Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
عبداللہ بن غنام بیاضی انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی «اللهم ما أصبح بي من نعمة فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر» اے اللہ! صبح کو جو نعمتیں میرے پاس ہیں وہ تیری ہی دی ہوئی ہیں، تو اکیلا ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں ہے، تو ہی ہر طرح کی تعریف کا مستحق ہے، اور میں تیرا ہی شکر گزار ہوں تو اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جس نے شام کے وقت ایسا ہی کہا تو اس نے اس رات کا شکر ادا کر دیا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا يحيى بن حسان، واسماعيل، قالا حدثنا سليمان بن بلال، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عنبسة، عن عبد الله بن غنام البياضي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال حين يصبح اللهم ما اصبح بي من نعمة فمنك وحدك لا شريك لك فلك الحمد ولك الشكر . فقد ادى شكر يومه ومن قال مثل ذلك حين يمسي فقد ادى شكر ليلته
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح اور شام کرتے تو ان دعاؤں کا پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے«اللهم إني أسألك العافية في الدنيا والآخرة اللهم إني أسألك العفو والعافية في ديني ودنياى وأهلي ومالي اللهم استر عورتي» ( عثمان کی روایت میں «عوراتي» ہے ) «عوراتي وآمن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي وأعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عفو و درگزر کی، اپنے دین و دنیا، اہل و عیال، مال میں بہتری و درستگی کی درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے، اوپر سے، اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیا جاؤں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے کہ زمین میں دھنسا نہ دیا جاؤں۔
حدثنا يحيى بن موسى البلخي، حدثنا وكيع، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، - المعنى - حدثنا ابن نمير، قالا حدثنا عبادة بن مسلم الفزاري، عن جبير بن ابي سليمان بن جبير بن مطعم، قال سمعت ابن عمر، يقول لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يدع هولاء الدعوات حين يمسي وحين يصبح " اللهم اني اسالك العافية في الدنيا والاخرة اللهم اني اسالك العفو والعافية في ديني ودنياى واهلي ومالي اللهم استر عورتي " . وقال عثمان " عوراتي وامن روعاتي اللهم احفظني من بين يدى ومن خلفي وعن يميني وعن شمالي ومن فوقي واعوذ بعظمتك ان اغتال من تحتي " . قال ابو داود قال وكيع يعني الخسف
بنی ہاشم کے غلام عبدالحمید بیان کرتے ہیں کہ ان کی ماں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کی خدمت میں رہا کرتی تھیں انہیں بتایا کہ ان کی صاحبزادی نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں سکھاتے تھے کہ جب تم صبح کرو تو کہو «سبحان الله وبحمده لا قوة إلا بالله ما شاء الله كان وما لم يشأ لم يكن أعلم أن الله على كل شىء قدير وأن الله قد أحاط بكل شىء علما» میں اللہ کی پاکی بیان کرتا، اور اس کی تعریف کرتا ہوں، کسی میں طاقت نہیں سوائے اللہ کے، جو اللہ چاہے گا وہی ہو گا، اور جو وہ نہیں چاہے وہ نہیں ہو گا، میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور اللہ اپنے علم سے ہر چیز کو محیط ہے جو شخص ان کلمات کو صبح کے وقت کہے گا اس کی ( اللہ کی طرف سے ) شام تک حفاظت کی جائے گی، اور جو شام کے وقت کہے گا اس کی صبح تک۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني عمرو، ان سالما الفراء، حدثه ان عبد الحميد مولى بني هاشم حدثه ان امه حدثته وكانت، تخدم بعض بنات النبي صلى الله عليه وسلم ان بنت النبي، صلى الله عليه وسلم حدثتها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعلمها فيقول " قولي حين تصبحين سبحان الله وبحمده لا قوة الا بالله ما شاء الله كان وما لم يشا لم يكن اعلم ان الله على كل شىء قدير وان الله قد احاط بكل شىء علما فانه من قالهن حين يصبح حفظ حتى يمسي ومن قالهن حين يمسي حفظ حتى يصبح
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون، وله الحمد في السموات والأرض وعشيا وحين تظهرون» سے لے کر «وكذلك تخرجون» تک کہے تو اس دن کے ثواب میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی، اور جو شخص شام کو ان کلمات کو کہے تو اس رات میں اس کی نیکیوں و بھلائیوں میں جو کمی رہ گئی ہو گی اس کی تلافی ہو جائے گی۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، قال اخبرنا ح، وحدثنا الربيع بن سليمان، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرني الليث، عن سعيد بن بشير النجاري، عن محمد بن عبد الرحمن البيلماني، - قال الربيع ابن البيلماني - عن ابيه، عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " من قال حين يصبح { فسبحان الله حين تمسون وحين تصبحون * وله الحمد في السموات والارض وعشيا وحين تظهرون } الى { وكذلك تخرجون } ادرك ما فاته في يومه ذلك ومن قالهن حين يمسي ادرك ما فاته في ليلته " . قال الربيع عن الليث
