Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، وہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھور کر دیکھا، تو انہوں نے کہا: میں شعر پڑھتا تھا حالانکہ اس ( مسجد ) میں آپ سے بہتر شخص ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہوتے تھے۔
حدثنا ابن ابي خلف، واحمد بن عبدة، - المعنى - قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد، قال مر عمر بحسان وهو ينشد في المسجد فلحظ اليه فقال قد كنت انشد وفيه من هو خير منك
اس سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے تو وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) ڈرے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کو بطور دلیل پیش نہ کر دیں چنانچہ انہوں نے انہیں ( مسجد میں شعر پڑھنے کی ) اجازت دے دی۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، بمعناه زاد فخشي ان يرميه، برسول الله صلى الله عليه وسلم فاجازه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً روح القدس ( جبرائیل ) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن سليمان المصيصي، لوين حدثنا ابن ابي الزناد، عن ابيه، عن عروة، وهشام، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يضع لحسان منبرا في المسجد فيقوم عليه يهجو من قال في رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان روح القدس مع حسان ما نافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آیت کریمہ «والشعراء يتبعهم الغاوون» شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بھٹکے ہوئے ہوں ( الشعراء: ۲۲۴ ) میں سے وہ لوگ مخصوص و مستثنیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے «إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا» سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا ( الشعراء: ۲۲۷ ) میں بیان کیا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، قال حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { والشعراء يتبعهم الغاوون } فنسخ من ذلك واستثنى فقال { الا الذين امنوا وعملوا الصالحات وذكروا الله كثيرا}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے ( سلام پھیر کر ) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎ ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن زفر بن صعصعة، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا انصرف من صلاة الغداة يقول " هل راى احد منكم الليلة رويا ويقول " انه ليس يبقى بعدي من النبوة الا الرويا الصالحة
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رويا المومن جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید ( پیر میں بیڑی پہننے ) کو ( خواب میں ) پسند کرتا ہوں اور غل ( گردن میں طوق ) کو ناپسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید ( پیر میں بیڑی ہونے ) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہو جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقترب الزمان لم تكد رويا المومن ان تكذب واصدقهم رويا اصدقهم حديثا والرويا ثلاث فالرويا الصالحة بشرى من الله والرويا تحزين من الشيطان ورويا مما يحدث به المرء نفسه فاذا راى احدكم ما يكره فليقم فليصل ولا يحدث بها الناس " . قال " واحب القيد واكره الغل والقيد ثبات في الدين " . قال ابو داود " اذا اقترب الزمان " . يعني اذا اقترب الليل والنهار يعني يستويان
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے ۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا يعلى بن عطاء، عن وكيع بن عدس، عن عمه ابي رزين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الرويا على رجل طاير ما لم تعبر فاذا عبرت وقعت " . قال واحسبه قال " ولا يقصها الا على واد او ذي راى
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ( خواب میں ) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
حدثنا النفيلي، قال سمعت زهيرا، يقول سمعت يحيى بن سعيد، يقول سمعت ابا سلمة، يقول سمعت ابا قتادة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الرويا من الله والحلم من الشيطان فاذا راى احدكم شييا يكرهه فلينفث عن يساره ثلاث مرات ثم ليتعوذ من شرها فانها لا تضره
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا ۔
