Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حسن ظن حسن عبادت میں سے ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا نصر بن علي، عن مهنا ابي شبل، - قال ابو داود ولم افهمه منه جيدا - عن حماد بن سلمة، عن محمد بن واسع، عن شتير، - قال نصر : ابن نهار - عن ابي هريرة، - قال نصر - عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " حسن الظن من حسن العبادة " . قال ابو داود مهنا ثقة بصري
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، میں ایک رات آپ کے پاس آپ سے ملنے آئی تو میں نے آپ سے گفتگو کی اور اٹھ کر جانے لگی، آپ مجھے پہنچانے کے لیے میرے ساتھ اٹھے اور اس وقت وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے گھر میں رہتی تھیں، اتنے میں انصار کے دو آدمی گزرے انہوں نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیزی سے چلنے لگے، آپ نے فرمایا: تم دونوں ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ کے رسول! ( یعنی کیا ہم آپ کے سلسلہ میں بدگمانی کر سکتے ہیں ) آپ نے فرمایا: شیطان آدمی میں اسی طرح پھرتا ہے، جیسے خون ( رگوں میں ) پھرتا ہے، تو مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں کچھ ڈال نہ دے، یا یوں کہا: کوئی بری بات نہ ڈال دے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن علي بن حسين، عن صفية، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم معتكفا فاتيته ازوره ليلا فحدثته وقمت فانقلبت فقام معي ليقلبني - وكان مسكنها في دار اسامة بن زيد - فمر رجلان من الانصار فلما رايا النبي صلى الله عليه وسلم اسرعا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " على رسلكما انها صفية بنت حيى " . قالا سبحان الله يا رسول الله قال " ان الشيطان يجري من الانسان مجرى الدم فخشيت ان يقذف في قلوبكما شييا " . او قال " شرا
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اسے پورا کرے گا، پھر وہ اسے پورا نہ کر سکے اور وعدے پر نہ آ سکے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو عامر، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن علي بن عبد الاعلى، عن ابي النعمان، عن ابي وقاص، عن زيد بن ارقم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وعد الرجل اخاه - ومن نيته ان يفي له - فلم يف ولم يجي للميعاد فلا اثم عليه
عبداللہ بن ابو حمساء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے بعثت سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میرے ذمے رہ گئی تو میں نے آپ سے وعدہ کیا کہ میں اسی جگہ اسے لا کر دوں گا، پھر میں بھول گیا، پھر مجھے تین ( دن ) کے بعد یاد آیا تو میں آیا، دیکھا کہ آپ اسی جگہ موجود ہیں، آپ نے فرمایا: اے جوان! تو نے مجھے زحمت میں ڈال دیا، اسی جگہ تین دن سے میں تیرا انتظار کر رہا ہوں ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس النيسابوري، حدثنا محمد بن سنان، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن بديل، عن عبد الكريم، عن عبد الله بن شقيق، عن ابيه، عن عبد الله بن ابي الحمساء، قال بايعت النبي صلى الله عليه وسلم ببيع قبل ان يبعث وبقيت له بقية فوعدته ان اتيه بها في مكانه فنسيت ثم ذكرت بعد ثلاث فجيت فاذا هو في مكانه فقال " يا فتى لقد شققت على انا ها هنا منذ ثلاث انتظرك " . قال ابو داود قال محمد بن يحيى هذا عندنا عبد الكريم بن عبد الله بن شقيق . قال ابو داود هكذا بلغني عن علي بن عبد الله . قال ابو داود بلغني ان بشر بن السري رواه عن عبد الكريم بن عبد الله بن شقيق
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر، عن اسماء بنت ابي بكر، ان امراة، قالت يا رسول الله ان لي جارة - تعني ضرة - هل على جناح ان تشبعت لها بما لم يعط زوجي قال " المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبى زور
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے ۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن حميد، عن انس، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله احملني . قال النبي صلى الله عليه وسلم " انا حاملوك على ولد ناقة " . قال وما اصنع بولد الناقة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وهل تلد الابل الا النوق
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو سنا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا اونچی آواز میں بول رہی ہیں، تو وہ جب اندر آئے تو انہوں نے انہیں طمانچہ مارنے کے لیے پکڑا اور بولے: سنو! میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بلند کرتی ہو، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں روکنے لگے اور ابوبکر غصے میں باہر نکل گئے، تو جب ابوبکر باہر چلے گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھا تو نے میں نے تجھے اس شخص سے کیسے بچایا پھر ابوبکر کچھ دنوں تک رکے رہے ( یعنی ان کے گھر نہیں گئے ) اس کے بعد ایک بار پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو ان دونوں کو پایا کہ دونوں میں صلح ہو گئی ہے، تو وہ دونوں سے بولے: آپ لوگ مجھے اپنی صلح میں بھی شامل کر لیجئے جس طرح