Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ زینب بنت ابوسلمہ نے ان سے پوچھا: تم نے اپنی بیٹی کا نام کیا رکھا ہے؟ کہا: میں نے اس کا نام برہ رکھا ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع کیا ہے، میرا نام پہلے برہ رکھا گیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خود سے پاکباز نہ بنو، اللہ خوب جانتا ہے، تم میں پاکباز کون ہے، پھر ( میرے گھر والوں میں سے ) کسی نے پوچھا: تو ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ آپ نے فرمایا: زینب رکھ دو۔
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، ان زينب بنت ابي سلمة، سالته ما سميت ابنتك قال سميتها برة فقالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن هذا الاسم سميت برة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تزكوا انفسكم الله اعلم باهل البر منكم " . فقال ما نسميها قال " سموها زينب
اسامہ بن اخدری تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے اصرم ( بہت زیادہ کاٹنے والا ) کہا جاتا تھا، اس گروہ میں تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میں اصرم ہوں، آپ نے فرمایا: نہیں تم اصرم نہیں بلکہ زرعہ ( کھیتی لگانے والے ) ہو، ( یعنی آج سے تمہارا نام زرعہ ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، - يعني ابن المفضل - قال حدثني بشير بن ميمون، عن عمه، اسامة بن اخدري ان رجلا، يقال له اصرم كان في النفر الذين اتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اسمك " . قال انا اصرم . قال " بل انت زرعة
ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: شریح آپ نے فرمایا: تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔
حدثنا الربيع بن نافع، عن يزيد، - يعني ابن المقدام بن شريح - عن ابيه، عن جده، شريح عن ابيه، هاني انه لما وفد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع قومه سمعهم يكنونه بابي الحكم فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله هو الحكم واليه الحكم فلم تكنى ابا الحكم " . فقال ان قومي اذا اختلفوا في شىء اتوني فحكمت بينهم فرضي كلا الفريقين . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احسن هذا فما لك من الولد " . قال لي شريح ومسلم وعبد الله . قال " فمن اكبرهم " . قلت شريح قال " فانت ابو شريح " . قال ابو داود شريح هذا هو الذي كسر السلسلة وهو ممن دخل تستر . قال ابو داود وبلغني ان شريحا كسر باب تستر وذلك انه دخل من سرب
سعید بن مسیب کے دادا (حزن رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ کہا: حزن ۱؎ آپ نے فرمایا: تم سہل ہو، انہوں نے کہا: نہیں، سہل روندا جانا اور ذلیل کیا جانا ہے، سعید کہتے ہیں: تو میں نے جانا کہ اس کے بعد ہم لوگوں کو دشواری پیش آئے گی ( اس لیے کہ میرے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا نام ناپسند کیا تھا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاص ( گنہگار ) عزیز ( اللہ کا نام ہے ) ، عتلہ ( سختی ) شیطان، حکم ( اللہ کی صفت ہے ) ، غراب ( کوے کو کہتے ہیں اور اس کے معنی دوری اور غربت کے ہیں ) ، حباب ( شیطان کا نام ) اور شہاب ( شیطان کو بھگانے والا ایک شعلہ ہے ) کے نام بدل دیئے اور شہاب کا نام ہشام رکھ دیا، اور حرب ( جنگ ) کے بدلے سلم ( امن ) رکھا، مضطجع ( لیٹنے والا ) کے بدلے منبعث ( اٹھنے والا ) رکھا، اور جس زمین کا نام عفرۃ ( بنجر اور غیر آباد ) تھا، اس کا خضرہ ( سرسبز و شاداب ) رکھا، شعب الضلالۃ ( گمراہی کی گھاٹی ) کا نام شعب الہدی ( ہدایت کی گھاٹی ) رکھا، اور بنو زنیہ کا نام بنو رشدہ اور بنو مغویہ کا نام بنو رشدہ رکھ دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے اختصار کی غرض سے ان سب کی سندیں چھوڑ دی ہیں۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " ما اسمك " . قال حزن . قال " انت سهل " . قال لا السهل يوطا ويمتهن . قال سعيد فظننت انه سيصيبنا بعده حزونة . قال ابو داود وغير النبي صلى الله عليه وسلم اسم العاص وعزيز وعتلة وشيطان والحكم وغراب وحباب وشهاب فسماه هشاما وسمى حربا سلما وسمى المضطجع المنبعث وارضا تسمى عفرة سماها خضرة وشعب الضلالة سماه شعب الهدى وبنو الزنية سماهم بني الرشدة وسمى بني مغوية بني رشدة . قال ابو داود تركت اسانيدها للاختصار
