Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو چاہیئے کہ وہ کہے: «الحمد لله على كل حال» ( ہر حالت میں تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزاوار ہیں ) اور چاہیئے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی کہے: «يرحمك الله» ( اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اب وہ پھر کہے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» ( اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہیں ٹھیک رکھے، اور تمہاری حالت درست فرما دے ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة، عن عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا عطس احدكم فليقل الحمد لله على كل حال وليقل اخوه او صاحبه يرحمك الله ويقول هو يهديكم الله ويصلح بالكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تین بار اپنے بھائی کی چھینک کا جواب دو اور جو اس سے زیادہ ہو تو وہ زکام ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة، قال شمت اخاك ثلاثا فما زاد فهو زكام
سعید بن ابی سعید ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث کو مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابونعیم نے موسی بن قیس سے، موسیٰ نے محمد بن عجلان سے، ابن عجلان نے سعید سے، سعید نے ابوہریرہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا عيسى بن حماد المصري، اخبرنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرةقال لا اعلمه الا انه رفع الحديث الى النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود رواه ابو نعيم عن موسى بن قيس عن محمد بن عجلان عن سعيد عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبید بن رفاعہ زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھینکنے والے کا جواب تین بار دو اس کے بعد اگر جواب دینا چاہو تو دو، اور نہ دینا چاہو تو نہ دو ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا عبد السلام بن حرب، عن يزيد بن عبد الرحمن، عن يحيى بن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن امه، حميدة او عبيدة بنت عبيد بن رفاعة الزرقي عن ابيها، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تشمت العاطس ثلاثا فان شيت ان تشمته فشمته وان شيت فكف
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے اس سے فرمایا:«يرحمك الله» اللہ تم پر رحم فرمائے اسے پھر چھینک آئی تو آپ نے فرمایا: آدمی کو زکام ہوا ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا ابن ابي زايدة، عن عكرمة بن عمار، عن اياس بن سلمة بن الاكوع، عن ابيه، ان رجلا، عطس عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال له " يرحمك الله " . ثم عطس فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الرجل مزكوم
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہود جان بوجھ کر اس امید میں چھینکا کرتے کہ آپ ان کے لئے «يرحمكم الله» تم پر اللہ کی رحمت ہو کہہ دیں، لیکن آپ فرماتے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن حكيم بن الديلم، عن ابي بردة، عن ابيه، قال كانت اليهود تعاطس عند النبي صلى الله عليه وسلم رجاء ان يقول لها يرحمكم الله فكان يقول " يهديكم الله ويصلح بالكم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دو لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک آئی تو آپ نے ان میں سے ایک کی چھینک کا جواب دیا اور دوسرے کو نہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! دو لوگوں کو چھینک آئی، تو آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا؟ ۔ احمد کی روایت میں اس طرح ہے: کیا آپ نے ان دونوں میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو نہیں دیا ہے؟ تو آپ نے فرمایا: دراصل اس نے «الحمد الله» کہا تھا اور اس نے «الحمد الله» نہیں کہا تھا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، ح وحدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، - المعنى - قالا حدثنا سليمان التيمي، عن انس، قال عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت احدهما وترك الاخر قال فقيل يا رسول الله رجلان عطسا فشمت احدهما - قال احمد او فشمت احدهما - وتركت الاخر . فقال " ان هذا حمد الله وان هذا لم يحمد الله
