Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے دنیا میں دو رخ ہوں گے قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی دو زبانیں ہوں گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا شريك، عن الركين بن الربيع، عن نعيم بن حنظلة، عن عمار، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان له وجهان في الدنيا كان له يوم القيامة لسانان من نار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! غیبت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا کہ اسے ناگوار ہو عرض کیا گیا: اور اگر میرے بھائی میں وہ چیز پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ چیز اس کے اندر ہے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر جو تم کہہ رہے ہو اس کے اندر نہیں ہے تو تم نے اس پر بہتان باندھا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن العلاء، عن ابيه، عن ابي هريرة، انه قيل يا رسول الله ما الغيبة قال " ذكرك اخاك بما يكره " . قيل افرايت ان كان في اخي ما اقول قال " ان كان فيه ما تقول فقد اغتبته وان لم يكن فيه ما تقول فقد بهته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کے لیے تو صفیہ رضی اللہ عنہا کا یہ اور یہ عیب ہی کافی ہے، یعنی پستہ قد ہونا تو آپ نے فرمایا: تم نے ایسی بات کہی ہے کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں گھول دی جائے تو وہ اس پر بھی غالب آ جائے اور میں نے ایک شخص کی نقل کی تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی انسان کی نقل کروں اگرچہ میرے لیے اتنا اور اتنا ( مال ) ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني علي بن الاقمر، عن ابي حذيفة، عن عايشة، قالت قلت للنبي صلى الله عليه وسلم حسبك من صفية كذا وكذا قال غير مسدد تعني قصيرة . فقال " لقد قلت كلمة لو مزجت بماء البحر لمزجته " . قالت وحكيت له انسانا فقال " ما احب اني حكيت انسانا وان لي كذا وكذا
سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی کرے ۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا ابو اليمان، حدثنا شعيب، حدثنا عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نوفل بن مساحق، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان من اربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغير حق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے گناہوں میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی ناحق کسی مسلمان کی بے عزتی میں زبان دراز کرے، اور یہ بھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے کہ ایک گالی کے بدلے دو گالیاں دی جائیں ۔
حدثنا جعفر بن مسافر، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، قال حدثنا زهير، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اكبر الكباير استطالة المرء في عرض رجل مسلم بغير حق ومن الكباير السبتان بالسبة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مجھے معراج کرائی گئی، تو میرا گزر ایسے لوگوں پر سے ہوا، جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ ان سے اپنے منہ اور سینے نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: جبرائیل! یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ وہ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے ( غیبت کرتے ) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے یحییٰ بن عثمان نے بیان کیا ہے اور بقیہ سے روایت کر رہے تھے، اس میں انس موجود نہیں ہیں۔
حدثنا ابن المصفى، حدثنا بقية، وابو المغيرة، قالا حدثنا صفوان، قال حدثني راشد بن سعد، وعبد الرحمن بن جبير، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما عرج بي مررت بقوم لهم اظفار من نحاس يخمشون وجوههم وصدورهم فقلت من هولاء يا جبريل قال هولاء الذين ياكلون لحوم الناس ويقعون في اعراضهم " . قال ابو داود حدثناه يحيى بن عثمان عن بقية ليس فيه انس
ابومغیرہ سے بھی اسی طرح مروی ہے جیسا کہ ابن مصفیٰ نے روایت کیا ہے۔
حدثنا عيسى بن ابي عيسى السيلحيني، عن ابي المغيرة، كما قال ابن المصفى
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی زبان سے اور حال یہ ہے کہ ایمان اس کے دل میں داخل نہیں ہوا ہے مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کے پیچھے نہ پڑو، اس لیے کہ جو ان کے عیوب کے پیچھے پڑے گا، اللہ اس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اور اللہ جس کے عیب کے پیچھے پڑے گا، اسے اسی کے گھر میں ذلیل و رسوا کر دے گا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا الاسود بن عامر، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن سعيد بن عبد الله بن جريج، عن ابي برزة الاسلمي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر من امن بلسانه ولم يدخل الايمان قلبه لا تغتابوا المسلمين ولا تتبعوا عوراتهم فانه من اتبع عوراتهم يتبع الله عورته ومن يتبع الله عورته يفضحه في بيته
