Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن العلاء، ان زيد بن حباب، اخبرهم عن ابي هلال، عن قتادة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا راى الهلال صرف وجهه عنه . قال ابو داود ليس عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب حديث مسند صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی میرے گھر سے نکلتے تو اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك أن أضل أو أضل أو أزل أو أزل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں گمراہ کروں، یا گمراہ کیا جاؤں، میں خود پھسلوں یا پھسلایا جاؤں، میں خود ظلم کروں یا کسی کے ظلم کا شکار بنایا جاؤں، میں خود جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن منصور، عن الشعبي، عن ام سلمة، قالت ما خرج النبي صلى الله عليه وسلم من بيتي قط الا رفع طرفه الى السماء فقال " اللهم اني اعوذ بك ان اضل او اضل او ازل او ازل او اظلم او اظلم او اجهل او يجهل على
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے پھر کہے «بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة إلا بالله» اللہ کے نام سے نکل رہا ہوں، میرا پورا پورا توکل اللہ ہی پر ہے، تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی طرف سے ہے تو آپ نے فرمایا: اس وقت کہا جاتا ہے ( یعنی فرشتے کہتے ہیں ) : اب تجھے ہدایت دے دی گئی، تیری طرف سے کفایت کر دی گئی، اور تو بچا لیا گیا، ( یہ سن کر ) شیطان اس سے جدا ہو جاتا ہے، تو اس سے دوسرا شیطان کہتا ہے: تیرے ہاتھ سے آدمی کیسے نکل گیا کہ اسے ہدایت دے دی گئی، اس کی جانب سے کفایت کر دی گئی اور وہ ( تیری گرفت اور تیرے چنگل سے ) بچا لیا گیا۔
حدثنا ابراهيم بن الحسن الخثعمي، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جريج، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا خرج الرجل من بيته فقال بسم الله توكلت على الله لا حول ولا قوة الا بالله " . قال " يقال حينيذ هديت وكفيت ووقيت فتتنحى له الشياطين فيقول له شيطان اخر كيف لك برجل قد هدي وكفي ووقي
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تو کہے«اللهم إني أسألك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توكلنا» اے اللہ! ہم تجھ سے اندر جانے اور گھر سے باہر آنے کی بہتری مانگتے ہیں، ہم اللہ کا نام لے کر اندر جاتے ہیں اور اللہ ہی کا نام لے کر باہر نکلتے ہیں اور اللہ ہی پر جو ہمارا رب ہے بھروسہ کرتے ہیں پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔
حدثنا ابن عوف، حدثنا محمد بن اسماعيل، قال حدثني ابي، - قال ابن عوف ورايت في اصل اسماعيل - قال حدثني ضمضم، عن شريح، عن ابي مالك الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ولج الرجل في بيته فليقل اللهم اني اسالك خير المولج وخير المخرج بسم الله ولجنا وبسم الله خرجنا وعلى الله ربنا توكلنا ثم ليسلم على اهله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» ( ہوا ) اللہ کی رحمت میں سے ہے ( سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے ) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، وسلمة، - يعني ابن شبيب - قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال حدثني ثابت بن قيس، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الريح من روح الله " . قال سلمة فروح الله تاتي بالرحمة وتاتي بالعذاب فاذا رايتموها فلا تسبوها وسلوا الله خيرها واستعيذوا بالله من شرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کھلکھلا کر ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کے کوے کو دیکھ سکوں، آپ تو صرف تبسم فرماتے ( ہلکا سا مسکراتے ) تھے، آپ جب بدلی یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرے پر دیکھا جاتا ( آپ تردد اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ) تو ( ایک بار ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگ تو جب بدلی دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ بارش ہو گی، اور آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ جب بدلی دیکھتے ہیں تو آپ کے چہرے سے ناگواری ( گھبراہٹ اور پریشانی ) جھلکتی ہے ( اس کی وجہ کیا ہے؟ ) آپ نے فرمایا: اے عائشہ! مجھے یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ ایک قوم ( قوم عاد ) ہوا کے عذاب سے دو چار ہو چکی ہے، اور ایک قوم نے ( بدلی کا ) عذاب دیکھا، تو وہ کہنے لگی «هذا عارض ممطرنا» ۱؎: یہ بادل تو ہم پر برسے گا ( وہ برسا تو لیکن، بارش پتھروں کی ہوئی، سب ہلاک کر دیے گئے ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرنا عمرو، ان ابا النضر، حدثه عن سليمان بن يسار، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم قط مستجمعا ضاحكا حتى ارى منه لهواته انما كان يتبسم وكان اذا راى غيما او ريحا عرف ذلك في وجهه فقلت يا رسول الله الناس اذا راوا الغيم فرحوا رجاء ان يكون فيه المطر واراك اذا رايته عرفت في وجهك الكراهية فقال " يا عايشة ما يومنني ان يكون فيه عذاب قد عذب قوم بالريح وقد راى قوم العذاب فقالوا هذا عارض ممطرنا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب آسمان کے گوشے سے بدلی اٹھتے دیکھتے تو کام ( دھام ) سب چھوڑ دیتے یہاں تک کہ نماز میں ہوتے تو اسے بھی چھوڑ دیتے، اور یوں دعا فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من شرها» اے اللہ! میں اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں پھر اگر بارش ہونے لگتی، تو آپ فرماتے: «اللهم صيبا هنيئا» اے اللہ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا ۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن المقدام بن شريح، عن ابيه، عن عايشة، رضي الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا راى ناشيا في افق السماء ترك العمل وان كان في صلاة ثم يقول " اللهم اني اعوذ بك من شرها " . فان مطر قال " اللهم صيبا هنييا
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے ۱؎ ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ومسدد، - المعنى - قالا حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن انس، قال اصابنا ونحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم مطر فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فحسر ثوبه عنه حتى اصابه فقلنا يا رسول الله لم صنعت هذا قال " لانه حديث عهد بربه
زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز فجر کے لیے جگاتا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن صالح بن كيسان، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن زيد بن خالد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا الديك فانه يوقظ للصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم صياح الديكة فسلوا الله تعالى من فضله فانها رات ملكا واذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان فانها رات شيطانا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے ۔
حدثنا هناد بن السري، عن عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن عطاء بن يسار، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا سمعتم نباح الكلاب ونهيق الحمر بالليل فتعوذوا بالله فانهن يرين ما لا ترون
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( رات میں ) آمدورفت بند ہو جانے ( اور سناٹا چھا جانے ) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، ( وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں ) ( ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے ) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں: مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن سعيد بن زياد، عن جابر بن عبد الله، ح وحدثنا ابراهيم بن مروان الدمشقي، حدثنا ابي، حدثنا الليث بن سعد، حدثنا يزيد بن عبد الله بن الهاد، عن علي بن عمر بن حسين بن علي، وغيره، قالا قال رسول الله " اقلوا الخروج بعد هداة الرجل فان لله تعالى دواب يبثهن في الارض " . قال ابن مروان " في تلك الساعة " . وقال " فان لله خلقا " . ثم ذكر نباح الكلب والحمير نحوه وزاد في حديثه قال ابن الهاد وحدثني شرحبيل الحاجب عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني عاصم بن عبيد الله، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم اذن في اذن الحسن بن علي - حين ولدته فاطمة - بالصلاة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے تھے، ( یوسف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ) آپ ان کی تحنیک فرماتے یعنی کھجور چبا کر ان کے منہ میں دیتے تھے، البتہ انہوں نے برکت کی دعا فرمانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، ح وحدثنا يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتى بالصبيان فيدعو لهم بالبركة - زاد يوسف - ويحنكهم ولم يذكر بالبركة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تم میں «مغربون» دیکھے گئے ہیں آپ نے دیکھے گئے ہیں کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا، میں نے پوچھا: «مغربون» کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابراهيم بن ابي الوزير، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن ابن جريج، عن ابيه، عن ام حميد، عن عايشة، رضي الله عنها قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل ريي - او كلمة غيرها - فيكم المغربون " . قلت وما المغربون قال " الذين يشترك فيهم الجن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص لوجہ اللہ ( اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر ) سوال کرے تو اس کو دو ۔ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے۔
