Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نگاہ اندر پہنچ گئی تو پھر اجازت کا کوئی مطلب ہی نہیں ۔
حدثنا الربيع بن سليمان الموذن، حدثنا ابن وهب، عن سليمان، - يعني ابن بلال - عن كثير، عن وليد، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا دخل البصر فلا اذن
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، ( عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے ) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ ( یعنی دروازہ سے ہٹ کر ) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، ح وحدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا حفص، عن الاعمش، عن طلحة، عن هزيل، قال جاء رجل - قال عثمان سعد بن ابي وقاص - فوقف على باب النبي صلى الله عليه وسلم يستاذن فقام على الباب - قال عثمان مستقبل الباب - فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " هكذا عنك او هكذا فانما الاستيذان من النظر
سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان، عن الاعمش، عن طلحة بن مصرف، عن رجل، عن سعد، نحوه عن النبي صلى الله عليه وسلم
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، ح حدثنا يحيى بن حبيب، حدثنا روح، عن ابن جريج، قال اخبرني عمرو بن ابي سفيان، ان عمرو بن عبد الله بن صفوان، اخبره عن كلدة بن حنبل، ان صفوان بن امية، بعثه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بلبن وجداية وضغابيس - والنبي صلى الله عليه وسلم باعلى مكة - فدخلت ولم اسلم فقال " ارجع فقل السلام عليكم " . وذاك بعد ما اسلم صفوان بن امية . قال عمرو واخبرني ابن صفوان بهذا اجمع عن كلدة بن حنبل ولم يقل سمعته منه . قال ابو داود قال يحيى بن حبيب امية بن صفوان ولم يقل سمعته من كلدة بن حنبل وقال يحيى ايضا عمرو بن عبد الله بن صفوان اخبره ان كلدة بن الحنبل اخبره
ربعی کہتے ہیں کہ بنو عامر کے ایک شخص نے ہم سے بیان کیا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی آپ گھر میں تھے تو کہا: «ألج» ( کیا میں اندر آ جاؤں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خادم سے فرمایا: تم اس شخص کے پاس جاؤ اور اسے اجازت لینے کا طریقہ سکھاؤ اور اس سے کہو السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ اس آدمی نے یہ بات سن لی اور کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی، اور وہ اندر آ گیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن ربعي، قال حدثنا رجل، من بني عامر انه استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم وهو في بيت فقال الج فقال النبي صلى الله عليه وسلم لخادمه " اخرج الى هذا فعلمه الاستيذان فقل له قل السلام عليكم اادخل " . فسمعه الرجل فقال السلام عليكم اادخل فاذن له النبي صلى الله عليه وسلم فدخل
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ہم سے مسدد نے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ہے انہوں نے منصور سے اور منصور نے ربعی سے روایت کیا ہے، انہوں نے «عن رجل من بني عامر» نہیں کہا ہے۔
حدثنا هناد بن السري، عن ابي الاحوص، عن منصور، عن ربعي بن حراش، قال حدثت ان رجلا من بني عامر استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال ابو داود وكذلك حدثنا مسدد حدثنا ابو عوانة عن منصور عن ربعي ولم يقل عن رجل من بني عامر
بنو عامر کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: میں نے اسے سن لیا تو میں نے کہا: السلام علیکم کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ربعي، عن رجل، من بني عامر انه استاذن على النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . قال فسمعته فقلت السلام عليكم اادخل
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انصار کی مجالس میں سے ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ گھبرائے ہوئے آئے، تو ہم نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو گھبراہٹ میں ڈال دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے عمر رضی اللہ عنہ نے بلا بھیجا تھا، میں ان کے پاس آیا، اور تین بار ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اجازت نہ ملی تو میں لوٹ گیا ( دوبارہ ملاقات پر ) انہوں نے کہا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے؟ میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس گیا تھا، تین بار اجازت مانگی، پھر مجھے اجازت نہ دی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کوئی تین بار اندر آنے کی اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ لوٹ جائے ( یہ سن کر ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، اس پر ابوسعید نے کہا: ( اس کی گواہی کے لیے تو ) تمہارے ساتھ قوم کا ایک معمولی شخص ہی جا سکتا ہے، پھر ابوسعید ہی اٹھ کر ابوموسیٰ کے ساتھ گئے اور گواہی دی۔