مستورد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک نوالا کھائے گا تو اس کو اللہ اتنا ہی جہنم سے کھلائے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کا عیب بیان کر کے ایک کپڑا پہنے گا تو اللہ اسے اسی جیسا لباس جہنم میں پہنائے گا، اور جو شخص کسی شخص کو شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچائے گا تو قیامت کے دن اللہ اسے خوب شہرت اور ریا کے مقام پر پہنچا دے گا ( یعنی اس کی ایسی رسوائی ہو گی کہ سارے لوگوں میں اس کا چرچا ہو گا ) ۔
حدثنا حيوة بن شريح المصري، حدثنا بقية، عن ابن ثوبان، عن ابيه، عن مكحول، عن وقاص بن ربيعة، عن المستورد، انه حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكل برجل مسلم اكلة فان الله يطعمه مثلها من جهنم ومن كسي ثوبا برجل مسلم فان الله يكسوه مثله من جهنم ومن قام برجل مقام سمعة ورياء فان الله يقوم به مقام سمعة ورياء يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی ہر چیز اس کا مال، اس کی عزت اور اس کا خون دوسرے مسلمان پر حرام ہے، اور آدمی میں اتنی سی برائی ہونا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، حدثنا اسباط بن محمد، عن هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل المسلم على المسلم حرام ماله وعرضه ودمه حسب امري من الشر ان يحقر اخاه المسلم
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کی عزت و آبرو کی کسی منافق سے حفاظت کرے گا تو اللہ ایک فرشتہ بھیجے گا جو قیامت کے دن اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا اور جو شخص کسی مسلمان پر تہمت لگائے گا، اس سے اس کا مقصد اسے مطعون کرنا ہو تو اللہ اسے جہنم کے پل پر روکے رکھے گا یہاں تک کہ جو اس نے جو کچھ کہا ہے اس سے نکل جائے۔
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء بن عبيد، حدثنا ابن المبارك، عن يحيى بن ايوب، عن عبد الله بن سليمان، عن اسماعيل بن يحيى المعافري، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حمى مومنا من منافق " . اراه قال " بعث الله ملكا يحمي لحمه يوم القيامة من نار جهنم ومن رمى مسلما بشىء يريد شينه به حبسه الله على جسر جهنم حتى يخرج مما قال
جابربن عبداللہ اور ابوطلحہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان شخص کو کسی ایسی جگہ میں ذلیل کرے گا، جہاں اس کی بے عزتی کی جائے اس کی عزت میں کمی آئے تو اللہ اسے ایسی جگہ ذلیل کرے گا، جہاں وہ اس کی مدد چاہے گا، اور جو کسی مسلمان کی ایسی جگہ میں مدد کرے گا جہاں اس کی عزت میں کمی آ رہی ہو اور اس کی آبرو جا رہی ہو تو اللہ اس کی ایسی جگہ پر مدد کرے گا، جہاں پر اس کو اللہ کی مدد محبوب ہو گی ۔
حدثنا اسحاق بن الصباح، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا الليث، قال حدثني يحيى بن سليم، انه سمع اسماعيل بن بشير، يقول سمعت جابر بن عبد الله، وابا، طلحة بن سهل الانصاري يقولان قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من امري يخذل امرا مسلما في موضع تنتهك فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه الا خذله الله في موطن يحب فيه نصرته وما من امري ينصر مسلما في موضع ينتقص فيه من عرضه وينتهك فيه من حرمته الا نصره الله في موطن يحب نصرته " . قال يحيى وحدثنيه عبيد الله بن عبد الله بن عمر وعقبة بن شداد . قال ابو داود يحيى بن سليم هذا هو ابن زيد مولى النبي صلى الله عليه وسلم واسماعيل بن بشير مولى بني مغالة وقد قيل عتبة بن شداد موضع عقبة
ابوعبداللہ جشمی کہتے ہیں کہ ہم سے جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی آیا اس نے اپنی سواری بٹھائی پھر اسے باندھا، اس کے بعد وہ مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نے سلام پھیرا تو وہ اپنی سواری کے پاس آیا، اسے اس نے کھولا پھر اس پر سوار ہوا اور پکار کر کہا: اے اللہ! مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے اس رحم میں کسی اور کو شامل نہ کر ( یعنی کسی اور پر رحم نہ فرما ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کیا کہتے ہو؟ یہ زیادہ نادان ہے یا اس کا اونٹ؟ کیا تم نے وہ نہیں سنا جو اس نے کہا؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور سنا ہے ۔
حدثنا علي بن نصر، اخبرنا عبد الصمد بن عبد الوارث، من كتابه قال حدثني ابي، حدثنا الجريري، عن ابي عبد الله الجشمي، قال حدثنا جندب، قال جاء اعرابي فاناخ راحلته ثم عقلها ثم دخل المسجد فصلى خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى راحلته فاطلقها ثم ركب ثم نادى اللهم ارحمني ومحمدا ولا تشرك في رحمتنا احدا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتقولون هو اضل ام بعيره الم تسمعوا الى ما قال " . قالوا بلى
