Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وكفانا وآوانا فكم ممن لا كافي له ولا مئوي» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم کو کھلایا اور پلایا، دشمن کے شر سے بچایا، ہم کو پناہ دی، کتنے بندے تو ایسے ہیں جنہیں نہ کوئی بچانے والا ہے، اور نہ کوئی پناہ دینے والا ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه قال " الحمد لله الذي اطعمنا وسقانا وكفانا واوانا فكم ممن لا كافي له ولا ميوي
ابوالازہر انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں جب اپنی خواب گاہ پر تشریف لے جاتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي وأخسئ شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الأعلى» اللہ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو ڈال دیا ( یعنی لیٹ گیا ) اے اللہ میرے گناہ بخش دے، میرے شیطان کو دھتکار دے، مجھے گروی سے آزاد کر دے اور مجھے اونچی مجلس میں کر دے، ( یعنی ملائکہ، انبیاء و صلحاء کی مجلس میں ) ۔
حدثنا جعفر بن مسافر التنيسي، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا يحيى بن حمزة، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن ابي الازهر الانماري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اخذ مضجعه من الليل قال " بسم الله وضعت جنبي اللهم اغفر لي ذنبي واخسي شيطاني وفك رهاني واجعلني في الندي الاعلى " . قال ابو داود رواه ابو همام الاهوازي عن ثور قال ابو زهير الانماري
نوفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: «قل يا أيها الكافرون» پڑھو ( یعنی پوری سورۃ ) اور پھر اسے ختم کر کے سو جاؤ، کیونکہ یہ سورۃ شرک سے براءت ہے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن فروة بن نوفل، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لنوفل " اقرا { قل يا ايها الكافرون } ثم نم على خاتمتها فانها براءة من الشرك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بچھونے پر سونے آتے تو اپنی ہتھیلیوں کو ملاتے پھر ان میں پھونکتے اور ان میں «قل هو الله أحد» «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے، پھر ان کو جہاں تک وہ پہنچ سکتیں اپنے بدن پر پھیرتے، اپنے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے سے پھیرنا شروع کرتے، ایسا آپ تین بار کرتے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب الهمداني، قالا حدثنا المفضل، - يعنيان ابن فضالة - عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اوى الى فراشه كل ليلة جمع كفيه ثم نفث فيهما وقرا فيهما { قل هو الله احد } و { قل اعوذ برب الفلق } و { قل اعوذ برب الناس } ثم يمسح بهما ما استطاع من جسده يبدا بهما على راسه ووجهه وما اقبل من جسده يفعل ذلك ثلاث مرات
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے «المسبحات» ۱؎ پڑھتے تھے، اور فرماتے تھے: ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد بن معدان، عن ابن ابي بلال، عن عرباض بن سارية، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقرا المسبحات قبل ان يرقد وقال " ان فيهن اية افضل من الف اية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی خواب گاہ میں آتے تو کہتے: «الحمد لله الذي كفاني وآواني وأطعمني وسقاني والذي من على فأفضل والذي أعطاني فأجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب كل شىء ومليكه وإله كل شىء أعوذ بك من النار» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ہر آفت سے بچایا اور ٹھکانا عطا کیا، اور جس نے مجھے کھلایا، اور پلایا اور جس نے مجھ پر احسان کیا اور بڑا احسان کیا، اور جس نے مجھے دیا، اور بہت دیا، اللہ کے لیے ہر حال میں حمد و شکر ہے، اے اللہ! اے ہر چیز کو پالنے والے اور ہر چیز کے مالک! اے ہر چیز کے حقیقی معبود! میں تیری پناہ چاہتا ہوں آگ سے ۔
حدثنا علي بن مسلم، حدثنا عبد الصمد، قال حدثني ابي، حدثنا حسين، عن ابن بريدة، عن ابن عمر، انه حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول اذا اخذ مضجعه " الحمد لله الذي كفاني واواني واطعمني وسقاني والذي من على فافضل والذي اعطاني فاجزل الحمد لله على كل حال اللهم رب كل شىء ومليكه واله كل شىء اعوذ بك من النار
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی، اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھے جس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو قیامت کے دن اسے حسرت و ندامت ہو گی ۔
حدثنا حامد بن يحيى، حدثنا ابو عاصم، عن ابن عجلان، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اضطجع مضجعا لم يذكر الله تعالى فيه الا كان عليه ترة يوم القيامة ومن قعد مقعدا لم يذكر الله عز وجل فيه الا كان عليه ترة يوم القيامة
