Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی واقعہ مروی ہے، وہ کہتی ہیں آپ نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! لوگوں میں سب سے بدترین لوگ وہ ہیں وہ جن کا احترام و تکریم ان کی زبانوں سے بچنے کے لیے کیا جائے ۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا شريك، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عايشة، في هذه القصة قالت فقال تعني النبي صلى الله عليه وسلم " يا عايشة ان من شرار الناس الذين يكرمون اتقاء السنتهم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کان پر منہ رکھا ہو ( کچھ کہنے کے لیے ) تو آپ نے اپنا سر ہٹا لیا ہو یہاں تک کہ خود وہی شخص نہ ہٹا لے، اور میں نے ایسا بھی کوئی شخص نہیں دیکھا، جس نے آپ کا ہاتھ پکڑا ہو، تو آپ نے اس سے ہاتھ چھڑا لیا ہو، یہاں تک کہ خود اس شخص نے آپ کا ہاتھ نہ چھوڑ دیا ہو۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو قطن، اخبرنا مبارك، عن ثابت، عن انس، قال ما رايت رجلا التقم اذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فينحي راسه حتى يكون الرجل هو الذي ينحي راسه وما رايت رجلا اخذ بيده فترك يده حتى يكون الرجل هو الذي يدع يده
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک شخص پر سے گزرے، وہ اپنے بھائی کو شرم و حیاء کرنے پر ڈانٹ رہا تھا ( اور سمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم کرنا اچھی بات نہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس کے حال پر چھوڑ دو، شرم تو ایمان کا ایک حصہ ہے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الانصار وهو يعظ اخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعه فان الحياء من الايمان
ابوقتادہ کہتے ہیں ہم عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھے اور وہاں بشیر بن کعب بھی تھے تو عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حیاء خیر ہے پورا کا پورا، یا کہا حیاء پورا کا پورا خیر ہے،، اس پر بشیر بن کعب نے کہا: ہم بعض کتابوں میں لکھا پاتے ہیں کہ حیاء میں سے کچھ تو سکینہ اور وقار ہے، اور کچھ ضعف و ناتوانی، یہ سن کر عمران نے حدیث دہرائی تو بشیر نے پھر اپنی بات دہرائی تو عمران رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور بولے: میں تم سے حدیث رسول اللہ بیان کر رہا ہوں، اور تم اپنی کتابوں کے بارے میں مجھ سے بیان کرتے ہو۔ ابوقتادہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے ابونجید ( عمران کی کنیت ہے ) چھوڑئیے جانے دیجئیے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن اسحاق بن سويد، عن ابي قتادة، قال كنا مع عمران بن حصين وثم بشير بن كعب فحدث عمران بن حصين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحياء خير كله " . او قال " الحياء كله خير " . فقال بشير بن كعب انا نجد في بعض الكتب ان منه سكينة ووقارا ومنه ضعفا . فاعاد عمران الحديث واعاد بشير الكلام قال فغضب عمران حتى احمرت عيناه وقال الا اراني احدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وتحدثني عن كتبك . قال قلنا يا ابا نجيد ايه ايه
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سابقہ نبوتوں کے کلام میں سے باقی ماندہ چیزیں جو لوگوں کو ملی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب تمہیں شرم نہ ہو تو جو چاہو کرو ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان مما ادرك الناس من كلام النبوة الاولى اذا لم تستح فافعل ما شيت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن اپنی خوش اخلاقی سے روزے دار اور رات کو قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، - يعني الاسكندراني - عن عمرو، عن المطلب، عن عايشة، رحمها الله قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان المومن ليدرك بحسن خلقه درجة الصايم القايم
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( قیامت کے دن ) میزان میں خوش خلقی سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہ ہو گی ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وحفص بن عمر، قالا حدثنا ح، وحدثنا ابن كثير، اخبرنا شعبة، عن القاسم بن ابي بزة، عن عطاء الكيخاراني، عن ام الدرداء، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من شىء اثقل في الميزان من حسن الخلق " . قال ابو الوليد قال سمعت عطاء الكيخاراني . قال ابو داود وهو عطاء بن يعقوب وهو خال ابراهيم بن نافع يقال كيخاراني وكوخاراني
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس شخص کے لیے جنت کے اندر ایک گھر کا ضامن ہوں جو لڑائی جھگڑا ترک کر دے، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جنت کے بیچوں بیچ ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو جھوٹ بولنا چھوڑ دے اگرچہ وہ ہنسی مذاق ہی میں ہو، اور جنت کی بلندی میں ایک گھر کا اس شخص کے لیے جو خوش خلق ہو ۔
حدثنا محمد بن عثمان الدمشقي ابو الجماهر، قال حدثنا ابو كعب، ايوب بن محمد السعدي قال حدثني سليمان بن حبيب المحاربي، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وان كان محقا وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وان كان مازحا وببيت في اعلى الجنة لمن حسن خلقه
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «جواظ» جنت میں نہ داخل ہو گا اور نہ «جعظری»جنت میں داخل ہو گا ۱؎۔ راوی کہتے ہیں «جواظ» کے معنی بدخلق اور سخت دل کے ہیں۔
حدثنا ابو بكر، وعثمان، ابنا ابي شيبة قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن معبد بن خالد، عن حارثة بن وهب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة الجواظ ولا الجعظري " . قال والجواظ الغليظ الفظ
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ) عضباء مقابلے میں کبھی پیچھے نہیں رہی تھی ( ایک بار ) ایک اعرابی اپنے ایک نوعمر اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اور اس نے اس سے مقابلہ کیا تو اعرابی اس سے آگے نکل گیا تو ایسا لگا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر گراں گزری ہے تو آپ نے فرمایا: اللہ کا یہ دستور ہے کہ جو چیز بھی اوپر اٹھے اسے نیچا کر دے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، قال كانت العضباء لا تسبق فجاء اعرابي على قعود له فسابقها فسبقها الاعرابي فكان ذلك شق على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " حق على الله عز وجل ان لا يرفع شييا من الدنيا الا وضعه
