Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا ابو عامر، وابو داود قالا حدثنا زهير بن محمد، قال حدثني موسى بن وردان، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الرجل على دين خليله فلينظر احدكم من يخالل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روحیں ( عالم ارواح میں ) الگ الگ جھنڈوں میں ہوتی ہیں یعنی ( بدن کے پیدا ہونے سے پہلے روحوں کے جھنڈ الگ الگ ہوتے ہیں ) تو ان میں سے جن میں آپس میں ( عالم ارواح میں ) جان پہچان تھی وہ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جن میں اجنبیت تھی وہ دنیا میں بھی الگ الگ رہتی ہیں ۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا جعفر، - يعني ابن برقان - عن يزيد، - يعني ابن الاصم - عن ابي هريرة، يرفعه قال " الارواح جنود مجندة فما تعارف منها ايتلف وما تناكر منها اختلف
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے، خوشخبری دینا، نفرت مت دلانا، آسانی اور نرمی کرنا، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا بريد بن عبد الله، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا بعث احدا من اصحابه في بعض امره قال " بشروا ولا تنفروا ويسروا ولا تعسروا
سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو لوگ میری تعریف اور میرا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو تم لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں میں نے عرض کیا: سچ کہا آپ نے میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں، آپ میرے شریک تھے، تو آپ ایک بہترین شریک تھے، نہ آپ لڑتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني ابراهيم بن المهاجر، عن مجاهد، عن قايد السايب، عن السايب، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فجعلوا يثنون على ويذكروني فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اعلمكم " . يعني به . قلت صدقت بابي انت وامي كنت شريكي فنعم الشريك كنت لا تداري ولا تماري
عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گفتگو کرنے بیٹھتے تو آپ اکثر اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، قال حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن يعقوب بن عتبة، عن عمر بن عبد العزيز، عن يوسف بن عبد الله بن سلام، عن ابيه، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس يتحدث يكثر ان يرفع طرفه الى السماء
مسعر کہتے ہیں کہ میں نے مسجد میں ایک بزرگ کو کہتے سنا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو میں ترتیل یا ترسیل ہوتی تھی یعنی آپ ٹھہر ٹھہر کر صاف صاف گفتگو کرتے۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا محمد بن بشر، عن مسعر، قال سمعت شيخا، في المسجد يقول سمعت جابر بن عبد الله، يقول كان في كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم ترتيل او ترسيل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ہر لفظ الگ الگ اور واضح ہوتا تھا، جو بھی اسے سنتا سمجھ لیتا۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن اسامة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، رحمها الله قالت كان كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم كلاما فصلا يفهمه كل من سمعه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ کلام جس کی ابتداء الحمدللہ ( اللہ کی تعریف ) سے نہ ہو تو وہ ناقص و ناتمام ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یونس، عقیل، شعیب، اور سعید بن عبدالعزیز نے زہری سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حدثنا ابو توبة، قال زعم الوليد عن الاوزاعي، عن قرة، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل كلام لا يبدا فيه ب الحمد لله فهو اجذم " . قال ابو داود رواه يونس وعقيل وشعيب وسعيد بن عبد العزيز عن الزهري عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو تو وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ( یعنی وہ ناتمام اور ناقص ہے ) یا اس ہاتھ کی طرح ہے جس میں جذام ہو ۔
حدثنا مسدد، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم بن كليب، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل خطبة ليس فيها تشهد فهي كاليد الجذماء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کے پاس سے ایک بھکاری گزرا تو انہوں نے اس کو روٹی کا ایک ٹکڑا دے دیا، پھر ایک شخص کپڑوں میں ملبوس اور معقول صورت میں گزرا تو انہوں نے اسے بٹھایا اور ( اسے کھانا پیش کیا ) اور اس نے کھایا، لوگوں نے ان سے اس ( امتیاز ) کی بابت پوچھا تو وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ہر شخص کو اس کے مرتبے پر رکھو ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ کی حدیث مختصر ہے، اور میمون نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا ہے۔
