Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی ( دینے کے لیے کچھ ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا ( احسان کو ) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، حدثنا عمارة بن غزية، قال حدثني رجل، من قومي عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعطي عطاء فوجد فليجز به فان لم يجد فليثن به فمن اثنى به فقد شكره ومن كتمه فقد كفره " . قال ابو داود رواه يحيى بن ايوب عن عمارة بن غزية عن شرحبيل عن جابر . قال ابو داود وهو شرحبيل يعني رجلا من قومي كانهم كرهوه فلم يسموه
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن الجراح، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابلى بلاء فذكره فقد شكره وان كتمه فقد كفره
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ راستوں میں بیٹھنے سے بچو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں اپنی مجالس سے مفر نہیں ہم ان میں ( ضروری امور پر ) گفتگو کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: پھر اگر تم نہیں مانتے تو راستے کا حق ادا کرو لوگوں نے عرض کیا: راستے کا حق کیا ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: نگاہ نیچی رکھنا، ایذاء نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن زيد، - يعني ابن اسلم - عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اياكم والجلوس بالطرقات " . فقالوا يا رسول الله ما بد لنا من مجالسنا نتحدث فيها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ابيتم فاعطوا الطريق حقه " . قالوا وما حق الطريق يا رسول الله قال " غض البصر وكف الاذى ورد السلام والامر بالمعروف والنهى عن المنكر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں یہ بھی ہے آپ نے فرمایا: اور ( بھولے بھٹکوں کو ) راستہ بتانا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - حدثنا عبد الرحمن بن اسحاق، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذه القصة قال " وارشاد السبيل
ابن حجیر عدوی کہتے ہیں کہ میں نے اس قصے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت کرتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا: اور تم آفت زدہ لوگوں کی مدد کرو اور بھٹکے ہووں کو راستہ بتاؤ ۔
حدثنا الحسن بن عيسى النيسابوري، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا جرير بن حازم، عن اسحاق بن سويد، عن ابن حجير العدوي، قال سمعت عمر بن الخطاب، عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذه القصة قال " وتغيثوا الملهوف وتهدوا الضال
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور بولی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا: اے فلاں کی ماں! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں چنانچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔
حدثنا محمد بن عيسى بن الطباع، وكثير بن عبيد، قالا حدثنا مروان، - قال ابن عيسى قال - حدثنا حميد، عن انس، قال جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان لي اليك حاجة . فقال لها " يا ام فلان اجلسي في اى نواحي السكك شيت حتى اجلس اليك " . قال فجلست فجلس النبي صلى الله عليه وسلم اليها حتى قضت حاجتها . ولم يذكر ابن عيسى حتى قضت حاجتها . وقال كثير عن حميد عن انس
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل میں کچھ فتور تھا پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان امراة، كان في عقلها شىء بمعناه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مجالس میں بہتر وہ ہے جو زیادہ کشادہ ہو ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموال، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة الانصاري، عن ابي سعيد الخدري، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خير المجالس اوسعها " . قال ابو داود هو عبد الرحمن بن عمرو بن ابي عمرة الانصاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی دھوپ میں ہو ( مخلد کی روایت ) سایہ میں ہو، پھر سایہ اس سے سمٹ گیا ہو اس طرح کہ اس کا کچھ حصہ دھوپ میں آ جائے اور کچھ سایہ میں رہے تو چاہیئے کہ وہ اٹھ جائے ۱؎ ۔
حدثنا ابن السرح، ومخلد بن خالد، قالا حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، قال حدثني من، سمع ابا هريرة، يقول قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " اذا كان احدكم في الشمس " . وقال مخلد " في الفىء " . " فقلص عنه الظل وصار بعضه في الشمس وبعضه في الظل فليقم
ابوحازم البجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو وہ دھوپ میں کھڑے ہو گئے، اس کے بعد ( آپ نے انہیں سایہ میں آنے کے لیے کہا ) تو وہ سائے میں آ گئے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، قال حدثني قيس، عن ابيه، انه جاء ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب فقام في الشمس فامر به فحول الى الظل
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو الگ الگ گروہوں میں دیکھ رہا ہوں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الاعمش، قال حدثني المسيب بن رافع، عن تميم بن طرفة، عن جابر بن سمرة، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد وهم حلق فقال " ما لي اراكم عزين