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو ( اسے بھی ) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہم کو پلاؤ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ہم لوگوں سے ) فرمایا: تم لوگ چاہو ( ادھر ہی ) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ وہ کہتے ہیں: تو میں ( مسجد میں ) صبح کے قریب اوندھا ( پیٹ کے بل ) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے ( آنکھ کھول کر ) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
حدثنا محمد بن المثنى، وحدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثنا ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن يعيش بن طخفة بن قيس الغفاري، قال كان ابي من اصحاب الصفة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انطلقوا بنا الى بيت عايشة " . فانطلقنا فقال " يا عايشة اطعمينا " . فجاءت بحشيشة فاكلنا ثم قال " يا عايشة اطعمينا " . فجاءت بحيسة مثل القطاة فاكلنا ثم قال " يا عايشة اسقينا " . فجاءت بعس من لبن فشربنا ثم قال " يا عايشة اسقينا " . فجاءت بقدح صغير فشربنا ثم قال " ان شيتم بتم وان شيتم انطلقتم الى المسجد " . قال فبينما انا مضطجع في المسجد من السحر على بطني اذا رجل يحركني برجله فقال " ان هذه ضجعة يبغضها الله " . قال فنظرت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر ( کی مڈیر ) نہ ہو ( یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو تو اس سے ( حفاظت کا ) ذمہ اٹھ گی ( گرے یا بچے وہ جانے ) ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا سالم، - يعني ابن نوح - عن عمر بن جابر الحنفي، عن وعلة بن عبد الرحمن بن وثاب، عن عبد الرحمن بن علي، - يعني ابن شيبان - عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من بات على ظهر بيت ليس له حجار فقد بريت منه الذمة
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں ( کسی بھی وقت ) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے ۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا ۱؎ کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ۲؎ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ۳؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا عاصم بن بهدلة، عن شهر بن حوشب، عن ابي ظبية، عن معاذ بن جبل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم يبيت على ذكر طاهرا فيتعار من الليل فيسال الله خيرا من الدنيا والاخرة الا اعطاه اياه " . قال ثابت البناني قدم علينا ابو ظبية فحدثنا بهذا الحديث عن معاذ بن جبل عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ثابت قال فلان لقد جهدت ان اقولها حين انبعث فما قدرت عليها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سلمة بن كهيل، عن كريب، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام من الليل فقضى حاجته فغسل وجهه ويديه ثم نام . قال ابو داود يعني بال
ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد ( نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی ) آپ کے سرہانے ہوتی۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن بعض، ال ام سلمة قال كان فراش النبي صلى الله عليه وسلم نحوا مما يوضع الانسان في قبره وكان المسجد عند راسه
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے کہتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا عاصم، عن معبد بن خالد، عن سواء، عن حفصة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان يرقد وضع يده اليمنى تحت خده ثم يقول " اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك " . ثلاث مرار
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ ( یعنی سونے چلو ) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ( یہ دعا پڑھ کر ) انتقال کر گئے تو فطرت ( یعنی دین اسلام ) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے ( یاد کرتے ہوئے ) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہیں بلکہ«وبنبيك الذي أرسلت» ( جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا المعتمر، قال سمعت منصورا، يحدث عن سعد بن عبيدة، قال حدثني البراء بن عازب، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اتيت مضجعك فتوضا وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الايمن وقل اللهم اسلمت وجهي اليك وفوضت امري اليك والجات ظهري اليك رهبة ورغبة اليك لا ملجا ولا منجى منك الا اليك امنت بكتابك الذي انزلت وبنبيك الذي ارسلت " . قال " فان مت مت على الفطرة واجعلهن اخر ما تقول " . قال البراء فقلت استذكرهن فقلت وبرسولك الذي ارسلت . قال " لا وبنبيك الذي ارسلت