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے«لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے ( ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی ) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا الوليد، قال قال الاوزاعي حدثني عمير بن هاني، قال حدثني جنادة بن ابي امية، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تعار من الليل فقال حين يستيقظ لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر ولا حول ولا قوة الا بالله ثم دعا رب اغفر لي " . قال الوليد او قال " دعا استجيب له فان قام فتوضا ثم صلى قبلت صلاته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نیند سے جب بیدار ہوتے یہ دعا پڑھتے: «لا إله إلا أنت سبحانك اللهم أستغفرك لذنبي وأسألك رحمتك اللهم زدني علما ولا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب» تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، پاک و برتر ہے تیری ذات، اے پروردگار! میں تجھ سے اپنے گناہ کی معافی چاہتا ہوں، تیری رحمت کا خواستگار ہوں، اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، اور ہدایت مل جانے کے بعد میرے دل کو کجی سے محفوظ رکھ، مجھے اپنی رحمت سے نواز، بیشک تو بڑا نواز نے والا ہے ۔
حدثنا حامد بن يحيى، حدثنا ابو عبد الرحمن، حدثنا سعيد، - يعني ابن ابي ايوب - قال حدثني عبد الله بن الوليد، عن سعيد بن المسيب، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا استيقظ من الليل قال " لا اله الا انت سبحانك اللهم استغفرك لذنبي واسالك رحمتك اللهم زدني علما ولا تزغ قلبي بعد اذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة انك انت الوهاب
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا ( کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں ) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو ( اٹھنا ضروری نہیں ) چنانچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو ( ۳۳ ) بار سبحان اللہ کہو، ( ۳۳ ) بار الحمدللہ کہو، اور ( ۳۴ ) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، - المعنى - عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، - قال مسدد - قال حدثنا علي، قال شكت فاطمة الى النبي صلى الله عليه وسلم ما تلقى في يدها من الرحى فاتي بسبى فاتته تساله فلم تره فاخبرت بذلك عايشة فلما جاء النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته فاتانا وقد اخذنا مضاجعنا فذهبنا لنقوم فقال " على مكانكما " . فجاء فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه على صدري فقال " الا ادلكما على خير مما سالتما اذا اخذتما مضاجعكما فسبحا ثلاثا وثلاثين واحمدا ثلاثا وثلاثين وكبرا اربعا وثلاثين فهو خير لكما من خادم
ابوسلورد بن ثمامہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا: کیا میں تم سے اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متعلق واقعہ نہ بیان کروں، فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں اور میری زوجیت میں تھیں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان پڑ گئے، مشکیں بھرتے بھرتے ان کے سینے میں نشان پڑ گئے، گھر کی صفائی کرتے کرتے ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، کھانا پکاتے پکاتے کپڑے کالے ہو گئے، اس سے انہیں نقصان پہنچا ( صحت متاثر ہوئی ) پھر ہم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈیاں لائی گئی ہیں، تو میں نے فاطمہ سے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور ان سے خادم مانگتیں تو تمہاری ضرورت پوری ہو جاتی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، لیکن وہاں لوگوں کو آپ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے ہوئے پایا تو شرم سے بات نہ کہہ سکیں اور لوٹ آئیں، دوسرے دن صبح آپ خود ہمارے پاس تشریف لے آئے ( اس وقت ) ہم اپنے لحافوں میں تھے، آپ فاطمہ کے سر کے پاس بیٹھ گئے، فاطمہ نے والد سے شرم کھا کر اپنا سر لحاف میں چھپا لیا، آپ نے پوچھا: کل تم محمد کے اہل و عیال کے پاس کس ضرورت سے آئی تھیں؟ فاطمہ دو بار سن کر چپ رہیں تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں: انہوں نے میرے یہاں رہ کر اتنا چکی پیسی کہ ان کے ہاتھ میں گھٹا پڑ گیا، مشک ڈھو ڈھو کر لاتی رہیں یہاں تک کہ سینے پر اس کے نشان پڑ گئے، انہوں نے گھر کے جھاڑو دیئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، ہانڈیاں پکائیں، یہاں تک کہ کپڑے کالے ہو گئے، اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے پاس غلام اور لونڈیاں آئیں ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جا کر اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیں، پھر راوی نے حکم والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور پوری ذکر کی۔
