Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور میرے دل نے یاد رکھا ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص جان بوجھ کر، اپنے آپ کو اپنے والد کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے تو جنت اس پر حرام ہے ۔ عثمان کہتے ہیں: میں سعد رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے اس حدیث کا ذکر کیا، تو انہوں نے بھی کہا: میرے کانوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، اور میرے دل نے اسے یاد رکھا، عاصم کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوعثمان تمہارے پاس دو آدمیوں نے اس بات کی گواہی دی، لیکن یہ دونوں صاحب کون ہیں؟ ان کی صفات و خصوصیات کیا ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں یا اسلام میں سب سے پہلے تیر چلایا یعنی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور دوسرے وہ ہیں جو طائف سے بیس سے زائد آدمیوں کے ساتھ پیدل چل کر آئے پھر ان کی فضیلت بیان کی۔ نفیلی نے یہ حدیث بیان کی تو کہا: قسم اللہ کی! یہ حدیث میرے لیے شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہے، یعنی ان کا «حدثنا وحدثني» کہنا ( مجھے بہت پسند ہے ) ۔ ابوعلی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد سے سنا ہے، وہ کہتے تھے: میں نے احمد کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل کوفہ کی حدیث میں کوئی نور نہیں ہوتا ( کیونکہ وہ اسانید کو صحیح طریقہ پر بیان نہیں کرتے، اور اخبار و تحدیث کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ) اور کہا: میں نے اہل بصرہ جیسے اچھے لوگ بھی نہیں دیکھے انہوں نے شعبہ سے حدیث حاصل کی ( اور شعبہ کا طریقہ اسناد کو اچھی طرح بتا دینے کا تھا ) ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا عاصم الاحول، قال حدثني ابو عثمان، قال حدثني سعد بن مالك، قال سمعته اذناى، ووعاه، قلبي من محمد عليه السلام انه قال " من ادعى الى غير ابيه وهو يعلم انه غير ابيه فالجنة عليه حرام " . قال فلقيت ابا بكرة فذكرت ذلك له فقال سمعته اذناى ووعاه قلبي من محمد صلى الله عليه وسلم . قال عاصم فقلت يا ابا عثمان لقد شهد عندك رجلان ايما رجلين . فقال اما احدهما فاول من رمى بسهم في سبيل الله او في الاسلام يعني سعد بن مالك والاخر قدم من الطايف في بضعة وعشرين رجلا على اقدامهم فذكر فضلا . قال ابو علي سمعت ابا داود قال قال النفيلي حيث حدث بهذا الحديث والله انه عندي احلى من العسل يعني قوله حدثنا وحدثني قال ابو علي وسمعت ابا داود يقول سمعت احمد يقول ليس لحديث اهل الكوفة نور - قال - وما رايت مثل اهل البصرة كانوا تعلموه من شعبة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے مولیٰ ( آقا ) کی اجازت ۱؎ کے بغیر کسی قوم کو اپنا مولیٰ ( آقا ) بنائے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام ہی لوگوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ ہی کوئی نفل قبول ہو گی ۔
حدثنا حجاج بن ابي يعقوب، حدثنا معاوية، - يعني ابن عمرو - حدثنا زايدة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تولى قوما بغير اذن مواليه فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين لا يقبل منه يوم القيامة عدل ولا صرف
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ ( آقا ) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا عمر بن عبد الواحد، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، - ونحن ببيروت - عن انس بن مالك، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى الى غير ابيه او انتمى الى غير مواليه فعليه لعنة الله المتتابعة الى يوم القيامة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت و غرور کو ختم کر دیا اور باپ دادا کا نام لے کر فخر کرنے سے روک دیا، ( اب دو قسم کے لوگ ہیں ) ایک متقی و پرہیزگار مومن، دوسرا بدبخت فاجر، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں ۱؎، لوگوں کو اپنی قوموں پر فخر کرنا چھوڑ دینا چاہیئے کیونکہ ان کے آباء جہنم کے کوئلوں میں سے کوئلہ ہیں ( اس لیے کہ وہ کافر تھے، اور کوئلے پر فخر کرنے کے کیا معنی ) اگر انہوں نے اپنے آباء پر فخر کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کے نزدیک اس گبریلے کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہو جائیں گے، جو اپنی ناک سے گندگی کو ڈھکیل کر لے جاتا ہے ۔
حدثنا موسى بن مروان الرقي، حدثنا المعافى، ح وحدثنا احمد بن سعيد الهمداني، اخبرنا ابن وهب، - وهذا حديثه - عن هشام بن سعد، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله عز وجل قد اذهب عنكم عبية الجاهلية وفخرها بالاباء مومن تقي وفاجر شقي انتم بنو ادم وادم من تراب ليدعن رجال فخرهم باقوام انما هم فحم من فحم جهنم او ليكونن اهون على الله من الجعلان التي تدفع بانفها النتن
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس نے اپنی قوم کی ناحق مدد کی تو اس کی مثال اس اونٹ کی سی ہے جو کنوئیں میں گرا دیا گیا ہو اور پھر دم پکڑ کر نکالا جا رہا ہو ۱؎۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا سماك بن حرب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابيه، قال من نصر قومه على غير الحق فهو كالبعير الذي ردي فهو ينزع بذنبه
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا آپ چمڑے کے ایک خیمے میں تھے، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا سفيان، عن سماك بن حرب، عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن ابيه، قال انتهيت الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في قبة من ادم فذكر نحوه