حدثنا يزيد بن خالد الهمداني، وقتيبة بن سعيد الثقفي، قالا اخبرنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا راى احدكم الرويا يكرهها فليبصق عن يساره وليتعوذ بالله من الشيطان ثلاثا ويتحول عن جنبه الذي كان عليه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من راني في المنام فسيراني في اليقظة " . او " لكانما راني في اليقظة ولا يتمثل الشيطان بي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے ( اللہ ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا ۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن داود، قالا حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من صور صورة عذبه الله بها يوم القيامة حتى ينفخ فيها وليس بنافخ ومن تحلم كلف ان يعقد شعيرة ومن استمع الى حديث قوم يفرون به منه صب في اذنه الانك يوم القيامة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ ( کھجوریں ) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رايت الليلة كانا في دار عقبة بن رافع واتينا برطب من رطب ابن طاب فاولت ان الرفعة لنا في الدنيا والعاقبة في الاخرة وان ديننا قد طاب
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ کو بند کر لے، اس لیے کہ شیطان ( منہ میں ) داخل ہو جاتا ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، عن سهيل، عن ابن ابي سعيد الخدري، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تثاءب احدكم فليمسك على فيه فان الشيطان يدخل
سہیل سے بھی اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے ( جب جمائی ) نماز میں ہو تو جہاں تک ہو سکے منہ بند رکھے ۔
حدثنا ابن العلاء، عن وكيع، عن سفيان، عن سهيل، نحوه قال " في الصلاة فليكظم ما استطاع
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو ناپسند، لہٰذا جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے رہے، اور ہاہ ہاہ نہ کہے، اس لیے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، وہ اس پر ہنستا ہے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يحب العطاس ويكره التثاوب فاذا تثاءب احدكم فليرده ما استطاع ولا يقل هاه هاه فانما ذلكم من الشيطان يضحك منه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تھی تو اپنا ہاتھ یا اپنا کپڑا منہ پر رکھ لیتے اور آہستہ آواز سے چھینکتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا عطس وضع يده او ثوبه على فيه وخفض او غض بها صوته . شك يحيى
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ چیزیں ہر مسلمان پر اپنے بھائی کے لیے واجب ہیں، سلام کا جواب دینا، چھینکنے والے کا جواب دینا، دعوت قبول کرنا، مریض کی عیادت کرنا اور جنازے کے ساتھ جانا ۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، وخشيش بن اصرم، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خمس تجب للمسلم على اخيه رد السلام وتشميت العاطس واجابة الدعوة وعيادة المريض واتباع الجنازة
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سالم بن عبید کے ساتھ تھے کہ ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا «السلام عليكم» ( تم پر سلامتی ہو ) تو سالم نے کہا: «عليك وعلى أمك» ( تم پر بھی اور تمہاری ماں پر بھی ) پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: شاید جو بات میں نے تم سے کہی تمہیں ناگوار لگی، اس نے کہا: میری خواہش تھی کہ آپ میری ماں کا ذکر نہ کرتے، نہ خیر کے ساتھ نہ شر کے ساتھ، وہ بولے، میں نے تم سے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اسی دوران کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اچانک لوگوں میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو اس نے کہا: «السلام عليكم» رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك وعلى أمك» ، پھر آپ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو «الحمد الله» کہے اللہ کی تعریف کرے پھر آپ نے حمد کے بعض کلمات کا تذکرہ کیا ( جو چھینک آنے والا کہے ) اور چاہیئے کہ وہ جو اس کے پاس ہو «يرحمك الله» ( اللہ تم پر رحم کرے ) کہے، اور چاہیئے کہ وہ ( چھینکنے والا ) ان کو پھر جواب دے، «يغفر الله لنا ولكم» ( اللہ ہماری اور آپ کی مغفرت فرمائے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، قال كنا مع سالم بن عبيد فعطس رجل من القوم فقال السلام عليكم . فقال سالم وعليك وعلى امك . ثم قال بعد لعلك وجدت مما قلت لك قال لوددت انك لم تذكر امي بخير ولا بشر قال انما قلت لك كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم انا بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ عطس رجل من القوم فقال السلام عليكم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وعليك وعلى امك " . ثم قال " اذا عطس احدكم فليحمد الله " . قال فذكر بعض المحامد " وليقل له من عنده يرحمك الله وليرد - يعني عليهم - يغفر الله لنا ولكم
اس سند سے سالم بن عبید اشجعی سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا تميم بن المنتصر، حدثنا اسحاق، - يعني ابن يوسف - عن ابي بشر، ورقاء، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن خالد بن عرفجة، عن سالم بن عبيد الاشجعي، بهذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم