Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے: تم جنت میں نہ جاؤ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ، اور تم ( کامل ) مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ رکھنے لگو۔ کیا میں تمہیں ایسا کام نہ بتاؤں کہ جب تم اسے کرنے لگو گے تو تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو: آپس میں سلام کو عام کرو ۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب، حدثنا زهير، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لا تدخلوا الجنة حتى تومنوا ولا تومنوا حتى تحابوا افلا ادلكم على امر اذا فعلتموه تحاببتم افشوا السلام بينكم
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کا کون سا طریقہ بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: کھانا کھلانا اور ہر ایک کو سلام کرنا، تم چاہے اسے پہچانتے ہو یا نہ پہچانتے ہو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عبد الله بن عمرو، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الاسلام خير قال " تطعم الطعام وتقرا السلام على من عرفت ومن لم تعرف
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا جعفر بن سليمان، عن عوف، عن ابي رجاء، عن عمران بن حصين، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال السلام عليكم . فرد عليه السلام ثم جلس فقال النبي صلى الله عليه وسلم " عشر " . ثم جاء اخر فقال السلام عليكم ورحمة الله . فرد عليه فجلس فقال " عشرون " . ثم جاء اخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته . فرد عليه فجلس فقال " ثلاثون
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح ( اور کلمات کے اضافے پر ) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔
حدثنا اسحاق بن سويد الرملي، حدثنا ابن ابي مريم، قال اظن اني سمعت نافع بن يزيد، قال اخبرني ابو مرحوم، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه زاد ثم اتى اخر فقال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ومغفرته فقال " اربعون " . قال " هكذا تكون الفضايل
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے بہتر شخص وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے ۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس الذهلي، حدثنا ابو عاصم، عن ابي خالد، وهب عن ابي سفيان الحمصي، عن ابي امامة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اولى الناس بالله من بداهم بالسلام
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو سلام کرے گا، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يسلم الصغير على الكبير والمار على القاعد والقليل على الكثير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کرے گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، اخبرنا روح، حدثنا ابن جريج، قال اخبرنا زياد، ان ثابتا، مولى عبد الرحمن بن زيد اخبره انه، سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يسلم الراكب على الماشي " . ثم ذكر الحديث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے ملے تو اسے سلام کرے، پھر اگر ان دونوں کے درمیان درخت، دیوار یا پتھر حائل ہو جائے اور وہ اس سے ملے ( ان کا آمنا سامنا ہو ) تو وہ پھر اسے سلام کرے۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالوہاب بن بخت نے بیان کیا ہے انہوں نے ابوالزناد سے، ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو بہو اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن سعيد الهمداني، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني معاوية بن صالح، عن ابي موسى، عن ابي مريم، عن ابي هريرة، قال اذا لقي احدكم اخاه فليسلم عليه فان حالت بينهما شجرة او جدار او حجر ثم لقيه فليسلم عليه ايضا . قال معاوية وحدثني عبد الوهاب بن بخت عن ابي الزناد عن الاعرج عن ابي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله سواء
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ اپنے ایک کمرے میں تھے، اور کہا: اللہ کے رسول! السلام عليكم کیا عمر اندر آ سکتا ہے ۱؎؟ ۔
حدثنا عباس العنبري، حدثنا اسود بن عامر، حدثنا حسن بن صالح، عن ابيه، عن سلمة بن كهيل، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن عمر، انه اتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في مشربة له فقال السلام عليك يا رسول الله السلام عليكم ايدخل عمر
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ایسے بچوں کے پاس آئے جو کھیل رہے تھے تو آپ نے انہیں سلام کیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - عن ثابت، قال قال انس اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم على غلمان يلعبون فسلم عليهم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا خالد، - يعني ابن الحارث - حدثنا حميد، قال قال انس انتهى الينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا غلام في الغلمان فسلم علينا ثم اخذ بيدي فارسلني برسالة وقعد في ظل جدار - او قال الى جدار - حتى رجعت اليه
