Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا، آپ نے فرمایا: جاؤ صبر کرو پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا، تو آپ نے فرمایا: جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا، لوگ ( سن کر ) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے، ایسا کرے، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا: اب آپ ( گھر میں ) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا سليمان بن حيان، عن محمد بن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم يشكو جاره فقال " اذهب فاصبر " . فاتاه مرتين او ثلاثا فقال " اذهب فاطرح متاعك في الطريق " . فطرح متاعه في الطريق فجعل الناس يسالونه فيخبرهم خبره فجعل الناس يلعنونه فعل الله به وفعل وفعل فجاء اليه جاره فقال له ارجع لا ترى مني شييا تكرهه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور یوم آخرت ( قیامت ) پر ایمان رکھتا ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دے، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو تو وہ اچھی بات کہے یا چپ رہے ۔
حدثنا محمد بن المتوكل العسقلاني، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كان يومن بالله واليوم الاخر فليكرم ضيفه ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فلا يوذ جاره - ومن كان يومن بالله واليوم الاخر فليقل خيرا او ليصمت
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے دو پڑوسی ہیں، میں ان دونوں میں سے پہلے کس کے ساتھ احسان کروں؟ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کا دروازہ قریب ہو اس کے ساتھ ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، وسعيد بن منصور، ان الحارث بن عبيد، حدثهم عن ابي عمران الجوني، عن طلحة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت قلت يا رسول الله ان لي جارين بايهما ابدا قال " بادناهما بابا " . قال ابو داود قال شعبة في هذا الحديث طلحة رجل من قريش
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بات ( انتقال کے موقع پر ) یہ تھی کہ نماز کا خیال رکھنا، نماز کا خیال رکھنا، اور جو تمہاری ملکیت میں ( غلام اور لونڈی ) ہیں ان کے معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔
حدثنا زهير بن حرب، وعثمان بن ابي شيبة، قالا حدثنا محمد بن الفضيل، عن مغيرة، عن ام موسى، عن علي، عليه السلام قال كان اخر كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم " الصلاة الصلاة اتقوا الله فيما ملكت ايمانكم
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر کو ربذہ ( مدینہ کے قریب ایک گاؤں ) میں دیکھا وہ ایک موٹی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور ان کے غلام کے بھی ( جسم پر ) اسی جیسی چادر تھی، معرور بن سوید کہتے ہیں: تو لوگوں نے کہا: ابوذر! اگر تم وہ ( چادر ) لے لیتے جو غلام کے جسم پر ہے اور اپنی چادر سے ملا لیتے تو پورا جوڑا بن جاتا اور غلام کو اس چادر کے بدلے کوئی اور کپڑا پہننے کو دے دیتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) اس پر ابوذر نے کہا: میں نے ایک شخص کو گالی دی تھی، اس کی ماں عجمی تھی، میں نے اس کی ماں کے غیر عربی ہونے کا اسے طعنہ دیا، اس نے میری شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دی، تو آپ نے فرمایا: ابوذر! تم میں ابھی جاہلیت ( کی بو باقی ) ہے وہ ( غلام، لونڈی ) تمہارے بھائی بہن، ہیں ( کیونکہ سب آدم کی اولاد ہیں ) ، اللہ نے تم کو ان پر فضیلت دی ہے، ( تم کو حاکم اور ان کو محکوم بنا دیا ہے ) تو جو تمہارے موافق نہ ہو اسے بیچ دو، اور اللہ کی مخلوق کو تکلیف نہ دو ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن المعرور بن سويد، قال رايت ابا ذر بالربذة وعليه برد غليظ وعلى غلامه مثله قال فقال القوم يا ابا ذر لو كنت اخذت الذي على غلامك فجعلته مع هذا فكانت حلة وكسوت غلامك ثوبا غيره . قال فقال ابو ذر اني كنت ساببت رجلا وكانت امه اعجمية فعيرته بامه فشكاني الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ابا ذر انك امرو فيك جاهلية " . قال " انهم اخوانكم فضلكم الله عليهم فمن لم يلايمكم فبيعوه ولا تعذبوا خلق الله
