Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں سب سے بہتر اخلاق والے تھے، ایک دن آپ نے مجھے کسی ضرورت سے بھیجا تو میں نے کہا: قسم اللہ کی، میں نہیں جاؤں گا، حالانکہ میرے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے، اس لیے ضرور جاؤں گا، چنانچہ میں نکلا یہاں تک کہ جب میں کچھ بچوں کے پاس سے گزر رہا تھا اور وہ بازار میں کھیل رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مڑ کر دیکھا، آپ ہنس رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ننھے انس! جاؤ جہاں میں نے تمہیں حکم دیا ہے میں نے عرض کیا: ٹھیک ہے، میں جا رہا ہوں، اللہ کے رسول، انس کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میں نے سات سال یا نو سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے کبھی میرے کسی ایسے کام پر جو میں نے کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں کیا؟ اور نہ ہی کسی ایسے کام پر جسے میں نے نہ کیا ہو یہ کہا ہو کہ تم نے ایسا اور ایسا کیوں نہیں کیا؟ ۔
حدثنا مخلد بن خالد الشعيري، حدثنا عمر بن يونس، حدثنا عكرمة، - يعني ابن عمار - قال حدثني اسحاق، - يعني ابن عبد الله بن ابي طلحة - قال قال انس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم من احسن الناس خلقا فارسلني يوما لحاجة فقلت والله لا اذهب . وفي نفسي ان اذهب لما امرني به نبي الله صلى الله عليه وسلم . قال فخرجت حتى امر على صبيان وهم يلعبون في السوق فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم قابض بقفاى من ورايي فنظرت اليه وهو يضحك فقال " يا انيس اذهب حيث امرتك " . قلت نعم انا اذهب يا رسول الله . قال انس والله لقد خدمته سبع سنين او تسع سنين ما علمت قال لشىء صنعت لم فعلت كذا وكذا . ولا لشىء تركت هلا فعلت كذا وكذا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سال مدینہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا، میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھا جیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن ثابت، عن انس، قال خدمت النبي صلى الله عليه وسلم عشر سنين بالمدينة وانا غلام ليس كل امري كما يشتهي صاحبي ان اكون عليه ما قال لي فيها اف قط وما قال لي لم فعلت هذا او الا فعلت هذا
ہلال بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کرتے ہوئے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے باتیں کرتے تھے تو جب آپ اٹھ کھڑے ہوتے تو ہم بھی اٹھ کھڑے ہوتے یہاں تک کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے کہ آپ اپنی ازواج میں سے کسی کے گھر میں داخل ہو گئے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن گفتگو کی، تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ہم بھی کھڑے ہو گئے، تو ہم نے ایک اعرابی کو دیکھا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑ کر اور آپ کے اوپر چادر ڈال کر آپ کو کھینچ رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن لال ہو گئی ہے، ابوہریرہ کہتے ہیں: وہ ایک کھردری چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف مڑے تو اعرابی نے آپ سے کہا: میرے لیے میرے ان دونوں اونٹوں کو ( غلے سے ) لاد دو، اس لیے کہ نہ تو تم اپنے مال سے لادو گے اور نہ اپنے باپ کے مال سے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ۱؎ اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں، نہیں اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۲؎ میں تمہیں نہیں دوں گا یہاں تک کہ تم مجھے اپنے اس کھینچنے کا بدلہ نہ دے دو لیکن اعرابی ہر بار یہی کہتا رہا: اللہ کی قسم میں تمہیں اس کا بدلہ نہ دوں گا۔ پھر راوی نے حدیث ذکر کی، اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلایا اور اس سے فرمایا: اس کے لیے اس کے دونوں اونٹوں پر لاد دو: ایک اونٹ پر جو اور دوسرے پر کھجور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: واپس جاؤ اللہ کی برکت پر بھروسہ کر کے ۳؎ ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو عامر، حدثنا محمد بن هلال، سمع اباه، يحدث قال قال ابو هريرة وهو يحدثنا كان النبي صلى الله عليه وسلم يجلس معنا في المجلس يحدثنا فاذا قام قمنا قياما حتى نراه قد دخل بعض بيوت ازواجه فحدثنا يوما فقمنا حين قام فنظرنا الى اعرابي قد ادركه فجبذه بردايه فحمر رقبته قال ابو هريرة وكان رداء خشنا فالتفت فقال له الاعرابي احمل لي على بعيرى هذين فانك لا تحمل لي من مالك ولا من مال ابيك . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا واستغفر الله لا واستغفر الله لا واستغفر الله لا احمل لك حتى تقيدني من جبذتك التي جبذتني " . فكل ذلك يقول له الاعرابي والله لا اقيدكها . فذكر الحديث قال ثم دعا رجلا فقال له " احمل له على بعيريه هذين على بعير شعيرا وعلى الاخر تمرا " . ثم التفت الينا فقال " انصرفوا على بركة الله تعالى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راست روی، خوش خلقی اور میانہ روی نبوت کا پچیسواں حصہ ہے ۱؎ ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا قابوس بن ابي ظبيان، ان اباه، حدثه حدثنا عبد الله بن عباس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الهدى الصالح والسمت الصالح والاقتصاد جزء من خمسة وعشرين جزءا من النبوة
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنا غصہ پی لیا حالانکہ وہ اسے نافذ کرنے پر قادر تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سب لوگوں کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ اختیار دے گا کہ وہ بڑی آنکھ والی حوروں میں سے جسے چاہے چن لے ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن سعيد، - يعني ابن ابي ايوب - عن ابي مرحوم، عن سهل بن معاذ، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من كظم غيظا - وهو قادر على ان ينفذه - دعاه الله عز وجل على رءوس الخلايق يوم القيامة حتى يخيره الله من الحور ما شاء " . قال ابو داود اسم ابي مرحوم عبد الرحمن بن ميمون
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے فرزندوں میں سے ایک شخص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، آپ نے فرمایا: اللہ اسے امن اور ایمان سے بھر دے گا اور اس میں یہ واقعہ مذکور نہیں کہ اللہ اسے بلائے گا، البتہ اتنا اضافہ ہے، اور جو خوب ( تواضع و فروتنی میں ) صورتی کا لباس پہننا ترک کر دے، حالانکہ وہ اس کی قدرت رکھتا ہو، تو اللہ تعالیٰ اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا، اور جو اللہ کی خاطر شادی کرائے گا ۱؎ تو اللہ اسے بادشاہت کا تاج پہنائے گا ۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن مهدي - عن بشر، - يعني ابن منصور - عن محمد بن عجلان، عن سويد بن وهب، عن رجل، من ابناء اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عن ابيه قال - قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نحوه قال " ملاه الله امنا وايمانا " . لم يذكر قصة " دعاه الله " . زاد " ومن ترك لبس ثوب جمال وهو يقدر عليه " . قال بشر احسبه قال " تواضعا كساه الله حلة الكرامة ومن زوج لله تعالى توجه الله تاج الملك
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ پہلوان کس کو شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کو جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں، آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن الحارث بن سويد، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تعدون الصرعة فيكم " . قالوا الذي لا يصرعه الرجال . قال " لا ولكنه الذي يملك نفسه عند الغضب
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کو بہت شدید غصہ آیا یہاں تک کہ مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ مارے غصے کے اس کی ناک پھٹ جائے گی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا عرض کیا: کیا ہے وہ؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: وہ کہے «اللهم إني أعوذ بك من الشيطان الرجيم» اے اللہ! میں شیطان مردود سے تیری پناہ مانگتا ہوں تو معاذ اسے اس کا حکم دینے لگے، لیکن اس نے انکار کیا، اور لڑنے لگا، اس کا غصہ مزید شدید ہوتا چلا گیا۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن معاذ بن جبل، قال استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فغضب احدهما غضبا شديدا حتى خيل الى ان انفه يتمزع من شدة غضبه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لاعلم كلمة لو قالها لذهب عنه ما يجده من الغضب " . فقال ما هي يا رسول الله قال " يقول اللهم اني اعوذ بك من الشيطان الرجيم " . قال فجعل معاذ يامره فابى ومحك وجعل يزداد غضبا
سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو شخصوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گالی گلوج کی تو ان میں سے ایک کی آنکھیں سرخ ہو گئیں، اور رگیں پھول گئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر وہ اسے کہہ دے تو جو غصہ وہ اپنے اندر پا رہا ہے دور ہو جائے گا، وہ کلمہ «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» ، تو اس آدمی نے کہا: کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجھے جنون ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن عدي بن ثابت، عن سليمان بن صرد، قال استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فجعل احدهما تحمر عيناه وتنتفخ اوداجه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لاعرف كلمة لو قالها هذا لذهب عنه الذي يجد اعوذ بالله من الشيطان الرجيم " . فقال الرجل هل ترى بي من جنون
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو چاہیئے کہ بیٹھ جائے، اب اگر اس کا غصہ رفع ہو جائے ( تو بہتر ہے ) ورنہ پھر لیٹ جائے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو معاوية، حدثنا داود بن ابي هند، عن ابي حرب بن الاسود، عن ابي ذر، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لنا " اذا غضب احدكم وهو قايم فليجلس فان ذهب عنه الغضب والا فليضطجع
بکر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذر کو بھیجا آگے یہی حدیث مروی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: دونوں حدیثوں میں یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن داود، عن بكر، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث ابا ذر بهذا الحديث . قال ابو داود وهذا اصح الحديثين
ابووائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد بن سعدی کے پاس داخل ہوئے، ان سے ایک شخص نے گفتگو کی تو انہیں غصہ کر دیا، وہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا، پھر لوٹے اور وہ وضو کئے ہوئے تھے، اور بولے: میرے والد نے مجھ سے بیان کیا وہ میرے دادا عطیہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غصہ شیطان کے سبب ہوتا ہے، اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وضو کر لے ۔