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابن ابي حسين، سمعه من، شهر بن حوشب يقول اخبرته اسماء بنت يزيد، مر علينا النبي صلى الله عليه وسلم في نسوة فسلم علينا
سہیل بن ابوصالح کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ شام گیا تو وہاں لوگوں ( یعنی قافلے والوں ) کا گزر نصاریٰ کے گرجا گھروں کے پاس سے ہونے لگا تو لوگ انہیں ( اور ان کے پجاریوں کو ) سلام کرنے لگے تو میرے والد نے کہا: تم انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے، آپ نے فرمایا ہے: انہیں ( یعنی یہود و نصاریٰ کو ) سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم انہیں راستے میں ملو تو انہیں تنگ راستہ پر چلنے پر مجبور کرو ( یعنی ان پر اپنا دباؤ ڈالے رکھو وہ کونے کنارے سے ہو کر چلیں ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن سهيل بن ابي صالح، قال خرجت مع ابي الى الشام فجعلوا يمرون بصوامع فيها نصارى فيسلمون عليهم فقال ابي لا تبدءوهم بالسلام فان ابا هريرة حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبدءوهم بالسلام واذا لقيتموهم في الطريق فاضطروهم الى اضيق الطريق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی یہودی تمہیں سلام کرے اور وہ «السام عليكم» ( تمہارے لیے ہلاکت ہو ) کہے تو تم اس کے جواب میں «وعليكم» کہہ دیا کرو ( یعنی تمہارے اوپر موت و ہلاکت آئے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مالک نے عبداللہ بن دینار سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثوری نے بھی عبداللہ بن دینار سے «وعليكم» ہی کا لفظ روایت کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن مسلم - عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اليهود اذا سلم عليكم احدهم فانما يقول السام عليكم فقولوا وعليكم " . قال ابو داود وكذلك رواه مالك عن عبد الله بن دينار ورواه الثوري عن عبد الله بن دينار قال فيه " وعليكم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا: اہل کتاب ( یہود و نصاریٰ ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: تم لوگ «وعليكم» کہہ دیا کرو ابوداؤد کہتے ہیں: ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس، ان اصحاب النبي، صلى الله عليه وسلم قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم ان اهل الكتاب يسلمون علينا فكيف نرد عليهم قال " قولوا وعليكم " . قال ابو داود وكذلك رواية عايشة وابي عبد الرحمن الجهني وابي بصرة يعني الغفاري
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی سلام کرے، کیونکہ پہلا دوسرے سے زیادہ حقدار نہیں ہے ( بلکہ دونوں کی یکساں اہمیت و ضرورت ہے، جیسے مجلس میں شریک ہوتے وقت سلام کرے ایسے ہی مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سب کو سلامتی کی دعا دیتا ہوا جائے ) ۔
حدثنا احمد بن حنبل، ومسدد، قالا حدثنا بشر، - يعنيان ابن المفضل - عن ابن عجلان، عن المقبري، - قال مسدد سعيد بن ابي سعيد المقبري - عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انتهى احدكم الى المجلس فليسلم فاذا اراد ان يقوم فليسلم فليست الاولى باحق من الاخرة
ابوجری ہجیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: «عليك السلام» مت کہو کیونکہ «عليك السلام» مردوں کا سلام ہے۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابي غفار، عن ابي تميمة الهجيمي، عن ابي جرى الهجيمي، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت عليك السلام يا رسول الله . قال " لا تقل عليك السلام فان عليك السلام تحية الموتى
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے) ، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو ( لوگ چل رہے ہوں ) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الملك بن ابراهيم الجدي، حدثنا سعيد بن خالد الخزاعي، قال حدثني عبد الله بن المفضل، حدثنا عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، رضى الله عنه - قال ابو داود رفعه الحسن بن علي - قال " يجزي عن الجماعة، اذا مروا ان يسلم، احدهم ويجزي عن الجلوس ان يرد احدهم
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملیں پھر دونوں مصافحہ کریں۱؎، دونوں اللہ عزوجل کی تعریف کریں اور دونوں اللہ سے مغفرت کے طالب ہوں تو ان دونوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے ۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا هشيم، عن ابي بلج، عن زيد ابي الحكم العنزي، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا التقى المسلمان فتصافحا وحمدا الله عز وجل واستغفراه غفر لهما
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو مسلمان آپس میں ملتے اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کرتے ہیں تو ان دونوں کے ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا ابو خالد، وابن، نمير عن الاجلح، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان الا غفر لهما قبل ان يفترقا