حدثنا نصر بن علي، وعبيد الله بن عمر الجشمي، قالا حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا سعيد، - قال نصر ابن ابي عروبة - عن قتادة، عن ابي نهيك، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من استعاذ بالله فاعيذوه ومن سالكم بوجه الله فاعطوه " . قال عبيد الله " من سالكم بالله
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ۔
حدثنا مسدد، وسهل بن بكار، قالا حدثنا ابو عوانة، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، - المعنى - عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استعاذكم بالله فاعيذوه ومن سالكم بالله فاعطوه " . وقال سهل وعثمان " ومن دعاكم فاجيبوه " . ثم اتفقوا " ومن اتى اليكم معروفا فكافيوه " . قال مسدد وعثمان " فان لم تجدوا فادعوا الله له حتى تعلموا ان قد كافاتموه
ابوزمیل کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: میرے دل میں کیسی کھٹک ہو رہی ہے؟ انہوں نے کہا: کیا ہوا؟ میں نے کہا: قسم اللہ کی! میں اس کے متعلق کچھ نہ کہوں گا، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا کوئی شک کی چیز ہے، یہ کہہ کر ہنسے اور بولے: اس سے تو کوئی نہیں بچا ہے، یہاں تک کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی «فإن كنت في شك مما أنزلنا إليك فاسأل الذين يقرءون الكتاب» اگر تجھے اس کلام میں شک ہے جو ہم نے تجھ پر اتارا ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تم سے پہلے اتاری ہوئی کتاب ( توراۃ و انجیل ) پڑھتے ہیں ( یونس: ۹۴ ) ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا: جب تم اپنے دل میں اس قسم کا وسوسہ پاؤ تو «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بكل شىء عليم» وہی اول ہے اور وہی آخر وہی ظاہر ہے اور وہی باطن اور وہ ہر چیز کو بخوبی جاننے والا ہے۔ ( الحدید: ۳ ) ، پڑھ لیا کرو۔
حدثنا عباس بن عبد العظيم، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عكرمة، - يعني ابن عمار - قال حدثنا ابو زميل، قال سالت ابن عباس فقلت ما شىء اجده في صدري قال ما هو قلت والله ما اتكلم به . قال فقال لي اشىء من شك قال وضحك . قال ما نجا من ذلك احد - قال - حتى انزل الله عز وجل { فان كنت في شك مما انزلنا اليك فاسال الذين يقرءون الكتاب من قبلك } الاية قال فقال لي اذا وجدت في نفسك شييا فقل { هو الاول والاخر والظاهر والباطن وهو بكل شىء عليم}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے، اور انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اپنے دلوں میں ایسے وسوسے پاتے ہیں، جن کو بیان کرنا ہم پر بہت گراں ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے اندر ایسے وسوسے پیدا ہوں اور ہم ان کو بیان کریں، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں ایسے وسوسے ہوتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: یہ تو عین ایمان ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال جاءه ناس من اصحابه فقالوا يا رسول الله نجد في انفسنا الشىء نعظم ان نتكلم به او الكلام به ما نحب ان لنا وانا تكلمنا به . قال " اوقد وجدتموه " . قالوا نعم . قال " ذاك صريح الايمان
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے دل میں ایسا وسوسہ پیدا ہوتا ہے، کہ اس کو بیان کرنے سے راکھ ہو جانا یا جل کر کوئلہ ہو جانا بہتر معلوم ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: اللہ اکبر، اللہ اکبر، شکر ہے اس اللہ کا جس نے شیطان کے مکر کو وسوسہ بنا دیا ( اور وسوسہ مومن کو نقصان نہیں پہنچاتا ) ۔ ابن قدامہ نے اپنی روایت میں «رد كيده» کی جگہ «رد أمره» کہا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وابن، قدامة بن اعين قالا حدثنا جرير، عن منصور، عن ذر، عن عبد الله بن شداد، عن ابن عباس، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ان احدنا يجد في نفسه - يعرض بالشىء - لان يكون حممة احب اليه من ان يتكلم به فقال " الله اكبر الله اكبر الله اكبر الحمد لله الذي رد كيده الى الوسوسة " . قال ابن قدامة " رد امره " . مكان " رد كيده