احادیث
#4955
سنن ابی داؤد - General Behavior
ابوشریح ہانی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی قوم کے ساتھ وفد میں آئے، تو آپ نے ان لوگوں کو سنا کہ وہ انہیں ابوالحکم کی کنیت سے پکار رہے تھے، آپ نے انہیں بلایا، اور فرمایا: حکم تو اللہ ہے، اور حکم اسی کا ہے تو تمہاری کنیت ابوالحکم کیوں ہے؟ انہوں نے کہا: میری قوم کے لوگوں کا جب کسی معاملے میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ہی ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں اور دونوں فریق اس پر راضی ہو جاتے ہیں، آپ نے فرمایا: یہ تو اچھی بات ہے، تو کیا تمہارے کچھ لڑکے بھی ہیں؟ انہوں نے کہا: شریح، مسلم اور عبداللہ میرے بیٹے ہیں آپ نے پوچھا: ان میں بڑا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: شریح آپ نے فرمایا: تو تم ابوشریح ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریح ہی وہ شخص ہیں جس نے زنجیر توڑی تھی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو تستر میں فاتحانہ داخل ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کی شریح نے ہی تستر کا دروازہ توڑا تھا اور وہی نالے کے راستے سے اس میں داخل ہوئے تھے۔
حدثنا الربيع بن نافع، عن يزيد، - يعني ابن المقدام بن شريح - عن ابيه، عن جده، شريح عن ابيه، هاني انه لما وفد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم مع قومه سمعهم يكنونه بابي الحكم فدعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله هو الحكم واليه الحكم فلم تكنى ابا الحكم " . فقال ان قومي اذا اختلفوا في شىء اتوني فحكمت بينهم فرضي كلا الفريقين . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احسن هذا فما لك من الولد " . قال لي شريح ومسلم وعبد الله . قال " فمن اكبرهم " . قلت شريح قال " فانت ابو شريح " . قال ابو داود شريح هذا هو الذي كسر السلسلة وهو ممن دخل تستر . قال ابو داود وبلغني ان شريحا كسر باب تستر وذلك انه دخل من سرب
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- General Behavior
- Hadith Index
- #4955
- Book Index
- 183
Grades
- Al-AlbaniSahih
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih
- Shuaib Al ArnautSahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