مجھے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے شریک کیا، ہم نے شریک کیا ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا حجاج بن محمد، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، عن ابي اسحاق، عن العيزار بن حريث، عن النعمان بن بشير، قال استاذن ابو بكر رحمة الله عليه على النبي صلى الله عليه وسلم فسمع صوت عايشة عاليا فلما دخل تناولها ليلطمها وقال لا اراك ترفعين صوتك على رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يحجزه وخرج ابو بكر مغضبا فقال النبي صلى الله عليه وسلم حين خرج ابو بكر " كيف رايتني انقذتك من الرجل " . قال فمكث ابو بكر اياما ثم استاذن على رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدهما قد اصطلحا فقال لهما ادخلاني في سلمكما كما ادخلتماني في حربكما . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قد فعلنا قد فعلنا
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: اندر آ جاؤ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: پورے طور سے چنانچہ میں اندر چلا گیا۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء، عن بسر بن عبيد الله، عن ابي ادريس الخولاني، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك وهو في قبة من ادم فسلمت فرد وقال " ادخل " . فقلت اكلي يا رسول الله قال " كلك " . فدخلت
عثمان بن ابی العاتکہ کہتے ہیں کہ انہوں نے جو یہ پوچھا کہ کیا پورے طور پر اندر آ جاؤں تو اس وجہ سے کہ خیمہ چھوٹا تھا۔
حدثنا صفوان بن صالح، حدثنا الوليد، حدثنا عثمان بن ابي العاتكة، قال انما قال ادخل كلي . من صغر القبة
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے دو کانوں والے! ۔
حدثنا ابراهيم بن مهدي، حدثنا شريك، عن عاصم، عن انس، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ذا الاذنين
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان ( بلا اجازت ) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎ ۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا » کے بجائے ) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ ( ضرورت پوری کر کے ) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن ابن ابي ذيب، ح وحدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا شعيب بن اسحاق، عن ابن ابي ذيب، عن عبد الله بن السايب بن يزيد، عن ابيه، عن جده، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا ياخذن احدكم متاع اخيه لاعبا ولا جادا " . وقال سليمان " لعبا ولا جدا " . " ومن اخذ عصا اخيه فليردها " . لم يقل ابن بشار ابن يزيد وقال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے، ان میں سے ایک صاحب سو گئے، کچھ لوگ اس رسی کے پاس گئے، جو اس کے پاس تھی اور اسے لے لیا تو وہ ڈر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو ڈرائے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا ابن نمير، عن الاعمش، عن عبد الله بن يسار، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال حدثنا اصحاب، محمد صلى الله عليه وسلم انهم كانوا يسيرون مع النبي صلى الله عليه وسلم فنام رجل منهم فانطلق بعضهم الى حبل معه فاخذه ففزع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يحل لمسلم ان يروع مسلما
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے ( گھاس کھانے میں ) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بے سوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن سنان الباهلي، - وكان ينزل العوقة - حدثنا نافع بن عمر، عن بشر بن عاصم، عن ابيه، عن عبد الله، - قال ابو داود وهو ابن عمرو - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه تخلل الباقرة بلسانها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی باتوں کو گھمانا اس لیے سیکھے کہ اس سے آدمیوں یا لوگوں کے دلوں کو حق بات سے پھیر کر اپنی طرف مائل کر لے، تو اللہ قیامت کے دن اس کی نہ نفل ( عبادت ) قبول کرے گا اور نہ فرض ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا وهب، عن عبد الله بن المسيب، عن الضحاك بن شرحبيل، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تعلم صرف الكلام ليسبي به قلوب الرجال او الناس لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دو آدمی ۱؎ پورب سے آئے تو ان دونوں نے خطبہ دیا، لوگ حیرت میں پڑ گئے، یعنی ان کے عمدہ بیان سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں ۲؎ یعنی سحر کی سی تاثیر رکھتی ہیں راوی کو شک ہے کہ «إن من البيان لسحرا» کہا یا «إن بعض البيان لسحر» کہا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن عبد الله بن عمر، انه قال قدم رجلان من المشرق فخطبا فعجب الناس - يعني لبيانهما - فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من البيان لسحرا " . او " ان بعض البيان لسحر
ابوظبیہ کا بیان ہے کہ عمرو بن العاص نے ایک دن کہا اور ( اس سے پہلے ) ایک شخص کھڑے ہو کر بے تحاشہ بولے جا رہا تھا، اس پر عمرو نے کہا: اگر وہ بات میں درمیانی روش اپناتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مجھے مناسب معلوم ہوتا ہے یا مجھے حکم ہوا ہے کہ میں گفتگو میں اختصار سے کام یعنی جتنی بات کافی ہو اسی پر اکتفا کروں اس لیے کہ اختصار ہی بہتر روش ہے۔