حدثنا مومل بن هشام اليشكري، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن الجريري، عن ابي الورد بن ثمامة، قال قال علي لابن اعبد الا احدثك عني وعن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت احب اهله اليه وكانت عندي فجرت بالرحى حتى اثرت بيدها واستقت بالقربة حتى اثرت في نحرها وقمت البيت حتى اغبرت ثيابها واوقدت القدر حتى دكنت ثيابها واصابها من ذلك ضر فسمعنا ان رقيقا اتي بهم الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت لو اتيت اباك فسالتيه خادما يكفيك . فاتته فوجدت عنده حداثا فاستحيت فرجعت فغدا علينا ونحن في لفاعنا فجلس عند راسها فادخلت راسها في اللفاع حياء من ابيها فقال " ما كان حاجتك امس الى ال محمد " . فسكتت مرتين فقلت انا والله احدثك يا رسول الله ان هذه جرت عندي بالرحى حتى اثرت في يدها واستقت بالقربة حتى اثرت في نحرها وكسحت البيت حتى اغبرت ثيابها واوقدت القدر حتى دكنت ثيابها وبلغنا انه قد اتاك رقيق او خدم فقلت لها سليه خادما . فذكر معنى حديث الحكم واتم
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے میں نے یہ تسبیح جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی پڑھنے میں کبھی ناغہ نہیں کیا سوائے جنگ صفین والی رات کے، مجھے اخیر رات میں یاد آئی تو میں نے اسے اسی وقت پڑھ لیا ۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا عبد الملك بن عمرو، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن يزيد بن الهاد، عن محمد بن كعب القرظي، عن شبث بن ربعي، عن علي، عليه السلام عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الخبر قال فيه قال علي فما تركتهن منذ سمعتهن من رسول الله صلى الله عليه وسلم الا ليلة صفين فاني ذكرتها من اخر الليل فقلتها
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں ( برابر ) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں ( ۱ ) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» اور دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، ( کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے ) اور سونے کے وقت چونتیس بار «الله اكبر» ، تینتیس بار «الحمد الله» ، تینتیس بار «سبحان الله» کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ ( کی انگلیوں ) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ( اس طرح کہ ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند میں آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی ( ضروری ) کام یاد دلا دے گا، ( اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خصلتان او خلتان لا يحافظ عليهما عبد مسلم الا دخل الجنة هما يسير ومن يعمل بهما قليل يسبح في دبر كل صلاة عشرا ويحمد عشرا ويكبر عشرا فذلك خمسون وماية باللسان والف وخمسماية في الميزان ويكبر اربعا وثلاثين اذا اخذ مضجعه ويحمد ثلاثا وثلاثين ويسبح ثلاثا وثلاثين فذلك ماية باللسان والف في الميزان " . فلقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقدها بيده قالوا يا رسول الله كيف هما يسير ومن يعمل بهما قليل قال " ياتي احدكم - يعني الشيطان - في منامه فينومه قبل ان يقوله وياتيه في صلاته فيذكره حاجة قبل ان يقولها
زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، ( وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے ) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں «في كل دبر صلاة» کے بجائے «على أثر كل صلاة» کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، قال حدثني عياش بن عقبة الحضرمي، عن الفضل بن حسن الضمري، ان ابن ام الحكم، او ضباعة ابنتى الزبير حدثه عن احداهما، انها قالت اصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم سبيا فذهبت انا واختي وفاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم الى النبي صلى الله عليه وسلم فشكونا اليه ما نحن فيه وسالناه ان يامر لنا بشىء من السبى . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " سبقكن يتامى بدر " . ثم ذكر قصة التسبيح قال على اثر كل صلاة لم يذكر النوم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا: جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا هشيم، عن يعلى بن عطاء، عن عمرو بن عاصم، عن ابي هريرة، ان ابا بكر الصديق، رضى الله عنه قال يا رسول الله مرني بكلمات اقولهن اذا اصبحت واذا امسيت . قال " قل اللهم فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه اشهد ان لا اله الا انت اعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه " . قال " قلها اذا اصبحت واذا امسيت واذا اخذت مضجعك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ ہم نے صبح کی تیرے نام پر اور شام کی تیرے نام پر، جیتے ہیں تیرے نام پر، مرتے ہیں تیرے نام پر، اور مر کر تیرے ہی پاس ہمیں پلٹ کر جانا ہے اور جب شام کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يقول اذا اصبح " اللهم بك اصبحنا وبك امسينا وبك نحيا وبك نموت واليك النشور " . واذا امسى قال " اللهم بك امسينا وبك نحيا وبك نموت واليك النشور
