليكم فان قوما شددوا على انفسهم فشدد الله عليهم فتلك بقاياهم في الصوامع والديار { رهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم } " . ثم غدا من الغد فقال الا تركب لتنظر ولتعتبر قال نعم فركبوا جميعا فاذا هم بديار باد اهلها وانقضوا وفنوا خاوية على عروشها فقال " اتعرف هذه الديار " . فقلت ما اعرفني بها وباهلها هذه ديار قوم اهلكهم البغى والحسد ان الحسد يطفي نور الحسنات والبغى يصدق ذلك او يكذبه والعين تزني والكف والقدم والجسد واللسان والفرج يصدق ذلك او يكذبه
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہو جاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا الوليد بن رباح، قال سمعت نمران، يذكر عن ام الدرداء، قالت سمعت ابا الدرداء، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان العبد اذا لعن شييا صعدت اللعنة الى السماء فتغلق ابواب السماء دونها ثم تهبط الى الارض فتغلق ابوابها دونها ثم تاخذ يمينا وشمالا فاذا لم تجد مساغا رجعت الى الذي لعن فان كان لذلك اهلا والا رجعت الى قايلها " . قال ابو داود قال مروان بن محمد هو رباح بن الوليد سمع منه وذكر ان يحيى بن حسان وهم فيه
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ۱؎ ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تلاعنوا بلعنة الله ولا بغضب الله ولا بالنار
ام الدرداء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہو سکتے ہیں اور نہ گواہ ۱؎ ۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا هشام بن سعد، عن ابي حازم، وزيد بن اسلم، ان ام الدرداء، قالت سمعت ابا الدرداء، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يكون اللعانون شفعاء ولا شهداء
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی ( مسلم کی روایت میں اس طرح ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، ح وحدثنا زيد بن اخزم الطايي، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا ابان بن يزيد العطار، حدثنا قتادة، عن ابي العالية، - قال زيد - عن ابن عباس، ان رجلا، لعن الريح - وقال مسلم ان رجلا نازعته الريح رداءه على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فلعنها - فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تلعنها فانها مامورة وانه من لعن شييا ليس له باهل رجعت اللعنة عليه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کی کوئی چیز چوری ہو گئی، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ( چور ) سے عذاب کو ہلکا نہ کر ۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا سفيان، عن حبيب، عن عطاء، عن عاي��شة، رضى الله عنها قالت سرق لها شىء فجعلت تدعو عليه فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبخي عنه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ ( یعنی ملاقات ترک نہ کرو ) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا وكونوا عباد الله اخوانا ولا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاث ليال
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه فوق ثلاثة ايام يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا وخيرهما الذي يبدا بالسلام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، واحمد بن سعيد السرخسي، ان ابا عامر، اخبرهم قال حدثنا محمد بن هلال، قال حدثني ابي، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لمومن ان يهجر مومنا فوق ثلاث فان مرت به ثلاث فليلقه فليسلم عليه فان رد عليه السلام فقد اشتركا في الاجر وان لم يرد عليه فقد باء بالاثم " . زاد احمد " وخرج المسلم من الهجرة