Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لڑکا تھا، وہ اٹھ کر گیا پھر واپس آیا، تو میرے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب آدمی ایک جگہ سے اٹھ کر جائے پھر وہاں لوٹ کر آئے تو وہی اس ( اس جگہ بیٹھنے ) کا زیادہ مستحق ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سهيل بن ابي صالح، قال كنت عند ابي جالسا وعنده غلام فقام ثم رجع فحدث ابي، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع اليه فهو احق به
کعب الایادی کہتے ہیں کہ میں ابو الدرداء کے پاس آتا جاتا تھا تو ابو الدرداء نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے تو آپ ( کسی کام سے جانے کے لیے ) کھڑے ہوتے اور لوٹنے کا ارادہ ہوتا تو اپنی جوتیاں اتار کر رکھ جاتے یا اور کوئی چیز رکھ جاتے جو آپ کے پاس ہوتی، اس سے آپ کے اصحاب سمجھ لیتے تو وہ ٹھہرے رہتے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، حدثنا مبشر الحلبي، عن تمام بن نجيح، عن كعب الايادي، قال كنت اختلف الى ابي الدرداء فقال ابو الدرداء كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس وجلسنا حوله فقام فاراد الرجوع نزع نعليه او بعض ما يكون عليه فيعرف ذلك اصحابه فيثبتون
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ بھی بغیر اللہ کو یاد کئے کسی مجلس سے اٹھ کھڑے ہوتے ہوں تو وہ ایسی مجلس سے اٹھے ہوتے ہیں جو بدبو میں مرے ہوئے گدھے کی لاش کی طرح ہوتی ہے، اور وہ مجلس ان کے لیے ( قیامت کے روز ) باعث حسرت ہو گی ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا اسماعيل بن زكريا، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من قوم يقومون من مجلس لا يذكرون الله فيه الا قاموا عن مثل جيفة حمار وكان لهم حسرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ بیٹھک اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من قعد مقعدا لم يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة ومن اضطجع مضجعا لا يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تین کلمے ایسے ہیں جنہیں کوئی بھی مجلس سے اٹھتے وقت تین مرتبہ پڑھے تو یہ اس کے لیے ( ان گناہوں کا جو اس مجلس میں اس سے ہوئے ) کفارہ بن جاتے ہیں، اور اگر انہیں نیکی یا ذکر الٰہی کی مجلس میں کہے گا تو وہ مانند مہر کے ہوں گے جیسے کسی تحریر یا دستاویز پر اخیر میں مہر ہوتی ہے اور وہ کلمات یہ ہیں «سبحانك اللهم وبحمدك لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» اے اللہ! تو پاک ہے، اور تو اپنی ساری تعریفوں کے ساتھ ہے، نہیں ہے معبود برحق مگر تو ہی اور میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ان سعيد بن ابي هلال، حدثه ان سعيد بن ابي سعيد المقبري حدثه عن عبد الله بن عمرو بن العاص، انه قال كلمات لا يتكلم بهن احد في مجلسه عند قيامه ثلاث مرات الا كفر بهن عنه ولا يقولهن في مجلس خير ومجلس ذكر الا ختم له بهن عليه كما يختم بالخاتم على الصحيفة سبحانك اللهم وبحمدك لا اله الا انت استغفرك واتوب اليك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال قال عمرو وحدثني بنحو، ذلك عبد الرحمن بن ابي عمرو عن المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: «سبحانك اللهم وبحمدك أشهد أن لا إله إلا أنت أستغفرك وأتوب إليك» تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اب ایک ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان ( لغزشوں ) کا جو مجلس میں ہو جاتی ہیں ۔
حدثنا محمد بن حاتم الجرجرايي، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - ان عبدة بن سليمان، اخبرهم عن الحجاج بن دينار، عن ابي هاشم، عن ابي العالية، عن ابي برزة الاسلمي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول باخرة اذا اراد ان يقوم من المجلس " سبحانك اللهم وبحمدك اشهد ان لا اله الا انت استغفرك واتوب اليك " . فقال رجل يا رسول الله انك لتقول قولا ما كنت تقوله فيما مضى . قال " كفارة لما يكون في المجلس
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے کوئی کسی کے بارے میں کوئی شکایت مجھ تک نہ پہنچائے، اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں ( گھر سے ) نکل کر تمہاری طرف آؤں، تو میرا سینہ صاف ہو ( یعنی کسی کی طرف سے میرے دل کوئی میں کدورت نہ ہو ) ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا الفريابي، عن اسراييل، عن الوليد، - قال ابو داود ونسبه لنا زهير بن حرب - عن حسين بن محمد، عن اسراييل، في هذا الحديث - قال الوليد بن ابي هشام - عن زيد بن زايد، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبلغني احد من اصحابي عن احد شييا فاني احب ان اخرج اليكم وانا سليم الصدر
عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: کوئی اور ساتھی تلاش کر لو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا: جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا: میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا: جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کر دیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا نوح بن يزيد بن سيار المودب، حدثنا ابراهيم بن سعد، قال حدثنيه ابن اسحاق، عن عيسى بن معمر، عن عبد الله بن عمرو بن الفغواء الخزاعي، عن ابيه، قال دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اراد ان يبعثني بمال الى ابي سفيان يقسمه في قريش بمكة بعد الفتح فقال " التمس صاحبا " . قال فجاءني عمرو بن امية الضمري فقال بلغني انك تريد الخروج وتلتمس صاحبا . قال قلت اجل . قال فانا لك صاحب . قال فجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قلت قد وجدت صاحبا . قال فقال " من " . قلت عمرو بن امية الضمري . قال " اذا هبطت بلاد قومه فاحذره فانه قد قال القايل اخوك البكري ولا تامنه " . فخرجنا حتى اذا كنت بالابواء قال اني اريد حاجة الى قومي بودان فتلبث لي قلت راشدا فلما ولى ذكرت قول النبي صلى الله عليه وسلم فشددت على بعيري حتى خرجت اوضعه حتى اذا كنت بالاصافر اذا هو يعارضني في رهط قال واوضعت فسبقته فلما راني قد فته انصرفوا وجاءني فقال كانت لي الى قومي حاجة . قال قلت اجل ومضينا حتى قدمنا مكة فدفعت المال الى ابي سفيان
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن عقيل، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يلدغ المومن من جحر واحد مرتين
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ آگے کی جانب جھکے ہوئے ہیں ( جیسے کوئی اونچے سے نیچے کی طرف اتر رہا ہو ) ۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن حميد، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا مشى كانه يتوكا
سعید جریری کی روایت ہے کہ ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: آپ کو کیسا دیکھا؟ وہ کہا: آپ گورے خوبصورت تھے جب چلتے تو ایسا لگتا گویا آپ نیچی جگہ میں اتر رہے ہیں۔
حدثنا حسين بن معاذ بن خليف، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد الجريري، عن ابي الطفيل، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت كيف رايته قال كان ابيض مليحا اذا مشى كانما يهوي في صبوب
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی اپنا ایک پاؤں دوسرے پر رکھے۔ قتیبہ کی روایت میں«أن يضع» کے بجائے «أن يرفع» کے الفاظ ہیں، اور قتیبہ کی روایت میں یہ بھی زیادہ ہے اور وہ اپنی پیٹھ کے بل چت لیٹا ہو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يضع - وقال قتيبة يرفع الرجل احدى - رجليه على الاخرى - زاد قتيبة - وهو مستلق على ظهره
عباد بن تمیم اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں ایک پیر کو دوسرے پیر پر رکھے ہوئے چت لیٹے دیکھا ۱؎۔
حدثنا النفيلي، حدثنا مالك، ح وحدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عباد بن تميم، عن عمه، انه راى رسول الله صلى الله عليه وسلم مستلقيا - قال القعنبي - في المسجد واضعا احدى رجليه على الاخرى
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما بھی اسے کیا کرتے تھے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، ان عمر بن الخطاب، رضى الله عنه وعثمان بن عفان كانا يفعلان ذلك
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے ( اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے ) ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، عن عبد الرحمن بن عطاء، عن عبد الملك بن جابر بن عتيك، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حدث الرجل بالحديث ثم التفت فهي امانة
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجلسیں امانت داری کے ساتھ ہیں ( یعنی ایک مجلس کی بات دوسری جگہ جا کر بیان نہیں کرنی چاہیئے ) سوائے تین مجلسوں کے، ایک جس میں ناحق خون بہایا جائے، دوسری جس میں بدکاری کی جائے اور تیسری جس میں ناحق کسی کا مال لوٹا جائے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، قال قرات على عبد الله بن نافع قال اخبرني ابن ابي ذيب، عن ابن اخي، جابر بن عبد الله عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المجالس بالامانة الا ثلاثة مجالس سفك دم حرام او فرج حرام او اقتطاع مال بغير حق
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی سے خلوت میں ملے اور وہ ( بیوی ) اس سے ملے پھر وہ ( مرد ) اس کا راز فاش کرے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، وابراهيم بن موسى الرازي، قالا اخبرنا ابو اسامة، عن عمر، - قال ابراهيم هو عمر بن حمزة بن عبد الله العمري - عن عبد الرحمن بن سعد، قال سمعت ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اعظم الامانة عند الله يوم القيامة الرجل يفضي الى امراته وتفضي اليه ثم ينشر سرها
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
حدثنا مسدد، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن همام، عن حذيفة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة قتات
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں برا وہ شخص ہے جو دورخا ہو، اِن کے پاس ایک منہ لے کر آتا ہو اور ان کے پاس دوسرا منہ لے کر جاتا ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من شر الناس ذو الوجهين الذي ياتي هولاء بوجه وهولاء بوجه