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا محمد بن ابي فديك، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد المجيد، عن هشام بن الغاز بن ربيعة، عن مكحول الدمشقي، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يصبح او يمسي اللهم اني اصبحت اشهدك واشهد حملة عرشك وملايكتك وجميع خلقك انك انت الله لا اله الا انت وان محمدا عبدك ورسولك اعتق الله ربعه من النار فمن قالها مرتين اعتق الله نصفه ومن قالها ثلاثا اعتق الله ثلاثة ارباعه فان قالها اربعا اعتقه الله من النار
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت کہے: «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے ساتھ اپنے اقرار پر قائم ہوں اور تیرے وعدے پر مضبوطی سے طاقت بھر جما ہوا ہوں، اس شر سے جو مجھ سے سرزد ہوئے ہوں تیری پناہ چاہتا ہوں، تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں تو مجھے معاف کر دے، تیرے سوا کوئی اور گناہ معاف نہیں کر سکتا اور اسی دن یا اسی رات میں مر جائے تو جنت میں داخل ہو گا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا الوليد بن ثعلبة الطايي، عن ابن بريدة، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يصبح او حين يمسي اللهم انت ربي لا اله الا انت خلقتني وانا عبدك وانا على عهدك ووعدك ما استطعت اعوذ بك من شر ما صنعت ابوء بنعمتك وابوء بذنبي فاغفر لي انه لا يغفر الذنوب الا انت . فمات من يومه او من ليلته دخل الجنة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شام کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «أمسينا وأمسى الملك لله والحمد لله لا إله إلا الله وحده لا شريك له» ہم نے شام کی، اور ملک نے شام کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ واحد کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی اس کا شریک ہے۔ جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: زبید کہتے تھے کہ ابراہیم بن سوید کی روایت میں ہے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب أسألك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها وأعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب أعوذ بك من الكسل ومن سوء الكبر أو الكفر رب أعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے ملک ہے، اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے رب! اس رات اور اس کے بعد کی رات کی بھلائی کا طلب گار ہوں، اور اس رات اور اس کے بعد کی رات کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں سستی اور کاہلی سے، اور بڑھاپے، یا کفر سے یا غرور کی برائی سے، اے رب میں پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے اور جب صبح ہوتی تو بھی یہی کہتے فرق صرف یہ ہوتا کہ «أمسينا وأمسى الملك لله» کے بجائے «أصبحنا وأصبح الملك لله» ہم نے صبح کی اور ملک نے صبح کی جو اللہ تعالیٰ کا ہے کہتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے شعبہ نے سلمہ بن کہل سے، سلمہ نے ابراہیم بن سوید سے روایت کیا ہے اس میں «من سوء الكبر» ہے انہوں نے «من سوء الكفر» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، ح وحدثنا محمد بن قدامة بن اعين، حدثنا جرير، عن الحسن بن عبيد الله، عن ابراهيم بن سويد، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول اذا امسى " امسينا وامسى الملك لله والحمد لله لا اله الا الله وحده لا شريك له " . زاد في حديث جرير واما زبيد كان يقول كان ابراهيم بن سويد يقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير رب اسالك خير ما في هذه الليلة وخير ما بعدها واعوذ بك من شر ما في هذه الليلة وشر ما بعدها رب اعوذ بك من الكسل ومن سوء الكبر او الكفر رب اعوذ بك من عذاب في النار وعذاب في القبر " . واذا اصبح قال ذلك ايضا " اصبحنا واصبح الملك لله " . قال ابو داود رواه شعبة عن سلمة بن كهيل عن ابراهيم بن سويد قال " من سوء الكبر " . ولم يذكر سوء الكفر
ابو سلام کہتے ہیں کہ وہ حمص کی مسجد میں تھے کہ ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم رہے ہیں، راوی کہتے ہیں: تو ابو سلام اٹھ کر ان کے پاس گئے، اور ان سے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی ایسی حدیث ہم سے بیان فرمائیے، جس میں آپ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کسی اور شخص کا واسطہ نہ ہو، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے جب صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھی «رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے سے راضی و خوش ہیں تو اللہ پر اس کا یہ حق بن گیا کہ وہ بھی اس سے راضی و خوش ہو جائے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي عقيل، عن سابق بن ناجية، عن ابي سلام، انه كان في مسجد حمص فمر به رجل فقالوا هذا خدم النبي صلى الله عليه وسلم فقام اليه فقال حدثني بحديث سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتداوله بينك وبينه الرجال قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قال اذا اصبح واذا امسى رضينا بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد رسولا الا كان حقا على الله ان يرضيه