حدثنا احمد بن عبدة، اخبرنا سفيان، عن يزيد بن خصيفة، عن بسر بن سعيد، عن ابي سعيد الخدري، قال كنت جالسا في مجلس من مجالس الانصار فجاء ابو موسى فزعا فقلنا له ما افزعك قال امرني عمر ان اتيه فاتيته فاستاذنت ثلاثا فلم يوذن لي فرجعت فقال ما منعك ان تاتيني قلت قد جيت فاستاذنت ثلاثا فلم يوذن لي وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استاذن احدكم ثلاثا فلم يوذن له فليرجع " . قال لتاتيني على هذا بالبينة قال فقال ابو سعيد لا يقوم معك الا اصغر القوم . قال فقام ابو سعيد معه فشهد له
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اندر آنے کی اجازت تین مرتبہ مانگی: ابوموسیٰ اجازت کا طلب گار ہے، اشعری اجازت مانگ رہا ہے، عبداللہ بن قیس اجازت مانگ رہا ہے ۱؎ انہیں اجازت نہیں دی گئی، تو وہ لوٹ گئے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بلانے کے لیے بھیجا ( جب وہ آئے ) تو پوچھا: لوٹ کیوں گئے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: تم میں سے ہر کوئی تین بار اجازت مانگے، اگر اسے اجازت دے دی جائے ( تو اندر چلا جائے ) اور اگر اجازت نہ ملے تو لوٹ جائے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بات کے لیے گواہ پیش کرو، وہ گئے اور ( ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لے کر ) واپس آئے اور کہا یہ ابی ( گواہ ) ہیں ۲؎، ابی نے کہا: اے عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے باعث عذاب نہ بنو تو عمر نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے باعث اذیت نہیں ہو سکتا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن طلحة بن يحيى، عن ابي بردة، عن ابي موسى، انه اتى عمر فاستاذن ثلاثا فقال يستاذن ابو موسى يستاذن الاشعري يستاذن عبد الله بن قيس فلم يوذن له فرجع فبعث اليه عمر ما ردك قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يستاذن احدكم ثلاثا فان اذن له والا فليرجع " . قال ايتني ببينة على هذا . فذهب ثم رجع فقال هذا ابى فقال ابى يا عمر لا تكن عذابا على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال عمر لا اكون عذابا على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے، اور انہوں نے گواہی دی، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا، ( اب تمہارے لیے اجازت ہے ) سلام جتنی بار چاہو کرو، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے۔
حدثنا يحيى بن حبيب، حدثنا روح، حدثنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن عبيد بن عمير، ان ابا موسى، استاذن على عمر بهذه القصة . قال فيه فانطلق بابي سعيد فشهد له فقال اخفي على هذا من امر رسول الله صلى الله عليه وسلم الهاني السفق بالاسواق ولكن سلم ما شيت ولا تستاذن
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر ( جھوٹی حدیث بیان کرنے کا ) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎۔
حدثنا زيد بن اخزم، حدثنا عبد القاهر بن شعيب، حدثنا هشام، عن حميد بن هلال، عن ابي بردة بن ابي موسى، عن ابيه، بهذه القصة قال فقال عمر لابي موسى اني لم اتهمك ولكن الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم شديد
ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور دوسرے بہت سے علماء سے اس سلسلہ میں مروی ہے عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تمہیں جھوٹا نہیں سمجھا لیکن میں ڈرا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر کے جھوٹی حدیثیں نہ بیان کرنے لگیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن غير، واحد، من علمايهم في هذا فقال عمر لابي موسى اما اني لم اتهمك ولكن خشيت ان يتقول الناس على رسول الله صلى الله عليه وسلم
