Loading...

Loading...
کتب
۵۰۲ احادیث
ابوعبدالرحمٰن فہری کہتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، ہم سخت گرمی کے دن میں چلے، پھر ایک درخت کے سایہ میں اترے، جب سورج ڈھل گیا تو میں نے اپنی زرہ پہنی اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت آپ اپنے خیمہ میں تھے، میں نے کہا: «السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته» کوچ کا وقت ہو چکا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں، پھر آپ نے فرمایا: اے بلال! اٹھو، یہ سنتے ہی بلال ایک درخت کے نیچے سے اچھل کر نکلے ان کا سایہ گویا چڑے کے سایہ جیسا تھا ۱؎ انہوں نے کہا: «لبيك وسعديك وأنا فداؤك» میں حاضر ہوں، حکم فرمائیے، میں آپ پر فدا ہوں آپ نے فرمایا: میرے گھوڑے پر زین کس دو تو انہوں نے زین اٹھایا جس کے دونوں کنارے خرما کے پوست کے تھے، نہ ان میں تکبر کی کوئی بات تھی نہ غرور کی ۲؎ پھر آپ سوار ہوئے اور ہم بھی سوار ہوئے ( اور چل پڑے ) پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن فہری سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث مروی نہیں ہے اور یہ ایک عمدہ اور قابل قدر حدیث ہے جسے حماد بن سلمہ نے بیان کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا يعلى بن عطاء، عن ابي همام عبد الله بن يسار، ان ابا عبد الرحمن الفهري، قال شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حنينا فسرنا في يوم قايظ شديد الحر فنزلنا تحت ظل الشجرة فلما زالت الشمس لبست لامتي وركبت فرسي فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في فسطاطه فقلت السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته قد حان الرواح فقال " اجل " . ثم قال " يا بلال قم " . فثار من تحت سمرة كان ظله ظل طاير فقال لبيك وسعديك وانا فداوك . فقال " اسرج لي الفرس " . فاخرج سرجا دفتاه من ليف ليس فيه اشر ولا بطر فركب وركبنا . وساق الحديث . قال ابو داود ابو عبد الرحمن الفهري ليس له الا هذا الحديث وهو حديث نبيل جاء به حماد بن سلمة
مرداس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے «أضحك الله سنك» اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا رکھے کہا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔
حدثنا عيسى بن ابراهيم البركي، وسمعته من ابي الوليد الطيالسي، وانا لحديث، عيسى اضبط قال حدثنا عبد القاهر بن السري، - يعني السلمي - حدثنا ابن كنانة بن عباس بن مرداس، عن ابيه، عن جده، قال ضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال له ابو بكر او عمر اضحك الله سنك . وساق الحديث
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اور میری ماں اپنی ایک دیوار پر مٹی پوت رہے تھے، آپ نے فرمایا: عبداللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ مرمت ( سرمت ) کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: معاملہ تو اس سے بھی زیادہ تیزی پر ہے ( یعنی موت اس سے بھی قریب آتی جا رہی ہے، اعمال میں جو کمیاں ہیں ان کی اصلاح و درستگی کی بھی فکر کرو ) ۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، حدثنا حفص، عن الاعمش، عن ابي السفر، عن عبد الله بن عمرو، قال مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا اطين حايطا لي انا وامي فقال " ما هذا يا عبد الله " . فقلت يا رسول الله شىء اصلحه فقال " الامر اسرع من ذاك
اس سند سے بھی اعمش سے (ان کی سابقہ سند سے) یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے ہم اپنے جھونپڑے کو درست کر رہے تھے جو گرنے کے قریب ہو گیا تھا، آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا: ہمارا یک بوسیدہ جھونپڑا ہے ہم اس کو درست کر رہے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مگر میں تو معاملہ ( موت ) کو اس سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھتا دیکھ رہا ہوں ( زندگی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان کی اصلاح کی بھی کوشش کرو ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، وهناد، - المعنى - قالا حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، باسناده بهذا قال مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نعالج خصا لنا وهى فقال " ما هذا " . فقلنا خص لنا وهى فنحن نصلحه . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ارى الامر الا اعجل من ذلك