معرور بن سوید کہتے ہیں کہ ہم ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس ربذہ میں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے جسم پر ایک چادر ہے اور ان کے غلام پر بھی اسی جیسی چادر ہے، تو ہم نے کہا: ابوذر! اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے، تو آپ کا پورا جوڑا ہو جاتا، اور آپ اسے کوئی اور کپڑا دے دیتے۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: یہ ( غلام اور لونڈی ) تمہارے بھائی ( اور بہن ) ہیں انہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کیا ہے، تو جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو تو اس کو وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے، اور اسے ایسے کام کرنے کے لیے نہ کہے جسے وہ انجام نہ دے سکے، اگر اسے کسی ایسے کام کا مکلف بنائے جو اس کے بس کا نہ ہو تو خود بھی اس کام میں لگ کر اس کا ہاتھ بٹائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا الاعمش، عن المعرور بن سويد، قال دخلنا على ابي ذر بالربذة فاذا عليه برد وعلى غلامه مثله فقلنا يا ابا ذر لو اخذت برد غلامك الى بردك فكانت حلة وكسوته ثوبا غيره قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اخوانكم جعلهم الله تحت ايديكم فمن كان اخوه تحت يديه فليطعمه مما ياكل وليكسه مما يلبس ولا يكلفه ما يغلبه فان كلفه ما يغلبه فليعنه " . قال ابو داود ورواه ابن نمير عن الاعمش نحوه
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا اتنے میں میں نے اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: اے ابومسعود! جان لو، اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت و اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس ( غلام ) پر رکھتے ہو، یہ آواز دو مرتبہ سنائی پڑی، میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، آپ نے فرمایا: اگر تم اسے ( آزاد ) نہ کرتے تو آگ تمہیں لپٹ جاتی یا آگ تمہیں چھو لیتی ۔
حدثنا محمد بن العلاء، قال حدثنا ابو معاوية، ح وحدثنا ابن المثنى، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي مسعود الانصاري، قال كنت اضرب غلاما لي فسمعت من خلفي صوتا " اعلم ابا مسعود " . قال ابن المثنى مرتين " لله اقدر عليك منك عليه " . فالتفت فاذا هو النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله هو حر لوجه الله . قال " اما انك لو لم تفعل للفعتك النار او " لمستك النار
اس سند سے بھی اعمش سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث اسی طرح مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ میں اپنے ایک کالے غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا، اور انہوں نے آزاد کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا عبد الواحد، عن الاعمش، باسناده ومعناه نحوه قال كنت اضرب غلاما لي اسود بالسوط ولم يذكر امر العتق
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو تمہارے موافق ہوں تو انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو، اور جو تمہارے موافق نہ ہوں، انہیں بیچ دو، اللہ کی مخلوق کو ستاؤ نہیں ۔
حدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، عن مورق، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لاءمكم من مملوكيكم فاطعموه مما تاكلون واكسوه مما تكتسون ومن لم يلايمكم منهم فبيعوه ولا تعذبوا خلق الله
رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (یہ ان صحابہ میں سے تھے جو صلح حدیبیہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے) وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھے ڈھنگ سے پیش آنا برکت ہے اور بدخلقی، نحوست ہے ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن عثمان بن زفر، عن بعض بني رافع بن مكيث، عن رافع بن مكيث، وكان، ممن شهد الحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " حسن الملكة نماء وسوء الخلق شوم
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے ۔