ابوعیاش رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير» کہے تو اسے اولاد اسماعیل میں سے ایک گردن آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی، اس کے دس درجے بلند کر دئیے جائیں گے، اور وہ شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، اور اگر شام کے وقت کہے تو صبح تک اس کے ساتھ یہی معاملہ ہو گا۔ حماد کی روایت میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خواب میں ) دیکھا جیسے سونے والا دیکھتا ہے تو اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی ایسی حدیث روایت کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ابوعیاش صحیح کہہ رہے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسماعیل بن جعفر، موسی زمعی اور عبداللہ بن جعفر نے سہیل بن أبی صالح سے سہیل نے اپنے والد سے اور ابوصالح نے ابن عائش سے روایت کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ووهيب، نحوه عن سهيل، عن ابيه، عن ابن ابي عايش، - وقال حماد عن ابي عياش، - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال اذا اصبح لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير كان له عدل رقبة من ولد اسماعيل وكتب له عشر حسنات وحط عنه عشر سييات ورفع له عشر درجات وكان في حرز من الشيطان حتى يمسي وان قالها اذا امسى كان له مثل ذلك حتى يصبح " . قال في حديث حماد فراى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما يرى النايم فقال يا رسول الله ان ابا عياش يحدث عنك بكذا وكذا قال " صدق ابو عياش " . قال ابو داود رواه اسماعيل بن جعفر وموسى الزمعي وعبد الله بن جعفر عن سهيل عن ابيه عن ابن عايش
مسلم بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وحدك لا شريك لك وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری تمام مخلوقات کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں کہا تو اس دن اس سے جتنے بھی گناہ سرزد ہوئے ہوں گے، سب معاف کر دیے جائیں گے، اور جس کسی نے ان کلمات کو شام کے وقت کہا تو اس رات میں اس سے جتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے سب معاف کر دئیے جائیں گے۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، عن مسلم، - يعني ابن زياد - قال سمعت انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يصبح اللهم اني اصبحت اشهدك واشهد حملة عرشك وملايكتك وجميع خلقك انك انت الله لا اله الا انت وحدك لا شريك لك وان محمدا عبدك ورسولك الا غفر له ما اصاب في يومه ذلك من ذنب وان قالها حين يمسي غفر له ما اصاب تلك الليلة
مسلم بن حارث تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چپکے سے ان سے کہا: جب تم مغرب سے فارغ ہو جاؤ تو سات مرتبہ کہو «اللهم أجرني من النار» اے اللہ مجھے جہنم سے بچا لے اگر تم نے یہ دعا پڑھ لی اور اسی رات میں تمہارا انتقال ہو گیا، تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی، اور جب تم فجر پڑھ کر فارغ ہو اور ایسے ہی ( یعنی سات مرتبہ «اللهم أجرني من النار» ) کہو اور پھر اسی دن میں تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہارے لیے جہنم سے پناہ لکھ دی جائے گی۔ محمد بن شعیب کہتے ہیں کہ مجھے ابوسعید نے بتایا وہ حارث سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات مجھے چپکے سے بتائی ہے، اس لیے ہم اسے اپنے خاص بھائیوں ہی سے بیان کرتے ہیں ( ہر شخص سے نہیں کہتے، یا ہم اس دعا کو اپنے خاندان والوں کے لیے خاص سمجھتے ہیں ) ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم ابو النضر الدمشقي، حدثنا محمد بن شعيب، قال اخبرني ابو سعيد الفلسطيني عبد الرحمن بن حسان، عن الحارث بن مسلم، انه اخبره عن ابيه، مسلم بن الحارث التميمي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه اسر اليه فقال " اذا انصرفت من صلاة المغرب فقل اللهم اجرني من النار . سبع مرات فانك اذا قلت ذلك ثم مت في ليلتك كتب لك جوار منها واذا صليت الصبح فقل كذلك فانك ان مت في يومك كتب لك جوار منها " . اخبرني ابو سعيد عن الحارث انه قال اسرها الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فنحن نخص بها اخواننا
حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے ( ہمیں دیکھ کر ) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو ( ایمان لے آؤ ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے ( عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا ) ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں ( وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا ) ، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، ومومل بن الفضل الحراني، وعلي بن سهل الرملي، ومحمد بن المصفى الحمصي، قالوا حدثنا الوليد، حدثنا عبد الرحمن بن حسان الكناني، قال حدثني مسلم بن الحارث بن مسلم التميمي، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال نحوه الى قوله " جوار منها " . الا انه قال فيهما " قبل ان تكلم احدا " . قال علي بن سهل فيه ان اباه حدثه وقال علي وابن المصفى بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية فلما بلغنا المغار استحثثت فرسي فسبقت اصحابي وتلقاني الحى بالرنين فقلت لهم قولوا لا اله الا الله تحرزوا فقالوها فلامني اصحابي وقالوا حرمتنا الغنيمة فلما قدمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبروه بالذي صنعت فدعاني فحسن لي ما صنعت وقال " اما ان الله قد كتب لك من كل انسان منهم كذا وكذا " . قال عبد الرحمن فانا نسيت الثواب ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما اني ساكتب لك بالوصاة بعدي " . قال ففعل وختم عليه فدفعه الى وقال لي ثم ذكر معناهم وقال ابن المصفى قال سمعت الحارث بن مسلم بن الحارث التميمي يحدث عن ابيه
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔
حدثنا يزيد بن محمد الدمشقي، حدثنا عبد الرزاق بن مسلم الدمشقي، - وكان من ثقات المسلمين من المتعبدين - قال حدثنا مدرك بن سعد - قال يزيد شيخ ثقة - عن يونس بن ميسرة بن حلبس عن ام الدرداء عن ابي الدرداء رضى الله عنه قال من قال اذا اصبح واذا امسى حسبي الله لا اله الا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم سبع مرات كفاه الله ما اهمه صادقا كان بها او كاذبا
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: کچھ کہو اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: کچھ کہو ( پھر بھی ) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: کچھ تو کہو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں ( ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے ) کافی ہوں گی۔
حدثنا محمد بن المصفى، حدثنا ابن ابي فديك، قال اخبرني ابن ابي ذيب، عن ابي اسيد البراد، عن معاذ بن عبد الله بن خبيب، عن ابيه، انه قال خرجنا في ليلة مطر وظلمة شديدة نطلب رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي لنا فادركناه فقال " اصليتم " . فلم اقل شييا فقال " قل " . فلم اقل شييا ثم قال " قل " . فلم اقل شييا ثم قال " قل " . فقلت يا رسول الله ما اقول قال " { قل هو الله احد } والمعوذتين حين تمسي وحين تصبح ثلاث مرات تكفيك من كل شىء
ابو مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کوئی ایسی ( جامع ) بات بتائیے، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب كل شىء والملائكة يشهدون أنك لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بك من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشركه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شرک سے، اور گناہ کی بات خود کرنے سے، یا کسی مسلمان سے گناہ کی بات کرانے سے ۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثني ابي، - قال ابن عوف ورايته في اصل اسماعيل - قال حدثني ضمضم، عن شريح، عن ابي مالك، قال قالوا يا رسول الله حدثنا بكلمة، نقولها اذا اصبحنا وامسينا واضطجعنا فامرهم ان يقولوا : اللهم فاطر السموات والارض عالم الغيب والشهادة انت رب كل شىء والملايكة يشهدون انك لا اله الا انت فانا نعوذ بك من شر انفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشركه وان نقترف سوءا على انفسنا او نجره الى مسلم
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی اسناد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے «أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه وشر ما بعده» ہم نے صبح کی اور ملک ( پوری کائنات ) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔
قال ابو داود وبهذا الاسناد ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا اصبح احدكم فليقل اصبحنا واصبح الملك لله رب العالمين اللهم اني اسالك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه واعوذ بك من شر ما فيه وشر ما بعده ثم اذا امسى فليقل مثل ذلك
شریق ہوزنی کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، «الله اكبر» کہتے، دس بار «الحمد الله» کہتے، دس بار «سبحان الله وبحمده» کہتے، دس بار«سبحان الملك القدوس» کہتے، اور دس بار «استغفر الله» کہتے، اور دس بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر دس بار «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔
