Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطبہ دیا تو «أما بعد» کہا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن ابي حيان، عن يزيد بن حيان، عن زيد بن ارقم، ان النبي صلى الله عليه وسلم خطبهم فقال " اما بعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( انگور اور اس کے باغ کو ) «كرم» نہ کہے ۱؎، اس لیے کہ «كرم» مسلمان مرد کو کہتے ہیں ۲؎، بلکہ اسے انگور کے باغ کہو۔
حدثنا سليمان بن داود، اخبرنا ابن وهب، قال اخبرنا الليث بن سعد، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم الكرم فان الكرم الرجل المسلم ولكن قولوا حدايق الاعناب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ( اپنے غلام یا لونڈی کو ) «عبدي» ( میرا بندہ ) اور «أمتي» ( میری بندی ) نہ کہے اور نہ کوئی غلام یا لونڈی ( اپنے آقا کو ) «ربي» ( میرے مالک ) اور «ربتي» ( میری مالکن ) کہے بلکہ مالک یوں کہے: میرے جوان! یا میری جوان! اور غلام اور لونڈی یوں کہیں: «سيدي» ( میرے آقا ) اور «سيدتي» ( میری مالکن ) اس لیے کہ تم سب مملوک ہو اور رب صرف اللہ ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ايوب، وحبيب بن الشهيد، وهشام، عن محمد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم عبدي وامتي ولا يقولن المملوك ربي وربتي وليقل المالك فتاى وفتاتي وليقل المملوك سيدي وسيدتي فانكم المملوكون والرب الله عز وجل
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں یہ ہے فرمایا: اور چاہیئے کہ وہ «سيدي» ( میرے آقا ) اور «مولاى» ( میرے مولی ) کہے۔
حدثنا ابن السرح، اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني عمرو بن الحارث، ان ابا يونس، حدثه عن ابي هريرة، في هذا الخبر ولم يذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال " وليقل سيدي ومولاى
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ منافق کو سید نہ کہو اس لیے کہ اگر وہ سید ہے ( یعنی قوم کا سردار ہے یا غلام و لونڈی اور مال والا ہے ) تو تم نے اپنے رب کو ناراض کیا ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقولوا للمنافق سيد فانه ان يك سيدا فقد اسخطتم ربكم عز وجل
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی میرا نفس خبیث ہو گیا نہ کہے، بلکہ یوں کہے میرا جی پریشان ہو گیا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم خبثت نفسي وليقل لقست نفسي
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: میرے دل نے جوش مارا بلکہ یوں کہے: میرا جی پریشان ہو گیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم جاشت نفسي ولكن ليقل لقست نفسي
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ۱؎ بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن منصور، عن عبد الله بن يسار، عن حذيفة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقولوا ما شاء الله وشاء فلان ولكن قولوا ما شاء الله ثم شاء فلان
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا، تو اس نے ( خطبہ میں ) کہا:«من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما» جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرتا ہے … ( ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ) آپ نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ یا یوں فرمایا: چلے جاؤ تم بہت برے خطیب ہو۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان بن سعيد، قال حدثني عبد العزيز بن رفيع، عن تميم الطايي، عن عدي بن حاتم، ان خطيبا، خطب عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما . فقال " قم " . او قال " اذهب فبيس الخطيب انت
ابوالملیح ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ اس نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، کہ آپ کی سواری پھسل گئی، میں نے کہا: شیطان مرے، تو آپ نے فرمایا: یوں نہ کہو کہ شیطان مرے اس لیے کہ جب تم ایسا کہو گے تو وہ پھول کر گھر کے برابر ہو جائے گا، اور کہے گا: میرے زور و قوت کا اس نے اعتراف کر لیا، بلکہ یوں کہو: اللہ کے نام سے اس لیے کہ جب تم یہ کہو گے تو وہ پچک کر اتنا چھوٹا ہو جائے گا جیسے مکھی۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، - يعني ابن عبد الله - عن خالد، - يعني الحذاء - عن ابي تميمة، عن ابي المليح، عن رجل، قال كنت رديف النبي صلى الله عليه وسلم فعثرت دابته فقلت تعس الشيطان . فقال " لا تقل تعس الشيطان فانك اذا قلت ذلك تعاظم حتى يكون مثل البيت ويقول بقوتي ولكن قل بسم الله فانك اذا قلت ذلك تصاغر حتى يكون مثل الذباب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سنو! ( اور موسیٰ کی روایت میں یوں ہے، کہ جب آدمی کہے ) کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو وہی ان میں سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مالک نے کہا: جب وہ یہ بات دینی معاملات میں لوگوں کی روش دیکھ کر رنج سے کہے تو میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا، اور جب یہ بات وہ خود پر ناز کر کے اور لوگوں کو حقیر سمجھ کر کہے تو یہی وہ مکروہ و ناپسندیدہ چیز ہے، جس سے روکا گیا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، ح وحدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعت " . وقال موسى " اذا قال الرجل هلك الناس فهو اهلكهم " . قال ابو داود قال مالك اذا قال ذلك تحزنا لما يرى في الناس - يعني في امر دينهم - فلا ارى به باسا واذا قال ذلك عجبا بنفسه وتصاغرا للناس فهو المكروه الذي نهي عنه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر «أعراب» ( دیہاتی لوگ ) تمہاری نماز کے نام کے سلسلے میں ہرگز غالب نہ آ جائیں، سنو! اس کا نام عشاء ہے ۱؎ اور وہ لوگ تو اونٹنیوں کے دودھ دوہنے کے لیے تاخیر اور اندھیرا کرتے ہیں۲؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان، عن ابن ابي لبيد، عن ابي سلمة، قال سمعت ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تغلبنكم الاعراب على اسم صلاتكم الا وانها العشاء ولكنهم يعتمون بالابل