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول: عصبیت کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عصبیت یہ ہے کہ تم اپنی قوم کا ظلم و زیادتی میں ساتھ دو، اور ان کی مدد کرو ۔
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الفريابي، حدثنا سلمة بن بشر الدمشقي، عن بنت واثلة بن الاسقع، انها سمعت اباها، يقول قلت يا رسول الله ما العصبية قال " ان تعين قومك على الظلم
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ ( اس دفاع سے ) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ايوب بن سويد، عن اسامة بن زيد، انه سمع سعيد بن المسيب، يحدث عن سراقة بن مالك بن جعشم المدلجي، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " خيركم المدافع عن عشيرته ما لم ياثم " . قال ابو داود ايوب بن سويد ضعيف
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن سعيد بن ابي ايوب، عن محمد بن عبد الرحمن المكي، - يعني ابن ابي لبيبة - عن عبد الله بن ابي سليمان، عن جبير بن مطعم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس منا من دعا الى عصبية وليس منا من قاتل على عصبية وليس منا من مات على عصبية
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، عن عوف، عن زياد بن مخراق، عن ابي كنانة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابن اخت القوم منهم
ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا: یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ۱؎ ( میری آواز سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ایسا کیوں نہ کہا؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں۲؎ ۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا الحسين بن محمد، حدثنا جرير بن حازم، عن محمد بن اسحاق، عن داود بن حصين، عن عبد الرحمن بن ابي عقبة، عن ابي عقبة، - وكان مولى من اهل فارس - قال شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم احدا فضربت رجلا من المشركين فقلت خذها مني وانا الغلام الفارسي فالتفت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " فهلا قلت خذها مني وانا الغلام الانصاري
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ثور، قال حدثني حبيب بن عبيد، عن المقدام بن معديكرب، - وقد كان ادركه - عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا احب الرجل اخاه فليخبره انه يحبه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: اسے بتا دو یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا المبارك بن فضالة، حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، ان رجلا، كان عند النبي صلى الله عليه وسلم فمر به رجل فقال يا رسول الله اني لاحب هذا . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اعلمته " . قال لا قال " اعلمه " . قال فلحقه فقال اني احبك في الله . فقال احبك الذي احببتني له
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا؟ آپ نے فرمایا: اے ابوذر! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو تو انہوں نے کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو ابوذر نے پھر یہی کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی دہرایا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا سليمان، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، انه قال يا رسول الله الرجل يحب القوم ولا يستطيع ان يعمل كعملهم . قال " انت يا ابا ذر مع من احببت " . قال فاني احب الله ورسوله . قال " فانك مع من احببت " . قال فاعادها ابو ذر فاعادها رسول الله صلى الله عليه وسلم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے ۱؎ ۔
حدثنا وهب بن بقية، حدثنا خالد، عن يونس بن عبيد، عن ثابت، عن انس بن مالك، قال رايت اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرحوا بشىء لم ارهم فرحوا بشىء اشد منه قال رجل يا رسول الله الرجل يحب الرجل على العمل من الخير يعمل به ولا يعمل بمثله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا شيبان، عن عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المستشار موتمن
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي عمرو الشيباني، عن ابي مسعود الانصاري، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني ابدع بي فاحملني . قال " لا اجد ما احملك عليه ولكن ايت فلانا فلعله ان يحملك " . فاتاه فحمله فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من دل على خير فله مثل اجر فاعله
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ۱؎ ۔
حدثنا حيوة بن شريح، حدثنا بقية، عن ابي بكر بن ابي مريم، عن خالد بن محمد الثقفي، عن بلال بن ابي الدرداء، عن ابي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " حبك الشىء يعمي ويصم
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو ( سفارش کا ) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہو گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن بريد بن ابي بردة، عن ابيه، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشفعوا الى لتوجروا وليقض الله على لسان نبيه ما شاء
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کر دیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: سفارش کرو تم اجر پاؤ گے ۔
حدثنا احمد بن صالح، واحمد بن عمرو بن السرح، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن وهب بن منبه، عن اخيه، عن معاوية، اشفعوا توجروا فاني لاريد الامر فاوخره كيما تشفعوا فتوجروا فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اشفعوا توجروا