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ( راہ میں ) ایک اونچا قبہ دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو آپ کے اصحاب نے بتایا کہ یہ فلاں انصاری کا مکان ہے، آپ یہ سن کر چپ ہو رہے اور بات دل میں رکھ لی، پھر جب صاحب مکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور لوگوں کی موجودگی میں آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس سے اعراض کیا ( نہ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہ اسے جواب دیا ) ایسا کئی بار ہوا، یہاں تک کہ اسے معلوم ہو گیا کہ آپ اس سے ناراض ہیں اور اس سے اعراض فرما رہے ہیں تو اس نے اپنے دوستوں سے اس بات کی شکایت کی اور کہا: قسم اللہ کی! میں اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و برتاؤ میں تبدیلی محسوس کرتا ہوں، تو لوگوں نے بتایا کہ: آپ ایک روز باہر نکلے تھے اور تیرا قبہ ( مکان ) دیکھا تھا ( شاید اسی مکان کو دیکھ کر آپ ناراض ہوئے ہوں ) یہ سن کر وہ واپس اپنے مکان پر آیا، اور اسے ڈھا دیا، حتیٰ کہ اسے ( توڑ تاڑ کر ) زمین کے برابر کر دیا، پھر ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اس مکان کو نہ دیکھا تو فرمایا: وہ مکان کیا ہوا، لوگوں نے عرض کیا: مالک مکان نے ہم سے آپ کی اس سے بے التفاتی کی شکایت کی، ہم نے اسے بتا دیا، تو اس نے اسے گرا دیا، آپ نے فرمایا: سن لو ہر مکان اپنے مالک کے لیے وبال ہے، سوائے اس مکان کے جس کے بغیر چارہ و گزارہ نہ ہو ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عثمان بن حكيم، قال اخبرني ابراهيم بن محمد بن حاطب القرشي، عن ابي طلحة الاسدي، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج فراى قبة مشرفة فقال " ما هذه " . قال له اصحابه هذه لفلان - رجل من الانصار - . قال فسكت وحملها في نفسه حتى اذا جاء صاحبها رسول الله صلى الله عليه وسلم يسلم عليه في الناس اعرض عنه صنع ذلك مرارا حتى عرف الرجل الغضب فيه والاعراض عنه فشكا ذلك الى اصحابه فقال والله اني لانكر رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا خرج فراى قبتك . قال فرجع الرجل الى قبته فهدمها حتى سواها بالارض فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فلم يرها قال " ما فعلت القبة " . قالوا شكا الينا صاحبها اعراضك عنه فاخبرناه فهدمها فقال " اما ان كل بناء وبال على صاحبه الا ما لا الا ما لا " . يعني ما لا بد منه
دکین بن سعید مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے غلہ مانگا تو آپ نے فرمایا: عمر! جاؤ اور انہیں دے دو، تو وہ ہمیں ایک بالاخانے پر لے کر چڑھے، پھر اپنے کمرے سے چابی لی اور اسے کھولا۔
حدثنا عبد الرحيم بن مطرف الرواسي، حدثنا عيسى، عن اسماعيل، عن قيس، عن دكين بن سعيد المزني، قال اتينا النبي صلى الله عليه وسلم فسالناه الطعام فقال " يا عمر اذهب فاعطهم " . فارتقى بنا الى علية فاخذ المفتاح من حجزته ففتح
عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( بلا ضرورت ) بیری کا درخت کاٹے گا ۱؎ اللہ اسے سر کے بل جہنم میں گرا دے گا ۔ ابوداؤد سے اس حدیث کا معنی و مفہوم پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ: یہ حدیث مختصر ہے، پوری حدیث اس طرح ہے کہ کوئی بیری کا درخت چٹیل میدان میں ہو جس کے نیچے آ کر مسافر اور جانور سایہ حاصل کرتے ہوں اور کوئی شخص آ کر بلا سبب بلا ضرورت ناحق کاٹ دے ( تو مسافروں اور چوپایوں کو تکلیف پہنچانے کے باعث وہ مستحق عذاب ہے ) اللہ ایسے شخص کو سر کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرنا ابو اسامة، عن ابن جريج، عن عثمان بن ابي سليمان، عن سعيد بن محمد بن جبير بن مطعم، عن عبد الله بن حبشي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قطع سدرة صوب الله راسه في النار " . سيل ابو داود عن معنى هذا الحديث فقال هذا الحديث مختصر يعني من قطع سدرة في فلاة يستظل بها ابن السبيل والبهايم عبثا وظلما بغير حق يكون له فيها صوب الله راسه في النار
عروہ بن زبیر نے اس حدیث کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مرفوعاً روایت کیا ہے۔