حدثنا كثير بن عبيد، حدثنا بقية بن الوليد، عن عمر بن جعثم، قال حدثني الازهر بن عبد الله الحرازي، قال حدثني شريق الهوزني، قال دخلت على عايشة رضى الله عنها فسالتها بم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفتتح اذا هب من الليل فقالت لقد سالتني عن شىء ما سالني عنه احد قبلك كان اذا هب من الليل كبر عشرا وحمد عشرا وقال " سبحان الله وبحمده " . عشرا وقال " سبحان الملك القدوس " . عشرا واستغفر عشرا وهلل عشرا ثم قال " اللهم اني اعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة " . عشرا ثم يفتتح الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحر میں اٹھتے تو کہتے «سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه علينا اللهم صاحبنا فأفضل علينا عائذا بالله من النار» سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمتوں کی شکر گزاری اور اپنے امتحان میں ہماری حسن کارکردگی کو ( دیکھ اور ) سن لیا، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ، اور ہمیں اپنے فضل سے نواز، اور میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني سليمان بن بلال، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان في سفر فاسحر يقول " سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلايه علينا اللهم صاحبنا فافضل علينا " . عايذا بالله من النار
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے جو شخص صبح کرتے وقت کہے «اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہو گا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو ۔ تو وہ اس دن کے ( فتنوں ) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا۔
حدثنا ابن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا المسعودي، حدثنا القاسم، قال كان ابو ذر يقول من قال حين يصبح اللهم ما حلفت من حلف او قلت من قول او نذرت من نذر فمشييتك بين يدى ذلك كله ما شيت كان وما لم تشا لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي كان في استثناء يومه ذلك او قال ذلك اليوم
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، لیکن ( بات یہ ہے کہ ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا ( اور غصے میں ) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا ابو مودود، عمن سمع ابان بن عثمان، يقول سمعت عثمان، - يعني ابن عفان - يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قال بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ثلاث مرات لم تصبه فجاة بلاء حتى يصبح ومن قالها حين يصبح ثلاث مرات لم تصبه فجاة بلاء حتى يمسي " . قال فاصاب ابان بن عثمان الفالج فجعل الرجل الذي سمع منه الحديث ينظر اليه فقال له ما لك تنظر الى فوالله ما كذبت على عثمان ولا كذب عثمان على النبي صلى الله عليه وسلم ولكن اليوم الذي اصابني فيه ما اصابني غضبت فنسيت ان اقولها
عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس میں فالج کا قصہ مذکور نہیں۔
حدثنا نصر بن عاصم الانطاكي، حدثنا انس بن عياض، قال حدثني ابو مودود، عن محمد بن كعب، عن ابان بن عثمان، عن عثمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه لم يذكر قصة الفالج
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، تو ہی معبود برحق ہے تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت» اے اللہ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر، اور میرے تمام کام درست فرما دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔
حدثنا العباس بن عبد العظيم، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا عبد الملك بن عمرو، عن عبد الجليل بن عطية، عن جعفر بن ميمون، قال حدثني عبد الرحمن بن ابي بكرة، انه قال لابيه يا ابة اني اسمعك تدعو كل غداة اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا اله الا انت تعيدها ثلاثا حين تصبح وثلاثا حين تمسي . فقال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو بهن فانا احب ان استن بسنته . قال عباس فيه وتقول اللهم اني اعوذ بك من الكفر والفقر اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر لا اله الا انت تعيدها ثلاثا حين تصبح وثلاثا حين تمسي فتدعو بهن فاحب ان استن بسنته قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دعوات المكروب اللهم رحمتك ارجو فلا تكلني الى نفسي طرفة عين واصلح لي شاني كله لا اله الا انت " . وبعضهم يزيد على صاحبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔
حدثنا محمد بن المنهال، حدثنا يزيد، - يعني ابن زريع - حدثنا روح بن القاسم، عن سهيل، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قال حين يصبح سبحان الله العظيم وبحمده ماية مرة واذا امسى كذلك لم يواف احد من الخلايق بمثل ما وافى
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، انه بلغه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا راى الهلال قال " هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد امنت بالذي خلقك " . ثلاث مرات . ثم يقول " الحمد لله الذي ذهب بشهر كذا وجاء بشهر كذا