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے ( باہر رک کر ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے ( سعد سے ) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو ) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے ( پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری ) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ ۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا هشام ابو مروان، ومحمد بن المثنى، - المعنى - قال محمد بن المثنى حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، قال سمعت يحيى بن ابي كثير، يقول حدثني محمد بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارة، عن قيس بن سعد، قال زارنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في منزلنا فقال " السلام عليكم ورحمة الله " . فرد سعد ردا خفيا . قال قيس فقلت الا تاذن لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال ذره يكثر علينا من السلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " السلام عليكم ورحمة الله " . فرد سعد ردا خفيا ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " السلام عليكم ورحمة الله " . ثم رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واتبعه سعد فقال يا رسول الله اني كنت اسمع تسليمك وارد عليك ردا خفيا لتكثر علينا من السلام . قال فانصرف معه رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر له سعد بغسل فاغتسل ثم ناوله ملحفة مصبوغة بزعفران او ورس فاشتمل بها ثم رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه وهو يقول " اللهم اجعل صلواتك ورحمتك على ال سعد بن عبادة " . قال ثم اصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من الطعام فلما اراد الانصراف قرب له سعد حمارا قد وطا عليه بقطيفة فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سعد يا قيس اصحب رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال قيس فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اركب " . فابيت ثم قال " اما ان تركب واما ان تنصرف " . قال فانصرفت . قال هشام ابو مروان عن محمد بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارة . قال ابو داود رواه عمر بن عبد الواحد وابن سماعة عن الاوزاعي مرسلا ولم يذكرا قيس بن سعد
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: السلام علیکم، السلام علیکم یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، - في اخرين - قالوا حدثنا بقية بن الوليد، حدثنا محمد بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن بسر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتى باب قوم لم يستقبل الباب من تلقاء وجهه ولكن من ركنه الايمن او الايسر ويقول " السلام عليكم السلام عليكم " . وذلك ان الدور لم يكن عليها يوميذ ستور
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے والد کے قرضے کے سلسلے میں گفتگو کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، تو میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ نے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ہوں آپ نے فرمایا: میں، میں ( کیا؟ ) گویا کہ آپ نے ( اس طرح غیر واضح جواب دینے ) کو برا جانا۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر، عن شعبة، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، انه ذهب الى النبي صلى الله عليه وسلم في دين ابيه فدققت الباب فقال " من هذا " . قلت انا . قال " انا انا " . كانه كرهه
نافع بن عبدالحارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ ایک ( باغ کی ) چہار دیواری میں داخل ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا: دروازہ بند کئے رہنا پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا: کون ہے؟ اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یعنی ابوموسیٰ اشعری کی حدیث بیان کی ۱؎ اس میں «ضرب الباب» کے بجائے «فدق الباب» کے الفاظ ہیں۔