حدثنا سليمان بن عبد الحميد البهراني، انه قرا في اصل اسماعيل بن عياش وحدثه محمد بن اسماعيل ابنه قال حدثني ابي قال حدثني ضمضم عن شريح بن عبيد قال حدثنا ابو ظبية ان عمرو بن العاص قال يوما وقام رجل فاكثر القول فقال عمرو لو قصد في قوله لكان خيرا له سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لقد رايت او امرت ان اتجوز في القول فان الجواز هو خير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے لیے اپنا پیٹ پیپ سے بھر لینا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ شعر سے بھرے، ابوعلی کہتے ہیں: مجھے ابو عبید سے یہ بات پہنچی کہ انہوں نے کہا: اس کی شکل ( شعر سے پیٹ بھرنے کی ) یہ ہے کہ اس کا دل بھر جائے یہاں تک کہ وہ اسے قرآن، اور اللہ کے ذکر سے غافل کر دے اور جب قرآن اور علم اس پر چھایا ہوا ہو تو اس کا پیٹ ہمارے نزدیک شعر سے بھرا ہوا نہیں ہے ( اور آپ نے فرمایا ) بعض تقریریں جادو ہوتی ہیں یعنی ان میں سحر کی سی تاثیر ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں: اس کے معنی گویا یہ ہیں کہ وہ اپنی تقریر میں اس مقام کو پہنچ جائے کہ وہ انسان کی تعریف کرے اور سچی بات ( تعریف میں ) کہے یہاں تک کہ دلوں کو اپنی بات کی طرف موڑ لے پھر اس کی مذمت کرے اور اس میں بھی سچی بات کہے، یہاں تک کہ دلوں کو اپنی دوسری بات جو پہلی بات کے مخالف ہو کی طرف موڑ دے، تو گویا اس نے سامعین کو اس کے ذریعہ سے مسحور کر دیا ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لان يمتلي جوف احدكم قيحا خير له من ان يمتلي شعرا " . قال ابو علي بلغني عن ابي عبيد انه قال وجهه ان يمتلي قلبه حتى يشغله عن القران وذكر الله فاذا كان القران والعلم الغالب فليس جوف هذا عندنا ممتليا من الشعر وان من البيان لسحرا . قال كان المعنى ان يبلغ من بيانه ان يمدح الانسان فيصدق فيه حتى يصرف القلوب الى قوله ثم يذمه فيصدق فيه حتى يصرف القلوب الى قوله الاخر فكانه سحر السامعين بذلك
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض اشعار دانائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال حدثنا ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن مروان بن الحكم، عن عبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث، عن ابى بن كعب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان من الشعر حكمة
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور باتیں کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض بیان جادو ہوتے ہیں اور بعض اشعار «حكم» ۱؎ ( یعنی حکمت ) پر مبنی ہوتے ہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يتكلم بكلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من البيان سحرا وان من الشعر حكما
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بعض بیان یعنی گفتگو، خطبہ اور تقریر جادو ہوتی ہیں ( یعنی ان میں جادو جیسی تاثیر ہوتی ہے ) ، بعض علم جہالت ہوتے ہیں، بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں، اور بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں ۔ تو صعصہ بن صوحان بولے: اللہ کے نبی نے سچ کہا، رہا آپ کا فرمانا بعض بیان جادو ہوتے ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی پر دوسرے کا حق ہوتا ہے، لیکن وہ دلائل ( پیش کرنے ) میں صاحب حق سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے، چنانچہ وہ اپنی دلیل بہتر طور سے پیش کر کے اس کے حق کو مار لے جاتا ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض علم جہل ہوتا ہے تو وہ اس طرح کہ عالم بعض ایسی باتیں بھی اپنے علم میں ملانے کی کوشش کرتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں چنانچہ یہ چیز اسے جاہل بنا دیتی ہے۔ اور رہا آپ کا قول بعض اشعار حکمت ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں کچھ ایسی نصیحتیں اور مثالیں ہوتی ہیں، جن سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں، رہا آپ کا قول کہ بعض باتیں بوجھ ہوتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی بات یا اپنی گفتگو ایسے شخص پر پیش کرو جو اس کا اہل نہ ہو یا وہ اس کا خواہاں نہ ہو۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا سعيد بن محمد، حدثنا ابو تميلة، قال حدثني ابو جعفر النحوي عبد الله بن ثابت، قال حدثني صخر بن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان من البيان سحرا وان من العلم جهلا وان من الشعر حكما وان من القول عيالا " . فقال صعصعة بن صوحان صدق نبي الله صلى الله عليه وسلم اما قوله " ان من البيان سحرا " . فالرجل يكون عليه الحق وهو الحن بالحجج من صاحب الحق فيسحر القوم ببيانه فيذهب بالحق واما قوله " ان من العلم جهلا " . فيتكلف العالم الى علمه ما لا يعلم فيجهله ذلك واما قوله " ان من الشعر حكما " . فهي هذه المواعظ والامثال التي يتعظ بها الناس واما قوله " ان من القول عيالا " . فعرضك كلامك وحديثك على من ليس من شانه ولا يريده