مسروق کہتے ہیں کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: مسروق بن اجدع، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اجدع تو شیطان ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا هاشم بن القاسم، حدثنا ابو عقيل، حدثنا مجالد بن سعيد، عن الشعبي، عن مسروق، قال لقيت عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال من انت قلت مسروق بن الاجدع . فقال عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الاجدع شيطان
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے یا اپنے غلام کا نام یسار، رباح، نجیح اور افلح ہرگز نہ رکھو، اس لیے کہ تم پوچھو گے: کیا وہاں ہے وہ؟ تو جواب دینے والا کہے گا: نہیں ( تو تم اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھو گے ) ( سمرہ نے کہا ) یہ تو بس چار ہیں اور تم اس سے زیادہ مجھ سے نہ نقل کرنا۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا منصور بن المعتمر، عن هلال بن يساف، عن ربيع بن عميلة، عن سمرة بن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسمين غلامك يسارا ولا رباحا ولا نجيحا ولا افلح فانك تقول اثم هو فيقول لا انما هن اربع فلا تزيدن على
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ہم افلح، یسار، نافع اور رباح ان چار ناموں میں سے کوئی اپنے غلاموں یا بچوں کا رکھیں۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا المعتمر، قال سمعت الركين، يحدث عن ابيه، عن سمرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نسمي رقيقنا اربعة اسماء افلح ويسارا ونافعا ورباحا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تو میں اپنی امت کو نافع، افلح اور برکت نام رکھنے سے منع کر دوں گا، ( اعمش کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم انہوں ( سفیان ) نے نافع کا ذکر کیا یا نہیں ) اس لیے کہ آدمی جب آئے گا تو پوچھے گا: کیا برکت ہے؟ تو لوگ کہیں گے: نہیں، ( تو لوگ اسے بدفالی سمجھ کر اچھا نہ سمجھیں گے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوزبیر نے جابر سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے البتہ اس میں برکت کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبيد، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان عشت ان شاء الله انهى امتي ان يسموا نافعا وافلح وبركة " . قال الاعمش ولا ادري ذكر نافعا ام لا " فان الرجل يقول اذا جاء اثم بركة فيقولون لا " . قال ابو داود روى ابو الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه لم يذكر بركة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے ذلیل نام والا اللہ کے نزدیک قیامت کے دن وہ شخص ہو گا جسے لوگ شہنشاہ کہتے ہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے اسے ابوالزناد سے، اسی سند سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے «أخنع اسم» کے بجائے «أخنى اسم» کہا ہے، ( جس کے معنیٰ سب سے فحش اور قبیح نام کے ہیں ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اخنع اسم عند الله تبارك وتعالى يوم القيامة رجل تسمى ملك الاملاك " . قال ابو داود رواه شعيب بن ابي حمزة عن ابي الزناد باسناده قال " اخنى اسم
ابوجبیرہ بن ضحاک کہتے ہیں کہ ہمارے یعنی بنو سلمہ کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب بئس الاسم الفسوق بعد الإيمان» ایک دوسرے کو برے ناموں سے نہ پکارو، ایمان کے بعد برے نام سے پکارنا برا ہے ( الحجرات: ۱۱ ) ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم میں کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے دو یا تین نام نہ ہوں، تو آپ نے پکارنا شروع کیا: اے فلاں، تو لوگ کہتے: اللہ کے رسول! اس نام سے نہ پکاریئے، وہ اس نام سے چڑھتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تنابزوا بالألقاب» ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، عن داود، عن عامر، قال حدثني ابو جبيرة بن الضحاك، قال فينا نزلت هذه الاية في بني سلمة { ولا تنابزوا بالالقاب بيس الاسم الفسوق بعد الايمان } قال قدم علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس منا رجل الا وله اسمان او ثلاثة فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يا فلان " . فيقولون مه يا رسول الله انه يغضب من هذا الاسم فانزلت هذه الاية { ولا تنابزوا بالالقاب}