حدثنا يحيى بن اسماعيل، وابن ابي خلف، ان يحيى بن اليمان، اخبرهم عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ميمون بن ابي شبيب، ان عايشة [رضى الله عنها] مر بها سايل فاعطته كسرة ومر بها رجل عليه ثياب وهيية فاقعدته فاكل فقيل لها في ذلك فقالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انزلوا الناس منازلهم " . قال ابو داود وحديث يحيى مختصر . قال ابو داود ميمون لم يدرك عايشة
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معمر اور سن رسیدہ مسلمان کی اور حافظ قرآن کی جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو ۱؎ اور نہ اس سے دور پڑ جانے والا ہو، اور عادل بادشاہ کی عزت و تکریم دراصل اللہ کے اجلال و تکریم ہی کا ایک حصہ ہے۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الصواف، حدثنا عبد الله بن حمران، اخبرنا عوف بن ابي جميلة، عن زياد بن مخراق، عن ابي كنانة، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اجلال الله اكرام ذي الشيبة المسلم وحامل القران غير الغالي فيه والجافي عنه واكرام ذي السلطان المقسط
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں کے درمیان گھس کر ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھا جائے ۔
حدثنا محمد بن عبيد، واحمد بن عبدة، - المعنى - قالا حدثنا حماد، حدثنا عامر الاحول، عن عمرو بن شعيب، - قال ابن عبدة - عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يجلس بين رجلين الا باذنهما
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر گھس کر دونوں میں جدائی ڈال دے ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني اسامة بن زيد الليثي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لرجل ان يفرق بين اثنين الا باذنهما
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیٹھتے تھے تو اپنے ہاتھ سے احتباء کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبداللہ بن ابراہیم ایک ایسے شیخ ہیں جو منکر الحدیث ہیں۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الله بن ابراهيم، قال حدثني اسحاق بن محمد الانصاري، عن ربيح بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن جده ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا جلس احتبى بيده . قال ابو داود عبد الله بن ابراهيم شيخ منكر الحديث
قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ دونوں ہاتھ سے احتباء کرنے والے کی طرح بیٹھے ہوئے تھے تو جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھنے میں «مختشع» اور موسیٰ کی روایت میں ہے «متخشع» ۱؎دیکھا تو میں خوف سے لرز گئی ۲؎۔
حدثنا حفص بن عمر، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا عبد الله بن حسان العنبري، قال حدثتني جدتاى، صفية ودحيبة ابنتا عليبة - قال موسى بنت حرملة - وكانتا ربيبتى قيلة بنت مخرمة وكانت جدة ابيهما انها اخبرتهما انها، رات النبي صلى الله عليه وسلم وهو قاعد القرفصاء فلما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم المختشع - وقال موسى المتخشع في الجلسة - ارعدت من الفرق
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھ چھوڑا تھا اور اپنے ایک ہاتھ کی ہتھیلی پر ٹیک لگائے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا: کیا تم ان لوگوں کی طرح بیٹھتے ہو جن پر غضب نازل ہوا؟ ۔
حدثنا علي بن بحر، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ابن جريج، عن ابراهيم بن ميسرة، عن عمرو بن الشريد، عن ابيه الشريد بن سويد، قال مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا جالس هكذا وقد وضعت يدي اليسرى خلف ظهري واتكات على الية يدي فقال " اتقعد قعدة المغضوب عليهم
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے ۱؎ اور اس کے بعد بات کرنے ۲؎ سے منع فرماتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عوف، قال حدثني ابو المنهال، عن ابي برزة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن النوم قبلها والحديث بعدها
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر پڑھ لیتے تو چارزانو ( آلتی پالتی ) ہو کر بیٹھتے یہاں تک کہ سورج خوب اچھی طرح نکل آتا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو داود الحفري، حدثنا سفيان الثوري، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى الفجر تربع في مجلسه حتى تطلع الشمس حسناء
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اسے رنجیدہ کر دے گی ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، - يعني ابن سلمة - عن الاعمش، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا ينتجي اثنان دون الثالث فان ذلك يحزنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مثل فرمایا، ابوصالح کہتے ہیں: میں نے ابن عمر سے کہا: اگر چار آدمی ہوں تو؟ وہ بولے ( تو کوئی حرج نہیں ) اس لیے کہ یہ چیز تم کو ایذاء نہ دے گی۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله . قال ابو صالح فقلت لابن عمر فاربعة قال لا يضرك