قتادہ کہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص ابوضیغم یا ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہے، وہ جب صبح کرتے تو کہتے: اے اللہ میں نے اپنی عزت و آبرو کو تیرے بندوں پر صدقہ کر دیا ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا ابن ثور، عن معمر، عن قتادة، قال ايعجز احدكم ان يكون، مثل ابي ضيغم - او ضمضم شك ابن عبيد - كان اذا اصبح قال اللهم اني قد تصدقت بعرضي على عبادك
عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك» ) کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني» ) ( میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن عبد الرحمن بن عجلان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايعجز احدكم ان يكون مثل ابي ضمضم " . قالوا ومن ابو ضمضم قال " رجل فيمن كان من قبلكم " . بمعناه قال " عرضي لمن شتمني " . قال ابو داود رواه هاشم بن القاسم قال عن محمد بن عبد الله العمي عن ثابت قال حدثنا انس عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود وحديث حماد اصح
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم لوگوں کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو گے، تو تم ان میں بگاڑ پیدا کر دو گے، یا قریب ہے کہ ان میں اور بگاڑ پیدا کر دو ۱؎۔ ابو الدرداء کہتے ہیں: یہ وہ کلمہ ہے جسے معاویہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور اللہ نے انہیں اس سے فائدہ پہنچایا ہے۔
حدثنا عيسى بن محمد الرملي، وابن، عوف - وهذا لفظه - قالا حدثنا الفريابي، عن سفيان، عن ثور، عن راشد بن سعد، عن معاوية، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انك ان اتبعت عورات الناس افسدتهم او كدت ان تفسدهم " . فقال ابو الدرداء كلمة سمعها معاوية من رسول الله صلى الله عليه وسلم نفعه الله تعالى بها
جبیر بن نفیر، کثیر بن مرہ، عمرو بن اسود، مقدام بن معد یکرب اور ابوامامہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حاکم جب لوگوں کے معاملات میں بدگمانی اور تہمت پر عمل کرے گا تو انہیں بگاڑ دے گا ۔
حدثنا سعيد بن عمرو الحضرمي، حدثنا اسماعيل بن عياش، حدثنا ضمضم بن زرعة، عن شريح بن عبيد، عن جبير بن نفير، وكثير بن مرة، وعمرو بن الاسود، والمقدام بن معديكرب، وابي، امامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الامير اذا ابتغى الريبة في الناس افسدهم
زید بن وہب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی آدمی کو لایا گیا اور کہا گیا: یہ فلاں شخص ہے جس کی داڑھی سے شراب ٹپکتی ہے تو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) نے کہا: ہمیں ٹوہ میں پڑنے سے روکا گیا ہے، ہاں البتہ اگر کوئی چیز ہمارے سامنے کھل کر آئے تو ہم اسے پکڑیں گے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، قال اتي ابن مسعود فقيل هذا فلان تقطر لحيته خمرا فقال عبد الله انا قد نهينا عن التجسس ولكن ان يظهر لنا شىء ناخذ به
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کا کوئی عیب دیکھے پھر اس کی پردہ پوشی کرے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے کسی زندہ دفنائی گئی لڑکی کو نئی زندگی بخشی ہو ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن ابراهيم بن نشيط، عن كعب بن علقمة، عن ابي الهيثم، عن عقبة بن عامر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من راى عورة فسترها كان كمن احيا موءودة
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی (سکریٹری) دخین کہتے ہیں کہ ہمارے کچھ پڑوسی شراب پیتے تھے، میں نے انہیں منع کیا تو وہ باز نہیں آئے، چنانچہ میں نے عقبہ بن عامر سے کہا کہ ہمارے یہ پڑوسی شراب پیتے ہیں، ہم نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہیں آئے، لہٰذا اب میں ان کے لیے پولیس کو بلاؤں گا، تو انہوں نے کہا: انہیں چھوڑ دو، پھر میں دوبارہ عقبہ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے ان سے کہا: میرے پڑوسیوں نے شراب پینے سے باز آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اب میں ان کے لیے پولیس بلانے والا ہوں، انہوں نے کہا: تمہارا برا ہو، انہیں چھوڑ دو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے … پھر انہوں نے مسلم جیسی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہاشم بن قاسم نے کہا کہ اس حدیث میں لیث سے اس طرح روایت ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہا: ایسا نہ کرو بلکہ انہیں نصیحت کرو اور انہیں دھمکاؤ ۔
حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا الليث، قال حدثني ابراهيم بن نشيط، عن كعب بن علقمة، انه سمع ابا الهيثم، يذكر انه سمع دخينا، كاتب عقبة بن عامر قال كان لنا جيران يشربون الخمر فنهيتهم فلم ينتهوا فقلت لعقبة بن عامر ان جيراننا هولاء يشربون الخمر واني نهيتهم فلم ينتهوا فانا داع لهم الشرط . فقال دعهم . ثم رجعت الى عقبة مرة اخرى فقلت ان جيراننا قد ابوا ان ينتهوا عن شرب الخمر وانا داع لهم الشرط . قال ويحك دعهم فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر معنى حديث مسلم . قال ابو داود قال هاشم بن القاسم عن ليث في هذا الحديث قال لا تفعل ولكن عظهم وتهددهم