اسلم کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کو مارا جس نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی تھی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بھی ابوعیسیٰ کنیت رکھی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں کہ تم ابوعبداللہ کنیت اختیار کرو؟ ۱؎وہ بولے: میری یہ کنیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی رکھی ہے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے گئے تھے، اور ہم تو اپنی ہی طرح کے چند لوگوں میں سے ایک ہیں ۲؎ چنانچہ وہ ہمیشہ ابوعبداللہ کی کنیت سے پکارے جاتے رہے، یہاں تک کہ انتقال فرما گئے۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، ان عمر بن الخطاب، رضى الله عنه ضرب ابنا له تكنى ابا عيسى وان المغيرة بن شعبة تكنى بابي عيسى فقال له عمر اما يكفيك ان تكنى بابي عبد الله فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كناني فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر وانا في جلجلتنا فلم يزل يكنى بابي عبد الله حتى هلك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے میرے بیٹے! ۔
حدثنا عمرو بن عون، قال اخبرنا ح، وحدثنا مسدد، ومحمد بن محبوب، قالوا حدثنا ابو عوانة، عن ابي عثمان، - وسماه ابن محبوب الجعد - عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال له " يا بنى " . قال ابو داود سمعت يحيى بن معين يثني على محمد بن محبوب ويقول كثير الحديث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت نہ رکھو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوصالح نے ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسی طرح ابوسفیان، سالم بن ابی الجعد، سلیمان یشکری اور ابن منکدر وغیرہ کی روایتیں بھی ہیں جو جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں، اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی طرح ہے ( یعنی اس میں بھی یہی ہے کہ میرے نام پر نام رکھو اور میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ) ۔
حدثنا مسدد، وابو بكر بن ابي شيبة قالا حدثنا سفيان، عن ايوب السختياني، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي " . قال ابو داود وكذلك رواه ابو صالح عن ابي هريرة وكذلك رواية ابي سفيان عن جابر وسالم بن ابي الجعد عن جابر وسليمان اليشكري عن جابر وابن المنكدر عن جابر نحوهم وانس بن مالك
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرا نام رکھے، وہ میری کنیت نہ رکھے، اور جو میری کنیت رکھے، وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی مفہوم کی حدیث ابن عجلان نے اپنے والد سے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور ابوزرعہ کی روایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں روایتوں سے مختلف روایت کی گئی ہے، اور اسی طرح عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کی روایت جسے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی کچھ اختلاف ہے، اسے ثوری اور ابن جریج نے ابو الزبیر کی طرح روایت کیا ہے، اور اسے معقل بن عبیداللہ نے ابن سیرین کی طرح روایت کیا ہے، اور جسے موسیٰ بن یسار نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں بھی اختلاف کیا گیا ہے، حماد بن خالد اور ابن ابی فدیک کے دو مختلف قول ہیں ۱؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تسمى باسمي فلا يكتني بكنيتي ومن تكنى بكنيتي فلا يتسمى باسمي " . قال ابو داود وروى بهذا المعنى ابن عجلان عن ابيه عن ابي هريرة وروي عن ابي زرعة عن ابي هريرة مختلفا على الروايتين وكذلك رواية عبد الرحمن بن ابي عمرة عن ابي هريرة اختلف فيه رواه الثوري وابن جريج على ما قال ابو الزبير ورواه معقل بن عبيد الله على ما قال ابن سيرين واختلف فيه على موسى بن يسار عن ابي هريرة ايضا على القولين اختلف فيه حماد بن خالد وابن ابي فديك
