Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا حميد، عن انس بن مالك، قال لما جاء اهل اليمن قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد جاءكم اهل اليمن وهم اول من جاء بالمصافحة
قبیلہ عنزہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ اس نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے جب وہ شام سے واپس لائے گئے کہا: میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پوچھنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا: اگر راز کی بات نہ ہوئی تو میں تمہیں ضرور بتاؤں گا، میں نے کہا: وہ راز کی بات نہیں ہے ( پوچھنا یہ ہے ) کہ جب آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تھے تو کیا وہ آپ سے مصافحہ کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میری تو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے مصافحہ ہی فرمایا، اور ایک دن تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا، میں گھر پر موجود نہ تھا، پھر جب میں آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا تھا تو میں آپ کے پاس آیا اس وقت آپ اپنی چارپائی پر تشریف فرما تھے، تو آپ نے مجھے چمٹا لیا، یہ بہت اچھا اور بہت عمدہ ( طریقہ ) ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا ابو الحسين، - يعني خالد بن ذكوان - عن ايوب بن بشير بن كعب العدوي، عن رجل، من عنزة انه قال لابي ذر حيث سير من الشام اني اريد ان اسالك عن حديث من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال اذا اخبرك به الا ان يكون سرا . قلت انه ليس بسر هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصافحكم اذا لقيتموه قال ما لقيته قط الا صافحني وبعث الى ذات يوم ولم اكن في اهلي فلما جيت اخبرت انه ارسل الى فاتيته وهو على سريره فالتزمني فكانت تلك اجود واجود
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قریظہ کے لوگ سعد کے حکم ( فیصلہ ) پر اترے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، وہ ایک سفید گدھے پر سوار ہو کر آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے سردار یا اپنے بہتر شخص کی طرف بڑھو پھر وہ آئے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابي سعيد الخدري، ان اهل، قريظة لما نزلوا على حكم سعد ارسل اليه النبي صلى الله عليه وسلم فجاء على حمار اقمر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قوموا الى سيدكم " . او " الى خيركم " . فجاء حتى قعد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم
اس سند سے بھی شعبہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: جب وہ مسجد سے قریب ہوئے تو آپ نے انصار سے فرمایا: اپنے سردار کی طرف بڑھو ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الحديث قال فلما كان قريبا من المسجد قال للانصار " قوموا الى سيدكم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے طور طریق اور چال ڈھال میں فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا ( حسن کی روایت میں بات چیت میں کے الفاظ ہیں، اور حسن نے «سمتا وهديا ودلا» ( طور طریق اور چال ڈھال ) کا ذکر نہیں کیا ہے ) وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ کھڑے ہو کر ان کی طرف لپکتے اور ان کا ہاتھ پکڑ لیتے، ان کو بوسہ دیتے اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے پاس لپک کر پہنچتیں، آپ کا ہاتھ تھام لیتیں، آپ کو بوسہ دیتیں، اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔
حدثنا الحسن بن علي، وابن، بشار قالا حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا اسراييل، عن ميسرة بن حبيب، عن المنهال بن عمرو، عن عايشة بنت طلحة، عن ام المومنين، عايشة رضى الله عنها انها قالت ما رايت احدا كان اشبه سمتا وهديا ودلا - وقال الحسن حديثا وكلاما ولم يذكر الحسن السمت والهدى والدل - برسول الله صلى الله عليه وسلم من فاطمة كرم الله وجهها كانت اذا دخلت عليه قام اليها فاخذ بيدها وقبلها واجلسها في مجلسه وكان اذا دخل عليها قامت اليه فاخذت بيده فقبلته واجلسته في مجلسها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حسین ( حسین بن علی رضی اللہ عنہما ) کو بوسہ لیتے دیکھا تو کہنے لگے: میرے دس لڑکے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی سے بھی ایسا نہیں کیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی پر رحم نہیں کیا تو اس پر بھی رحم نہیں کیا جائے گا ( پیار و شفقت رحم ہی تو ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان الاقرع بن حابس، ابصر النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقبل حسينا فقال ان لي عشرة من الولد ما فعلت هذا بواحد منهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لا يرحم لا يرحم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! خوش ہو جاؤ اللہ نے کلام پاک میں تیرے عذر سے متعلق آیت نازل فرما دی ہے اور پھر آپ نے قرآن پاک کی وہ آیتیں انہیں پڑھ کر سنائیں، تو اس وقت میرے والدین نے کہا: اٹھو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کو چوم لو، میں نے کہا: میں تو اللہ عزوجل کا شکر ادا کرتی ہوں ( کہ اس نے میری پاکدامنی کے متعلق آیتیں اتاریں ) نہ کہ آپ دونوں کا ( کیونکہ آپ دونوں کو بھی تو مجھ پر شبہ ہونے لگا تھا ) ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا هشام بن عروة، عن عروة، ان عايشة، رضى الله عنها قالت ثم قال تعني النبي صلى الله عليه وسلم " ابشري يا عايشة فان الله قد انزل عذرك " . وقرا عليها القران فقال ابواى قومي فقبلي راس رسول الله صلى الله عليه وسلم . فقالت احمد الله لا اياكما
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا ( معانقہ کیا ) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا علي بن مسهر، عن اجلح، عن الشعبي، ان النبي صلى الله عليه وسلم تلقى جعفر بن ابي طالب فالتزمه وقبل ما بين عينيه
ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا المعتمر، عن اياس بن دغفل، قال رايت ابا نضرة قبل خد الحسن بن علي عليهما السلام
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما
حدثنا عبد الله بن سالم، حدثنا ابراهيم بن يوسف، عن ابيه، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال دخلت مع ابي بكر اول ما قدم المدينة فاذا عايشة ابنته مضطجعة قد اصابتها حمى فاتاها ابو بكر فقال لها كيف انت يا بنية وقبل خدها
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا يزيد بن ابي زياد، ان عبد الرحمن بن ابي ليلى، حدثه ان عبد الله بن عمر حدثه وذكر، قصة قال فدنونا - يعني - من النبي صلى الله عليه وسلم فقبلنا يده
اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: بدلہ لے لو تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا خالد، عن حصين، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن اسيد بن حضير، - رجل من الانصار - قال بينما هو يحدث القوم وكان فيه مزاح بينا يضحكهم فطعنه النبي صلى الله عليه وسلم في خاصرته بعود فقال اصبرني . فقال " اصطبر " . قال ان عليك قميصا وليس على قميص . فرفع النبي صلى الله عليه وسلم عن قميصه فاحتضنه وجعل يقبل كشحه قال انما اردت هذا يا رسول الله
زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ ( کسبی ہیں ) ( یا وہبی ) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عيسى بن الطباع، حدثنا مطر بن عبد الرحمن الاعنق، حدثتني ام ابان بنت الوازع بن زارع، عن جدها، زارع وكان في وفد عبد القيس قال لما قدمنا المدينة فجعلنا نتبادر من رواحلنا فنقبل يد النبي صلى الله عليه وسلم ورجله - قال - وانتظر المنذر الاشج حتى اتى عيبته فلبس ثوبيه ثم اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له " ان فيك خلتين يحبهما الله الحلم والاناة " . قال يا رسول الله انا اتخلق بهما ام الله جبلني عليهما قال " بل الله جبلك عليهما " . قال الحمد لله الذي جبلني على خلتين يحبهما الله ورسوله
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو پکارا: اے ابوذر! میں نے کہا: میں حاضر ہوں حکم فرمائیے اللہ کے رسول! میں آپ پر فدا ہوں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا مسلم، حدثنا هشام، عن حماد، - يعنيان ابن ابي سليمان - عن زيد بن وهب، عن ابي ذر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر " . فقلت لبيك وسعديك يا رسول الله وانا فداوك
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم زمانہ جاہلیت میں کہا کرتے تھے: «أنعم الله بك عينا وأنعم صباحا» اللہ تمہاری آنکھ ٹھنڈی رکھے اور صبح خوشگوار بنائے لیکن جب اسلام آیا تو ہمیں اس طرح کہنے سے روک دیا گیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ معمر کہتے ہیں:«أنعم الله بك عينا» کہنا مکروہ ہے اور «أنعم الله عينك» کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن قتادة، او غيره ان عمران بن حصين، قال كنا نقول في الجاهلية انعم الله بك عينا وانعم صباحا فلما كان الاسلام نهينا عن ذلك . قال عبد الرزاق قال معمر يكره ان يقول الرجل انعم الله بك عينا ولا باس ان يقول انعم الله عينك
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا ( آپ کو چھوڑ کر نہ گیا ) تو آپ نے فرمایا: اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الانصاري، قال حدثنا ابو قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في سفر له فعطشوا فانطلق سرعان الناس فلزمت رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الليلة فقال " حفظك الله بما حفظت به نبيه
ابومجلز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ ابن زبیر اور ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ابن عامر کھڑے ہو گئے اور ابن زبیر بیٹھے رہے، معاویہ نے ابن عامر سے کہا: بیٹھ جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو یہ چاہے کہ لوگ اس کے سامنے ( با ادب ) کھڑے ہوں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن حبيب بن الشهيد، عن ابي مجلز، قال خرج معاوية على ابن الزبير وابن عامر فقام ابن عامر وجلس ابن الزبير فقال معاوية لابن عامر اجلس فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من احب ان يمثل له الرجال قياما فليتبوا مقعده من النار
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک چھڑی کا سہارا لیے ہوئے تشریف لائے تو ہم سب کھڑے ہو گئے، آپ نے فرمایا: عجمیوں کی طرح ایک دوسرے کے احترام میں کھڑے نہ ہوا کرو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن مسعر، عن ابي العنبس، عن ابي العدبس، عن ابي مرزوق، عن ابي غالب، عن ابي امامة، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم متوكيا على عصا فقمنا اليه فقال " لا تقوموا كما تقوم الاعاجم يعظم بعضها بعضا
غالب کہتے ہیں کہ ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا: آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا: میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل، عن غالب، قال انا لجلوس بباب الحسن اذ جاء رجل فقال حدثني ابي عن جدي قال بعثني ابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ايته فاقريه السلام . قال فاتيته فقلت ان ابي يقريك السلام . فقال " عليك وعلى ابيك السلام
ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل تجھے سلام کہتے ہیں، تو انہوں نے کہا: «وعليه السلام ورحمة الله» ان پر بھی سلام اور اللہ کی رحمت ہو ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عبد الرحيم بن سليمان، عن زكريا، عن الشعبي، عن ابي سلمة، ان عايشة، رضى الله عنها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لها " ان جبريل يقرا عليك السلام " . فقالت وعليه السلام ورحمة الله