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا مسعر بن كدام، عن عمرو بن مرة، عن سالم بن ابي الجعد، قال قال رجل - قال مسعر اراه من خزاعة - ليتني صليت فاسترحت فكانهم عابوا عليه ذلك فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يا بلال اقم الصلاة ارحنا بها
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی ( عیادت ) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا: اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا اسراييل، حدثنا عثمان بن المغيرة، عن سالم بن ابي الجعد، عن عبد الله بن محمد ابن الحنفية، قال انطلقت انا وابي، الى صهر لنا من الانصار نعوده فحضرت الصلاة فقال لبعض اهله يا جارية ايتوني بوضوء لعلي اصلي فاستريح - قال - فانكرنا ذلك عليه فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قم يا بلال اقم فارحنا بالصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کے علاوہ کسی اور معاملے کی طرف کسی کی نسبت کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔
حدثنا هارون بن زيد بن ابي الزرقاء، حدثنا ابي، حدثنا هشام بن سعد، عن زيد بن اسلم، عن عايشة، رضى الله عنها، قالت ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينسب احدا الا الى الدين
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بار ( دشمن کا ) خوف ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلے، ( واپس آئے تو ) فرمایا: ہم نے تو کوئی چیز نہیں دیکھی، یا ہم نے کوئی خوف نہیں دیکھا اور ہم نے اسے ( گھوڑے کو ) سمندر ( سبک رفتار ) پایا ۱؎۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال كان فزع بالمدينة فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة فقال " ما راينا شييا " . او " ما راينا من فزع وان وجدناه لبحرا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جھوٹ سے بچو، اس لیے کہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے، اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے، آدمی جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سچ بولنے کو لازم کر لو اس لیے کہ سچ بھلائی اور نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے، آدمی سچ بولتا ہے اور سچ بولنے ہی میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک سچا لکھ دیا جاتا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، اخبرنا الاعمش، ح وحدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، حدثنا الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اياكم والكذب فان الكذب يهدي الى الفجور وان الفجور يهدي الى النار وان الرجل ليكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا وعليكم بالصدق فان الصدق يهدي الى البر وان البر يهدي الى الجنة وان الرجل ليصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تباہی ہے اس کے لیے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تاکہ اس سے لوگوں کو ہنسائے، تباہی ہے اس کے لیے، تباہی ہے اس کے لیے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا يحيى، عن بهز بن حكيم، قال حدثني ابي، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ويل للذي يحدث فيكذب ليضحك به القوم ويل له ويل له
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر بیٹھے ہوئے تھے، وہ بولیں: سنو یہاں آؤ، میں تمہیں کچھ دوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم نے اسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولیں، میں اسے کھجور دوں گی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: سنو، اگر تم اسے کوئی چیز نہیں دیتی، تو تم پر ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، ان رجلا، من موالي عبد الله بن عامر بن ربيعة العدوي حدثه عن عبد الله بن عامر انه قال دعتني امي يوما ورسول الله صلى الله عليه وسلم قاعد في بيتنا فقالت ها تعال اعطيك . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " وما اردت ان تعطيه " . قالت اعطيه تمرا . فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انك لو لم تعطيه شييا كتبت عليك كذبة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات ( بلا تحقیق ) بیان کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص نے ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اسے صرف اسی شیخ یعنی علی بن حفص المدائنی نے ہی مسند کیا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا محمد بن الحسين، حدثنا علي بن حفص، قال حدثنا شعبة، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، - قال ابن حسين في حديثه - عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " كفى بالمرء اثما ان يحدث بكل ما سمع " . قال ابو داود ولم يذكر حفص ابا هريرة . قال ابو داود ولم يسنده الا هذا الشيخ يعني علي بن حفص المدايني