اس سند سے بھی انس رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے اس میں ہے، آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ دنیا کی جو بھی چیز بہت اوپر اٹھے تو اسے نیچا کر دے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا حميد، عن انس، بهذه القصة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان حقا على الله عز وجل ان لا يرتفع شىء من الدنيا الا وضعه
ہمام کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف انہی کے سامنے کرنے لگا، تو مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے مٹی لی اور اس کے چہرے پہ ڈال دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جب تم تعریف کرنے والوں سے ملو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈال دو۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام، قال جاء رجل فاثنى على عثمان في وجهه فاخذ المقداد بن الاسود ترابا فحثا في وجهه وقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا لقيتم المداحين فاحثوا في وجوههم التراب
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کی تعریف کی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی اسے آپ نے تین بار کہا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے ساتھی کی مدح و تعریف کرنی ہی پڑ جائے تو یوں کہے: میں اسے ایسے ہی سمجھ رہا ہوں، لیکن میں اللہ کے بالمقابل اس کا تزکیہ نہیں کرتا ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن خالد الحذاء، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان رجلا، اثنى على رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال له " قطعت عنق صاحبك " . ثلاث مرات ثم قال " اذا مدح احدكم صاحبه لا محالة فليقل اني احسبه كما يريد ان يقول ولا ازكيه على الله
مطرف کے والد عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، تو ہم نے عرض کیا: آپ ہمارے سید، آپ نے فرمایا: سید تو اللہ تعالیٰ ہے ۱؎ ہم نے عرض کیا: اور آپ ہم سب میں درجے میں افضل ہیں اور دوستوں کو نوازنے اور دشمنوں پر فائق ہونے میں سب سے عظیم ہیں، آپ نے فرمایا: جو کہتے ہو کہو، یا اس میں سے کچھ کہو، ( البتہ ) شیطان تمہیں میرے سلسلے میں جری نہ کر دے ( کہ تم ایسے کلمات کہہ بیٹھو جو میرے لیے زیبا نہ ہو ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - حدثنا ابو مسلمة، سعيد بن يزيد عن ابي نضرة، عن مطرف، قال قال ابي انطلقت في وفد بني عامر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا انت سيدنا . فقال " السيد الله تبارك وتعالى " . قلنا وافضلنا فضلا واعظمنا طولا . فقال " قولوا بقولكم او بعض قولكم ولا يستجرينكم الشيطان
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ رفیق ہے، رفق اور نرمی پسند کرتا ہے، اور اس پر وہ دیتا ہے، جو سختی پر نہیں دیتا ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن يونس، وحميد، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله رفيق يحب الرفق ويعطي عليه ما لا يعطي على العنف
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دیہات ( بادیہ ) جانے، وہاں قیام کرنے کے بارے میں پوچھا ( کہ کیسا ہے ) آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان نالوں کی طرف دیہات ( بادیہ ) جایا کرتے تھے، ایک بار آپ نے باہر دیہات ( بادیہ ) جانے کا ارادہ کیا تو میرے پاس زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی بھیجی، جس پر سواری نہیں کی گئی تھی، اور مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! نرمی کرو، اس لیے کہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، اسے زینت دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نکل جاتی ہے، اسے عیب دار بنا دیتی ہے۔ ابن الصباح اپنی حدیث میں کہتے ہیں: «محرمۃ» سے مراد وہ اونٹنی ہے جس پر سواری نہ کی گئی ہو۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة ومحمد بن الصباح البزاز قالوا حدثنا شريك، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، قال سالت عايشة عن البداوة، فقالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يبدو الى هذه التلاع وانه اراد البداوة مرة فارسل الى ناقة محرمة من ابل الصدقة فقال لي " يا عايشة ارفقي فان الرفق لم يكن في شىء قط الا زانه ولا نزع من شىء قط الا شانه " . قال ابن الصباح في حديثه محرمة يعني لم تركب
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رفق ( نرمی ) سے محروم کر دیا جاتا ہے وہ تمام خیر سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، ووكيع، عن الاعمش، عن تميم بن سلمة، عن عبد الرحمن بن هلال، عن جرير، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يحرم الرفق يحرم الخير كله
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تاخیر اور آہستگی ہر چیز میں ( بہتر ) ہے، سوائے آخرت کے عمل کے ۱؎۔ اعمش کہتے ہیں میں یہی جانتا ہوں کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے یعنی مرفوع ہے۔
حدثنا الحسن بن محمد بن الصباح، حدثنا عفان، حدثنا عبد الواحد، حدثنا سليمان الاعمش، عن مالك بن الحارث، - قال الاعمش وقد سمعتهم يذكرون، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال الاعمش - ولا اعلمه الا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " التودة في كل شىء الا في عمل الاخرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا اللہ کا ( بھی ) شکر ادا نہیں کرتا ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا الربيع بن مسلم، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يشكر الله من لا يشكر الناس
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مہاجرین نے کہا: اللہ کے رسول! سارا اجر تو انصار لے گئے، آپ نے فرمایا: نہیں ( ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اجر سے محروم رہو ) جب تک تم اللہ سے ان کے لیے دعا کرتے رہو گے اور ان کی تعریف کرتے رہو گے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس، ان المهاجرين، قالوا يا رسول الله ذهبت الانصار بالاجر كله . قال " لا ما دعوتم الله لهم واثنيتم عليهم