حدثنا مخلد بن خالد، وسلمة، - يعني ابن شبيب - قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن عثمان بن ابي سليمان، عن رجل، من ثقيف عن عروة بن الزبير، يرفع الحديث الى النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
حسان بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے ہشام بن عروہ سے جو عروہ کے محل سے ٹیک لگائے ہوئے تھے بیر کے درخت کاٹنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: کیا تم ان دروازوں اور چوکھٹوں کو دیکھ رہے ہو، یہ سب عروہ کے بیر کے درختوں کے بنے ہوئے ہیں، عروہ انہیں اپنی زمین سے کاٹ کر لائے تھے، اور کہا: ان کے کاٹنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حمید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ہشام نے کہا: اے عراقی ( بھائی ) یہی بدعت تم لے کر آئے ہو، میں نے کہا کہ یہ بدعت تو آپ لوگوں ہی کی طرف کی ہے، میں نے مکہ میں کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیر کا درخت کاٹنے والے پر لعنت بھیجی ہے، پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، وحميد بن مسعدة، قالا حدثنا حسان بن ابراهيم، قال سالت هشام بن عروة عن قطع السدر، وهو مستند الى قصر عروة فقال اترى هذه الابواب والمصاريع انما هي من سدر عروة كان عروة يقطعه من ارضه وقال لا باس به . زاد حميد فقال هي يا عراقي جيتني ببدعة قال قلت انما البدعة من قبلكم سمعت من يقول بمكة لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم من قطع السدر . ثم ساق معناه
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: انسان کے جسم میں تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور انسان کو چاہیئے کہ ہر جوڑ کی طرف سے کچھ نہ کچھ صدقہ دے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! اتنی طاقت کس کو ہے؟ آپ نے فرمایا: مسجد میں تھوک اور رینٹ کو چھپا دینا اور ( موذی ) چیز کو راستے سے ہٹا دینا بھی صدقہ ہے، اور اگر ایسا اتفاق نہ ہو تو چاشت کی دو رکعتیں ہی تمہارے لیے کافی ہیں ۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، قال حدثني علي بن حسين، حدثني ابي قال، حدثني عبد الله بن بريدة، قال سمعت ابي بريدة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " في الانسان ثلاثماية وستون مفصلا فعليه ان يتصدق عن كل مفصل منه بصدقة " . قالوا ومن يطيق ذلك يا نبي الله قال " النخاعة في المسجد تدفنها والشىء تنحيه عن الطريق فان لم تجد فركعتا الضحى تجزيك
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی صدقہ عائد ہو جاتا ہے، تو اس کا اپنے ملاقاتی سے سلام کر لینا بھی صدقہ ہے، اس کا معروف ( اچھی بات ) کا حکم کرنا بھی صدقہ ہے اور منکر ( بری بات ) سے روکنا بھی صدقہ ہے، اس کا راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ ہے، اور اس کا اپنی بیوی سے ہمبستری بھی صدقہ ہے لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو اس سے اپنی شہوت پوری کرتا ہے، پھر بھی صدقہ ہو گا؟ ( یعنی اس پر اسے ثواب کیونکر ہو گا ) تو آپ نے فرمایا: کیا خیال ہے تمہارا اگر وہ اپنی خواہش ( بیوی کے بجائے ) کسی اور کے ساتھ پوری کرتا تو گنہگار ہوتا یا نہیں؟ ( جب وہ غلط کاری کرنے پر گنہگار ہوتا تو صحیح جگہ استعمال کرنے پر اسے ثواب بھی ہو گا ) اس کے بعد آپ نے فرمایا: اشراق کی دو رکعتیں ان تمام کی طرف سے کافی ہو جائیں گی ( یعنی صدقہ بن جائیں گی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد نے اپنی روایت میں امر و نہی ( کے صدقہ ہونے ) کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، ح وحدثنا احمد بن منيع، عن عباد بن عباد، - وهذا لفظه وهو اتم - عن واصل، عن يحيى بن عقيل، عن يحيى بن يعمر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يصبح على كل سلامى من ابن ادم صدقة تسليمه على من لقي صدقة وامره بالمعروف صدقة ونهيه عن المنكر صدقة واماطته الاذى عن الطريق صدقة وبضعته اهله صدقة " . قالوا يا رسول الله ياتي شهوته وتكون له صدقة قال " ارايت لو وضعها في غير حقها اكان ياثم " . قال " ويجزي من ذلك كله ركعتان من الضحى " . قال ابو داود لم يذكر حماد الامر والنهى
