Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا سفيان، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
علاء کے کسی بیٹے سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بحرین ( علاقہ احساء ) کے گورنر تھے، وہ جب آپ کو کوئی تحریر لکھ کر بھیجتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، عن منصور، عن ابن سيرين، - قال احمد قال مرة يعني هشيما - عن بعض ولد العلاء ان العلاء بن الحضرمي كان عامل النبي صلى الله عليه وسلم على البحرين فكان اذا كتب اليه بدا بنفسه
علاء یعنی ابن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا تو پہلے اپنا نام لکھا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا المعلى بن منصور، اخبرنا هشيم، عن منصور، عن ابن سيرين، عن ابن العلاء، عن العلاء، - يعني ابن الحضرمي - انه كتب الى النبي صلى الله عليه وسلم فبدا باسمه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام خط لکھا: اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد»۔
حدثنا الحسن بن علي، ومحمد بن يحيى، قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كتب الى هرقل " من محمد رسول الله الى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى " . قال ابن يحيى عن ابن عباس ان ابا سفيان اخبره قال فدخلنا على هرقل فاجلسنا بين يديه ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا فيه " بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله الى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى اما بعد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، قال حدثني سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجزي ولد والده الا ان يجده مملوكا فيشتريه فيعتقه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو، لیکن میں نے انکار کیا، تو عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے طلاق دے دو ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن ابي ذيب، قال حدثني خالي الحارث، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال كانت تحتي امراة وكنت احبها وكان عمر يكرهها فقال لي طلقها فابيت فاتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فقال النبي صلى الله عليه وسلم " طلقها
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن بهز بن حكيم، عن ابيه، عن جده، قال قلت يا رسول الله من ابر قال " امك ثم امك ثم امك ثم اباك ثم الاقرب فالاقرب " . وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يسال رجل مولاه من فضل هو عنده فيمنعه اياه الا دعي له يوم القيامة فضله الذي منعه شجاعا اقرع " . قال ابو داود الاقرع الذي ذهب شعر راسه من السم
بکر بن حارث (کلیب کے دادا) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: اپنی ماں، اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ، یہ ایک واجب حق ہے، اور ایک جوڑنے والی ( رحم ) قرابت داری ہے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا الحارث بن مرة، حدثنا كليب بن منفعة، عن جده، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله من ابر قال " امك واباك واختك واخاك ومولاك الذي يلي ذاك حق واجب ورحم موصولة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( بڑے گناہوں ) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص ( جواب میں ) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے ( اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے ) ۔
حدثنا محمد بن جعفر بن زياد، وقال، اخبرنا ح، وحدثنا عباد بن موسى، قالا حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن حميد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من اكبر الكباير ان يلعن الرجل والديه " . قيل يا رسول الله كيف يلعن الرجل والديه قال " يلعن ابا الرجل فيلعن اباه ويلعن امه فيلعن امه
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا ( ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں ) ۔
حدثنا ابراهيم بن مهدي، وعثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، - المعنى - قالوا حدثنا عبد الله بن ادريس، عن عبد الرحمن بن سليمان، عن اسيد بن علي بن عبيد، مولى بني ساعدة عن ابيه، عن ابي اسيد، مالك بن ربيعة الساعدي قال بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جاءه رجل من بني سلمة فقال يا رسول الله هل بقي من بر ابوى شىء ابرهما به بعد موتهما قال " نعم الصلاة عليهما والاستغفار لهما وانفاذ عهدهما من بعدهما وصلة الرحم التي لا توصل الا بهما واكرام صديقهما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو النضر، حدثنا الليث بن سعد، عن يزيد بن عبد الله بن اسامة بن الهاد، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ابر البر صلة المرء اهل ود ابيه بعد ان يولي
ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابو عاصم، قال حدثني جعفر بن يحيى بن عمارة بن ثوبان، اخبرنا عمارة بن ثوبان، ان ابا الطفيل، اخبره قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يقسم لحما بالجعرانة - قال ابو الطفيل وانا يوميذ غلام احمل عظم الجزور - اذ اقبلت امراة حتى دنت الى النبي صلى الله عليه وسلم فبسط لها رداءه فجلست عليه فقلت من هي فقالوا هذه امه التي ارضعته
عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، قال حدثني عمرو بن الحارث، ان عمر بن السايب، حدثه انه، بلغه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان جالسا يوما فاقبل ابوه من الرضاعة فوضع له بعض ثوبه فقعد عليه ثم اقبلت امه فوضع لها شق ثوبه من جانبه الاخر فجلست عليه ثم اقبل اخوه من الرضاعة فقام له رسول الله صلى الله عليه وسلم فاجلسه بين يديه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے کمتر جانے، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ ابن عباس کہتے ہیں: «ولده» سے مراد جنس «ذکور» ہے، لیکن عثمان ( راوی ) نے «ذکور» کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا عثمان، وابو بكر ابنا ابي شيبة - المعنى - قالا حدثنا ابو معاوية، عن ابي مالك الاشجعي، عن ابن حدير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له انثى فلم ييدها ولم يهنها ولم يوثر ولده عليها - قال يعني الذكور - ادخله الله الجنة " . ولم يذكر عثمان يعني الذكور
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی، انہیں ادب، تمیز و تہذیب سکھائی ( حسن معاشرت کی تعلیم دی ) ان کی شادیاں کر دیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا سهيل، - يعني ابن ابي صالح - عن سعيد الاعشى، - قال ابو داود وهو سعيد بن عبد الرحمن بن مكمل الزهري - عن ايوب بن بشير الانصاري، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من عال ثلاث بنات فادبهن وزوجهن واحسن اليهن فله الجنة
سہل سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ تین بہنیں ہوں، یا تین بیٹیاں، یا دو بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا جرير، عن سهيل، بهذا الاسناد بمعناه قال " ثلاث اخوات او ثلاث بنات او بنتان او اختان
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے ( یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ) عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں یا وفات پا جائیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا النهاس بن قهم، قال حدثني شداد ابو عمار، عن عوف بن مالك الاشجعي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا وامراة سفعاء الخدين كهاتين يوم القيامة " . واوما يزيد بالوسطى والسبابة " امراة امت من زوجها ذات منصب وجمال حبست نفسها على يتاماها حتى بانوا او ماتوا
سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا دونوں جنت میں اس طرح ( قریب قریب ) ہوں گے آپ نے بیچ کی، اور انگوٹھے سے قریب کی انگلی، کو ملا کر دکھایا۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، اخبرنا عبد العزيز، - يعني ابن ابي حازم - قال حدثني ابي، عن سهل، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " انا وكافل اليتيم كهاتين في الجنة " . وقرن بين اصبعيه الوسطى والتي تلي الابهام
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل مجھے برابر پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین اور وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ میں ( دل میں ) کہنے لگا کہ وہ ضرور اسے وارث بنا دیں گے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد، عن عمرة، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى قلت ليورثنه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کی تو ( گھر والوں ) سے کہا: کیا تم لوگوں نے میرے یہودی پڑوسی کو ہدیہ بھیجا ( نہ بھیجا ہو تو بھیج دو ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے: جبرائیل مجھے برابر پڑوسی، کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرماتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان گزرا کہ وہ اسے وارث بنا دیں گے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا سفيان، عن بشير ابي اسماعيل، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، انه ذبح شاة فقال اهديتم لجاري اليهودي فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما زال جبريل يوصيني بالجار حتى ظننت انه سيورثه