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم پاک و صاف ( باوضو ) ہو کر اپنے بستر پر ( سونے کے لیے ) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن فطر بن خليفة، قال سمعت سعد بن عبيدة، قال سمعت البراء بن عازب، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اويت الى فراشك وانت طاهر فتوسد يمينك " . ثم ذكر نحوه
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» تم جب نماز جیسا وضو کر لو کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔
حدثنا محمد بن عبد الملك الغزال، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، ومنصور، عن سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا قال سفيان قال احدهما " اذا اتيت فراشك طاهرا " . وقال الاخر " توضا وضوءك للصلاة " . وساق معنى معتمر
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی ( ایک طرح سے ) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن ربعي، عن حذيفة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا نام قال " اللهم باسمك احيا واموت " . واذا استيقظ قال " الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بستر پر سونے کے لیے آئے تو اپنے ازار کے کونے سے اسے جھاڑے کیونکہ اسے نہیں معلوم کہ اس کی جگہ اس کی عدم موجودگی میں کون آ بسا ہے، پھر وہ اپنے داہنے پہلو پر لیٹے، پھر کہے «باسمك ربي وضعت جنبي وبك أرفعه إن أمسكت نفسي فارحمها وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» تیرے نام پر میں اپنا پہلو ڈال کر لیٹتا ہوں اور تیرے ہی نام سے اسے اٹھاتا ہوں، اگر تو میری جان کو روک لے تو تو اس پر رحم فرما اور اگر چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اوى احدكم الى فراشه فلينفض فراشه بداخلة ازاره فانه لا يدري ما خلفه عليه ثم ليضطجع على شقه الايمن ثم ليقل باسمك ربي وضعت جنبي وبك ارفعه ان امسكت نفسي فارحمها وان ارسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر سونے کے لیے جاتے تو فرماتے: «اللهم رب السموات ورب الأرض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والإنجيل والقرآن أعوذ بك من شر كل ذي شر أنت آخذ بناصيته أنت الأول فليس قبلك شىء وأنت الآخر فليس بعدك شىء وأنت الظاهر فليس فوقك شىء وأنت الباطن فليس دونك شىء اقض عني الدين وأغنني من الفقر» اے اللہ! آسمانوں و زمین کے مالک! اے ہر چیز کے پالنہار! اے دانے اگانے والے! اے بیج سے درخت پیدا کرنے والے! اے توراۃ، انجیل اور قرآن اتارنے والے! میں تیری پناہ چاہتا ہوں، ہر شر والے کے شر سے جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، تو سب سے پہلے ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، تو سب سے آخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں، تو سب سے ظاہر ( اوپر ) ہے، تجھ سے اوپر کوئی نہیں، تو چھپا ہوا ہے، تجھ سے زیادہ چھپا ہوا کوئی نہیں وہب نے اپنی حدیث میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ: تو میرا قرض اتار دے اور تنگ دستی سے نکال کر مجھے مالدار بنا دے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، ح وحدثنا وهب بن بقية، عن خالد، نحوه عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول اذا اوى الى فراشه " اللهم رب السموات ورب الارض ورب كل شىء فالق الحب والنوى منزل التوراة والانجيل والقران اعوذ بك من شر كل ذي شر انت اخذ بناصيته انت الاول فليس قبلك شىء وانت الاخر فليس بعدك شىء وانت الظاهر فليس فوقك شىء وانت الباطن فليس دونك شىء " . زاد وهب في حديثه " اقض عني الدين واغنني من الفقر
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما أنت آخذ بناصيته اللهم أنت تكشف المغرم والمأثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك» اے اللہ! میں تیری بزرگ ذات اور تیرے مکمل کلموں کے ذریعہ اس شر سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے قبضے میں ہے، اے اللہ تو ہی قرض اتارتا، اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اے اللہ! تیرے لشکر کو شکست نہیں دی جا سکتی، تیرا وعدہ ٹل نہیں سکتا، مالدار کی مالداری تیرے سامنے کام نہ آئے گی، پاک ہے تیری ذات، میں تیری حمد و ثنا بیان کرتا ہوں ۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري، حدثنا الاحوص، - يعني ابن جواب - حدثنا عمار بن رزيق، عن ابي اسحاق، عن الحارث، وابي، ميسرة عن علي، رحمه الله عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه كان يقول عند مضجعه " اللهم اني اعوذ بوجهك الكريم وكلماتك التامة من شر ما انت اخذ بناصيته اللهم انت تكشف المغرم والماثم اللهم لا يهزم جندك ولا يخلف وعدك ولا ينفع ذا الجد منك الجد سبحانك وبحمدك