حدثنا بكر بن خلف، والحسن بن علي، - المعنى - قالا حدثنا ابراهيم بن خالد، حدثنا ابو وايل القاص، قال دخلنا على عروة بن محمد بن السعدي فكلمه رجل فاغضبه فقام فتوضا ثم رجع وقد توضا فقال حدثني ابي عن جدي عطية قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الغضب من الشيطان وان الشيطان خلق من النار وانما تطفا النار بالماء فاذا غضب احدكم فليتوضا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں جب بھی اختیار کا حکم دیا گیا تو آپ نے اس میں آسان تر کو منتخب کیا، جب تک کہ وہ گناہ نہ ہو، اور اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اس سے دور رہنے والے ہوتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی انتقام نہیں لیا، اس صورت کے علاوہ کہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کو پامال کیا جاتا ہو تو آپ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کے لیے اس سے بدلہ لیتے ۱؎۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، رضى الله عنها انها قالت ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم في امرين الا اختار ايسرهما ما لم يكن اثما فان كان اثما كان ابعد الناس منه وما انتقم رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه الا ان تنتهك حرمة الله تعالى فينتقم لله بها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی کسی خادم کو مارا، اور نہ کبھی کسی عورت کو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها، قالت ما ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم خادما ولا امراة قط
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان «خذ العفو» عفو کو اختیار کرو کی تفسیر کے سلسلے میں روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں کے اخلاق میں سے عفو کو اختیار کریں۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله، - يعني ابن الزبير - في قوله { خذ العفو } قال امر نبي الله صلى الله عليه وسلم ان ياخذ العفو من اخلاق الناس
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بری بات پہنچتی تو آپ یوں نہ فرماتے: فلاں کو کیا ہوا کہ وہ ایسا کہتا ہے؟ بلکہ یوں فرماتے: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسا اور ایسا کہتے ہیں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الحميد، - يعني الحماني - حدثنا الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا بلغه عن الرجل الشىء لم يقل ما بال فلان يقول ولكن يقول " ما بال اقوام يقولون كذا وكذا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس پر زردی کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ آپ بہت کم کسی ایسے شخص کے روبرو ہوتے، جس کے چہرے پر کوئی ایسی چیز ہوتی جسے آپ ناپسند کرتے تو جب وہ نکل گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش تم لوگ اس سے کہتے کہ وہ اسے اپنے سے دھو ڈالے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلم علوی ( یعنی اولاد علی میں سے ) نہیں تھا بلکہ وہ ستارے دیکھا کرتا تھا ۱؎ اور اس نے عدی بن ارطاۃ کے پاس چاند دیکھنے کی گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی قبول نہیں کی۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا سلم العلوي، عن انس، ان رجلا، دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه اثر صفرة - وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم قلما يواجه رجلا في وجهه بشىء يكرهه - فلما خرج قال " لو امرتم هذا ان يغسل ذا عنه " . قال ابو داود سلم ليس هو علويا كان يبصر في النجوم وشهد عند عدي بن ارطاة على روية الهلال فلم يجز شهادته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر فسادی اور کمینہ ہوتا ہے ۔
حدثنا نصر بن علي، قال اخبرني ابو احمد، حدثنا سفيان، عن الحجاج بن فرافصة، عن رجل، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ح وحدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا بشر بن رافع، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، رفعاه جميعا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المومن غر كريم والفاجر خب لييم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اندر آنے کی ) اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے خاندان کا لڑکا یا خاندان کا آدمی برا شخص ہے پھر فرمایا: اسے اجازت دے دو، جب وہ اندر آ گیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی، اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس سے نرم گفتگو کی حالانکہ آپ اس کے متعلق ایسی ایسی باتیں کہہ چکے تھے، آپ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے برا شخص اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ ہو گا جس سے لوگوں نے اس کی فحش کلامی سے بچنے کے لیے علیحدگی اختیار کر لی ہو یا اسے چھوڑ دیا ہو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، عن عروة، عن عايشة، قالت استاذن رجل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " بيس ابن العشيرة " . او " بيس رجل العشيرة " . ثم قال " ايذنوا له " . فلما دخل الان له القول فقالت عايشة يا رسول الله النت له القول وقد قلت له ما قلت . قال " ان شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة من ودعه - او تركه - الناس لاتقاء فحشه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے جب وہ اندر آ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے کشادہ دلی سے ملے اور اس سے باتیں کیں، جب وہ نکل کر چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب اس نے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: اپنے کنبے کا برا شخص ہے، اور جب وہ اندر آ گیا تو آپ اس سے کشادہ دلی سے ملے آپ نے فرمایا: عائشہ! اللہ تعالیٰ کو فحش گو اور منہ پھٹ شخص پسند نہیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن عايشة، رضى الله عنها ان رجلا، استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بيس اخو العشيرة " . فلما دخل انبسط اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وكلمه فلما خرج قلت يا رسول الله لما استاذن قلت " بيس اخو العشيرة " . فلما دخل انبسطت اليه . فقال " يا عايشة ان الله لا يحب الفاحش المتفحش