حدثنا ابن المصفى، حدثنا بقية، حدثنا عثمان بن زفر، قال حدثني محمد بن خالد بن رافع بن مكيث، عن عمه الحارث بن رافع بن مكيث، وكان، رافع من جهينة قد شهد الحديبية مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " حسن الملكة نماء وسوء الخلق شوم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ ( سن کر ) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ہر دن ستر بار اسے معاف کرو ۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، واحمد بن عمرو بن السرح، - وهذا حديث الهمداني وهو اتم - قالا حدثنا ابن وهب قال اخبرني ابو هاني الخولاني عن العباس بن جليد الحجري قال سمعت عبد الله بن عمرو يقول جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله كم نعفو عن الخادم فصمت ثم اعاد عليه الكلام فصمت فلما كان في الثالثة قال " اعفوا عنه في كل يوم سبعين مرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی توبہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگائی اور وہ اس الزام سے بری ہے، تو قیامت کے دن اس پر حد قذف لگائی جائے گی ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، قال اخبرنا ح، وحدثنا مومل بن الفضل الحراني، قال اخبرنا عيسى، حدثنا فضيل، - يعني ابن غزوان - عن ابن ابي نعم، عن ابي هريرة، قال حدثني ابو القاسم، نبي التوبة صلى الله عليه وسلم قال " من قذف مملوكه وهو بريء مما قال جلد له يوم القيامة حدا " . قال مومل حدثنا عيسى عن الفضيل يعني ابن غزوان
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے ( ایک بار ) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا فضيل بن عياض، عن حصين، عن هلال بن يساف، قال كنا نزولا في دار سويد بن مقرن وفينا شيخ فيه حدة ومعه جارية فلطم وجهها فما رايت سويدا اشد غضبا منه ذاك اليوم قال عجز عليك الا حر وجهها لقد رايتنا سابع سبعة من ولد مقرن وما لنا الا خادم فلطم اصغرنا وجهها فامرنا النبي صلى الله عليه وسلم بعتقها
معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص ( بدلہ ) لو، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو لوگوں نے عرض کیا: اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے، آپ نے فرمایا: اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني سلمة بن كهيل، قال حدثني معاوية بن سويد بن مقرن، قال لطمت مولى لنا فدعاه ابي ودعاني فقال اقتص منه فانا معشر بني مقرن كنا سبعة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وليس لنا الا خادم . فلطمها رجل منا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعتقوها " . قالوا انه ليس لنا خادم غيرها . قال " فلتخدمهم حتى يستغنوا فاذا استغنوا فليعتقوها
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی ( معمولی ) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔
حدثنا مسدد، وابو كامل قالا حدثنا ابو عوانة، عن فراس، عن ابي صالح، ذكوان عن زاذان، قال اتيت ابن عمر وقد اعتق مملوكا له فاخذ من الارض عودا او شييا فقال ما لي فيه من الاجر ما يسوى هذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من لطم مملوكه او ضربه فكفارته ان يعتقه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان العبد اذا نصح لسيده واحسن عبادة الله فله اجره مرتين
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو ( اس کے شوہر یا مالک کے خلاف ) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا زيد بن الحباب، عن عمار بن رزيق، عن عبد الله بن عيسى، عن عكرمة، عن يحيى بن يعمر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من خبب زوجة امري او مملوكه فليس منا
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایک کمرے سے جھانکا تو آپ تیر کا ایک یا کئی پھل لے کر اس کی طرف بڑھے، گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کی آپ اس کی طرف اس طرح بڑھ رہے ہیں کہ وہ جان نہ پائے تاکہ اسے گھونپ دیں۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا حماد، عن عبيد الله بن ابي بكر، عن انس بن مالك، ان رجلا، اطلع من بعض حجر النبي صلى الله عليه وسلم فقام اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بمشقص او مشاقص - قال - فكاني انظر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يختله ليطعنه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکے اور وہ لوگ اس کی آنکھ پھوڑ دیں تو اس کی آنکھ رائیگاں گئی ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن سهيل، عن ابيه، قال حدثنا ابو هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من اطلع في دار قوم بغير اذنهم ففقاوا عينه فقد هدرت عينه