احادیث
#5185
سنن ابی داؤد - General Behavior
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر ملاقات کے لیے تشریف لائے ( باہر رک کر ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد رضی اللہ عنہ نے دھیرے سے سلام کا جواب دیا، قیس کہتے ہیں: میں نے ( سعد سے ) کہا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندر تشریف لانے کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ سعد نے کہا چھوڑو ( جلدی نہ کرو ) ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلامتی کی دعا زیادہ کر لینے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا، سعد نے پھر دھیرے سے سلام کا جواب دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ ( اور جواب نہ سن کر ) لوٹ پڑے، تو سعد نے لپک کر آپ کا پیچھا کیا اور آپ کو پا لیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کا سلام سنتے تھے، اور دھیرے سے آپ کے سلام کا جواب دیتے تھے، خواہش یہ تھی کہ اس طرح آپ کی سلامتی کی دعا ہمیں زیادہ حاصل ہو جائے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد کے ساتھ لوٹ آئے، اور اپنے گھر والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے ( پانی وغیرہ کی فراہمی و تیاری ) کا حکم دیا، تو آپ نے غسل فرمایا، پھر سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زعفران یا ورس میں رنگی ہوئی ایک چادر دی جسے آپ نے لپیٹ لیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، آپ دعا فرما رہے تھے: اے اللہ! سعد بن عبادہ کی اولاد پر اپنی برکت و رحمت نازل فرما پھر آپ نے کھانا کھایا، اور جب آپ نے واپسی کا ارادہ کیا تو سعد نے ایک گدھا پیش کیا جس پر چادر ڈال دی گئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو گئے، تو سعد نے کہا: اے قیس! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا، قیس کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم بھی سوار ہو جاؤ تو میں نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ ورنہ واپس جاؤ ۔ قیس کہتے ہیں: میں لوٹ آیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عمر بن عبدالواحد اور ابن سماعۃ نے اوزاعی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ان دونوں نے اس میں قیس بن سعد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا هشام ابو مروان، ومحمد بن المثنى، - المعنى - قال محمد بن المثنى حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، قال سمعت يحيى بن ابي كثير، يقول حدثني محمد بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارة، عن قيس بن سعد، قال زارنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في منزلنا فقال " السلام عليكم ورحمة الله " . فرد سعد ردا خفيا . قال قيس فقلت الا تاذن لرسول الله صلى الله عليه وسلم . فقال ذره يكثر علينا من السلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " السلام عليكم ورحمة الله " . فرد سعد ردا خفيا ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " السلام عليكم ورحمة الله " . ثم رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واتبعه سعد فقال يا رسول الله اني كنت اسمع تسليمك وارد عليك ردا خفيا لتكثر علينا من السلام . قال فانصرف معه رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر له سعد بغسل فاغتسل ثم ناوله ملحفة مصبوغة بزعفران او ورس فاشتمل بها ثم رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم يديه وهو يقول " اللهم اجعل صلواتك ورحمتك على ال سعد بن عبادة " . قال ثم اصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من الطعام فلما اراد الانصراف قرب له سعد حمارا قد وطا عليه بقطيفة فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سعد يا قيس اصحب رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال قيس فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اركب " . فابيت ثم قال " اما ان تركب واما ان تنصرف " . قال فانصرفت . قال هشام ابو مروان عن محمد بن عبد الرحمن بن اسعد بن زرارة . قال ابو داود رواه عمر بن عبد الواحد وابن سماعة عن الاوزاعي مرسلا ولم يذكرا قيس بن سعد
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- General Behavior
- Hadith Index
- #5185
- Book Index
- 413
Grades
- Al-AlbaniDaif Isnaad
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif Isnaad
- Shuaib Al ArnautDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