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة قالا حدثنا ابو اسامة، عن فطر، عن منذر، عن محمد ابن الحنفية، قال قال علي رحمه الله قلت يا رسول الله ان ولد لي من بعدك ولد اسميه باسمك واكنيه بكنيتك قال " نعم " . ولم يقل ابو بكر قلت قال علي عليه السلام للنبي صلى الله عليه وسلم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎ ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا محمد بن عمران الحجبي، عن جدته، صفية بنت شيبة عن عايشة، رضي الله عنها قالت جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني قد ولدت غلاما فسميته محمدا وكنيته ابا القاسم فذكر لي انك تكره ذلك فقال " ما الذي احل اسمي وحرم كنيتي " . او " ما الذي حرم كنيتي واحل اسمي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آتے تھے، اور میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جس کی کنیت ابوعمیر تھی، اس کے پاس ایک چڑیا تھی، وہ اس سے کھیلتا تھا، وہ مر گئی، پھر ایک دن اچانک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے تو اسے رنجیدہ و غمگین دیکھ کر فرمایا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اس کی چڑیا مر گئی، تو آپ نے فرمایا: اے ابوعمیر! کیا ہوا نغیر ( چڑیا ) کو؟ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل علينا ولي اخ صغير يكنى ابا عمير وكان له نغر يلعب به فمات فدخل عليه النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم فراه حزينا فقال " ما شانه " . قالوا مات نغره فقال " يا ابا عمير ما فعل النغير
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری تمام سہیلیوں کی کنیتیں ہیں، آپ نے فرمایا: تو تم اپنے بیٹے یعنی اپنے بھانجے عبداللہ کے ساتھ کنیت رکھ لو مسدد کی روایت میں ( عبداللہ کے بجائے ) عبداللہ بن زبیر ہے، عروہ کہتے ہیں: چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قران بن تمام اور معمر دونوں نے ہشام سے اسی طرح روایت کی ہے، اور ابواسامہ نے ہشام سے اور ہشام نے عباد بن حمزہ سے اسے روایت کیا ہے، اور اسی طرح اسے حماد بن سلمہ اور مسلمہ بن قعنب نے ہشام سے روایت کیا ہے جیسا کہ ابواسامہ نے کہا ہے۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن حرب، - المعنى - قالا حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها انها قالت يا رسول الله كل صواحبي لهن كنى . قال " فاكتني بابنك عبد الله " . يعني ابن اختها قال مسدد عبد الله بن الزبير قال فكانت تكنى بام عبد الله . قال ابو داود وهكذا قال قران بن تمام ومعمر جميعا عن هشام نحوه ورواه ابو اسامة عن هشام عن عباد بن حمزة وكذلك حماد بن سلمة ومسلمة بن قعنب عن هشام كما قال ابو اسامة
سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: یہ بہت بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو جسے وہ تو سچ جانے اور تم خود اس سے جھوٹ کہو۔
حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي، - امام مسجد حمص - حدثنا بقية بن الوليد، عن ضبارة بن مالك الحضرمي، عن ابيه، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير، عن ابيه، عن سفيان بن اسيد الحضرمي، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " كبرت خيانة ان تحدث اخاك حديثا هو لك به مصدق وانت له به كاذب
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ابوعبداللہ (حذیفہ) رضی اللہ عنہ سے یا ابوعبداللہ نے ابومسعود سے کہا نے «زعموا» کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا؟ وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: «زعموا» ( لوگوں نے گمان کیا ) آدمی کی بہت بری سواری ہے ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن الاوزاعي، عن يحيى، عن ابي قلابة، قال ابو مسعود لابي عبد الله او قال ابو عبد الله لابي مسعود ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في " زعموا " . قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بيس مطية الرجل زعموا " . قال ابو داود ابو عبد الله هذا حذيفة