اعمش سے بھی یہی حدیث مروی ہے البتہ اس میں ہے گویا کہ آپ اجتماعیت کو پسند فرماتے تھے ۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى، عن ابن فضيل، عن الاعمش، بهذا قال كانه يحب الجماعة
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے، تو ہم میں سے جس کو جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتا۔
حدثنا محمد بن جعفر الوركاني، وهناد، ان شريكا، اخبرهم عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال كنا اذا اتينا النبي صلى الله عليه وسلم جلس احدنا حيث ينتهي
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر لعنت فرمائی جو حلقہ کے بیچ میں جا کر بیٹھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، قال حدثني ابو مجلز، عن حذيفة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن من جلس وسط الحلقة
سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ایک گواہی کے سلسلے میں ہمارے ہاں آئے، تو ان کے لیے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا، تو انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کیا، اور کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنا ہاتھ کسی ایسے شخص کے کپڑے سے پونچھے جسے اس نے کپڑا نہ پہنایا ہو۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، عن ابي عبد الله، مولى ال ابي بردة عن سعيد بن ابي الحسن، قال جاءنا ابو بكرة في شهادة فقام له رجل من مجلسه فابى ان يجلس فيه وقال ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ذا ونهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يمسح الرجل يده بثوب من لم يكسه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو ایک شخص اس کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تو وہ وہاں بیٹھنے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے روک دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ان محمد بن جعفر، حدثهم عن شعبة، عن عقيل بن طلحة، قال سمعت ابا الخصيب، عن ابن عمر، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام له رجل من مجلسه فذهب ليجلس فيه فنهاه رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود ابو الخصيب اسمه زياد بن عبد الرحمن
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسے مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے اس نارنگی کی سی ہے جس کی بو بھی اچھی ہے اور جس کا ذائقہ بھی اچھا ہے اور ایسے مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا اس کھجور کی طرح ہے جس کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے لیکن اس میں بو نہیں ہوتی، اور فاجر کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے، گلدستے کی طرح ہے جس کی بو عمدہ ہوتی ہے اور اس کا مزا کڑوا ہوتا ہے، اور فاجر کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، ایلوے کے مانند ہے، جس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے، اور اس میں کوئی بو بھی نہیں ہوتی، اور صالح دوست کی مثال مشک والے کی طرح ہے، کہ اگر تمہیں اس سے کچھ بھی نہ ملے تو اس کی خوشبو تو ضرور پہنچ کر رہے گی، اور برے دوست کی مثال اس دھونکنی ( لوہے کی بٹھی ) والے کی سی ہے، کہ وہ اگر اس کی سیاہی سے بچ بھی جائے تو اس کا دھواں تو لگ ہی کر رہے گا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، عن قتادة، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل المومن الذي يقرا القران مثل الاترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المومن الذي لا يقرا القران كمثل التمرة طعمها طيب ولا ريح لها ومثل الفاجر الذي يقرا القران كمثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر ومثل الفاجر الذي لا يقرا القران كمثل الحنظلة طعمها مر ولا ريح لها ومثل الجليس الصالح كمثل صاحب المسك ان لم يصبك منه شىء اصابك من ريحه ومثل جليس السوء كمثل صاحب الكير ان لم يصبك من سواده اصابك من دخانه
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے شروع سے «طعمها مر» ( اس کا مزا کڑوا ہے ) تک اسی طرح مرفوعاً مروی ہے، اور ابن معاذ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اور ہم آپس میں کہتے تھے کہ اچھے ہم نشین کی مثال، پھر راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، - المعنى - ح وحدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الكلام الاول الى قوله " وطعمها مر " . وزاد ابن معاذ قال قال انس وكنا نتحدث ان مثل جليس الصالح وساق بقية الحديث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے ہم نشین کی مثال … پھر راوی نے اس جیسی روایت ذکر کی۔
حدثنا عبد الله بن الصباح العطار، حدثنا سعيد بن عامر، عن شبيل بن عزرة، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل الجليس الصالح " . فذكر نحوه
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے سوا کسی کو ساتھی نہ بناؤ ۱؎، اور تمہارا کھانا سوائے پرہیزگار کے کوئی اور نہ کھائے ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابن المبارك، عن حيوة بن شريح، عن سالم بن غيلان، عن الوليد بن قيس، عن ابي سعيد، او عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصاحب الا مومنا ولا ياكل طعامك الا تقي