ابوالاسود الدیلی نے ابوذر سے یہی حدیث روایت کی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اس کے وسط میں کیا ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن واصل، عن يحيى بن عقيل، عن يحيى بن يعمر، عن ابي الاسود الديلي، عن ابي ذر، بهذا الحديث وذكر النبي صلى الله عليه وسلم في وسطه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص نے جس نے کبھی کوئی بھلا کام نہیں کیا تھا کانٹے کی ایک ڈالی راستے پر سے ہٹا دی، یا تو وہ ڈالی درخت پر ( جھکی ہوئی ) تھی ( آنے جانے والوں کے سروں سے ٹکراتی تھی ) اس نے اسے کاٹ کر الگ ڈال دیا، یا اسے کسی نے راستے پر ڈال دیا تھا اور اس نے اسے ہٹا دیا تو اللہ اس کے اس کام سے خوش ہوا اور اسے جنت میں داخل کر دیا ۔
حدثنا عيسى بن حماد، اخبرنا الليث، عن محمد بن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " نزع رجل لم يعمل خيرا قط غصن شوك عن الطريق اما كان في شجرة فقطعه والقاه واما كان موضوعا فاماطه فشكر الله له بها فادخله الجنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کبھی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں اور کبھی اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے ہیں کہ جب سونے لگو تو آگ گھر میں موجود نہ رہنے دو ( بجھا کر سوؤ ) ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، رواية وقال مرة يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم " لا تتركوا النار في بيوتكم حين تنامون
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، ( یہ دیکھ کر ) آپ نے فرمایا: جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے ۔
حدثنا سليمان بن عبد الرحمن التمار، حدثنا عمرو بن طلحة، حدثنا اسباط، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاءت فارة فاخذت تجر الفتيلة فجاءت بها فالقتها بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم على الخمرة التي كان قاعدا عليها فاحرقت منها مثل موضع الدرهم فقال " اذا نمتم فاطفيوا سرجكم فان الشيطان يدل مثل هذه على هذا فتحرقكم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی ( سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں ) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما سالمناهن منذ حاربناهن ومن ترك شييا منهن خيفة فليس منا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپ کوئی بھی ہو اسے مار ڈالو اور جو کوئی ان کے انتقام کے ڈر سے نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
حدثنا عبد الحميد بن بيان السكري، عن اسحاق بن يوسف، عن شريك، عن ابي اسحاق، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقتلوا الحيات كلهن فمن خاف ثارهن فليس مني
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سانپوں کو ان کے انتقام کے ڈر سے چھوڑ دے یعنی انہیں نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جب سے ہماری ان سے لڑائی چھڑی ہے ہم نے ان سے کبھی بھی صلح نہیں کی ہے ( وہ ہمیشہ سے موذی رہے ہیں اور موذی کا قتل ضروری ہے ) ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، حدثنا موسى بن مسلم، قال سمعت عكرمة، يرفع الحديث فيما ارى الى ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ترك الحيات مخافة طلبهن فليس منا ما سالمناهن منذ حاربناهن
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو ( جھاڑو دے کر ) صاف ستھرا کر دینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن معاوية، عن موسى الطحان، قال حدثنا عبد الرحمن بن سابط، عن العباس بن عبد المطلب، انه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم انا نريد ان نكنس زمزم وان فيها من هذه الجنان - يعني الحيات الصغار - فامر النبي صلى الله عليه وسلم بقتلهن
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو مار ڈالو، دو دھاریوں والوں کو بھی اور دم کٹے سانپوں کو بھی، کیونکہ یہ دونوں بینائی کو زائل کر دیتے اور حمل کو گرا دیتے ہیں ( زہر کی شدت سے ) ، سالم کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے، ایک بار ابولبابہ یا زید بن الخطاب نے ان کو ایک سانپ پر حملہ آور دیکھا تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اقتلوا الحيات وذا الطفيتين والابتر فانهما يلتمسان البصر ويسقطان الحبل " . قال وكان عبد الله يقتل كل حية وجدها فابصره ابو لبابة او زيد بن الخطاب وهو يطارد حية فقال انه قد نهي عن ذوات البيوت