حدثنا يحيى بن ايوب، - يعني المقابري - حدثنا اسماعيل، - يعني ابن جعفر - حدثنا محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن نافع بن عبد الحارث، قال خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى دخلت حايطا فقال لي " امسك الباب " . فضرب الباب فقلت " من هذا " . وساق الحديث . قال ابو داود يعني حديث ابي موسى الاشعري قال فيه فدق الباب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کو بلا بھیجنا، ہی اس کی جانب سے اس کے لیے اجازت ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حبيب، وهشام، عن محمد، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " رسول الرجل الى الرجل اذنه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کھانے کے لیے بلایا جائے اور وہ بلانے والا آنے والے کے ساتھ ہی آ جائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے ( پھر اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ) ۔ ابوعلی لؤلؤی کہتے ہیں: میں نے ابوداؤد کو کہتے سنا: کہ قتادہ نے ابورافع سے کچھ نہیں سنا ہے۔
حدثنا حسين بن معاذ، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا دعي احدكم الى طعام فجاء مع الرسول فان ذلك له اذن " . قال ابو علي اللولوي سمعت ابا داود يقول قتادة لم يسمع من ابي رافع شييا
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ آیت استیذان پر اکثر لوگوں نے عمل نہیں کیا، لیکن میں نے تو اپنی لونڈی کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ اسے بھی میرے پاس آنا ہو تو مجھ سے اجازت طلب کرے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ وہ اس کا ( استیذان کا ) حکم دیتے تھے۔
حدثنا ابن السرح، قال حدثنا ح، وحدثنا ابن الصباح بن سفيان، وابن، عبدة - وهذا حديثه - قالا اخبرنا سفيان، عن عبيد الله بن ابي يزيد، سمع ابن عباس، يقول لم يومر بها اكثر الناس اية الاذن واني لامر جاريتي هذه تستاذن على . قال ابو داود وكذلك رواه عطاء عن ابن عباس يامر به
عکرمہ سے روایت ہے کہ عراق کے کچھ لوگوں نے کہا: ابن عباس! اس آیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جس میں ہمیں حکم دیا گیا جو حکم دیا گیا لیکن اس پر کسی نے عمل نہیں کیا، یعنی اللہ تعالیٰ کے قول «يا أيها الذين آمنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم» اے ایمان والو! تمہارے غلاموں اور لونڈیوں کو اور تمہارے سیانے لیکن نابالغ بچوں کو تین اوقات میں تمہارے پاس اجازت لے کر ہی آنا چاہیئے نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم کپڑے اتار کر آرام کے لیے لیٹتے ہو، بعد نماز عشاء یہ تینوں وقت پردہ پوشی کے ہیں ان تینوں اوقات کے علاوہ اوقات میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ تم ان کے پاس جاؤ، اور وہ تمہارے پاس آئیں۔ ( النور: ۵۸ ) قعنبی نے آیت «عليم حكيم» تک پڑھی۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تعالیٰ حلیم ( بردبار ) ہے اور مسلمانوں پر رحیم ( مہربان ) ہے، وہ پردہ پوشی کو پسند فرماتا ہے، ( یہ آیت جب نازل ہوئی ہے تو ) لوگوں کے گھروں پر نہ پردے تھے، اور نہ ہی چلمن ( سرکیاں ) ، کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خدمت گار کوئی لڑکا یا کوئی یتیم بچی ایسے وقت میں آ جاتی جب آدمی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہوتا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردے کے ان اوقات میں اجازت لینے کا حکم دیا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے پردے دیے اور خیر ( مال ) سے نوازا، اس وقت سے میں نے کسی کو اس آیت پر عمل کرتے نہیں دیکھا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبیداللہ اور عطاء کی حدیث ( جن کا ذکر اس سے پہلے آ چکا ہے ) اس حدیث کی تضعیف کرتی ہے۔ ۳؎ یعنی یہ حدیث ان دونوں احادیث کی ضد ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، ان نفرا، من اهل العراق قالوا يا ابن عباس كيف ترى في هذه الاية التي امرنا فيها بما امرنا ولا يعمل بها احد قول الله عز وجل { يا ايها الذين امنوا ليستاذنكم الذين ملكت ايمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلاث مرات من قبل صلاة الفجر وحين تضعون ثيابكم من الظهيرة ومن بعد صلاة العشاء ثلاث عورات لكم ليس عليكم ولا عليهم جناح بعدهن طوافون عليكم } قرا القعنبي الى { عليم حكيم } قال ابن عباس ان الله حليم رحيم بالمومنين يحب الستر وكان الناس ليس لبيوتهم ستور ولا حجال فربما دخل الخادم او الولد او يتيمة الرجل والرجل على اهله فامرهم الله بالاستيذان في تلك العورات فجاءهم الله بالستور والخير فلم ار احدا يعمل بذلك بعد . قال ابو داود حديث عبيد الله وعطاء يفسد هذا